H2020081590446-1600×900

 بدقسمتی سے سال ۲۰۲۰ کووڈ ۱۹ وبا کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ دیگر ممالک کی طرح بھارت بھی صحت عامہ کی تباہی کے علاوہ کووڈ ۱۹ کے معاشرتی اور معاشی اثرات سے نبردآزما ہے۔ وبا کے علاوہ دو اور قصے بھی ۲۰۲۰ میں بھارت کی کہانی پر چھائے رہے: دہلی میں گروہی فسادات اور چین سے سرحدی تنازعہ۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے دونوں واقعات داخلی و عالمی سطح پر بھارت کے لیے نتیجہ خیز واقعات ثابت ہوئے ہیں۔ ۲۰۲۰ بھارت کے لیے بطور قوم اور ابھرتی ہوئی قوت کے،  سلامتی سے جڑی بھاری آزمائشوں کا سال رہا ہے۔ جس وقت بھارت انڈوپیسیفک خطے میں بااثرقائدانہ کردار تخلیق کررہا تھا، تب ہی داخلی سیاسی صورتحال، صحت عامہ کا بحران اور سرحدی جارحیت بیک وقت آزمائشوں کے وسیع جال سےنمٹنے کی اس کی صلاحیت کو جانچ رہے تھے۔

داخلی سیاست: سی اے اے اور دہلی فسادات

 بھارتی پارلیمنٹ نے ۱۱ دسمبر۲۰۱۹ کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو منظور کیا جس نے بھارت کے ۱۹۵۵ کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کی؛ تاکہ علاوہ مسلم  دیگر چھ مذہبی گروہوں سے تعلق رکھنے والے  افغانستان، بنگلہ دیش، اور پاکستان سے آنے والے غیرملکی غیرقانونی تارکین وطن افراد کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جاسکے۔ اس قانون سازی اور مجوزہ نیشنل رجسٹری آف سٹیزنز (این آرسی) کی متعصبانہ نوعیت کے پیش نظر، دسمبر ۲۰۱۹  میں بھارت بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا؛ یہ احتجاج ۲۰۲۰ میں بھی داخل ہوئے۔ دہلی کے نواح میں شاہین باغ میں خواتین کے زیر انتظام ہونے والا ایک پرامن احتجاجی دھرنا، بھارت میں سی اے اے کے خلاف مزاحمت کی علامت بنا اور اس نے ملک بھر میں دیگر احتجاجی دھرنوں کو بھی متاثر کیا۔ مشرقی دہلی میں ایسے ہی ایک مظاہرے میں مظاہرین کی جانب سے جعفرآباد میٹرواسٹیشن کے دروازے بند کردینے کے بعد سی اے اے مخالف اور سی اے اے کے حامی گروہوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔ ۲۲ فروری ۲۰۲۰ کو جعفرآباد اور دیگر متصل علاقوں میں فسادات شروع ہونے کے بعد تشدد کی لہر پھوٹ پڑی جو کہ جلد ہی گروہی فسادات میں تبدیل ہوگئی جو کہ تقریباً ایک ہفتہ جاری رہے۔

سی اے اے مخالف احتجاج، بھارت کی داخلی سیاست میں گزشتہ کچھ برس سے ابلتے لاوے کی علامت ہے۔ یہ فسادات انتہائی منقسم سیاسی گفت و شنید اور بھارتی معاشرے میں اختلافات کی گہری لکیر کی المناک علامت تھے۔ تاہم داخلی سیاسی ابال اور مخصوص بین الاقوامی ردعمل کے علاوہ ان واقعات کے بھارتی حکومت کے لیے بین القوامی سطح پر بہت معمولی نتائج تھے۔ سی اے اے تنازعے نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ سفارتی چپقلش کو تیز کیا تاہم یہ فروری میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارت کے سرکاری دورے سے نہ روک سکا، باوجود اس کہ یہ فسادات اس وقت پھوٹے جب دہلی میں دونوں سربراہان مل رہے تھے۔ یہ فسادات وبا کی آمد کے ساتھ اچانک تھم گئے۔ بھارتی حکومت وبا کے خاتمے پر احتجاج کے دوبارہ پھوٹنے کے امکانات سے بخوبی واقف ہے، اس نے سی اے اے اور این آرسی پر سیاسی بحث کو بڑی حد تک دبائے رکھا ہے۔

صحت عامہ: کووڈ ۱۹

جولائی ۲۰۱۹ تک بھارت، وبا سے بدترین طور پر متاثرہ ممالک میں امریکہ اور برازیل کے بعد تیسرے نمبر پر تھا۔ بھارت بھر میں شرح اموات اگرچہ قدرے کم رہی تاہم متاثرہ افراد کی تعداد انتہائی تیزی کے ساتھ بڑھی۔ آنے والے مہینوں میں جب ملک دنیا کے بدترین لاک ڈاؤنز میں سے ایک سے بتدریج باہر آیا تو بھارت بھر کی مختلف ریاستوں میں مریضوں کی تعداد متغیر طور سے بڑھی جس سے ملک میں متاثرہ افراد کی کل تعداد میں بہت اضافہ ہوا۔ ایسے میں ایک ہاتھ پر صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی وسائل کو بروئے کار لانے کی بھاری بھرکم ذمہ داری اور دوسرے ہاتھ سے سست روی کا شکار معیشت کو برقرار رکھنا بھارتی حکومت کے لیے بے حد دشوار گزار صورتحال بن گیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ اچانک لاک ڈاؤن کے نفاذ نے بھارت بھر میں پردیسی افراد کے دیوہیکل بحران کو جنم دے دیا جب ہزاروں کی تعداد میں روزگار اور آمدنی سے محروم دوسرے شہروں میں پھنسے ہوئے مزدور پیشہ افراد نے اپنے آبائی شہروں اور گاؤں کی جانب سفر شروع کیا۔ حتیٰ کہ بعض نے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی عدم موجودگی کے سبب سینکڑوں میل کا سفر پیدل کیا۔

ایک ایسا ملک، جہاں سیاسی مباحثہ اور ذرائع ابلاغ انتہاؤں میں منقسم ہوچکے ہیں، وہاں آبادی کے مختلف حصوں پر وبا اور لاک ڈاؤن کے اصل معاشرتی اور معاشی اثرات غیر واضح رہے ہیں۔ اس کے باوجود اس بحران کے خلاف بھارت کے ردعمل نے ادارہ جاتی سطح، مالیاتی وسائل  اور صلاحیتوں کے ضمن میں اس کی شدید کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ ریاستی انتظامیہ جو کہ ایسے بحران کے خلاف کلیدی ردعمل دینے کی ذمہ دار ہوتی ہے، اس کی سطح پر یہ صاف صاف دکھائی دے رہا تھا؛ بھارتی آئین کی رو سے صحت عامہ ”ریاست“ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بھارت کی زیادہ تر ریاستوں کو نظم و نسق اور انسانی وسائل کو حرکت میں لانے میں دشواریوں کا سامنا رہا اور انہوں نے اہم پہلوؤں مثلا (مریض سے) رابطے میں آنے والے افراد کا سراغ لگانے اور متاثرہ افراد کی ابتدائی سطح پر شناخت میں ناقص کارکردگی دکھائی۔

دریں اثنا مرکز میں وزیراعظم مودی کی حکومت سکڑتی ہوئی معیشت سے جڑی سیاسی اور تزویراتی آزمائشوں میں جکڑی رہی۔ ۲۰۲۰ کے وسط تک بھارتی معیشت کساد بازاری کا شکار ہوچکی تھی اور اپریل-جون کی سہہ ماہی میں جی ڈی پی ۲۳.۹ فیصد سکڑ چکی تھی نیز بے روزگاری کی شرح میں  ۲۳.۴۸ فیصد کا چونکا دینے والا اضافہ ہوا تھا۔ آنے والے مہینوں میں معاشی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہوا جب کہ  سیاسی سرگرمیاں تیزی سے بڑھیں، جن میں بہار میں ہونے والے اہم ریاستی انتخابات، اور دیگر متعدد ضمنی انتخابات اور وبا کے عین وسط میں بھرپور طریقے سے منائی گئی سیاسی مہم شامل ہیں۔ ماہ نومبر جموں اور کشمیر  میں گزشتہ برس  کے آرٹیکل ۳۷۰ کی تنسیخ کے بعد ہونے والے پہلے ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات سے عبارت رہا۔ ان منعقدہ انتخابی عمل کے پیش نظر،۲۰۲۱ میں آنے والے پانچ ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات کا کووڈ ۱۹ کے ہاتھوں رک جانا ممکن نہیں۔ 

دفاعی اور خارجہ پالیسی: چین بھارت سرحدی تنازعہ

وبا سے عالمی سطح پر پیدا ہونے والی سراسیمگی سے فائدہ اٹھانے اور اپنے پڑوس میں فوجی ڈراوے کے ذریعے تنازعوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی خاطر چین نے رواں برس مئی میں لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر بھارت کے ساتھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لڑائی شروع کی۔ یہ سرحدی تنازعہ وادی گالوان میں ۱۶ جون کو ہونے والی جھڑپ کے بعد زور پکڑ گیا، جو ایسے وقت میں ہوئی تھی جب دونوں فریق لڑائی کے ”جزوی خاتمے“ اور اشتعال انگیزی میں کمی کی خاطر فوجی سطح پر  گفت و شنید میں مصروف تھے۔ اگست ۲۰۲۰ میں صورتحال کی سنگینی کے سرکاری سطح پر پہلے باقاعدہ اعتراف کے دوران بھارت کے وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ ”چین کے خلاف فوجوں کا آمنے سامنے آنا ۱۹۶۲ کے بعد سے اب تک کی سنگین ترین صورتحال تھی۔“ اس کے بعد بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات کے سلسلے سے یہ ظاہر ہوا کہ بھارت لمبے عرصے کے لیے اس تنازعے کیلئے تیاری کررہا ہے۔

۲۰۲۰ کا سرحدی تنازعہ بھارت چین دوطرفہ تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ سب سے پہلے تو اس نے بھارت کی اس خام خیال کو چکناچورکردیا کہ چین کے ہمراہ ایل اے سی ”متنازعہ مگر پرسکون“ سرحد ہے۔ اگست کے اختتام تک، مغربی ایل اے سی سیکٹر میں بڑے پیمانے پر فوجی دستے اکھٹا ہوچکے تھے اور بھاری ہتھیار پہنچائے جا چکے تھے  جبکہ دونوں فریقوں نے لداخ کے خطے میں اہم پوزیشز سنبھال کے تزویراتی فوائد حاصل کر لیے تھے۔ تنازعے نے بھارت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر اسلحے کے حصول کو جنم دیا اور حکومت نے غیر ملکی فراہم کاروں سے اسلحے کی ہنگامی بنیادوں پرخریداری کے لیے مسلح افواج کو وسیع تر معاشی اختیارات سونپ دیے۔

دوئم یہ کہ بحران کو ٹھنڈا کرنے کیلئے مہینوں کی ناکام کوشش کے بعد نئی دہلی بیجنگ کے حوالے سے اپنی سیاسی، سفارتی اور عسکری جمع تفریق پر ازسرنو غور پر مجبور ہورہا ہے۔ گزشتہ کچھ  برس سے  نئی دہلی علاقائی متوازن کار کا کردار نبھاتے ہوئے چین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو محتاط طریقے سے متوازن بنا رہا ہے۔ یہ سرحدی تنازعہ، موخرالذکر کے حوالے سے نقطہ نگاہ میں تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ چینی ایپس پر پابندیوں سے شروع ہونے والا معاشی اقدامات کا یہ خطرناک سفر تجارت اور سرمایہ کاری پر مزید  تزویراتی نوعیت کی پابندیوں نیز ہواووے کو بھارت کے فائیو جی نیٹ ورکس کی تعمیر کی اجازت دینے پر دوبارہ غور تک جا پہنچا جو تبدیل ہوتے نقطہ نظر کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ سفارتی اعتبار سے ”ووہان سپرٹ“ اور ”چنائی کنیکٹ“ تک  بنا رکے جاری رہنے والا سفر کہیں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ دوسری جانب کواڈریلیٹرل ڈائیلاگ (کواڈ) کے تزویراتی مقاصد کے حوالے سے سوالات کے باوجود بھارت اپنے معاشی اور سلامتی  ضروریات کے لیے اپنے فریم ورک کو ٹھوس بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سوئم یہ کہ سرحدی تنازعے نے چین اور پاکستان کے ساتھ دو محاذوں پر جنگ کی بھیانک صورتحال کے امکان کو مزید بڑھادیا ہے جس کے بارے میں  موجودہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل راوت اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل نروان  سمیت بھارتی عسکری قیادت  تسلسل کے ساتھ پیشگی خبردار کرتی رہی ہے۔  پاکستان کے ہمراہ ایل او سی پر طویل عرصے سے جاری مزاحمت کے ساتھ ہی ساتھ ایل اے سی پر بھڑکتے شعلوں نے بھارتی سیاسی اور عسکری رہنماؤں کو پاکستان کیخلاف محاذ بذریعہ ہتھیار اور چین کیخلاف محاذ بذریعہ بات چیت قابو میں رکھنے کے پرانے فلسفےکو ترک کرتے ہوئے دو رخی محاذ کے امکانات پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ دریں اثنا پاک بھارت تعلقات کئی برسوں کی نچلی ترین سطح پر برقرار رہے۔

۲۰۲۱: کیا دیکھنا چاہیے

معاشی بحالی اور پیداوار ۲۰۲۱ میں بھارت کے بنیادی اہداف رہیں گے۔ اس کے لیے بھارت کو ایک ہاتھ سے اپنے ہم خیال بین الاقوامی کرداروں کے ہمراہ تعاون کرنا ہوگا تو دوسرے ہاتھ سے اپنے داخلی ڈھانچے کو زیادہ ٹھوس بنانا ہوگا۔ موخرالذکر ممکنہ طور پر ایک کڑی آزمائش ہوسکتا ہے جس کا اولاالذکر پر اثر پڑسکتا ہے۔ بھارت میں کھیتی باڑی کو آزاد بنانے کے لیے کی گئی نئی قانون سازی کے خلاف کسانوں کے حالیہ مظاہرے کو داخلی سطح پر بھرپور حمایت ملی ہے اور بعض بین الاقومی حلقوں سے بھی ہمدردی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے حالیہ مثال کووڈ ۱۹ کی وبا سے نمٹنے کیلئے کینیڈا کی سربراہی میں ہونے والے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت سے بھارتی انکار ہے جس کی وجہ وزیراعظم ٹروڈو کیجانب سے  نئے زرعی قوانین کے خلاف بھارتی کسانوں کے پر امن احتجاج کے حق کی حمایت میں بیان تھا۔ 

بھارت کی بہت سی ریاستیں جنوری ۲۰۲۱ میں کورونا وائرس کی نئی لہر کی توقع کررہی ہیں۔  باوجودیکہ موثر ویکسین کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں اور ماضی میں بچاؤ کے لیے بھارت کے کامیاب تجربوں کی مثالیں موجود ہیں، تاہم کووڈ ۱۹ کی ویکسین کو تمام افراد کے لیے قابل خرید قیمت پر فراہم کرنا مشکل مرحلہ ہوگا۔ ۲۰۲۰ کو اس یاددہانی کیلئے اہم حوالہ ہونا چاہیے کہ بھارت میں صحت عامہ کے شعبے کو تباہ کن خامیوں پر فوری طور پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

سفارتی محاذ پر امریکہ بھارت تعاون میں تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے  بھارت تجارت، ٹیکنالوجی، عالمی معاشی نظام اور انڈوپیسیفک کی جغرافیائی سیاست میں اپنی کوششیں دوگنی کرسکتا ہے۔ بھارتی حکومت اور صنعت میں یہ امید پائی جاتی ہے کہ آنے والی بائیڈن انتظامیہ، صدر ٹرمپ کی مدت میں بھارت امریکہ تعلقات میں ہونے والی پیشرفت کے اوپر مزید کام کرے گی۔ البتہ کشمیر کے معاملے پر اور ملک میں داخلی سطح پر مخالفین سے نمٹنے کے بھارتی حکومتی طریقہ کار پر ڈیموکریٹس کے نظریات، بھارت کیلیے  تشویش کا باعث ہو سکتے ہیں، جو کہ دوطرفہ تعلقات میں بھی اہم عنصر بن سکتے ہیں۔

اگر ۲۰۲۱ چین کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آزمائشوں کے خلاف عالمی کوششوں کو مزید مستحکم بنانے کا سال بنتا ہے تو اس میں بھارت کے اہم کردار ادا کیے جانے کی امید ہے۔ حتیٰ کہ سفارتی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے عسکری اشتعال انگیزی میں کمی کی کوششوں کے باوجود بھی شدید نوعیت کا علاقائی اور سیاسی تنازعہ نئی  دہلی کو اس جانب اکسائے گا کہ وہ معیشت اور تجارت کے ضن میں چین پر انحصار میں کمی کرے اور ایسے کثیرالفریقی اتحادوں میں سرمایہ کاری کرے جن میں چین شامل نہیں۔

سال ۲۰۲۱  بھارت کے لیے اپنے ہمراہ آزمائشوں کا علیحدہ مجموعہ لائے گا۔ بھارت اور اس کی عوام وبا، داخلی سطح پر مسلسل جاری ہلچل اور ناموافق علاقائی ماحول سے کتنے موثرانداز میں باہر آتے ہیں، یہ طے کرنے میں کلیدی کردار اداکریں گے کہ بھارت آنے والی نئی آزمائشوں کا  سامنا کیسے کرتا ہے۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: via Press Information Bureau, India

Image 2: Yawar Nazir via Getty Images

Share this:  

Related articles

پاکستان کی سافٹ پاور میں موجود غیر استفادہ شدہ صلاحیت Hindi & Urdu

پاکستان کی سافٹ پاور میں موجود غیر استفادہ شدہ صلاحیت

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی…

امریکہ پاکستان جغرافیائی معاشی محور کا ادراک Hindi & Urdu

امریکہ پاکستان جغرافیائی معاشی محور کا ادراک

اپنے حالیہ دورہ امریکہ میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود…

ایران سعودیہ ممکن مفاہمت پر پاکستان اور بھارت کے نقطہ نگاہ کا موازنہ Hindi & Urdu

ایران سعودیہ ممکن مفاہمت پر پاکستان اور بھارت کے نقطہ نگاہ کا موازنہ

صدر بائیڈن کی صدارتی مدت شروع ہونے کے چند ماہ…