,

بھارت کا شہریت ترمیمی قانون: ایک تعارف

دسمبر میں بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کی منظوری کے بعد سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں اور متعدد ریاستوں نے قانون کے نفاذ سے انکارکردیا ہے۔ سی اے اے افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ایسے ہندو، سکھ، پارسی، جین، بدھ یا عیسائی مذہب کے پیروکاروں کو شہریت دینے کی اجازت دیتا ہے جو ۳۱ دسمبر ۲۰۱۴ سے قبل بھارت آئے تھے۔  جہاں اس قانون سازی کے حمایتیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ مذہبی بنیادوں پر نشانہ بننے والی اقلیتوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تحفظ فراہم کرے گا وہیں نقادوں کا الزام ہے کہ یہ سیکولر بھارت کے خاتمے کا پیش خیمہ اور شہریت کو عقیدے سے جوڑنے کے ذریعے بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہے۔

شہریت ترمیمی بل کیا ہے؟

موجودہ شہریت ترمیمی بل بھارت کے پرانے شہریت کے قانون  ۱۹۵۵ کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جو شہریت کے حصول اور برقرار رکھنے کے بارے میں ہے۔ ۱۹۵۵ کے قانون کے مطابق شہریت اختیار کرلینے، آباء و اجداد کے بھارتی ہونے، بذریعہ رجسٹریشن، بھارت میں پیدائش ہونے یا اگر بھارت کسی علاقے کو اپنی حدود میں شامل کرلیتا ہے (تو اس خطے کے باسی) بھارتی شہریت حاصل کرسکتے ہیں۔ حالیہ ترمیم کا مقصد پڑوسی ممالک میں ستائی جانے والی مذہبی اقلیتوں کو تحفظ دینا اور سمندر پار بھارتی شہریت ( او سی آئی) رکھنے والوں کو ضابطے کے تحت لانا ہے۔ تاہم ، تین اہم ترامیم کی بناء پر عوام شور ہنگامہ کررہی ہے۔

 قانون کی شق ۷ ڈی ( ڈی) ( اے) اس قانون کی کسی بھی شق کی پاسداری نہ کرنے یا  مرکزی حکومت کے حسب حکم کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سمندر پار بھارتیوں کی شہریت منسوخ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ سیکشن دو اور تین میں کی گئی ترامیم پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے داخل ہونے والے ایسے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی تارکین وطن افراد کو شہریت کیلئے رجسٹریشن کی اجازت دیتی ہیں جو ۳۱ دسمبر ۲۰۱۴ سے قبل بھارت میں داخل ہوئے۔ اس کے علاوہ، شہریت کیلئے درخواست دائر کرنے سے قبل بھارت میں رہائش کی مدت بھی ۱۱ برس سے کم کرتے ہوئے 5 برس کی گئی ہے۔

سی اے اے کی تاریخ

۷ ستمبر ۲۰۱۵ کو اسی سے ملتی جلتی ترامیم پاسپورٹ اینڈ فارنرز ایکٹ میں کی گئیں تھیں جو انہی تین ممالک جن کا تذکرہ سی اے اے میں ہے، وہاں سے تعلق رکھنے والی مذہبی اقلیتوں کو کسی باقاعدہ دستاویزات کے بغیر بھارت میں رہنے کی اجازت دیتی تھیں۔ اس قانون میں قدرتی طور پر ناگزیر توسیع کے بطور، شہریت ترمیمی بل ۲۰۱۶ میں لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔ آسام میں شدید مظاہروں اور کانگریس کی جانب سے مخالفت کے سبب یہ بل پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی، جسکی سربراہی ممبر پارلیمنٹ ستیاپال سنگھ کررہے تھے، کے سپرد کیا گیا جن کی مرتب کردہ رپورٹ جنوری ۲۰۱۹ میں پیش کی گئی۔ چونکہ یہ بل حکمران جماعت بھارتیہ (بی جے پی) کے انتخابی منشور کا حصہ تھا، لہٰذا بی جے پی نے اسے پارلیمان میں اپنی غالب اکثریت کی مدد سے منظور کروالیا۔

سی اے اے کی منظوری کے بعد، اس ترمیم نے بھارت بھر میں کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ طلبا تنظیمیں، اعلیٰ تعلیم کے اداروں سے وابستہ بعض گروہ اور حزب اختلاف کی جماعتیں اظہار برہمی کررہی ہیں۔ جامعات اور عوامی مقامات پر طلباء کے مظاہرے عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرچکے ہیں۔ ابتداً یہ بھارت کے شمال مشرقی حصوں تک محدود تھے تاہم جلد ہی یہ پورے ملک میں پھیل گئے۔ ان کی شدت اوران کیخلاف سخت پولیس کاروائیوں کے سبب انہیں چہار سو سے حمایت حاصل ہوئی جس کے سبب پورے ملک میں غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آج بھارت خود کو دو گروہوں میں تقسیم دیکھتا ہے، ایک سی اے اے کا حامی اور دوسرا اس کا مخالف۔ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹکا اور دہلی میں مظاہروں کو کچلنے کیلئے دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کیا گیا تھا جو کہ خصوصی مجسٹریٹ کی جانب سے نشان زدہ علاقے میں چار یا چار سے زائد افراد کے اکھٹا ہونے کو ممنوع قرار دیتی ہے۔ ان علاقوں میں جہاں طلبا مظاہرے کررہے تھے، انٹرنیٹ اور میسج ارسال کرنے کی سہولیات بھی بند کردی گئی تھیں۔ مظاہروں کا حجم اور انکی شدت کا ادراک کرتے ہوئے بی جے پی نے گھر گھر جا کے آگہی مہم کا آغاز کیا ہے۔ حتیٰ کہ بی جے پی کے وزراء نے سی اے اے کے حق میں ریلیاں بھی نکالی ہیں جس میں انہوں نے دوہرایا کہ قانون کسی بھی لحاظ سے بھارتی مسلمانوں کیخلاف متعصبانہ نہیں ہے۔

سی اے اے کے اثرات کو اسی صورت میں سمجھا جاسکتا ہے جب اسے آسام کے نیشنل رجسٹری آف سٹیزنز (این آر سی) قانون کے ساتھ ملا کے دیکھا جائے جس کے تحت عوام کو اپنی شہریت کا ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ حکومت ۲۰۲۴ سے قبل این آر سی کو بھارت بھر میں نافذ کردے گی۔ یہ علاقائی جماعتوں کے ہمراہ بعض قومی جماعتوں جو پہلے سے ہی بی جے پی مخالف ہیں، کی جانب سے بڑے پیمانے پر مخالفت کو جنم دے سکتا ہے۔ این آر سی بطور کامل قانون، آئین کے مطابق اور اچھی گورننس کے لئے لازم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر جس کے بغیر حکومت عوامی تقسیم کے منصوبوں کو متعارف نہیں کرواسکتی ہے، کو تقویت بخشتا ہے۔ آسام میں سی اے اے کو ایک ایسے قانون کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو غیر قانونی شہریت کو روکنے میں ریاستی کردار کو یکسر ختم کردے گا کیونکہ سی اے اے، درج شدہ چھ مذہبی اقلیتوں کو شہریت کی اجازت دیتا ہے۔ این آر سی کے تحت آسام کی حتمی فہرست سے ۱۹ لاکھ افراد کا اخراج ہوا ہے جس میں سے تقریباً پانچ لاکھ کے قریب بنگالی مسلمان ہیں۔ اگر فہرست سے نکالے گئے باقی تمام گروہوں، بشمول بعض قبائلی افراد کی شناخت بطور ہندو یا سی اے اے کے تحت تحفظ حاصل کرنے والے مذہبی گروہ کے طور پر ہوتی ہے تو ایسے میں محض مسلمان ہی شہریت حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے  شہریت ترمیمی بل (۲۰۱۶) کے اختلافی نوٹ کے مطابق مذہبی بنیادوں پر شہریت کے حصول و اخراج کا یہ سلسلہ نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر فسادات کو جنم دے سکتا ہے۔

سی اے اے سے جڑا تنازعہ

وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں بل متعارف کرواتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بی جے پی ۲۰۱۹ کے اپنے باقی ماندہ منشور کو نافذ کرے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے دوہرایا تھا کہ یہ قانون پڑوسی ممالک میں ستائی جانے والی مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے پیش کیا جارہا ہے اور یہ دلیل دی کہ اس مفروضے کے پروپیگنڈے کے لئے اپوزیشن ذمہ دار ہے کہ سی اے اے مسلمانوں کو نشانہ بنائے گا۔

دریں اثناء، کانگریس پارٹی کی سربراہی میں حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ سی اے اے بھارتی آئین کی شق ۱۴ جو برابری کو بنیادی حق تسلیم کرتا ہے، اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ مزید براں حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ  مذہبی بنیادوں پر شمولیت اور اخراج کا یہ قانون، ذاتی خواہش پر مبنی، فرمان شاہی معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے بھارتی آئین مذہبی بنیادوں پر کسی اقلیتی گروہ کی نشاندہی کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی ضمن میں، بھارتی کانگریس سے تعلق رکھنے والے ایم پی، چدمبرم نے سی اے اے کے پیچھے حکومت کی نیت پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے قانون میں تین ممالک اور چھ مذاہب کو مخصوص کرنے اور دیگر پڑوسی اور مذاہب کو شامل نہ کرنے کی وجوہات پرتوجہ مرکوز کی۔

مزید براں، حزب اختلاف نے قانونی وسائل پر بھی غور کیا ہے اور سی اے اے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس قانونی کاروائی کیلئے قابل ذکر شخصیات جیسا کہ کانگریسی رہنما جے رام رامیش، انڈین یونین مسلم لیگ ( آئی یو ایم ایل)، ترینامول کانگریس کے ایم پی مائوہا موئترا، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما منوج جھا اور تیلنگنا کے رہنما اسدالدین اویسی یکجا ہوئے ہیں۔ البتہ، سپریم کورٹ کے طرز فکر کو دیکھتے ہوئے قانون کا غیر آئینی قرار دیا جانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

سی اے اے کے بعد مستقبل

احتجاج اور طلبا کیخلاف تشدد کی کیفیت سے محسوس ہوتا ہے کہ واپسی کیلئے کوئی راستہ نہیں ہے۔ دوران احتجاج ہونے والے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے سی اے اے سے پیچھے ہٹنے کا امکان نہیں، حتیٰ کہ احتجاج کی وجہ سے پیدا ہونے والی تقسیم سے بھی بی جے پی ۲۰۲۰ کے دہلی انتخابات میں فائدہ اٹھا رہی ہے۔ موجودہ فضاء سیاسی ناٹک، استحصال، لاچاری اور معذور میڈیا کا ملغوبہ بن چکی ہے۔

آخر میں یہ کہ سی اے اے اور این آر سی کا خطرناک گٹھ جوڑ آسام اور شمال مشرق کے حصوں میں بے چینی پیدا کرے گا۔ آسام میں لوگوں کی ناجائز حراست کی اطلاعات حکومتی بوکھلاہٹ ظاہر کرتی ہیں اور یہ بھی کہ این آر سی کے بعد کے لائحہ عمل کے حوالے سے وہ کتنی لاعلم ہے۔ اگراین آر سی، اسی طرح بنا کسی تیاری کے بھارت بھر میں نافذ ہوتا ہے تو ایسے میں لاکھوں گرفتاریاں ہوگی اور یہ بڑے پیمانے پر انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ دریں اثنا، خود مختار نگرانی کی غیر موجودگی میں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی حراستوں کا بہت زیادہ امکان موجود ہے۔

جاری مظاہروں اور حکومت کی جانب سے ان کو روکنے کیلئے سخت اقدامات سے دو طرح کے نتائج پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوا ہے: ایک، بغاوت کو کچلنے کیلئے حکومتی کوششوں کے سبب سخت آمرانہ رجحانات کی جانب سفر کی صورت میں دکھائی دیتا ہے، اور دوسرا بدامنی کا مسلسل جاری رہنا۔ 

مرکزی حکومت کی جانب سے بھرپورشفافیت اورقانون کی آئینی حیثیت کے بارے میں وضاحت دیئے بغیر نیز تمام متعلقہ فریقین کو بذریعہ عوامی مباحثہ ساتھ شامل کئے بنا سی اے اے کے مسئلے کا مستقبل قریب میں حل ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Wikimedia Commons

Image 2: NurPhoto via Getty Images

Posted in , , democracy, Human Rights, Human Security, India, Politics, Religion

Arun Teja Polcumpally

Arun Teja Polcumpally

Arun Teja Polcumpally is a doctoral fellow at the Jindal School of International Studies in Sonepat, India. Previously, he worked as a Research Assistant at the Foundation for Democratic Reforms, Hyderabad as well as Campaigning Manager at the Social Post Political Consultancy. His current area of research is the impact of hyper digital technologies on the global power structure and he is focusing on the effect of artificial intelligence on South Asian power structures.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *