پاکستان کے بارے میں بین الاقوامی تاثرات: وجوہات اور ممکنہ حل

President Barack Obama holds a bilateral meeting with Prime Minister Nawaz Sharif of Pakistan in the Oval Office, Oct. 23, 2013.  (Official White House Photo by Pete Souza)

 پاکستان کے ۱۹۹۸ جوہری تجربات کے بعد اس کی بین الاقوامی ساکھ متاثر، جبکہ بھارت کا مقام بہتر ہوا ہے۔ حقیقتاً تو بھارت کے جوہری پروگرام کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے بعد پاکستان کی سلامتی اور وقار میں اضافہ ہونا چاہئیے تھا مگر آج تک ایسا نہیں ہوسکا۔ آج پاکستان کا نقطہِ نظر اور دلائل بین الاقوامی سطح پر بالکل غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ اگر پاکستان بین الاقوامی تنہائی سے بچنا چاہتا ہے تو اسے ان حالات کی وجوہات پر غور کرنا ہو گا۔ اس تنہائی کا الزام بھارت پر، بالاخصوص اس کا بڑاقتصادی حجم ہونے پر لگانا درست نہ ہو گا۔ بین الاقوامی قوتوں کے لئے معاشی نفع اہم ضرور ہے، مگر محض معیشت پاکستان کی صورتِ حال کا پورا منظر  بیان نہیں کرتی۔ واشنگٹن میں اکثر یت کا خیال یہ ہے کہ پاکستان کے کمزور حالات کی وجہ اس کی اپنے ہمسایہ ممالک کے لئے پالیسیاں اور وہ حربے ہیں جن کو پاکستان استعمال کرتا ہے۔ جب تک پاکستان اس تاثر کو تبدیل نہیں کرے گا اس کے نظریات و دلائل کسی کو قائل کرنے میں ناکام رہیں گے۔

پاکستان بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی حالتِ زار پر توجہ ڈالتا رہا ہے، مگر اس کوشش کے باوجود اپنے بارے میں منفی تاثرات تبدیل کرنے سے قاصر رہا ہے۔ عالمی برادری بخوبی جانتی ہے کہ بھارت مسئلہِ کشمیر کے ساتھ بہت گھمبیرطریقے سے نمٹ رہا ہے،اس کے باوجود۱۹۵۷سے آج تک اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل نے کشمیر کے بارے میں کوئی بامعنی قرارداد منظور نہیں کی۔ یو- این اور دیگر ممالک مسئلہِ کشمیر سے زیادہ پاک و ہند جنگ کے خطرے کے بارے میں پریشان رہتے ہیں۔ اسی لئے پچھلے ۲۵ برس میں جب بھی بیرونی طاقتوں نے پاکستان اور ہندوستان کے بیچ ممکنہ تصادم کو روکنے کی کوشش کی تو کشمیر میں پاکستان کی مرضی کے مطابق تبدیلی لانے کے بجائے موجودہ بھارتی نظام کی ہی توثیق کی گئ ۔

  بھارت اور پاکستان کے بیچ ۱۹۹۸ سے آج تک بحران پیدا کرنے والے تمام واقعات کا سرا عمومی طور پر  پاکستانی کی طرف سے برآمد ہوا ۔ بیرونی طاقتوں کا یقین ہے کہ ان حملوں کے ذمہ دار وہ عسکریت پسند گروہ ہیں جنہیں پاکستان میں پناہ گاہیں اور خاموش حمایت میسر ہے۔اسی وجہ سے عالمی برادری کشمیریوں کے حقوق سے کہیں زیادہ ان گروہوں کے بارے میں فکرمند رہتی ہے۔

ان گروہوں کے حملوں کا اب ایک مخصوص “وطیرہ” بن چکا ہے۔ ایسے حملے تب ہوتے ہیں جب بھارتی اور پاکستانی لیڈر تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں یا پھر جب تعلقات بگڑ رہے ہوتے ہیں۔ ۲۰۰۱ کے بھارتی پارلیمنٹ پر حملے اور ۲۰۰۸ کے ممبئی حملوں کے بعد بیرونی ممالک کے ردِعمل کا بھی ایک مخصوص طریقہ بن چکا ہے۔

pakistani-flag

ان دونوں حملوں میں اس بات کے واضح ثبوت موجود تھے کہ مجرموں کی پناہ گاہیں پاکستان میں تھیں اور ان کے فوج اور “انٹیلیجنس” ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ اس کے باوجود ۲۰۰۱ کے حملے کے بعد مجرموں کے خلاف کوئی عدالتی مقدمہ نہیں چلایا گیا جبکہ ۲۰۰۸ کے حملے کے بعد ہونے والا مقدمہ بھی عدم دلچسپی کے باعث منطقی انجام تک نہ پہنچ سکا۔ پاکستان نے اس ناکامی  کا الزام بھارت کی طرف سے مؤثر شواہد نہ ملنے پر لگایا،جبکہ اگر بھارت شواہد دے بھی دیتا تو وہ پاکستانی عدالتوں میں قابلِ قبول ہی نہ ہوتے۔

ان سارے معاملات سے بیرونی طاقتوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستانی حکام بھارت مخالف عسکری گروہوں کو یا تو قابو میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، یا وہ ایسا کرنا چاہتے ہی نہیں ہیں۔ جب یہی مجرم پاکستان میں باآزادی تقاریر کرتے ہیں، نئے ممبران بھرتی کرتے ہیں اور چندہ جمع کرتے ہیں، تو پاکستان کے بارے میں منفی تاثرات کو تقویت ملتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گورداسپور، پٹھان کوٹ، اور اڑی  حملوں کے بعد واشنگٹن اور دیگر ممالک پاکستان کے اس دعوے پر ہر گز قائل نہیں کہ ان حملوں میں پاکستانی ملزمان کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں۔ بین الاقوامی رائے عامہ کے مطابق ۲۰۰۱ اور ۲۰۰۸ کے حملوں کے بعد ثبوت دینے کی ذمہ داری اب پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستانی حکام نے خلاف وعدہ عسکریت پسند گروہوں کے دفاتر بند کرنے کے لئے کوئی واضح اقدامات نہیں اٹھائے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد بین الاقوامی سطح پراب ہمدردی کھو چکا ہے۔

پاکستان سے باہر ان حملوں کا ذمہ دار پاکستانی مجرموں کو ٹھہرایا جاتا ہے، اور اس کے برعکس پاکستانی وضاحتیں اور دلائل کسی کے لئے قابلِ یقین نہیں۔ ایک دلیل کے مطابق ان حملوں کے ذمہ دار بذات خود کشمیری ہیں، اور انہیں پاکستان کی طرف سے کوئی مدد حاصل نہیں۔ مگر کشمیری بغیر کسی مدد کے بھارتی عسکری تنصیبات پر ایسے پیچیدہ حملے کامیابی سے کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ کشمیر میں بھارت کے خلاف غصہ ضرور پایا جاتا ہے، مگر تاحال یہ غصہ احتجاج تک محدود رہا ہے۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں احتجاج کا طریقہ بدل جائے، مگر فی الحال ایسے حملوں کا الزام محض کشمیریوں پر ہرگز نہیں ڈالا جا سکتا۔

ایک اور راۓ، جس پر بہت سے پاکستانی یقین رکھتے ہیں، کے مطابق بھارتی افواج نے خود ہی اپنے ساتھیوں پر حملہ کیا تاکہ دنیا کی توجہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے ہٹا کر پاکستان پر الزام لگایا جا سکے۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر اس دلیل کو نا قابلِ یقین گردانا جاتا ہے۔

بیرونی نقطہ نظر سے ان حملوں کے ذمہ داران  پنجاب میں موجود وہ گروہ  ہیں جنہیں بھارت سے نفرت ہے اور جو کشمیر کے حالات پر مشتعل ہیں۔ ان گروہوں کے کچھ ممبران پاکستانی “لائن آف کنٹرول” کے بہت نذدیک تعینات ہیں، اور اسے باآسانی پار کر لیتے ہیں۔ مقامی عسکری کمانڈر اگر ان کے مددگار نہیں تو  کم از کم ان کی نقل و حرکت سے بخوبی واقف ضرور ہوتے ہیں۔

بیرونی ممالک پاکستان کی طالبان کے خلاف انسدادِ شورش پسندی مہم کو بخوبی پہچانتے اور سراہتے ہیں۔ ۱۵ برس قبل، اس مہم کی ابتدا سے کہیں پہلے، پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت مخالف عسکری گروہوں کا مقابلہ بتدریج اور محتاط انداز میں کرنا ہو گا، مگر آج تک اس حکمت عملی کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوۓ ۔ جب تک پاکستان ان گروہوں کے خلاف مؤثر کاروائی کا وعدہ پورا کرنے سے قاصر رہے گا، اس کے بارے میں منفی رائے  تبدیل ہونا تقریبا ً نا ممکن ہے۔

چونکہ بھارت مخالف گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے، بین الاقوامی برادری اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ پاکستان ان گروہوں کو “سٹریٹیجک” اثاثوں کے طور پر دیکھتا ہے۔ جب تک ان گروہوں کے خلاف بھرپور کاروائی نہیں ہو گی، بیرونِ ملک مبصرین پاکستان کے نقطہِ نظر پر قائل نہیں ہوں گے۔

پاکستان بین الاقوامی تاثرات اپنے پرانے دلائل کے زور پر نہیں بدل سکتا، یہ منفی تاثرات صرف پاکستان کے ردِعمل میں تبدیلی سے ہی بدلے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح موضوع بدل کر کشمیر پر توجہ ڈالنے کی کوشش بھی بیکار ہو گی کیونکہ عالمی برادری کو کشمیری حقوق سے کہیں زیادہ تشویش پاکستان میں پناہ گزیر عسکریت پسند گروہوں کے بارے میں ہے۔ جب تک پاکستان عالمی سطح پر اپنی عزت میں کمی اور بڑھتی ہوئی تنہائی کی وجوہات پر غور کر کے تبدیلی نہیں لائے گا، عالمی برادری سے کسی قسم کی ہمدردی کی امید رکھنا بے سود ہے

یہ مضمون ابتدائی طور پر دی ہیرلڈ میں شائع ہوا

This article first appeared in The Herald. Click here to read it in English.

 ٭٭٭

Image 1: Official White House Photo by Pete Souza

Image 2: Waseem Andrabi-Hindustan Times, Getty

Posted in , India-Pakistan Relations, Kashmir, Militancy, Pakistan, Policy

Michael Krepon

Michael Krepon

Michael Krepon is the Co-Founder of the Stimson Center. He worked previously at the Carnegie Endowment, the State Department, and on Capitol Hill. His areas of expertise are reducing nuclear dangers -- with a regional specialization in South Asia -- and improving national and international security in outer space.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *