2007_08_21_China_Pakistan_Karakoram_Highway_Khunjerab_Pass_IMG_7311-1024×616-1

افغانستان سے امریکی انخلا نے واشنگٹن کی ترجیحات میں تبدیلی کا اشارہ دیا اور ساتھ ہی چین کی جانب نئی توّجہ بھی مبذول کرائی۔تاہم  جیسے جیسے  واشنگٹن کا جھکاؤ انڈو پیسیفک  (ہند و بحر الکاہل  خطّہ) کی جانب بڑھتا جا رہاہے، جنوبی اور وسطی ایشیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ خطے میں امریکی تزویراتی مقاصد کو کمزور کر رہا ہے۔افغانستان اور پاکستان میں نئی اقتصادی، سفارتی اور سیکیورٹی  مصروفیات کے ساتھ، یہ واضح ہے کہ  بیجنگ نہ صرف وسطی ایشیا اور یورپی منڈیوں تک اپنی زمینی رسائی کو وسعت دے گا بلکہ بحر ہند کے خطے (آئی او آر) تک بھی زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل کرے گا۔اگرچہ جنوبی اور وسطی ایشیا کو کنکٹ کرنا اہم مشکلات  پیش کرتا ہے، لیکن بیجنگ کی کوششیں واشنگٹن کی توجہ کی متقاضی ہیں۔ بڑھتی ہوئی تجارت اور توانائی کی ضروریات کے لئے آئی او آر پر چین کا بڑھتا ہوا انحصار بحر ہند میں اس کی بحری موجودگی میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔اس سے  ہند و بحرالکاہل کے وسیع تر خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے برقرار رکھی جانے والی صورت حال  میں خلل پڑ سکتا ہے۔

واشنگٹن کی روانگی کے ساتھ ہی بیجنگ کی آمد

افغانستان میں امریکہ کےعدم رابطے  نے بیجنگ کو اپنے مفادات کو آگے بڑھانے اور  افغانستان میں اقتدار کے خلا سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا ہے۔ جنوری میں بیجنگ نے طالبان کے ساتھ تیل نکالنے اور  ریفائننگ کے ایک بڑے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو اگست ۲۰۲۱ میں اقتدار میں آنے کے بعد گروپ کی پہلی اہم غیر ملکی سرمایہ کاری ہے۔ چین نے طالبان کے ساتھ انفرا اسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کو تقویت دی، مغرب پر افغانستان پر سے پابندیاں اٹھانے اور منجمد افغان فنڈز کے اِجرا پر زور ڈالا، افغانستان میں تجارت کا آغاز کیا اور افغان درآمدات پر محصولات میں کمی کی۔ سی پیک متعلقہ  پاک  افغان سرحد پر سیکیورٹی کی خلاف ورزیوں کے باوجود چین کی جانب سے طالبان کے ساتھ معاشی سفارتکاری اور سیاسی روابط کا مسلسل استعمال طالبان پر ایک مخصوص سیاسی برتری قائم کر سکتا ہے جو انہیں نہ صرف بی آر آئی  کی حمایت  پر آمادہ کرنے بلکہ افغانستان میں چینی سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھی ضروری ہے۔

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے جنوبی اور وسطی ایشیا کو جوڑنے کے عزائم کے لیےاب تک افغانستان کی سیکیورٹی کی صورتحال ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ گو کہ بیجنگ کا ہدف وسطی ایشیا اور شنجیانگ میں عسکریت پسندی، بنیاد پرست نظریات اور منشیات کے بہاؤ کو روکنا ہے، لیکن وہ بی آر آئی کے ذریعے علاقائی رابطے حاصل کرنے اور بحر ہند تک رسائی حاصل کرنے کے لئے افغانستان میں استحکام بھی چاہتا ہے۔مثلاََ  چین نے شنجیانگ خطے میں ایک علاقائی  تعلق کی کڑی میں سرمایہ کاری کی ہے،  جو سی پیک اور بی آر آئی گزر گاہوں کے لئے واخان کوریڈور کے قریب واقع ایک اہم رابطہ پوائنٹ ہے اور اس طرح افغانستان، پاکستان اور تاجکستان کو چین کے ساتھ ملاتا ہے۔

اس راہ گز ر  کے قریب، بیجنگ کا مقصد ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کو اس علاقے سے دور رکھنا،افغانستان کے اندر  آئی ایس آئی ایس کے ، کے زورِ حرکت کو روکنا اور افغانستان-پاکستان سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے دوبارہ سر اٹھانے سے چوکس رہناہے۔

سی پیک متعلقہ  پاک  افغان سرحد پر سیکیورٹی کی خلاف ورزیوں کے باوجود، چین کی جانب سے طالبان کے ساتھ معاشی سفارتکاری اور سیاسی روابط کا مسلسل استعمال طالبان پر ایک مخصوص سیاسی برتری قائم کر سکتا ہے جو انہیں نہ صرف بی آر آئی  کی حمایت  پر آمادہ کرنے بلکہ افغانستان میں چینی سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھی ضروری ہے۔

انسداد دہشت گردی پر علاقائی ریاستوں سے تزویری ہَمکاری اسٹریٹیجک  (سینرجی) پیدا کرنے کی سعی میں چین نے طالبان کے ساتھ روابط جاری رکھے ہوئے ہیں اور چین افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے مابین سیاسی نظم و نسق، سلامتی اور انسان دوستی  کی بنیاد پر مداخلت کے لئے علاقائی اتفاق رائے  پیدا کرنے کے لئے کثیر الجہتی فورموں میں فعال طور پر حصہ لے رہا ہے۔ امریکی فوجیوں کے انخلا کے دوران ، شدید سیکیورٹی خدشات کے باوجود امریکہ کے برعکس چین کا سفارتی مشن  موقع  پر موجود رہا۔ درحقیقت، جب امریکہ نے افغانستان سے اپنی توجہ ہٹا لی، بیجنگ نے ملک میں اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو “مضبوط” کرنے کا انتخاب کیا۔ دیرپا سیاسی وابستگی اور انفرا اسٹرکچر  کی سرمایہ کاری جو افغانستان کو جنوبی اور وسطی ایشیا میں  پہلے سے موجود  بی آر آئی منصوبوں میں مدغم کر دے گی،  تزویراتی طور پر اہم شعبوں پر اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ بڑے معاشی فوائد فراہم کرے گی۔

جنوبی اور وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے چین کی اقتصادی سفارتکاری

امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد اس کی توجہ پاکستان کی طرف بھی کم ہوتی گئی۔ تعلقات میں سرد مہری کے دوران واشنگٹن نے اسلام آباد پر واضح کیا کہ اس نے  تعلقات ڈاؤن گریڈ  دیا ہے۔ دریں اثناء چین نے پاک  چین  اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں ۶۰ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ گوادر بندرگاہ کے قریب بی آر آئی راہ گزر اور ٹرانس افغان ریل لنکس وسطی ایشیا اور افغانستان کی سپلائی لائنوں کو پاکستان کی بندرگاہوں سے جوڑتے ہیں اور چین، جو کہ خشکی سے محصور خطّہ ہے، اُسے ایک برآمداتی منزل (ایکسپورٹ ڈسٹینیشن) کے طور پر  کھولتے ہیں۔نقل و حمل کے وقت میں غیر معمولی کمی اور خطے بھر میں سامان کی منتقلی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کے ساتھ، جنوبی ایشیا سے وسطی ایشیا تک مشترکہ تجارتی حجم ایک دہائی میں ۲۶ بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

اقتصادی فوائد کے ساتھ ساتھ پاکستان میں زیادہ اثر و رسوخ اور موجودگی بحر ہند کے خطے میں  زیادہ تزویراتی متبادل (اسٹریٹیجک آپشنز) فراہم کرتی ہے۔سی  پیک منصوبوں کی تکمیل کے بعد بیجنگ کو بحر ہند تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے گی جو انڈو پیسیفک میں مسابقت کا ایک ابھرتا ہوا میدان ہے۔تجارتی راستوں، ابھرتی ہوئی جغرافیائی سیاست اور سیکیورٹی  محرکات  پر زیادہ اثر و رسوخ، بحر ہند میں طاقت اور  زائد بحری موجودگی کے لیے اضافی رسائی کا روپ دھار سکتا ہے۔

چین کے درآمد شدہ تیل کا تقریبا ۸۰ فیصد بحر ہند اور آبنائے ملاکا سے گزرتا ہے اور مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے ساتھ اس کی ۹۵ فیصد تجارت بحر ہند سے گزرتی ہے۔ سی پیک چین کو گوادر کے راستے مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک مختصر ترین رسائی فراہم کرسکتا ہے اور توانائی و تجارتی نقل و حمل کے لیے آبنائے ملاکا پر اس کا انحصار کم کرسکتا ہے۔ سی پیک منصوبوں کو درپیش بڑی سیکیورٹی اور سیاسی رکاوٹوں کے باوجود،  جن کے باعث منصوبوں کو ٹھہراؤ کا شکار ہونا پڑا،  چین نے حال ہی میں  کاشغر-گوادر ریل لنک کے لیے ۵۸ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں۔ اس سے مغربی غلبے والے راستوں پر بیجنگ کا انحصار مزید کم ہو جائے گا، ملاکا اور بحرالکاہل  کے سمندری راستوں  کو  نظر انداز کیا جا سکے گا، جس سے بی آر آئی کی جغرافیائی سیاسی اہمیت واضح ہو گی۔

آئی او آر کے ذریعے اہم سمندری لائنوں (ایس ایل او سیز) کو محفوظ بنانا بھی چین کے لیے اہم ہے۔ایس ایل او سی کی حفاظت کے سلسلے میں بحر ہند میں پہلے ہی سے بڑھتے ہوئے پی ایل اے این  (چینی بحریہ کے)  بحری جہازوں کےگشت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔گوادر کے دوہرے استعمال کی صلاحیت نے پہلے ہی ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ چین پاکستان میں بحری جہازوں کے اڈے بنا سکتا ہے، جو بحر ہند کے پانیوں پر امریکی اثر و رسوخ کے لیے ایک اہم خطرہ بن سکتا ہے۔

چین سی  پیک اور بی آر آئی کے ذریعے افغانستان اور پاکستان میں جتنی زیادہ سرمایہ کاری کرے گا، اتنا ہی یہ اہم علاقے چین پر انحصار کریں گے۔ وسطی ایشیا سے افغانستان کے راستے جنوبی ایشیا تک سی پیک اور بی آر آئی گزر گاہوں سےرابطے میں اضافہ اور انضمام سے چین کا اپنی توانائی اور تجارتی ضروریات کے لیے بحر ہند کے راستوں پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔اس سے آئی او آر میں چین کے ممکنہ بحری غلبے کے بارے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں  بشمول بھارت،  کےخدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور خطے میں جغرافیائی سیاسی جوڑ توڑ میں خلل پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بحر ہند میں بحری مسابقت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکہ کی انڈو پیسیفک حکمت عملی پر چین کی مسابقتی برتری

بیجنگ کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، سفارتی رسائی اور افغانستان و پاکستان میں سکیورٹی موجودگی نے چین  کو اُس مقام پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں کبھی واشنگٹن ہوا کرتا تھا۔امریکہ کے برعکس، چین نے اب تک فوجی اثر و رسوخ پر اصرار کرنے سے گریز کیا ہے اور اس کے بجائے وہ سافٹ پاور پر انحصار کرتا ہے۔اس نے حال ہی میں روایتی حریفوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان یمن کے بحران پر جنگ بندی کےمطالبہ کے لئے ایک سفارتی معاہدے کی ثالثی کی ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ افغانستان پر علاقائی اتفاق رائے لانے کے لیے قیادت کر رہا ہے اور طالبان کے ساتھ مل کر، بی آر آئی اور آئی او آر سے متعلقہ اسٹریٹیجک رسائی پوائنٹس  کے لیے  نمو پذیر سیاسی اور پُر امن حالات کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ حریف حکومتوں کے ساتھ عدم رابطے یا ان پر پابندیاں عائد کرنے کے امریکی  نقطہ نظر سے بالکل مختلف ہے۔

آئی او آر چین کے توانائی اور تجارتی راستوں کے لیے جتنا زیادہ اہم بنتا جائے گا، اُتنا ہی ان سمندری گزر گاہوں کو مداخلت سے محفوظ بنانے کے  لیے چین کی سختی  کا امکان ہے۔

آبنائے ملاکہ کی بحری ناکہ بندی ایک ایسی پیش رفت ہے جس سے چین کی مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے توانائی اور تجارتی ضروریات پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے باعث  خود کو بچانا  ضروری ہوگا۔بہت ممکن ہے کہ بحر ہند میں چین کی بڑھتی ہوئی بحری موجودگی ایس ایل او سی کو محفوظ بنانے کے لیے ہو جو اس کی توانائی اور تجارتی ضروریات کے لئے اہم ہیں۔

پاکستان کی گہرے سمندر کی بندرگاہ  گوادر  پی ایل اے این کے بحری جہازوں کے لئے لانچ بیس بن سکتی ہے۔ یہ خاص طور پر اس صورت میں اہم ہے جب سی پیک اور آئی او آر کے بارے میں چین اور پاکستان کے خدشات، امریکہ اور بھارت کی بڑھتی ہوئی انڈو پیسیفک اقتصادی اور دفاعی شراکت داری کے خلاف زیادہ  ہوجاتے ہیں۔

آئی او آر چین کے توانائی اور تجارتی راستوں کے لیے جتنا زیادہ اہم بنتا جائے گا، اُتنا ہی ان سمندری گزر گاہوں کو مداخلت سے محفوظ بنانے کے  لیے چین کی سختی  کا امکان ہے۔

آئی او آر میں بھارتی بحریہ کی موجودگی کو متوازن کرنے کے لئے پاکستان اپنی “گرین واٹر نیوی” کو مستحکم کرنے کے لیے بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چین کے ساتھ اسلام آباد کے متنوع اور تاریخی دفاعی تعلقات  میں مستقبل قریب میں مزید وسیع ہونے کا امکان ہے۔ چین بحر ہند میں گہرے سمندر کی تحقیقات، سمندر کی کھدائی، زیرِ سمندر  فرش کے وسائل کی تشخیص اور سمندری کاموں میں مدد کرنے کے لئے نظام تیار کرنے کے لئے اپنی سرمایہ کاری کرنے  میں ثابت قدم رہا ہے۔بحر ہند میں چین کی زیر سطح موجودگی کو انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور بین الاقوامی پانیوں میں گشت کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔بیجنگ کے حالیہ منصوبوں کے مطابق ڈیاگو گارشیا اور جزائر انڈمان و نکوبار کے قریب نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے سری لنکا میں ایک ریڈار بیس قائم کیا جائے گا۔ان دفاعی مصروفیات سے چین کو امریکہ اور بھارت کی دفاعی شراکت داریوں میں توازن پیدا کرنے میں مدد ملے گی جس کا مقصد بھارت ،جو روایتی طور پر ایک  زمینی طاقت ہے، کو بحری طاقت میں تبدیل کرنا ہے۔

اب جبکہ امریکہ اپنی توجہ انڈو پیسیفک  پر مرکوز کر رہا ہے، بہتر ہو گا کہ وہ  چین  کی  آئی او آر میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لئے اقتصادی سفارتکاری اور افغانستان، پاکستان اور وسطی ایشیا کے ذریعے رابطوں کے تزویراتی استعمال  کے طویل مدتی نتائج سے محتاط رہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان کے ساتھ سیکیورٹی پر مبنی شراکت داری سے آگے بڑھنے سے اسلام آباد امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کو متوازن کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوسکتا ہے۔ امریکہ طالبان کے ساتھ عدم رابطے کی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کر سکتا ہے کیونکہ چین وسطی اور جنوبی ایشیا میں اپنے رابطے، آئی او آر تک رسائی اور سیاسی اثر و رسوخ کے لئے تزویراتی طور پر آگے بڑھنے کے لئے چھوڑے گئے سیاسی خلا میں فعال طور پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ افغانستان میں انسانی امداد اور خواتین کے حقوق کے امور پر مبنی کام کو جاری رکھنا، جن کی بہت ضرورت ہے اور افغان عوام میں طویل مدتی سرمایہ کاری، کچھ ایسے شعبے ہیں جہاں امریکہ تعلقات کو برقرار رکھ سکتا ہے اور چین کے خلاف اپنے طویل مدتی سفارتی فوائد سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Karakoram Highway via Wikimedia Commons

Image 2: Khunjerab Pass via Wikimedia Commons

Share this:  

Related articles

  اُبھرتی ہوئی میزائل ٹیکنالوجیز : جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ؟ Hindi & Urdu

  اُبھرتی ہوئی میزائل ٹیکنالوجیز : جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ؟

۲۷ جنوری ۲۰۲۳ کو بھارت نے تیسری بار اپنے ہائپرسونک…

بر سرِ موقعٔ انتخابات: جنوبی ایشیا میں جمہوریت کی صورتحال کا جائزہ Hindi & Urdu

بر سرِ موقعٔ انتخابات: جنوبی ایشیا میں جمہوریت کی صورتحال کا جائزہ

بر سرِ موقعٔ انتخابات: جنوبی ایشیا میں جمہوریت کی صورتحال…

بنگلہ دیش ۲۰۲۳ : ہلچل کا سال اور منڈلاتی  ہوئی مزید بےیقینی Hindi & Urdu

بنگلہ دیش ۲۰۲۳ : ہلچل کا سال اور منڈلاتی  ہوئی مزید بےیقینی

 جنوری ۷، ۲۰۲۴ کو ہونے والے عام انتخابات کے پیش…