,

ایران کا افغانستان میں متوازن کردار

امریکہ اور طالبان کے مابین ۲۹ فروری کو دوہا میں دستخط پانے والا امن معاہدہ کچھ بے یقینی بھی اپنے ہمراہ لایا ہے۔ معاہدے کے بعد سے، خطے کے ممالک ممکنہ امریکی انخلاء نیز افغان حکومت  اور طالبان کے مابین اختیارات کی تقسیم سے زیادہ سے زیادہ فوائد بٹورنے کیلئے اپنا کردار طے کرنے میں مصروف ہیں۔ اسی پس منظر میں ایران جو کہ افغانستان کا ایک اہم ہمسایہ ہے، مستقبل قریب میں افغانستان اور خطے میں استحکام اور سلامتی کے تعین میں ممکنہ طور پر کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ایران ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان سے تجارتی و ثقافتی اعتبار سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے گا۔ تاہم ایران ایک ایسے اہم دوراہے پر بھی کھڑا ہے کہ جہاں امن عمل کے نتائج یا اس میں پیش رفت ایران کی حکمت عملیوں کو اس کے بہترین مفاد کیلئے تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ ایران ، افغان حکومت کی اعلانیہ حمایت کی موجودہ حکمت عملی کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ طالبان سے اپنے تعلقات کو برقرار رکھے گا تاکہ امریکی انخلاء کی صورت میں اس کیلئے تمام دروازے کھلے ہوں۔ الغرض یہ کہ تہران اس امر کو ترجیح دے گا کہ افغانستان جمہوریہ کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بشمول ایران کے علاقائی حریف پاکستان و سعودی عرب کے ان اثرات کو محدود کر سکے جو کہ وہ کابل پر ڈال سکتے ہیں؛ نیز وہ ملک میں ایران کے مفادات کے تحفظ کیلئے زیادہ سازگار ماحول تخلیق کرسکے۔

افغانستان میں تہران کا متوازن کردار

افغان حکومت سے تعلقات تاحال ایران کی اولین ترجیح رہی ہے اور اس نے افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ دونوں سے ہی روابط رکھے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک ماہ سے قلیل مدت کے دورانیئے میں ایران اور افغانستان کے مابین اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے ہوئے ہیں جس کے تحت بالترتیب دونوں ممالک کے نائب اور قائم مقام وزیر خارجہ نے ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کیا۔ افغان قائم مقام وزیر خارجہ حنیف اتمر کے دورہ تہران کے بعد ۲۲ جون کو دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس کے تحت دونوں ممالک نے خطے میں تجارت اور ٹرانزٹ تعاون کیلئے چابہار بندرگاہ کے کردار کو دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں ممالک نے سرحدی سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور سرحد پر خالی افغان چوکیوں میں عملے کی تعیناتی پر تبادلہ خیال کیا۔ ۱۶ جولائی کو ایران کے نائب وزیر خارجہ سید اگراچی کے دورہ افغانستان کے دوران انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ”ایران اور افغانستان کے مابین جامع تزویراتی تعاون کیلئے جامع دستاویز“ پر کام کرچکے ہیں جس میں ”عدم مداخلت“ اور ”عدم جارحیت“ اس کے اہم مندرجات میں شامل ہیں۔

ایران بین الافغان مذاکرات کیلئے ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام کیلئے بھی افغان سیاسی دھڑوں کو قائل کرنے میں اپنا کردار ادا کرچکا ہے جو کہ افغان سیاسی منظرنامے پر موجود تمام کرداروں سے روابط کی وسیع تر حکمت عملی کے عین مطابق ہے۔ افغانستان کیلئے ایران کے خصوصی ایلچی محمد طاہریان افغان سیاسی  راہنمائوں سے ملاقاتیں کرچکے ہیں، جن میں افغانستان کی جمیعت اسلامی کے سربراہ صلاح الدین ربانی جیسے ثالث اور سیاسی جماعت تنظیم دعوت اسلامی افغانستان کے رہنما عبدالسیاف جیسے اسلام پسند بھی شامل ہیں۔ یوں ایران کو نہ صرف زیادہ امکانات میئسر آئیں گے بلکہ اس سے افغان حکومت کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ تہران کلی طور پر کابل کے جذبہ خیر سگالی پر انحصار نہیں کررہا۔ گزشتہ برس افغانستان کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد تہران نے جامع حکومت کی تشکیل پر زور دیا تھا اور مبینہ طور پر انتخابی نتائج پر سوالات بھی اٹھائے۔ ایران کے موقف پر غنی حکومت واضح طور پر ناخوش تھی اور اس نے ایران پر طالبان اور دیگر ”دہشت گرد گروہوں“ کی عسکری معاونت کا الزام عائد کیا۔

تاہم غنی اور عبداللہ  تہران سے تعلقات کو بڑھانے میں محتاط رہے ہیں۔ جنوری میں عراق میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایران کی  پاسداران انقلاب اسلامی کی شاخ  قدس فورس (آئی آر جی سی- کیو ایف) کے سربراہ قاسم سلیمانی کی موت پر دونوں سربراہوں نے اظہار افسوس اور مذمت کے ساتھ ساتھ امریکہ کے بطور اہم شراکت دار کردار کا اعتراف کیا۔ مزید یہ کہ افغانستان، امریکہ اور ایران کے مابین پراکسی لڑائی کیلئے میدان جنگ بھی نہیں بننا چاہتا کیونکہ ایران پہلے ہی ان الزامات کی زد میں ہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ سے لڑائی کیلئے طالبان کے بعض دھڑوں کو ہتھیار فراہم کررہا ہے۔ اگر افغانستان میں نئے سرے سے خانہ جنگی اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو ایسے میں ایران اور سعودی عرب کے مابین پراکسی لڑائی کا خطرہ بھی موجود ہے۔ ادھر ایران، شام سے لوٹنے والے ان افغان شیعہ جنگجو کی افغانستان میں قیادت اور/ یا ان کی بھاری پیمانے پر تعیناتی بھی کرسکتا ہے، جن کی مدد سے اس کی ۱۰ سے ۲۰ ہزار جوانوں پر مشتمل طاقتور لیوا فاطمیون ملیشیا تخلیق پائی تھی۔ ایران کے افغان حکومت میں بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو دیکھتے ہوئے اس قسم کے اقدامات کے امکانات اگرچہ فی الحال نہیں ہیں، تاہم مستقبل میں افغانستان کے پراکسی لڑائیوں کیلئے میدان جنگ بننے کی صورت میں ایرانی شمولیت شیعہ ہزارہ برادری اور سنی پشتونوں کی اکثریت کے مابین فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔

ایران کے طالبان کی اعلیٰ ترین قیادت اور نچلی سطح دونوں پر روابط ہیں اور مبینہ طور پر اس نے طالبان کے مرکزی دھڑے اور اس سے علیحدہ ہونے والے چھوٹے حریف گروہ بشمول امن عمل کی مخالفت کرنے والے گروہ، تمام کو محدود عسکری مدد فراہم کی ہے۔ ایران کی طالبان کے ساتھ کشیدہ تاریخ اور نظریاتی اختلافات کو دیکھتے ہوئے طالبان سے اس کے موجودہ تعلقات باعث سہولت اور ایک نادر موقع ہونے کے ساتھ ساتھ دباؤ برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ امریکی افواج کے خطے سے نکل جانے سے جڑے مشترکہ مفادات کے علاوہ ایران اور طالبان نے اسلامک سٹیٹ خراسان پروونس (آئی ایس کے پی) سے لڑائی میں تعاون بھی کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ ایرانی سرحد سے متصل مغربی افغانستان میں اس کو قدم جمانے سے روکنے میں کامیاب رہے۔ آئی ایس کے پی، ایک سنی انتہا پسند دہشت گرد گروہ ہونے کے ناطے ایران جو کہ شیعہ اسلامی قوت ہے، اس کا منطقی دشمن ہے۔ آئی ایس کے پی نظریاتی اور سیاسی وجوہات کی بناء پر طالبان کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ مزید براں طالبان کے اثر کو کم کرنے کیلئے خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے نجی سنی سرپرستوں کی جانب سے تنظیم کو حاصل مالی معاونت کے سبب اسے طالبان پر فوقیت بھی حاصل ہے جو کہ جزیرہ نما عرب میں موجود اپنے سنی مالی معاونین کے اثر سے کسی حد تک باہر آچکے ہیں۔ اور آخر میں یہ بھی کہ ایران، ۱۹۹۰ کے عشرے  کی مانند افغانستان میں خالصتاً سعودی اور پاکستانی حمایت یافتہ طالبان کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار بھی رہا ہے۔ ایران کی تشویش کی بنیادی وجہ طالبان میں موجود ان سنی انتہا پسندوں سے لاحق خطرات ہیں جو سعودی مفادات کے زیادہ طابع ہیں۔ ان خدشات کو دیکھتے ہوئے ایران افغانستان میں طالبان کی مکمل فتح نہیں چاہے گا تاہم وہ افغانستان میں بطور اہم کھلاڑی اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتا ہے۔

ایران: کھیل بگاڑنے والا یا مددگار؟

افغانستان میں ایران کے مرکزی مفادات میں سے ایک افغان منڈیوں تک رسائی کو برقرار رکھنا ہے (خاص کر اب جب کہ وہ امریکی پابندیوں کا شکار ہے) نیز  آسان آمد و رفت کے حامل ایران افغان بارڈر کے باعث ایران میں منشیات کی سمگلنگ کے خدشات کے سبب علاقے میں سیکیورٹی کی بہتر صورتحال ہے۔ ایران افغانستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور کابل ایران کے ساتھ وسیع تر روابط اور تجارت میں اضافے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں ایران پر عائد امریکی پابندیاں افغانستان کیلئے بھی منفی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ایران کی بندرگاہوں، ریل گاڑیوں اور سڑکوں تک رسائی افغانی معیشت کو بھرپور فائدہ دے سکتی ہے اورچاروں طرف سے خشکی سے گھرے ہونے کے سبب اس کے وسطی ایشیا و پاکستان (جس کے ساتھ کابل کے کشیدہ تعلقات ہیں) پر انحصار میں کمی لاسکتی ہے۔ ایران، توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لحاظ سے بھی افغانستان کو متعدد امکانات مہیا کرتا ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر ایران کابل میں ایک مستحکم حکومت کو ترجیح دے گا اور افغان حکومت ایران سے اپنے تعلقات کو مضبوط رکھنا پسند کرے گی۔

حالیہ رپورٹس کی رو سے چین اور ایران ایک تجارتی و عسکری معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب ہیں۔ یہ معاہدہ ایران میں روابط و دیگر نوعیت کے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا جس سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد خطے میں چینی عسکری وجود کی موجودگی ممکن ہوسکتی ہے۔ یہ صورتحال افغانستان میں رابطوں کے منصوبوں، تجارت اور بہتر سرحدی انتظامات کے ذریعے افغانستان میں ایران کے کردار کو بڑھا سکتی ہے نیز پاکستانی و ایرانی بندرگاہوں کو استعمال میں لاتے ہوئے افغانستان تک رسائی کے ذریعے سے یہ ایسے پاک ایران چین اتحاد کا ذریعہ بن سکتی ہے جس کا مرکز افغانستان ہو۔امریکہ چین تعلقات اور امریکہ ایران تعلقات کی موجودہ کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے امریکی انخلاء کی صورت میں اس قسم کی صورتحال کلی طور پر خارج از امکان بھی نہیں ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب (اور غالباً بھارت) چین ایران اتحاد کے وجود میں اضافے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھیں گے  اور یوں ان ممالک  کی جانب سے یقینی طور پر بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آنے والے دنوں میں ایران، ماسوائے اس کے کہ اسکے امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید ابتری کا شکار ہوں،  ممکنہ طور پر افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا انتظار کرے گا۔ فی الوقت ایران کووڈ ۱۹ سے پیدا ہونے والے بحران سے سخت متاثر ہے اور اس کی جانب سے ایسے اقدامات کا امکان نہیں جو کہ امریکہ کی جانب سے جوابی کارروائی کو دعوت دیں۔ ایران امریکہ تعلقات میں مزید خرابی کی صورت میں ایران، افغانستان میں موجود ایران نواز طالبان دھڑوں یا پھر اپنی نیابتی ملیشیا کے ذریعے سے امریکی افواج پر حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سلیمانی کے پیش رو اسماعیل قانی ۱۹۹۰ کے عشرے سے افغانستان میں پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے ذریعے آپریشنز کا وسیع تجربہ اور مہارت رکھتے ہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے قربت اور افغانستان کے ساتھ آمدو رفت کیلئے آسان سرحدوں کے باعث یہ صورتحال عین ممکن ہے اور اس حوالے سے ایران کو ممکنہ طور پر روس کی مدد بھی حاصل ہوسکتی ہے۔

 تہران، خود کو امریکہ اور خلیج میں موجود اپنے حریفوں کے مقابلے میں طاقتور حیثیت دلوانے کیلئے افغانستان کے نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے گا۔ جب تک افغانستان ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر وجود برقرار رکھتا ہے، ایران کی اس کے حوالے سے سوچ متوازن اور سودمند ہوگی تاہم اگر (تہران کے نقطہ نگاہ سے) کابل میں جارحانہ صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ایسے میں ایران تشدد کے ذریعے عدم توازن کی مہم شروع کرسکتا ہے تاکہ اس کے حریف مشرقی سرحدوں پر مصروف رہیں۔

افغانی منظرنامے پر موجود متعدد کرداروں کے حوالے سے ایرانی کردار بہرآخر اس کی ضروریات اور خطرات کی نوعیت پر منحصر ہے۔ لہذا ایران کی امریکی انخلاء کے بعد کے افغانستان کے حوالے سے واحد حکمت عملی نہیں بلکہ کثیرالجہتی عملی نوعیت کی حکمت عملی ہے جس میں برترحیثیت اور متعلقہ فریقوں کے ہمراہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ متعدد کیفیات جیسا کہ امن مذاکرات کی ناکامی اور طالبان کی جانب سے بذریعہ طاقت اقتدار پر قبضے جیسے امکانات کیلئے تیاریاں شامل ہیں۔ افغان امن عمل کے نتائج خواہ کچھ بھی ہوں، ایران آنے والے برسوں میں افغانستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے تیار دکھائی دیتا ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Abdullah Abdullah via Twitter (cropped)

Image 2: ATTA KENARE/AFP via Getty Images

Posted in , , Afghanistan, Foreign Policy, Future of Afghanistan, Geopolitics, Iran, Taliban, US

Saurav Sarkar

Saurav Sarkar

Saurav Sarkar is a Research Associate at the Center for Air Power Studies, Western Air Command, New Delhi, India. Previously, he was a Research Assistant at the Institute of Chinese Studies (ICS), New Delhi. He holds a Masters degree in International Relations from Amity Institute of International Studies, Amity University, Uttar Pradesh, India where he is a Member of its Area Advisory Board. He did his BA (Honors) in English from the same university. He is also qualified to be an Assistant Professor as per the University Grants Commission – National Eligibility Test requirements. His research interests include Chinese naval strategies in the Indo-Pacific, counterterrorism, and Afghanistan-Pakistan and China-Pakistan strategic ties.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *