Screen-Shot-2021-07-08-at-4.29.10-PM-1095×616

۲۰۱۶ میں امریکہ ایران جوہری معاہدے اور بھارتی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کے ساتھ ایران کی چابہار بندرگاہ میں نئی شروعات کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس امر کو اب پانچ برس بیت چکے ہیں۔ آج چابہار فعال ہے لیکن امریکہ ایران مخاصمت، امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ اور ایران بھارت کے درمیان قدرے پوشیدہ مگر پیچیدہ کاروباری تعلقات کے سبب یہ اس شکل سے خاصی مختلف ہے جس کا اصل میں تصور کیا گیا تھا۔ بندرگاہ کا سفر بیک وقت ایک ایسے منصوبے کی داستان بھی ہے جس نے مشکلات پر قابو پایا اور جسے ایران اور بھارت آہستگی سے ایک واضح مگر تبدیل شدہ انجام تک بھی لا رہے ہیں۔

دردِ زہ

چابہار ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان میں واقع ہے جو کہ ملک کے سب سے زیادہ غیرترقی یافتہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ ایران کی مصروف ترین بندرگاہ بندرعباس کے برعکس چابہار آبنائے ہرمز کے باہر گہرے پانیوں میں واقع بندرگاہ ہے جو براہ راست بحرہند تک پہنچ رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آبنائے کی بندش کی صورت میں بھی بندرگاہ پر کاروباری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوتی ہیں۔ اس بندرگاہ کے راستے سے زیادہ تجارت  کے ذریعے ایران دبئی میں خرچ کی جانے والی بھاری فیس سے بھی بچ سکے گا جو کہ اس کی مصنوعات کی برآمد نو کا ایک بڑا مرکز ہے۔

 تجارت اور سامان تجارت کی ترسیل کے مرکز کے طور پر چابہار کی تعمیر کا معاملہ سب سے پہلے ۲۰۰۳ میں ایرانی صدر خاتمی کی جانب سے ان کے دورہ بھارت کے موقع پر اٹھایا گیا تھا۔ بھارت کے لیے یہ بندرگاہ اورایرانی خطے کے ذریعے اس سے منسلک راستے افغانستان تک آسان رسائی کا اشارہ دیتے ہیں کیونکہ یہ اسے پاکستان کو نظرانداز کرنے کا موقع دیتے ہیں جو کہ زمینی راستوں کے ذریعے ایسی ہی پہنچ دینے سے انکار کر چکا ہے۔ ایران اور بھارت دونوں چابہار کو بین الاقوامی شمال مغربی ٹرانسپورٹ کوریڈور (آئی این ایس ٹی سی) میں بھی شامل کروانا چاہتے ہیں جو کہ ایسا ملٹی ماڈل نیٹ ورک ہے جو وسطی ایشیا، کاکیشیا اور روس تک ترسیل کے وقت کو نصف اور قیمتوں میں تیس فیصد تک کمی لائے گا۔

اس تجویز کو باقاعدہ پیش کرنے میں مزید ایک دہائی لگ گئی اور یہ ۲۰۱۲ میں ایران کی سربراہی میں ہونے والے غیروابستہ ممالک کی تحریک کے اجلاس کے موقع پر پیش کی جا سکی۔ اسی برس امریکہ نے ملک پر یکطرفہ پابندیاں عائد کردیں۔ اوباما حکومت نے اجلاس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا لیکن  بندرگاہ کو افغانستان کے معاشی استحکام کے لیے لازمی قرار دیتے ہوئے اس کی غیراعلانیہ حمایت کا اشارہ دیا۔ ۲۰۱۶ میں ایران کے جوہری معاہدے کے بعد بھارت نے ۸۵ ملین ڈالر مالیتی ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت چابہار پر شہید بہشتی بندرگاہ کے دو ٹرمینلز کو تازہ ترین کرنے کا عزم کیا۔ اس نے ۱۵۰ ملین ڈالر کے برابر ادھار کا وعدہ اور بندرگاہ کے فری ٹریڈ زون میں سرمایہ کاری نیز افغانستان سے سہہ فریقی روابط کو بہتر بنانے پر آمادگی بھی ظاہر کی تھی۔

امریکہ ایران تعلقات میں پگھلاؤ مختصر مدت کا ثابت ہوا۔ بعد ازاں اسی برس ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کا نتیجہ جوہری معاہدے سے امریکی دستبرداری اور ”ہرممکن حد تک دباؤ“ کی مہم نیز پابندیوں کی بارش کی صورت میں ہوا۔ نتیجتاً، منصوبے کے حوالے سے عزائم اور حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا۔

ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

 بندرگاہ کو جن دباؤ کا سامنا کرنا پڑا وہ بے تحاشہ تھے۔ سب سے پہلے تو ٹرمپ کے انتخابات کے بعد، امریکہ ایران بات چیت میں تلخی آگئی۔ پابندیوں کی دنیا میں بات چیت کبھی بھی سستی نہیں پڑتی۔ محض ثانوی پابندیوں کا خوف جو دیگر ممالک کو ایران کے ہمراہ اپنی سرگرمیاں روکنے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے، غیرملکی بنکوں اور کمپنیوں کو بھی ڈراتا ہے اور امریکی فنانشل سسٹم تک رسائی کھودینے کے خوف میں مبتلا کرتا ہے اور یوں منصوبے کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ اس صورتحال نے چابہار میں ترقیاتی کاموں کیلئے دستیاب مالی معاونت کے امکانات کو محدود کیا۔  یورپی اور بھارتی کمپنیاں جنہوں نے قبل ازیں سازوسامان کی فروخت یا بندرگاہ کے کمپلیکس کو چلانے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، اپنی شمولیت پردوبارہ غور کرنے لگیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چابہار کی تعمیر کی نگرانی کرنے والا ادارہ انڈیا گلوبل پورٹس لمیٹڈ (آئی جی پی ایل) بندرگاہ کا ایک معاہدہ بھارت میں بلیک لسٹ شدہ کرین فراہم کرنے والی ایک چینی کمپنی کو دے بیٹھا (جو بعد ازاں منسوخ کیا گیا)۔

دوئم، بھارت جو امریکہ کا قریبی شراکت دار ہے،  چابہار پر رکنے اور از سرنو حکمت عملی ترتیب دینے پر مجبور ہوا کیونکہ چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور عسکری قدموں کا مقابلہ کرنے کیلئے واشنگٹن کی حمایت ناگزیر تھی۔ بھارت نے اس یقین دہانی کے عوض کہ پابندیوں کی صورت میں چابہار پر غور نہیں کیا جائے گا، ایرانی تیل کی درآمد روکنے کے ذریعے ٹرمپ کے ہمراہ کام کرنے پر آمادگی کا اشارہ دیا ۔ مودی حکومت  ۲۰۱۷-۱۹ کے درمیان منصوبے پر فنڈز خرچ نہ کرنے کے فیصلے پر مجبور ہوئی کیونکہ اس نے ٹرمپ حکومت کے پیدا کردہ خلل اور محدود سوچ کو قبول کرلیا تھا۔ آخرکار بندرگاہ کو امریکہ کی جانب سے پابندیوں سے استثنیٰ مل گیا لیکن یہ بندرگاہ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر نہ بنا سکا۔

سوئم، ان دھچکوں نے پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ایران اور بھارت کے کاروباری تعلقات کو مزید مسائل سے دوچار کردیا۔ گاہک و خریدار کے طور پر پائے جانے والے جوشیلے تعلق اور ۲۰۰۰ کے عشرے کے اوائل میں طالبان کو افغانستان سے بیدخل کرنے میں واضح تعاون کو ایک جانب رکھ دیا جائے تو دونوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، بالخصوص معیشت کے شعبے کا ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو یہ زیادہ سے زیادہ معمولی نوعیت کے رہے ہیں۔  فرزادبی گیس فیلڈ یا اس سے بہت پرانے ایران پاکستان بھارت پائپ لائن کی تعمیر کی تجاویز دہائیوں پر محیط تلخ بات چیت کے بعد شروع ہونے میں ناکام ہو گئیں۔ حتیٰ کہ چابہار پر بھی ایک اعلیٰ بھارتی عہدیدار نے ۲۰۱۶-۱۸ کے درمیان کم از کم تین مواقع پر ایران کی جانب سے شرائط کو ”انتہائی بنیادی طور پر“ تبدیل کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا۔  نئی دہلی کے سست روی سے آگے بڑھنے کے فیصلے نے  تہران کو پریشان کیا اور اس نے بھارت کو منسلک منصوبوں جیسا کہ چابہار کو افغانستان سے ملانے کیلئے مجوزہ ریل منصوبہ سے علیحدہ کرنے کی دھمکی دی۔

آخرکار ایران اور بھارت نے وہ سب کچھ کیا جو کہ ان کے بس میں تھا۔ ایران نے ۲۰۱۷ میں بندرگاہ کی ایکسٹینشن کوجدید ترین بنا کے اس کے پہلے فیز کا افتتاح کردیا جس سے اس کی کارگو کی سالانہ ۲.۵ ملین ٹن کی صلاحیت بڑھ کے ۸ ملین ٹن تک ہوگئی۔ بھارت کی آئی جی پی ایل نے رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے بندرگاہ پر تنصیبات کے لیے منصوبے کی پتوار سنبھالنے والی ایک ایرانی فرم سے ایک مختصر المدتی ۱۸ ماہ پر مشتمل معاہدے کے ذریعے ۲۰۱۸ میں عبوری کام سنبھال لیے۔ اسے رواں برس آنے والے دنوں میں پوری طرح کام سنبھال لینے کے بعد دس برس کے لیے توسیع بھی مل سکتی ہے۔

یوریشیا میں چابہار کا مقام

مارچ ۲۰۲۱ میں بھارت، ایران، افغانستان، آرمینیا، قازقستان، روس اور ازبکستان کے وزراء ”یومچابہار“ منانے کے لیے بذریعہ انٹرنیٹ اکھٹا ہوئے تھے۔ اجلاس نے اس عنصر کو نمایاں کیا جو منصوبے کے اب قابل عمل ہونے کے لیے انتہائی ناگزیر  ہے اور وہ ہے خطے میں بڑے پیمانے پر حمایت۔

 چابہار کو خطے کے ٹرانزٹ نیٹ ورکس سے منسلک کرنے کے منصوبوں میں پیش رفت دکھائی دے رہی ہے۔ ایران، بھارت اور افغانستان سڑکوں، کسٹم اور قونصل سے متعلقہ امور کو ضابطے میں لانے کے لیے اصولوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ ۲۰۱۸ سے،  بھارت کے مغربی ساحلوں پر موجود بندرگاہوں کے ذریعے سے آنے والی  گندم کی متعدد کھیپ ان راستوں کے ذریعے افغانستان پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے ان راستوں کی آئی این ایس ٹی سی میں شمولیت میں تیزی لانے کیلئے بین الاقوامی معیار بھی طے کر لیا ہے۔ ایک تیسرا فریم ورک جو کہ زیر غور ہے وہ ”معاہدہ اشک آباد“ ہے جو خلیج فارس کو وسطی ایشیا سے ملا دے گا۔ عمان اور ازبکستان نے بالخصوص چابہار کے ذریعے اپنے بحری روابط کو بہتر بنانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

خطے کی سطح پر خریداری بھی ہموار نہیں رہی ہے۔ امریکی پابندیوں کے پیش نظر ان میں سے ہر ایک ملک کو اس حد کو جانچنا پڑا ہے جس تک وہ اپنے مفادات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ مثال کے طور پر قازقستان نے ابتدائی جوش و جذبے کے بعد ۲۰۱۹ میں اپنی شرکت پر دوبارہ غور کیا۔ دوسرا چیلنج امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد طالبان کی طاقت میں اضافے کے سبب افغانستان میں بڑھتی ہوئی سلامتی کی غیریقینی صورتحال ہے۔ تیسرا قابل غور معاملہ ان معیشتوں پر کووڈ۱ ۱۹ کے اثرات نیز آنے والے دنوں میں بحالی اور رابطے کے اس نظام کے ذریعے اپنی دوطرفہ و سہہ طرفہ تجارت میں اضافے کی صلاحیت ہے۔

 فروری ۲۰۱۹ سے جنوری ۲۰۲۱ کے درمیان ۱۲۳ جہاز اور ۱.۸  ملین ٹن وزن کا حامل سامان چابہار بندرگاہ سے گزر چکا ہے۔ دسمبر ۲۰۱۸ سے دسمبر ۲۰۱۹ کے درمیان ۰.۵ ملین ٹن اور دسمبر ۲۰۱۸ سے ستمبر ۲۰۲۰ کے درمیان  مجموعی طور پر ۱.۲  ملین ٹن گزرا ہے جس  سے ہم یہ تخمینہ لگا سکتے ہیں کہ محض سال ۲۰۲۰-۲۰۲۱ کے درمیان  بندرگاہ پر تقریباً ایک ملین ٹن سامان سے نمٹا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار پہلے ہی اس وزن کے برابر ہیں جو کہ چابہار کی پرانی ساتھی بندرگاہ گوادر کے بارے میں اندازہ کیے گئے ہیں جو کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ ہے۔ ایرانی حکام توقع کرتے ہیں کہ وسطی ایشیائی ممالک کی شرکت نیز گوادر اور کراچی دونوں سے منسلک ہونے کی وجہ سے چابہار کی صلاحیت ۳۰ ملین ٹن تک بڑھ جائے گی۔ بعد الذکر حیران کن نہیں کیونکہ ایران بھارت تعلقات، پاک چین تعلقات سے طاقت اور حمایت دونوں اعتبار سے مختلف ہیں۔

چین کی جانب سے ۲۰۲۰ میں ایران کے ہمراہ تعاون کے معاہدے نے اس بارے میں تازہ سوالات کھڑے کردیے ہیں کہ آیا بیجنگ چابہار میں بھارت کا مقابلہ کرے گا؟ ۲۰۰۵ سے ۲۰۲۰ کے درمیان چینی سرمایہ کاری تسلسل کے ساتھ اوسطاً ۱.۸  بلین ڈالر سالانہ رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال پوچھے جانے کے لائق ہے کہ اس قدر سرمایہ کاری کے باوجود اس نے قبل ازیں چابہار میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کی؟ بھارت کی طرح چین بھی ثانوی پابندیوں کے سبب محتاط ہے۔ مثال کے طور پر  بیجنگ نے ۲۰۱۸ میں چابہار کے فری ٹریڈ زون میں ایک پیٹروکیمیکل پارک کی تعمیر کی یادداشت پر دستخط کیے تھے تاہم اس پر پیشرفت ہونا تاحال باقی ہے۔ چونکہ بھارت کو بندرگاہ کے بلاشرکت غیرے استعمال کا حق حاصل نہیں، ایسے میں یہ محض حقیقت پسندی پر مبنی مفروضہ ہے کہ  چینی سرمایہ کاری یا بحری کاروبار  مستقبل میں کسی مقام پر چابہار کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے وہاں پہنچ سکتے ہیں۔

حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے چابہار کے عزائم بہت معمولی سے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کو پابندیوں میں نرمی کی کوئی جلدی نہیں اور ایرانی صدارت کے لیے ابراہیم رئیسی کا انتخاب بندرگاہ کی حکمت عملی تبدیل نہیں کرے گا۔ ایران کے ایک غیرترقی یافتہ خطے کے لیے از حد ضروری نوکریاں پیدا کرنے اور معاشی فوائد کی خاطر یہاں ترقیاتی کام اسی قدر ضروری ہیں جس قدر پہلے تھے۔ بندرگاہ میں پیش رفت جیسا کہ اوپر تفصیل کیا گیا، سست رہی ہے  تاہم بہت سے دھچکوں کے باوجود یہ واضح انجام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس سب کے دوران ایران بمعہ بھارت چابہار کی کامیابی میں خطے کی مجموعی سرمایہ کاری کے حوالے سے بڑی بازی کھیل رہا ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Anadolu Agency via Getty Images

Image 2: Atta Kenare via Getty Images

Share this:  

Related articles

بھارت اسرائیل تعلقات: شعبہء توانائی میں تعلقات کی تعمیر Hindi & Urdu

بھارت اسرائیل تعلقات: شعبہء توانائی میں تعلقات کی تعمیر

مضبوط تعلقات کو مزید بہتر کرنے کی کوشش میں ہندوستان…

بھارت میں سوشل میڈیا پر سیاست کا غلبہ Hindi & Urdu

بھارت میں سوشل میڈیا پر سیاست کا غلبہ

بھارت کی سیاسی تاریخ میں پہلے ”سوشل میڈیا انتخابات“ سمجھے…

گوادر بندرگاہ: عالمی خواب اور مقامی حقائق Hindi & Urdu

گوادر بندرگاہ: عالمی خواب اور مقامی حقائق

 پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان اور بحیرہ عرب کے…