افغان سیکورٹی فورسز کا بحران: مسئلہ قابلِ حل؟


اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا ساکتا کہ افغانستان کو بگڑتی ہوئی سیکورٹی صورتحال کا سنگین مسئلہ درپیش ہے۔افغانستان کے ۷۰فیصد علاقوں میں طالبان کی موجودگی اور ۲۰۱۸ میں متواتر کئی صوبوں میں ان کے تباہ کن حملوں کی وجہ سے ملک کی سیکورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا، اور ساتھ ہی فوجی بھرتیوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ دسمبر کے اوائل میں یو۔ایس سینٹرل کمانڈ کے لئے منتخب لیفٹیننٹ جنرل کینتھ مکینزی نے کہا کہ ”افغان سیکورٹی کی بلند شرح اموات کا برقرار رہنا مناسب نہیں ہے اور ہمیں یہ مسئلہ درست کرنا ہو گا۔“

ابھی تک امریکی صدر ٹرمپ کی افغانستان میں جنگ لڑنے کی مشروط حکمتِ عملی کو خاطر خواہ کامیابی نہیں مل پائی، اور اطلاعات یہ ہیں کہ امریکہ افغانستان سے ۷۰۰۰ فوجی واپس بلانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ دریں اثناء اس سال افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں تیزی دیکھنے میں آئی جیسے کابل پراسیسکے موقع پر صدر غنی کا طالبان کی طرف آگے بڑھنا، عید کے موقع پر جنگ بندی، ا امریکہ کا طالبان کے نمائندوں کے ساتھ بلا واسطہ مذاکرت کرنا۔ اس کے علاوہ گولیوں اور تشدد کے عمومی خطرے میں گھرے ہونے کے باوجود، افغانستان اپنے مستقبل پر نظر رکھے ہوئے ہے، جیسے اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات کروانا اور اس سال صدارتی انتخابات کے لئے شیڈول جاری کرنا۔ 

افغانستان کی تاریخ کا یہ نازک دور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغان نیشنل ڈیفینس اور سیکورٹی فورسز (”اے این ڈی ایس ایف“) اپنے ملک کو حفاظت فراہم کرنے میں کس حد تک غیر مؤثر ہیں۔ امریکہ اور افغان حکومت کی ”اے این ڈی ایس ایف“کی قابلیت اور استعداد بڑھانے کی تمام کوششیں ابھی تک بارآور نہیں ہوئیں اور اسکی وجہ طالبان کا بھرپور انداز میں پھر سے ابھر آنا ہے۔ اور ابھی تک یہ غیرواضح ہے کہ ”اے این ڈی ایس ایف“ اس رکاوٹ کو عبور کر سکے گی یا نہیں۔ 

بےلگام طالبان

افغان سیکورٹی فورسز کو اپنے ملک کی حفاظت کے لئے تیار کرنا، سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کا افغانستان سے انخلاء کی حکمتِ عملی کاایک اہم عنصر تھا۔ اواخرِ ۲۰۱۲ سے اتحادی فوجوں میں بتدریج کمی کرنے سے افغانستان میں ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور اسکے ساتھ ساتھ طالبان کے گروپس کی تعداد بھی بڑھ گئی جو کہ اب افغانستان کے تین چوتھائی علاقے میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ گروپ اب ”اے این ڈی ایس ایف“ کے چیک پوائنٹ اور دیہاتوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور گلیوں سڑکوں پر بلا خوف و خطر گھومتے نظر آتے ہیں۔ ۲۰۱۸ کی پہلی سہ ماہی کے لئے اقوامِ متحدہ کے ادارے ”یو این اے ایم اے“ نے ۲۲۵۸شہری ہلاکتیں رجسٹر کیں اور یہ تعداد اسی عرصے کے لئے پچھلے سالوں کی تعداد کے قریب قریب ہے۔ اس سال عید پر غیر معمولی جنگ بندی نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ افغانستان میں امن کی کوششوں کو تیزتر کرنا عارضی ثابت ہوا کیونکہ صلح کا وقت ختم ہوتے ہی طالبان نے پھر سے حملے شروع کر دئیے۔ ۲۰۰۱ کے مقابلے میں جب کہ طالبان کو برطرف کیا گیا، یہ گروہ اب زیادہ مہلک، مؤثر اورسخت گیر ہونے کے علاوہ اپنی حکمتِ عملی کو حالات کے مطابق تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

۲۰۱۵ سے تشدد میں اس غیر معمولی بھڑکاؤ کے نتیجے میں روزانہ اوسطاً ۳۰سے۴۰ افغان فوجی اور پولیس افسر  اپنی جانیں کھو رہے ہیں۔ جب سے افغان فوجوں نے نیٹو کے جنگجو فوجیوں سے اپنے ملک کی سیکورٹی کا کنٹرول سنبھالا ہے، انغانستان میں ہلاکتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صدر غنی کے بقول ۲۰۱۵ میں مقامی فورسز کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے اب تک ۲۸۰۰۰افغان فوجی مارے جا چکے ہیں۔ ہلاکتوں کی شرح اتنی زیادہ ہونے کی وجہ سے افغان باشندے اب افغان نیشنل آرمی میں بھرتی ہونے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے لئے خود سے بہتر مسلح اور پہلے سے بھی زیادہ جارحانہ طالبان باغیوں سے جنگ لڑنا ماضی کی نسبت اب زیادہ مشکل و پرخطر ہو گیا ہے۔

اس صورتِ حال کو ایک اور مسئلہ گھمبیرتر بنا رہا ہے اور وہ ہے ”اے این ڈی ایس ایف“ کے بھرتی کے عمل میں طالبان کی براہِراست مداخلت کی خبریں۔ اس کے علاوہ طالبان کے ہاتھوں ”اے این ڈی ایس ایف“ میں بھرتی ہونے والے افراد کے بعض خاندانوں کو ڈرانے دھمکانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ علاوہ ازیں ”اے این ڈی ایس ایف“ کو مزید کمزور کرنے کی غرض سے طالبان پبلک اعلانات کے ذریعے سیکورٹی فورسز اور سرکاری اہل کاروں کو بھگوڑا ہو جانے پر اکسانے لگے ہیں، اور ”وفاداری بدلنے والوں“ کو عام معافی دینے کی لالچ بھی دینے لگے ہیں۔ طالبان کے ساتھ موجودہ امن مذاکرات کی حالیہ لہر کو دیکھتے ہوئے باغیوں نے یہ اشارے بھی دیئے ہیں کہ اگر افغانستان میں امن بحال ہوتا ہے تو طالبان کی واپسی اتنی سخت نہیں ہو گی جتنی کہ ۹۰ کی دہائی کے آخری سالوں میں تھی۔ ان باتوں کا اثر ”اے این ڈی ایس ایف“ میں مورال میں گراوٹ اور حوصلہ میں پستی کی صورت میں محسوس کیا گیا اور ساتھ ہی افغان نیشنل آرمی میں بھرتی کا عمل بھی نقصان کی زد میں آیا۔

کیا کوئی حل ممکن ہے؟

افغانستان اور اسکے اتحادی ”اے این ڈی ایس ایف“ کے حالات میں بہتری لانے کے لئے کئی اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ ان کو چاہیئے کہ وہ ”اے این ڈی ایس ایف“ کی ہوابازی، خبررسانی، نفری کے مؤثر استعمال کی صلاحیتوں، اور سپیشل فورسز میں بہتری لانے کی موجودہ کوششیں جاری رکھیں۔ ۲۰۱۵ سے امریکی اور نیٹو فورسز افغانستان کی سیکورٹی سیکٹر کی تعمیرِنو پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس ماضی میں اس مسئلہ پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ ”تربیت،“ ”راہنمائی،“ اور ”مشن میں معاونتکی پالیسی کے تحت اتحادیوں کے گروپس کی توجہ اب روزمرہ کے جنگی آپریشنز کے بجائے افغان نیشنل آرمی کی ترتیبِ نو پر مزکور ہو گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت حساس اور انتہائی اہم علاقوں اور شہری مراکز کا بھرپور دفاع کرنے کو اہمیت دی گئی ہے اور کم اہمیت والے علاقوں، جن کا ”اے این ڈی ایس ایف“ کے مجموعی مشن پر کوئی خاص اثر نہیں تھا، کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا نکات ”تعمیرِ  نو افغانستان“ کے سپیشل انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ میں بیان کئے گئے ہیں۔ 

موجودہ صورتحال کو بہتر کرنے کے لئے ایک دانشمندانہ راستہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”اے این ڈی ایس ایف“ جو کہ اب تک ایک دفاعی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے، اب کھوئے ہوئے افغان علاقوں کو واپس اپنے زیرِ تسلط لانے اور طالبان کی آمدنی کے ذرائع کو تتّر بتّر کرنے کے لئے جارحانہ حملے کرے، مثلاً منشیات تیار کرنے والے ٹھکانوں کو تباہ کرے۔ کچھ عرصہ پہلے کولیشن فورسز کے فضائی حملوں کی وجہ سے طالبان کو ۲۰ملین ڈالر کی آمدنی سے ہاتھ دھونا پڑے۔افغانستان کی موجودہ خطرناک صورتِ حال   اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ طالبان کے خلاف وہی حکمتِ عملی اپنائی جائے جو کہ ایک سال پہلے اپنائی گئی تھی۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد کے بغیر ایسی کامیابیاں حاصل کرنے اور طالبان کے جارحانہ حملوں کا مؤثر جواب دینے کے لئے ”اے این ڈی ایس ایف“ کو ایک نجی اسلح سازی کی انڈسٹری لازماً بنانا پڑے گی جس میں وہ اپنے دفاعی سازوسامان کی مرمت اور دیکھ بھال کرنے کے علاوہ اس سامان کو اپ ڈیٹ بھی کر سکے اور اپنی فضائی قوت، جس کی شدید ضرورت محسوس کی جاتی ہے، کو بڑھا سکے۔ افغان فضائی قوت بلآخر جدید ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اب وہ افغان نیشنل آرمی کے فوجیوں کو زمینی حملوں میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ لیکن یہ مدد اتحادیوں کی مدد کے مقابلے میں بےمعنی ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں افغان فضائیہ نے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور روسی ساخت کے ایم۔آئی ۱۷ ہیلی کاپٹر بتدریج ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اسلحے کی فہرست میں اس ہیلی کاپٹر کی شمولیت فضائیہ کے لئے ایک اضافی چیلنج ہو گا کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایم۔آئی ۱۷ کو استعمال کرنے کی ٹریننگ رکھتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اپنی سیکورٹی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے افغانستان کو وسائل میں شدید کمی کا سامنا ہے۔ یعنی اپنے دفاعی ساز و سامان کی مرمت اور دیکھ بھال کے لئے اور سیکورٹی فورسز پر اٹھنے والے اخراجات پورا کرنے کے لئے خاطرخواہ وسائل میسر نہیں۔ موجودہ صورتحال کا برقرار رہنا یقیناً اتحادی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان کے لئے مشکلات میں اضافے کا سبب ہو گا۔

یہ کام نہیں آساں

”اے این ڈی ایس ایف“ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ابھی کوئی جامع اور قابلِ عمل منصوبہ موجود نہیں۔ افغان فورسز کی قابلیت اور اہلیت آنے والے وقت میں زیرِبحث رہے گی کیونکہ افغان فوجوں نے اپنے ملک کی حفاظت کی ذمہ داری محض آدھی دہائی قبل ہی سنبھالی ہے۔ اس وقت یہ بات بالکل واضح ہے کہ ”اے این ڈی ایس ایف“ کی کارکردگی متاثرکن درجہ تک تب ہی پہنچے گی جب ان فوجوں کی مجموعی استعداد مطلوبہ درجہ تک پہنچ جائے گی۔ 

موجودہ حساس ترین افغان سیکورٹی حالات میں ٹرمپ کا افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کے اعلان سے حالات پر یقیناً منفی اثر پڑے گا۔ امریکی فوجوں کی افغانستان سے واپسی کسی دوسرے پہلو پر اثرانداز ہو نہ ہو، یہ واپسی طالبان، داعش اور دیگر انتہاپسند حلقوں کا خطے میں اور افغان آبادی پر اثر و رسوخ بڑھانے میں یقیناً آسانی پیدا کرے گی، اور ان کے لئے مددگار ثابت ہو گی۔ امریکی افواج کی قبل از وقت روانگی اپنے پیچھے ناکار تربیت یافتہ ڈیفینس فورسز چھوڑے گی اور ”اے این ڈی ایس ایف“ اور افغان حکومت کی مجموعی استعداد بڑھانے کی امیدیں بکھر جائیں گی۔ نئی بھرتیوں میں شدید کمی کی وجہ سے سیکورٹی حالات مزید بگڑ جائیں گے۔

امریکی فوجوں کا ایسے مرحلے پر انخلاء، جبکہ امن مذاکرات میں پچھلے چند ماہ میں تیزی آئی ہوئی ہے، امن مذاکرات کو تباہ کرنے کے مترادف ہو گا اور اس دشوار صورتحال میں تنازعہ کو ختم کرنے کے امکانات کو مزید کم کرے گا۔ اسکے علاوہ ۲۰۱۴ کے بعد پہلے صدارتی انتخاب اگلے چھ ماہ میں کروانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اگر ”تربیت،“ ”راہنمائی،“ اور ”معاونت،“ جو کہ ”اے این ڈی ایس ایف“ اور حکومتِ افغانستان کو اس وقت امریکہ اور نیٹو سے مل رہی ہے، کے پروگرام میں یکایک تبدیلی لائی جاتی ہے تو صدارتی انتخاب کے عمل کو شدید خطرہ ہو سکتا ہے۔ موجودہ نازک اور اہم قت میں اتحادیوں کو افغان حکومت کی مدد کے لئے ان کے شانہ بشانہ ہونا چاہیے۔ لیکن اگر ”اے این ڈی ایس ایف“ کی کمزوریاں برقرار رہتی ہیں تو پھر یقیناً افغانستان مضبوط اور پائیدار ملک بننے میں ناکام رہے گا اور امکان یہی ہے کی تاریخ خود کو دھراتی رہے گی۔

***

Click here to read this article in English.

Images: U.S. Air Forces Central Command

Posted in , Afghanistan, Air Power, Internal Security, Militancy, Military, United States

Swati Sinha

Swati Sinha

Swati Sinha is currently a Research Associate at the Centre for Air Power Studies (CAPS), New Delhi, India, and her ongoing research project is “Understanding the Dynamics of Ethnicity in Afghanistan”. She aims to pursue her PhD on a similar area in the coming year. In the past she has interned at the Indian Council of World Affairs, Sapru House; MMAJ Academy of International Studies, Jamia Milia Islamia; Hindustan Times, Jharkhand; and The Global Times. She completed her M.A. in Geopolitics and International Relations from Manipal University in 2016 and Bachelor in Journalism and Mass Communication from Amity University. Swati’s research inclination is towards theory and practice of Diplomacy; Peace Building and Conflict Resolution with a focus on ethnic groups in Afghanistan.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *