Africa-2

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران، چین بحرِ ہند کے خطے (آئی او آر) میں اپنی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر چکا ہے۔ بیجنگ کے سفارتی، اقتصادی اور عسکری روابط میں توسیع نے خطے کے بارے میں چین کے بڑھتے عزائم کے حوالے سے نمایاں بے چینی کو جنم دیا ہے۔ بیجنگ نے حال ہی میں صوبہ یونان کی حکومت اور اپنی بنیادی ایجنسی برائے غیر ملکی امداد جو کہ چائنہ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کوآپریشن ایجنسی (CIDCA) کے نام سے جانی جاتی ہے، ان کے ہمراہ چین- بحر ہند فورم برائے ترقیاتی تعاون نامی فورم کی مشترکہ میزبانی کی ہے، جو آئی او آر اور ملحقہ علاقوں میں بیجنگ کے کردار کے ادارہ جاتی شکل اختیار کرنے کی جانب اشارہ ہے۔ چین اگرچہ خطے میں اپنے روابط کو بڑھا چکا ہے، لیکن یہ پانی طویل عرصے سے نئی دہلی کے گھر کا صحن سمجھے جاتے رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری کے اول شعبوں میں شامل رہے ہیں۔ انڈوپیسیفک میں بحر ہند کا خطہ وسیع تر جغرافیائی تزویراتی اہمیت اختیار کر رہا ہے، ایسے میں بھارت کو اپنے قائدانہ کردار کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے روابط کو مزید مضبوطی بخشنی چاہیئے۔

آئی او آر کی جغرافیائی تزویراتی اہمیت

بحر ہند کا خطہ جغرافیائی سیاسی، جغرافیائی اقتصادی اور جغرافیائی تزویراتی میدانوں میں بے پناہ اہمیت رکھتا ہے۔ افریقہ کے مشرقی ساحلوں سے لے کر آسٹریلیا کے مغربی ساحلوں تک وسیع، آئی او آر سطح زمین پر موجود پانی کا پانچواں حصے اپنے اندر سموئے ہے۔ اس کا وسیع سمندری اور براعظمی پھیلاؤ، براعظمی جزائر سے لے کر جزیروں کے مجموعے تک، ۳۸ ممالک پر محیط ہے اور طویل عرصے سے تاجروں اور بحری و بری سپاہ کے لیے کسی چوراہے کا سا کردار ادا کر رہا ہے ۔ یہاں موجود ٹرانزٹ راستے مشرق اور مغرب کو ملاتے ہیں اور پورے انڈوپیسیفک میں معیشتوں کو تقویت بخشتے ہیں، خاص کر تزویراتی اہمیت رکھنے والے تنگ راستے (چوک پوائنٹس) جیسا کہ آبنائے ملاکہ، آبنائے ہرمز، آبنائے باب المندب، آبنائے اومبائی و ویٹر۔ مزید براں، یہ خطہ تیل اور قدرتی گیس جیسے ہائیڈروکاربن وسائل سے مالامال ہے، اس کی ساحلی پٹیاں ماہی گیری کے لیے زرخیز ہیں اور پولی میٹیلک نوڈیولز جیسا نایاب کرہ ارض کا مواد یہاں موجود ہے۔

تاریخی اعتبار سے آئی او آر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھارت نے ایک تسلیم شدہ قوت کا کردار ادا کیا ہے۔ تزویراتی پانیوں کے ۴۰ فیصد حصہ پر قابض، بھارت کے قومی مفادات ہمیشہ سے خطے کی حرکیات سے نتھی رہے ہیں۔ بھارت آئی او آر کے وسط میں واقع ہے، مشترکہ تہذیبی تعلقات رکھتا ہے اور پورے آئی او آر کے بہت سے ممالک میں بھارتی افراد آبادی کا ایک طاقتور حصہ ہیں۔ مزید یہ کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی مقابلے کے دور میں، جزیرہ ممالک کے ساتھ تعاون کی صورت میں نئی دہلی کا اپنے بحری محلے اور آئی او آر کی دور دور تک پھیلی حدودو کے ذریعے دور دراز واقع علاقوں جیسا کہ ری یونین آئی لینڈز (فرانس) اور کوکوز آئی لینڈ (آسٹریلیا) تک اثرورسوخ گہرا ہوتا ہے۔ چین انڈوپیسیفک میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے، ایسے میں بھارت کے ہاتھوں میں یہ سنہری موقع ہے کہ وہ آئی او آر میں اپنی موجودگی میں وسعت لائے اور اپنے قائدانہ کردار کو برقرار رکھے۔

ان جزیرہ ریاستوں کے کردار سے فائدہ اٹھائے بغیر، انڈوپیسیفک میں نئی دہلی کا وسیع تر قائدانہ کردار متاثر ہو گا۔ بھارت کی شکل میں موجود کسی امکان کی غیر موجودگی میں، چھوٹی جزیرہ ریاستوں کے پاس چینی پیشکشوں کے مقابلے میں کوئی متبادل پیشکش موجود نہیں ہے، جس سے ایک ایسا خلا پیدا ہو رہا ہے جس میں بیجنگ، نئی دہلی کے نقصان کے بل پر فائدے بٹور رہا ہے۔ چین اگرچہ اپنی موجودگی کو ایک قدم آگے لے جا چکا ہے لیکن جزیرہ ریاستیں بھارت کے ساتھ بھی نسبتاً زیادہ روابط کی خواہش کر سکتی ہیں۔ ان چھوٹی ریاستوں کو ماحولیاتی تبدیلی، پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کی تکمیل، آفات سے نمٹنا، موسمیاتی بحران، دوبارہ قابل استعمال توانائی اور بحری پانیوں کی بنیاد پر قائم اقتصادیات جیسے شعبوں میں مشکلات سے نمٹنے کے لیے معاونت درکار ہے، لیکن انہیں خدشہ ہے کہ وہ بڑی قوتوں کے درمیان مقابلے بازی میں محض ایک مہرہ بن کے نہ رہ جائیں۔ خودمختاری اور تزویراتی آزادی کے لیے بھارت میں موجود احترام، اسے ایک ترجیحی علاقائی شراکت دار کے طور پر میدان میں آنے کے لیے بہترین موقع دیتا ہے۔ حال ہی میں، بھارت نے موسمیات سے متعلقہ متعدد پیش رفتوں جیسا کہ انٹرنیشنل سولر الائنس (آئی اے ایس) اور آفتوں کے خلاف لچکدار انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے اتحاد (سی ڈی آر آئی) کی قیادت کے ذریعے ایک نمایاں کھلاڑی کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔ یہ پیش رفتیں جہاں جزیرہ نما ریاستوں کے لیے ایک قابل بھروسہ شراکت دار بننے کے بھارتی خواب سے مطابقت رکھتی ہیں، وہیں مزید گہرے روابط کی ضرورت ہے۔

آئی او آر میں بھارتی کردار کا تعین کرنے والے چار شعبے 

اس خطے سے جڑی اس قدر اہمیت کے باوجود، نئی دہلی کا کردار اور ذمہ داریاں انتہائی محدود رہی ہیں۔ نئی دہلی نے کئی دہائیوں سے خشکی پر موجود خطرات پر اپنی تزویراتی توجہ مرکوز رکھی ہے جس سے بحری شبعہ بڑی حد تک نظرانداز ہوتا رہا۔ تاہم انڈوپیسیفک میں تبدیل ہوتے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کی بدولت، بھارت نے حال ہی میں آئی او آر میں اپنی موجودگی کو بڑھایا ہے۔ مستقبل میں قدم رکھتے ہوئے، چار شعبوں میں ہونے والی بڑھوتری، خطے میں بھارتی کردار کا تعین کریں گی: ثقافت اور صلاحیتوں میں اضافہ، اطلاعات کے شعبے میں غلبہ، عسکری طاقت اور اقتصادی مہارتیں۔

 بحر ہند میں ثقافتی تعلقات بھارت کی سب سے بڑی قوت ہیں۔ تاریخی تعلقات کے نتیجے میں، ان جزیرہ ممالک نے بھارتی روابط کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس امر کا ادراک کرتے ہوئے، نئی دہلی نے جزیرہ جاتی سفارت کاری کو فروغ دینے کے لیے کئی اعلیٰ سطحی دوروں کے ذریعے اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ خطے میں سلامتی اور ترقی سب کے لیے (ساگر) اور کولمبو سیکیورٹی کنکلیو جیسی پیش رفتوں نے مالدیپ، سری لنکا اور بھارت کے سینیئر حکام کے درمیان رابطے قائم کیے ہیں۔ ساگر کے ذریعے، بھارتی بحریہ نے کووڈ-۱۹ کی وبا کے دوران طبی معاونتی ٹیمیں اور غذائی امداد بھی فراہم کی تھی جو کہ انسانیت کے لیے نئی دہلی کی خدمات کا ایک ثبوت اور بحران کے وقت میں جزیرہ ممالک جیسا کہ مالدیپ، ماریشسز، مڈغاسکر، کامروس، اور سیشلز جیسے جزیرہ ممالک سے جڑی اہمیت کا ثبوت ہے۔ اس جیسے اقدامات خطے میں بھارتی کردار کو توانا کرتے ہیں۔

آنے والے برسوں میں نئی دہلی کو جزیرہ ممالک میں اپنے سفارتی موجودگی کو مزید وسیع اور گہرا کرنا چاہیئے۔ اس ضمن میں اعلیٰ سطحی دورے، سفارت خانے اور ہر ملک کی ضروریات کے مطابق مزید کمیشنز کا قیام اور پورے خطے میں پھیلے ادارہ جاتی ڈھانچوں میں قائدانہ کردار کی ادائیگی اس سلسلے کے ابتدائی اقدام ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بھارت نے جی ۲۰ کے تحت قائم ہونے والے آفات کے خطرات میں کمی کے لیے ورکنگ گروپ جس کی میزبانی و قیادت اس برس نئی دہلی کرے گا، اس کے لیے ماریشس کو ایک خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا ہے۔ یہ چال ماریشس کے موقف کو گروہ میں آگے بڑھاتی ہے اور ایک ایسے موضوع پر تعاون کو فروغ دیتی ہے جو جزیروں کی قوموں کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ موسمیاتی لچک کے شبعے میں تربیت کی فراہمی اور فروغِ صلاحیت، بذریعہ مواصلات تعلیم اور صحت جیسے اضافی اقدام، سفارتی قدم جمانے کے عمل کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔      ہ

اپنی قائدانہ حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے نئی دہلی کو اطلاعات کے شعبے پر بھی اپنا غلبہ قائم کرنا ہو گا۔ آئی او آر میں کسی بھی لمحہ ۳۵۰ چینی لڑاکا بحری جہاز اور آبدوزیں موجودگی ہوتی ہیں۔  اس بنا پر اطلاعات کے شعبے میں برتری بھارت کو اس قابل بنا سکے گی کہ وہ سمندری حدود میں ہونے والی دیگر نقصان دہ سرگرمیاں جیسا کہ بحری راستے سے ہونے والی دہشتگردی اور راہزنی کے علاوہ چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھ سکے۔ بھارت اطلاعات کے شبعے میں غلبے کے لیے پہلے ہی نمایاں قدم بڑھا چکا ہے۔ ۲۰۱۸ میں نئی دہلی نے ایک انفارمیشن فیوژن سینٹر برائے بحر ہند کا خطہ (IFC-IOR) کا آغاز کیا تھا، تاکہ غیر قانونی ماہی گیری، منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی سمگلنگ جیسے چیلنجز سے نمٹ سکے۔ حکومت نے ایک قومی آگاہی کا منصوبہ برائے میری ٹائم بھی شروع کرنے کی منظوری دی ہے، جو کہ سمندری حدود میں موجود خطرات سے نمٹنے کے لیے “قابل عمل انٹیلی جنس“ فراہم کرے گی۔

مستقبل میں قدم رکھتے ہوئے، نئی دہلی کو اطلاعات کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو وسیع کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی سبقت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ مثال کے طور پر نئی دہلی ساحلی پٹی کی نگرانی کے ریڈار نیٹ ورک کو ماریش، سیشلز اور مالدیپ جیسے جزیرہ ممالک تک وسیع کر چکا ہے، تاہم اسے اس کو کامروس اور مڈغاسکر تک پھیلانا چاہیئے جو اہم تزویراتی مقامات کے قریب ہی واقع ہیں۔ مزید براں، سمندری پانیوں کے بارے میں آگاہی برائے میری ٹائم ڈومین (ایم ڈی اے) کو فرانس اور جاپان جیسے ممالک کے ساتھ مل کر خلاء میں قائم ایم ڈی اے کے ذریعے سہارا فراہم کیا جانا چاہیئے، یہ دونوں وہ ممالک ہیں جن کے ساتھ بھارت پہلے ہی معاہدوں پر دستخط کر چکا ہے جو اطلاعات کے شعبے میں بھارت کی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں گے اور آئی او آر میں ایک مستحکم میری ٹائم سلامتی کے ڈھانچے کو تشکیل دیں گے۔

سوئم یہ کہ بھارت کو آئی او آر میں اپنی عسکری پوزیشن واضح کرنا ہو گی۔ بھارتی بحریہ اگرچہ مشنز کی بنیاد پر تعیناتیوں اور خطے میں اپنی موجودگی کو نمایاں کرنے کا آغاز کر چکی ہے، بھارت بدستور “اتمنربھرتا (خود انحصاری)” پر قائم ہے۔ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی او آر میں عسکری برتری کو حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے تعلقات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ بھارت اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید ترین بنانے کے لیے شراکت داروں میں تنوع لا رہا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ نئی دہلی کو جنگ سے ہٹ کر عسکری آپریشنز پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنے دفاعی روابط کو چھوٹے جزیرہ ممالک تک پھیلانا چاہیئے ۔ مثال کے طور پر بھارت پٹرولنگ کشتیاں فراہم کر سکتا ہے جو گہرے پانیوں میں تلاش اور مدد اور نگرانی میں مدد دیتی ہیں، انسانی اور قدرتی آفات سے بحالی کی سرگرمیوں کے لیے تربیت فراہم کر سکتا ہے اور فوجی دستوں کی مشترکہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نیک نامی بھی کما سکتا ہے۔ یہ اقدامات بھارت کی تزویراتی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے چین کے لیے خطے میں اپنے لیے جگہ بنانے کے مواقع تنگ کرتے ہیں۔

سب سے آخر میں یہ کہ بھارت کو آئی او آر میں اقتصادی روابط میں گہرائی لانے کے لیے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔ بھارت اگرچہ کووڈ-۱۹ کی وبا کی وجہ سے آنے والی سست روی کے باوجود بھی متاثر کن اقتصادی پیداوار حاصل کر چکا ہے، تاہم غیرملکی معاونت فراہم کرنے میں بدستور مشکلات موجود ہیں۔ کلیدی عالمی اشاریوں جیسا کہ غربت اور بھوک میں نچلی سطح پر موجودگی، زمینی سطح پر منصوبوں پر عمل درآمد کی راہ میں بیوروکریسی کی حائل کردہ رکاوٹیں اور سب سے بڑھ غیر ملکی امداد کے ضمن میں سکڑتا ہوا بجٹ بھارتی اقتصادی اثرورسوخ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس کے مداوے کے لیے، بھارت نے ایک سہہ فریقی ترقیاتی کارپوریشن (ٹی ڈی سی) فنڈ کا اجراء کیا ہے جو انڈوپیسیفک خطے میں سرمایہ کاری اور انفرااسٹرکچر کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے نجی سیکٹر کو میدان میں اتارے گا۔ سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان اس جیسے بوجھ بانٹنے والے ماڈل بھارتی سفارتی اور اقتصادی حیثیت میں مضبوطی تو لاتے ہیں لیکن خرچ کی جانے والی رقوم پر سرکار کا اختیار محدود ہو جاتا ہے۔ اگر بھارت خطے میں ایک قائدانہ کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے تو اسے پیسے کا بے دریغ کا استعمال کرنا ہو گا۔

حاصل کلام

آئی او آر میں بھارت اپنی حکمت عملی کو واضح بنا رہا ہے، تاہم ان چار شعبوں میں کامیابی یا ناکامی خطے میں اس کا کردار طے کرے گی۔ وسیع تر اقتصادی ذمہ داریوں کو اٹھانے، زیادہ جارحانہ عسکری نقطہ نظر اختیار کرنے اور تمام فریقوں کو یکجا کرنے کے لیے درکار آمادگی کی تخلیق میں بھارت کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوں گے۔ تاہم اگر نئی دہلی جزیرہ ممالک کے ساتھ رابطے قائم کرنے کے لیے تیار ہے، تو بحرِ ہند کے ممالک بھی اس کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت کی سوچ، بحر ہند کے خطے میں کسی ملک کے خلاف دوڑ کی صورت میں تشکیل نہیں پانی چاہیئے کیونکہ یہ نئی دہلی کی کوتاہ بینی اور غیر سنجیدگی کی جانب اشارہ کریں گے۔ اس کے بجائے اسے ان جزائر کی جامع اور پائیدار ترقی کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیئے جو اپنے مفادات کو اولیت دیتے ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Prakash Singh/AFP via Getty Images

Image 2: Money Sharma/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

بھارت اور امریکہ کی دفاعی شراکت داری  کے لئے رکاوٹیں اور مواقع  Hindi & Urdu

بھارت اور امریکہ کی دفاعی شراکت داری  کے لئے رکاوٹیں اور مواقع 


سرد جنگ کے دوران جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر میں اختلافات…

پلوامہ – بالاکوٹ پانچ برس بعد جائزہ Hindi & Urdu

پلوامہ – بالاکوٹ پانچ برس بعد جائزہ

لمحۂ موجود میں پاکستان، بھارت کے تزویراتی بیانیے سے تقریباً…

جوابی کار روائی: کیا پاکستان فوجی حملوں کے رد عمل پر غور کر رہا ہے؟ Hindi & Urdu

جوابی کار روائی: کیا پاکستان فوجی حملوں کے رد عمل پر غور کر رہا ہے؟

ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ جیسے کو تیسا حملے …