نیو اسٹارٹ معاہدے کا اختتام دنیا کے دو سب سے بڑے جوہری اسلحے کے ذخائر کو قاعدے کے تحت رکھنے والے آخری دو طرفہ معاہدے کے اختتام کی علامت ہے۔ نیو اسٹارٹ معاہدہ، جس پر 2010 میں دستخط اور 2021 میں توسیع کی گئی، (عسکری) زیرِ استعمال اسٹریٹیجک وار ہیڈز اور ڈیلیوری سسٹمز (ترسیلی نظامات) کو محدود اور سائٹ پر معائنوں اور ڈیٹا (معلومات) کے تبادلے کے ذریعے تصدیق فراہم کرتا تھا۔اگرچہ نہ تو بھارت اور نہ ہی پاکستان نیو اسٹارٹ کا حصہ تھے،تاہم اس کے اختتام سے دنیا کی دو سب سے بڑی جوہری طاقتوں کے درمیان موجود آخری ادارہ جاتی حفاظتی رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے، جو پابندی کے عالمی اصولوں کو اس انداز میں کمزور کرتی ہے جو بالواسطہ مگربامعنی طور پر جنوبی ایشیائی روک تھام کے استحکام کو شکل دیتا ہے۔
نیو اسٹارٹ کے معیاری اثرات
پہلی مرتبہ 1970 کی دہائی میں ان کے طے پانے کے بعد سے، امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان دوطرفہ ہتھیاروں کی حد بندی کے معاہدات نے دنیا کو یہ یقین دلایا کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح حریفوں کے مابین پیش بندی ممکن ہے۔ 1970 کی دہائی میں اسٹریٹیجک آرمز لیمیٹیشن ٹاکس (ایس اے ایل ٹی) کے دور سے لے کر 1990 کی دہائی میں اسٹارٹ کےعمل تک، امریکہ-سوویت یونین اور بعد میں امریکہ-روس دوطرفہ معاہدوں نے اسٹریٹیجک ڈیلیوری سسٹمز پر عددی حدیں قائم کیں اور بعد میں (عسکری) زیرِ استعمال وار ہیڈز (کی تعداد) میں گہری کمی لائی۔ ایس اے ایل ٹی 1 (1972) نے (بین البراعظمی) انٹر کونٹینینٹل بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) اور سب میرین لانچڈ بیلسٹک میزائل (ایس ایل ایم بی) کو محدود کیا، باضابطہ توثیق نہ ہونے کے باوجود، ایس اے ایل ٹی 2 معاہدے نے ملٹیپل انڈیپنڈینٹلی ٹارگٹیبل ری انٹری وہیکلز (ایم آئی آروی) کو محدود کر کے ہتھیاروں کی نوعی دوڑ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ ان ضابطۂ کاروں (فریم ورکس) نے اشارہ دیا کہ نیوکلیئر ڈائیڈز (جوہری جوڑوں) میں شامل ریاستیں جوہری ہتھیاروں پر عددی حدود قبول کر سکتی ہیں، ان حدود کی تصدیق کر سکتی ہیں، اور جوہری امور پر ادارہ جاتی گفت و شنید کرسکتی ہیں۔
سرد جنگ کے بعد کےحالات میں، اسٹارٹ 1، جو (عسکری) زیرِاستعمال اسٹریٹیجک وارہیڈز اور ڈیلیوری وہیکلز میں خاطر خواہ کمی کی ہدایت دیتا اور وسیع تصدیقی دفعات متعارف کراتا تھا، نیز اس کے پس رو انتظامات اس بنیاد پر سامنے آئےکہ غیر محدود جوہری مسابقت ناقابل برداشت تزویراتی اور مالیاتی اخراجات کا سبب بنتی ہے۔ نیو اسٹارٹ (2010) نے (عسکری) استعمال کے اسٹریٹیجک وار ہیڈز اور ڈیلیوری سسٹمز پر قانونی طور پر لاگو حدیں بحال کیں اور ایک جامع توثیقی نظام کو دوبارہ قائم کیا۔تخفیف کو شفافیت اور جانچ پڑتال کے ساتھ ملا کر، اسٹارٹ کے عمل نے اس امید کو از سرِ نو جنم دیا کہ جوہری رقابت ادارہ جاتی حدود و قیود کے ساتھ موجود رہ سکتی ہے۔
حتیٰ کہ نیوکلئیر نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) کے دائرہ کار سے باہر کے ممالک، جیسے بھارت اور پاکستان، کے لیے بھی امریکہ اور روس کی مثال نے یہ توقعات قائم کیں کہ جوہری حریف شفافیت اور گفت و شنیدکے ذریعے حدود و قیودکو ادارہ جاتی شکل دے سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں یہ منطق بالواسطہ طور پر دو طرفہ جوہری اعتماد سازی کے اقدامات (این سی بی ایمز) کی صورت میں ظاہر ہوئی، جس میں (جوہری تنصیبات) نیو کلئیر انسٹالیشنز اور فیسیلیٹیز پر حملے کی ممانعت سے متعلق 1988 کا معاہدہ اور بیلسٹک میزائل تجربات کی پیشگی اطلاع دینے سے متعلق 2005 کا معاہدہ شامل ہیں۔ اگرچہ یہ معاہدے امریکہ-روس معاہدوں کے مقابلے میں دائرہ کار میں کافی محدود تھے، تاہم ان انتظامات میں وہی بنیادی اصول کارفرما تھا: کہ حریف جوہری ریاستیں مربوط روابط اور پیش گوئی کے ذریعے خطرات کو کم کر سکتی ہیں۔
انضباطِ اسلحہ نے سب سے بڑی جوہری طاقتوں کے مابین مسابقت کو ختم نہیں کیا، تاہم اس نے پیش گوئی کا اطلاق ضرور کیا۔ نیو اسٹارٹ کے اختتام کے ساتھ یہ مظاہراتی اثر مدھم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس کا فوری نتیجہ جنوبی ایشیا میں وار ہیڈز کی تعداد میں اچانک اضافے کے بجائے نہایت لطیف ہے۔ جب بڑی جوہری طاقتیں ناپابند دکھائی دیں، شفافیت کم اور تصدیقی طریقہ کار ناپید ہو جائیں، تو ‘ذمہ دار’ جوہری نگرانی کا عالمی معیار بدل جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں، وہ داخلی حلقے جو امتناع، شفافیت یا نظریاتی احتیاط کی حمایت کرتے ہیں، اپنے موقف کو برقرار رکھنا مشکل محسوس کر سکتے ہیں۔ عالمی انضباطِ اسلحہ کا زوال اس طرح سیاق و سباق کے اس معیار کو بدل دیتا ہے جس کے تحت علاقائی جوہری پالیسیاں ارتقا پاتی ہیں۔
نیوکلئیر نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) کے دائرہ کار سے باہر کے ممالک، جیسے بھارت اور پاکستان، کے لیے بھی امریکہ اور روس کی مثال نے یہ توقعات قائم کیں کہ جوہری حریف شفافیت اور گفت و شنیدکے ذریعے حدود و قیودکو ادارہ جاتی شکل دے سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیائی خصوصیات
جنوبی ایشیا کے پاس نیو اسٹارٹ کے جوہری اسلحہ کے دستور العمل یا تصدیقی ضابطۂ کار سے مماثل کوئی چیز نہیں ہے۔ بھارت اور پاکستان (محض) چند ہی این سی بی ایمز (جوہری اعتماد سازی کے اقدامات) برقرار رکھتے ہیں جو بحرانات اور سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی قائم رہے ہیں۔ حال ہی میں دونوں ممالک نے یکم جنوری 2026 کو جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے 35ویں مسلسل سالانہ تبادلے کو مکمل کیا، جو مئی 2025 کے شدید بحران کے باوجود تسلسل کا ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے۔ تاہم ان اقدامات کا دائرہ کار محدود ہی ہے: یہ اسلحے کے حجم کو کسی ضابطے کے تحت نہیں لاتے، جدید کاری کی راہوں کو محدود نہیں کرتے، یا بحری روک تھام (سی بیسڈ ڈیٹیرنس) یا سائبر عدم تحفظ جیسے نئے ابھرتے ہوئے دوائرِ کار (ڈومینز) پر توجہ نہیں دیتےاور نہ ہی یہ تقریباً ایک دہائی سے منقطع سرکاری دوطرفہ معاملت کے بعد مستقل سیاسی گفت و شنید کا متبادل ہیں۔
امریکہ اور روس کے برعکس، بھارت اور پاکستان محدود جغرافیے میں کام کرتے ہیں۔ میزائل کی اُڑان بھرنے کا دورانیہ یک ہندسی منٹوں میں ناپا جاتا ہے۔ روایتی اور جوہری اشارے (سگنلنگ) آپس میں گہرے طور پر جُڑے ہوئے ہیں۔ روایتی دستوں کے قرب میں ہونے کے باعث فوجی صف بندیاں فارورڈ لینگ ( پیش قدمی کے ذریعے قابو کرنے والی) ہیں، تیز نقل و حرکت کے اصولوں نے ردعمل کے وقت کو مزید کم کیا ہے، اور دونوں ریاستوں نے ایسی صلاحیتیں بھی بڑھائی ہیں جو فارورڈ سگنلنگ (تحکمانہ عندیہ) پر زور دیتی ہیں۔اس فارورڈ لینگ ماحول میں پیش آنے والے مئی 2025 کے بھارت-پاکستان بحران نے یہ دکھایا کہ جوہری پس منظر میں کشیدگی کس تیزی سے مختلف دوائرِ کار (ڈومینز) – فضا، میزائل، معلومات، اور سائبر—میں پھیل سکتی ہے۔ پیچیدگی علاقائی سیاق و سباق میں بڑھنے کے لیے تیار ہے: بھارت کی اگنی سیریز کی تخلیق، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والی اقسام اور ملٹیپل انڈیپنڈینٹلی ٹارگٹیبل ری انٹری وہیکلز (ایم آئی آر ویز) شامل ہیں، مسلسل جدید کاری کی نشاندہی کرتی ہے؛ بھارت کے روایتی فوجی موقف کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان نے اپنے طور پر روک تھام کے موقف کو مکمل حد تک توسیع دی ہے، جس میں نصر جیسے کم فاصلے تک مار کرنے والے سسٹمز کی تخلیق اور آرمی راکٹ فورس کمانڈ (اے آر ایف سی) کی تشکیل شامل ہیں۔ ایسے ماحول میں بحرانی استحکام صلاحیتوں کے علاوہ توقعات، واضح اشارات (سگنلنگ کلیریٹی) اور خطرے کو برداشت کرنے کی اہلیت پر بھی انحصار کرتا ہے۔
گو کہ عالمی انضباطِ اسلحہ کے معیارات کا خاتمہ فوری طور پر مقداری اسلحہ کی دوڑ کو بھڑکا نہیں سکتا، تاہم یہ نظریاتی مباحثے اور جدید کاری کی ترجیحات کو لطیف انداز سے ڈھال سکتا ہے۔ اگر بڑی طاقتیں ناپابند نظر آئیں، تو جنوبی ایشیا کے لیے پابندی کے دلائل ملکی سطح پر کم اثر رکھیں گے۔ یہ امر دونوں ریاستوں کی خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے، جو ممکنہ طور پر بحران کے رویوں کی طرف لے جا سکتا ہے جو مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔ برتر طاقت کے حفاظتی سدِ باب کاختم ہونا پابند رہنے کی پائیدار روایت کی ساکھ کو کم کرتا ہے۔ اگرچہ بھارت اور پاکستان میں جوہری جدید کاری— جو نیو اسٹارٹ کے اختتام سے پہلے ہی سے جاری تھی—کو براہِ راست امریکہ-روس انضباطِ اسلحہ کے خاتمےسے منسوب نہیں کیا جا سکتا، ایسے عالمی ماحول میں جہاں برتر طاقت کی حدود کا قانونی اطلاق کمزور کر دیتا ہے، طاقت کو متنوع بنانے کے دلائل کو چند ہی معیاری رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا سے باہر، چین کی جاری تزویراتی توسیع بھی اس بات کی عکاس ہے کہ انضباطِ اسلحہ کے کسی جامع ضابطۂ کار کی غیر موجودگی میں عالمی سطح پر جوہری جدید کاری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جدیدکاری، بقا، اور جوابی صلاحیتوں سے متعلق داخلی اور تزویراتی مباحثوں پر یہ تبدیلی اثر انداز ہوتی ہے۔ کشیدگی کی حدِ آغاز (تھریش ہولڈز) اور خطروں کی قبولیت کے حوالے سے یہ بدلتے ہوئے تصورات بحران کے رویے کو ڈھال سکتے ہیں۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں بحرانات کابار بار سامنا ہے اور فیصلے کرنے کا وقت محدود ہے، خطرے کی برداشت میں معمولی اضافہ بھی غیر معمولی نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
نیو اسٹارٹ کی غیر موجودگی جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کو پہلے ہی سے متعین نہیں کرتی۔ بھارت اور پاکستان کی جوہری حرکیات ( نیو کلیئر ڈائنامکس) بنیادی طور پر روایتی عدم توازن، علاقائی تنازعات اور ارتقا پذیر فوجی نظریات جیسے دو طرفہ عوامل کے باعث متحرک ہوتی ہیں۔تاہم عالمی معیارات اہمیت رکھتے ہیں۔ شفافیت اور حدود کی پابندی کرنے والی اہم جوہری طاقتیں اس دلیل کو تقویت دیتی ہیں کہ مسابقت حفاظتی سدِّ باب کے ساتھ بھی موجود رہ سکتی ہے۔ جب حفاظتی سدِّ باب ختم ہو جائے، تو امتناع باہمی تسلیم شدہ توقع کے بجائے یک طرفہ انتخاب کا معاملہ بن جاتا ہے۔

کیا کِیا جا سکتا ہے؟
بھارت اور پاکستان نہ تو نیو اسٹارٹ کو بحال کر سکتے ہیں اور نہ ہی عالمی انضباطِ اسلحہ کے رجحانات کو پلٹ سکتے ہیں۔ تاہم وہ علاقائی استحکام کو عالمی بگاڑ سے دور رکھنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ موجودہ این سی بی ایمز کی دوبارہ توثیق اور ان کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانا بھارت اور پاکستان کے لیے سب سے معقول قدم ہے۔ گو کہ جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے سالانہ تبادلے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم وسیع تر دوطرفہ ضابطۂ کار میں تناؤ دکھائی دیتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) سے متعلق حالیہ تناؤ،جس میں اس کی پائیداری پر از سرِ نوسوال اٹھانے والا سیاسی بیانیہ بھی شامل ہے، اس امر کو اجاگر کرتے ہیں کہ کس طرح بنیادی معاہدے وسیع تر تزویراتی مسابقت میں الجھ سکتے ہیں۔اگرچہ 1972 کا شملہ معاہدہ باضابطہ طور پر لاگو ہے، تاہم متواتر سیاسی اشارے وسیع تر دوطرفہ ضابطۂ کار کے استحکام سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں۔ان انتظامات کے لیے اعلانیہ عزمِ نو عالمی غیر یقینی کے مابین تسلسل کا اشارہ دے گا اور دوطرفہ جوہری خطرے کو کم کرنے کے اقدامات کی اہمیت کو ظاہر کرے گا۔
دوطرفہ گفت وشنید پر جمود کو بھی توڑنا ہوگا۔سفارتی پیش رفت کے بغیر، دونوں فریقین کو ابھرتے ہوئے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے ٹریک 1.5 اور ٹریک 2 گفت و شنید کے آغازِ نو یا اسے برقرار رکھنے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ ریٹائرڈ اہلکاروں اور ماہرین پر مشتمل منظم گفت و شنید، رسمی مذاکرات کے بوجھ کے بغیر ، تھریٹ پرسیپشن (دھمکی کے گمان) کی وضاحت، کشیدگی بڑھنے کے اطوار کا جائزہ اور خطرات کم کرنے کی تجاویز کو بروئے کار لا سکتی ہے۔ تاریخی طور پر ایسی رابطہ کاری (چینلز) نے سرکاری تعطل کے دوران شعوری رابطے کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ کچھ ابتدائی اشارے یہ ظاہرکرتے ہیں کہ گفت و شنید کے لیے محدود سیاسی جگہ شاید ابھی بھی موجود ہو: حال ہی میں سابق بھارتی حکام کے شائع شدہ رائے کے مضامین دلیل دیتے ہیں کہ معاملت کا مسلسل انقطاع طویل المدتی تزویراتی لاگت کا سبب بنتا ہے اور دونوں فریقین کو چاہیے کہ وہ گفت و شنید کو بتدریج آگے بڑھائیں اور بحران کے انتظامی ضابطۂ عمل (میکنزم) قائم کریں۔ گو کہ ایسے خیالات سرکاری پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتے، تاہم وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں معاملت کی افادیت سے متعلق اعلیٰ سطحی مباحثہ جاری ہے۔اگر وہ جگہ موجود ہے، تو اسے محدود دائرہ کار والے، مخصوص مسائل پر مبنی گفت و شنیدکے ذریعے عملی شکل دی جا سکتی ہے۔بتدریج معاملت بھی رابطے کی عادات کی تعمیرِ نو میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جو کشیدگی کے خطرات کو کم کرتی ہے۔
بھارت اور پاکستان بے فکری کے متحمل نہیں ہوسکتے: روک تھام پر مبنی ان کے تعلقات کےاستحکام کا انحصار عالمی انضباطِ اسلحہ کی زوال پذیر باقیات پر ہونے کے بجائے زیادہ ممکنہ طور پر ان کے اپنے اقدامات پر ہو گا۔
ماحصل
نیو اسٹارٹ کے ختم ہونے سے بھارت یا پاکستان کے قانونی فرائض تبدیل نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ فوری طور پر ان کی جوہری صلاحیتیں بدلتا ہے۔ اس کے بجائے اس کی اہمیت اس وسیع تر تزویراتی ماحول میں ہے جو یہ تشکیل دیتا ہے۔جیسے جیسے عالمی انضباطِ اسلحہ زوال پذیر ہوتا جاتا ہے، تحمل کے اصول کمزور، ادارہ جاتی ضابطۂ کار ختم اور مسابقتی جدید کاری کے خطرات معمول بن جاتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے لیے ایسی تبدیلیاں اس سیاق و سباق کو متاثر کرتی ہیں جس میں پالیسی ساز خطرے کا تخمینہ اور روک تھام کی پیمائش کرتے ہیں۔سرد جنگ کے دوران انضباطِ اسلحہ نے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان پیش گوئی کو باقاعدہ بنایا، چاہے اس نے ان کی مسابقت کو ختم نہ بھی کیا ہو۔اس ادارہ جاتی عمل کی عمومی اہمیت دوطرفہ تعلقات سے بڑھ کر تھی۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں برتر طاقت کے حفاظتی سدِّ باب نہ ہوں، علاقائی ذمہ داری زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان بے فکری کے متحمل نہیں ہوسکتے: روک تھام پر مبنی ان کے تعلقات کےاستحکام کا انحصار عالمی انضباطِ اسلحہ کی زوال پذیر باقیات پر ہونے کے بجائے زیادہ ممکنہ طور پر ان کے اپنے اقدامات پر ہو گا۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.
***
Image 1: President of the Russian Federation via Wikimedia Commons
Image 2: Prime Minister’s Office via Wikimedia Commons