اسلام پسندوں کو قومی دھارے میں لانے کا خطرناک منصوبہ

حالیہ دنوں میں    کئی ایک کاالعدم عسکریت پسند تنظیموں نے ملک کے سیاسی میدان میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے ۔ اطلاعات تو یہا ں تک آ رہی ہیں کہ اسلام پسند جماعتوں کا ایک اتحاد عام انتخابات سے پہلے جنم لے سکتا ہے  جو انسدادِ دہشت گردی اور اقلیتوں سے متعلق حالیہ ریاستی قوانین میں مجوزہ ردو بدل اور ترامیم  میں رکاوٹ کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔

تاریخی طور پر ملک کی اسلامی جماعتیں جیسے جماعت اسلامی  اور جمیعت علماء اسلام ،عسکریت پسند تنظیموں کے منشور کی حمایت یا  پھربھرتیوں کے لیے خدمات پیش کرکےاُنکواپنی ہمدردی جتلا تی رہی ہیں ۔ جہا ں پاکستان نے بہت سے اسلامی گروہوں کو عسکریت پسند تنظیموں سے روابط پر معطل کیا ہے ان میں سے  کئی تنظیمیں اب بھی آزاد اور متحرک ہیں ۔ عسکریت پسند گروہوں کی آئینی اور قانونی دھارے میں شرکت کی کوشش یہ دکھاتی ہے کہ ریاست ان کے خلاف اقدامات سے قاصر رہی ہے اور یہ بھی کہ  ان کے خلاف ایک جامع حکمتِ عملی ( کہ جو شدت پسند عناصر کو عسکریت پسند ی سے دور کر سکے ) بنانے سے بھی گریزاں  ہے۔

کاالعدم جماعت الدعوۃ جسے بھارت پر حملوں کا الزام دیا جاتا ہے، نے لاہور میں این-اے ۱۲۰ کے ضمنی انتخاب(نشست جو سابقہ وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی پر خالی ہوئی تھی) میں  ملی مسلم لیگ کے نام سے ایک سیاسی جماعت  بنائی ہے۔ اگرچہ جماعت کے روحِ رواں حافظ سعید گھر میں نظر بند ہیں تاہم جماعت کے سماجی، مذہبی اور سیاسی شعبے اب بھی متحرک ہیں۔ اس ضمنی انتخاب میں پارٹی نے خوب انتخابی مہم چلائی۔ اس نشست پر انتخابی امیدوار آزادانہ حیثیت میں لڑ رہے تھے مگر انکو جماعت الدعوۃ کی حمائت حاصل تھی اور انہوں نے ۵۰۰۰ سے زائد ووٹ حاصل کیے جو کہ حیران کن طور پر پاکستان پیپلز پارٹی(جو ماضی میں تین دفعہ حکومت بنا چکی ہے)کے مجموعی ووٹوں سے زیادہ ہیں۔ الیکشن کمیشن  ملی مسلم لیگ کی حیثیت کو تسلیم تو نہیں کرتا تاہم  یہ جماعت ریاست کی مرضی کو روندتے ہوئے نفرت انگیز تقاریر اور جہادی ایجنڈا  پر مبنی انتخابی مہم چلاتی رہی۔ ملی مسلم لیگ آئندہ انتخابت میں کثیر ووٹ تو حاصل نہیں کر سکے گی تا ہم ایک عسکریت پسند جماعت  مہم چلا کر اور نظام کا حصہ بن کر نہ صرف اپنی نظریاتی بنیادوں کو مظبوط کرے گی بلکہ ریاست کی عسکریت پسندی کو کچلنے کی کوششوں پر بھی سوالیہ نشان ثبت کرے گی۔

اسی دوران جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا سمیع الحق نے چند دن پہلے اعلان کیا کہ امریکہ کی پاکستان پر جارحیت کی صورت میں افغان طالبان پاکستان کی مدد کریں گے۔ مولانا کا اسلامی گروپ نہ صرف ملک میں لاتعداد مدرسے چلاتا ہے بلکہ انکا سیاسی شعبہ بھی خاصہ متحرک ہے جو طالبان کا حمائتی ہے اور ریاست کے انکے خلاف فوجی ایکشن کی مخالفت کرتا ہے۔ ابھی تک حکومت نے نہ تو مولانا کے بیان پر کوئی صفائی دی ہے اور نہ ہی اس کو مسترد کیا ہے لیکن یہ اعلان ان تمام مدرسوں میں گونج رہا ہے جو افغان طالبان کےلئے بھرتیوں کا سامان مہیا کرتےچلے آ رہے ہیں۔ بہت سوں کے مطابق اس بیان پر ردِ عمل نہ دینا اس بات کا غماز ہے کہ ریاست اب بھی عسکریت پسندوں کی حمائت کی پالیسی کو سکیورٹی پالیسی کی وجہ سے نہ چھوڑنے پر عمل پیرا ہے۔

پاکستان کی اسلامی جماعتوں  کا آئندہ انتخابات میں ممکنہ شرکت ملک کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے لیے بھی ایک چیلنج ہے ۔ ملک کا انتہا پسندی کے خلاف ۲۰ نکاتی نیشنل ایکشن پلان ،  جو دو سال پہلے  نافذ کیا گیا ، کا مقصد عسکریت پسند ی کو( نفرت آمیز تقاریر سے لے کر متحرک شر پسندی تک)  روکنا تھا ۔اور  بد قسمتی سے  ریاست اس حوالے سے ٹھوس نتائج دینے میں ناکام رہی ہے ۔

واضح طور پر ریاست نظریاتی اختلافات میں گھری ہوئی ہے جس نے قدامت پسند اسلام پسندوں کو طاقتور کرداروں میں تبدیل کر دیا ہے ۔ انکی اچھی خاصی معاشرتی حمایت ہے جو سیاست کو چیلنج کر سکتے ہیں اور اسکی پالیسیوں کو ڈکٹیٹ کر سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اسلام پسندوں نے ریاست  کے توہین ِ رسالت قوانین  ،(  جس کو  ملک میں اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ) میں اصلاحات کے خلاف مزاحمت کی ہے ۔ مزید برآں  ایسے عناصر نے مدرسوں میں اصلاحات نافذ کرنے کی ریاستی کوششوں پر بھی مسائل کھڑے کیے ہیں ۔

جیسے جیسے قدامت پسند مظبوط ہو رہے ہیں تو  ریاست ان کو قابو کرنے کے حقیقی آپشنز  سے عاری دکھائی دیتی ہے۔اور انکی گلی محلوں میں موجودگی  ریاست کی اندرونی  دہشت گردی کو قابو کرنے کی حکمتِ عملی کےلئے رکاوٹ کا باعث ہے۔ اگرچہ اسلام پسندوں نے کبھی انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کی ہے تاہم انہوں نے ہزاروں لوگوں کو اپنے نظریے کی خاطر گلیوں میں نکالا ہے۔ اس لئے یہ ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں اسلام پسند باہر نکل کر اپنے انتہا پسند نظریے کو قانونی بنائیں اور ملک بھر میں معاشرے کے مختلف طبقوں سے حمائت حاصل کریں۔

ان حالات سے نمٹنے کےلئےپاکستان کےلئے محض ایک راستہ بچتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان گروہوں پر شکنجہ کس دیا جائے تاکہ وہ اسلام کی تشریح  اپنی مرضی و منشا کے مطابق نہ کر سکیں۔ تاہم یہ حکمتِ عملی صرف اسی صورت میں کامیاب ہو گی جب ان گروہوں کی حمائت کے تمام پہلوؤں (سیاسی و ثقافتی) کا سدِ باب کیا جائے ۔ اسلام آباد میں بیٹھے پالیسی سازوں کو پاکستانی ریاست میں اسلام کے کردار کو از سر نو واضح کرنے کی ضرورت ہے، جب تک اسلام پسندوں کی سوچ کو ایک نئی قومی اور مثبت اسلامی سوچ (جو کہ معاشرے کو یکجا کر سکے)سے تبدیل نہیں کیا جاتا ، ملک کی نظریاتی تقسیم مزید وسیع ہو جائے گی اور ایسے گروپ ملک کی سیاسی محاذوں پر اپنا غلبہ قائم رکھیں گے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Milli Muslim League website

Image 2: Arif Ali via Getty Images

Posted in , Culture, Elections, Internal Security, Militancy, Pakistan, Politics

Umair Jamal

Umair Jamal

Umair Jamal teaches History and South Asian security at the Forman Christian College University. He is a correspondent for The Diplomat magazine, based in Lahore, Pakistan. His research focuses primarily on the analysis of South Asian security and politics. His work has been featured in a number of renowned media outlets including Foreign Policy, Al-Jazeera, The National Interest, The Huffington Post, The Diplomat, Asia Times, The News on Sunday, Pakistan Today and others. He can be reached at umair.jamal@outlook.com.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *