Afghan-Pakistani_at_the_Friendship_Gate_in_Spin_Boldak

پاکستان  نے 21 فروری 2026 کو افغانستان میں ‘انٹیلیجنس (خفیہ اطلاعات) کی بنیاد پر سات دہشت گرد کیمپوں اور پناہ گاہوں پرچُنندہ  ہدفی’ کارروائی کی۔ ان حملوں میں صوبۂ ننگرہار میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ طالبان حکومت کی وزارت دفاع کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں “ایک دینی مدرسے اور رہائشی مکانات” کو نشانہ بنایا گیا۔اگلے دن پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے بیان بازی کو مزید بڑھاوا دیتے ہوئے خبردارکیا کہ ‘سرحد پار دہشت گردی سے متعلق پاکستان کی برداشت حد کو پہنچ گئی ہے’ اور یہ دھمکی دی کہ اس تشدد کے ذمہ داران ‘رسائی سے بچ نہیں پائیں گے’۔ طالبان نے بدلے کا عہد کیا، حملوں کو ‘بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی’ قرار دیتے ہوئے ‘ایک متناسب اور مناسب ردعمل’ کا وعدہ کیا۔ وسطِ مارچ تک نتیجتاً  پیدا ہونے والے تنازع  نے افغانستان-پاکستان سرحد کے نواح میں کم از کم 115,000 افراد کو بے گھر کیا، اہم سرحدی گذرگاہیں بند کیں اور متاثرہ صوبوں میں انسانی ہمدردی کی امدادی کارروائیاں معطل کیں۔ پاکستان  نے 15 مارچ کو دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر اس نے لڑائی کے آغاز سے (اب تک) افغانستان میں 73 مقامات کو فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔

 اپریل 2022 میں شروع ہونے والی روش پر جاری یہ فضائی حملے پاکستان کے لیے ایک قابلِ ذکر تزویراتی مخمصہ پیدا کرتے ہیں۔ حالیہ یو این سیکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس (نگرانی کی اطلاعات) کے مطابق افغان علاقے سے نسبتاً بےخوفی کے ساتھ کام کرنے والی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے اسلام آباد کو حقیقی اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ تاہم ایسے حملے کرنے سے، جو 2019 اور 2025 میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کیے گئے حملوں کے عکاس ہوں، اسلام آباد اس قانونی ضابطۂ کار کو کمزور کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے جس کا استعمال وہ اپنے روایتی طور پر برتر ہمسایہ کی سرحد پار کارروائیوں (آپریشنز) کی مذمت کے لیے کرتا ہے۔ اس مسئلےکو حل کرنے کے لیے محض فوجی تدبیراتی ردعمل  کی ہی ضرورت نہیں بلکہ کثیرالجہتی ضابطۂ کار (فریم ورک) کے ذریعے تزویراتی مستقل مزاجی، رضامندی پر مبنی سکیورٹی معاہدے اور یہ حقیقت پسندانہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ افغانستان کے ساتھ تنازع میں قائم ہونے والی روایات بھارت کے آئیندہ حملے کی صورت میں  پاکستان کے بیانیے کو کس طور پیچیدہ بنائیں گی۔

”ناخواہ یا نااہل ”نظریہ اور بین الاقوامی قانون

سرحد پار حملوں سے نمٹنے والے قانونی ضابطۂ کار کی ابتدا اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) سے ہوتی ہے،  جو “کسی بھی ریاست کی ارضی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی” کی ممانعت کرتا ہے۔ یہ پابندی بین الاقوامی نظام کی بنیاد ہے۔
آرٹیکل 51 ایک محدود استثنا فراہم کرتا ہے: ‘کسی مسلح حملے کی صورت میں  فردی یا اجتماعی ذاتی تحفظ (سیلف ڈیفنس) کا فطری حق’۔

متنازعہ ‘ناخواہ یا نااہل’ نظریہ اس استثنا کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس اصول کے تحت، اگر کوئی ریاست غیر ریاستی عناصر کو حملے کرنے سے روک نہیں سکتی یا روکنا نہیں چاہتی، تو متاثرہ ریاست سیلف ڈیفنس (ذاتی تحفظ) کے لیے کارروائی کر سکتی ہے اور اس ریاست کی سرزمین میں طاقت کا استعمال کر سکتی ہے۔(نظریے کے) حامی دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ نظریہ کمزور یا دہشت گردوں کو پناہ دینے والی معاون ریاستوں کی حقیقت پر توجہ دیتا ہے، جبکہ ناقدین اس کا مخالف مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ طاقتور ریاستوں کو ایک ایسی خطرناک راہِ فرار مہیا کرتا ہے جس کا استحصال کر کے وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی دست گیری کو نظر انداز کر سکتی ہیں۔

بین الاقوامی قانون میں اس نظریے پراتفاق رائے کی کمی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسے منظور نہیں کیا، نہ ہی کوئی معاہدہ اسے مدوّن کرتا ہے اور (اس سے متعلق) ریاستی عمل کاری منقسم اور غیر مستقل ہے۔ امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے حصے کے طور پر مختلف ممالک میں اپنی کارروائیوں کو جواز دینے کے لیے یہ نظریہ بنیادی طور پر امریکہ کی استعانت کے باعث ظہور پذیر ہوا۔تاریخی طور پر پاکستان اس نظریے کے خلاف مضبوطی سے ڈٹا رہا اور اسلام آباد باقاعدگی سے پاکستانی علاقے میں امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کرتا رہا۔پاکستان کے دفتر خارجہ  نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون نیز پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ تاہم پاکستان  نے جس ضابطۂ کار  کے دفاع میں مدد کی تھی، اب وہ  پاکستان کےافغانستان کے خلاف اقدامات کی روشنی میں تیزی سے کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان کی افغانستان میں سرحد پار کارروائیاں

 ٹی ٹی پی کے حملوں کے بعد پاکستان نے پہلی مرتبہ خوست اور کنڑ کےصوبوں کے علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے اپریل 2022 میں افغانستان میں فضائی حملے کیے۔بالترتیب مارچ اور دسمبر 2024 میں حملوں کے دو اضافی دور بھی ہوئے جن میں پاکتیکا اور سرحدی صوبوں کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔اطلاعات کے مطابق دونوں کارروائیوں میں شہری ہلاکتیں واقع ہوئیں تاہم آزاد ذرائع کی تصدیق مشکل ثابت ہوئی۔ان حملوں  نے اسلام آباد کے لیے ایک اہم تبدیلیٔ پالیسی کو ظاہر کیا جس کا سابقہ انحصار زمینی سرحدی نگرانی اور افغان حکام کے ساتھ تعاون پر تھا۔
فضائی حملوں کی طرف خ موڑنا پاکستان کی بڑھتی ہوئی مایوسی کاعکاس ہے جو ٹی ٹی پی کے زیرِقیادت بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث ہے: 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے سبب صرف 2025 میں 1,200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

اکتوبر 2025 میں آپریشن خیبر اسٹورم کے جُز کے طور پر، جو اس وقت تک کی سب سے زیادہ جارحانہ پاکستانی سرحدی کارروائی تھی، صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ پاکستانی طیاروں نے کابل، قندھار اور پکتیکا کےصوبوں میں حملے کیے۔ایک ماہ بعد پاکستان نے دوبارہ فضائی حملے کیے (اور) اس مرتبہ خوست، کنڑ  اور پکتیکا کے صوبوں کو نشانہ بنایا۔

فروری 2026 کی کارروائیوں کے بعد پاکستان کی سرزمین پر دہشت گرد حملوں کی ایک فقید المثال لہر آئی: 6 فروری کو اسلام آباد کی مسجد میں بم دھماکے میں 32 ہلاک؛ 17 فروری کو 11 سیکیورٹی اہلکار باجوڑ میں ہلاک؛ اور 21 فروری کو فضائی حملوں سے چند گھنٹے قبل دو فوجی جن میں ایک لیفٹیننٹ کرنل بھی شامل تھا، بنوں میں ہلاک کیے گئے۔

ان کارروائیوں کے لیے پاکستانی جواز واضح اور پوشیدہ، دونوں (طور کے)  ہیں۔ 21 فروری کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کے پاس “حتمی شواہد” موجود ہیں کہ حملے “خوارج کی جانب سے ان کے افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ہدایات پر کیے گئے تھے۔”اس بیان نے مضمراً  ‘ناخواہ یا نااہل’ کے ضابطۂ کار کو  طالبان حکومت کی اپنی سرزمین میں مقیم  گروہوں کے خلاف بامعنی کارروائی کرنے میں ناکامی کو نمایاں کرتے ہوئے اجاگر کیا۔ صدر زرداری کے 22 فروری کے بیان نے مزید آگے بڑھتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تشدد جاری رہا، تو ‘ذمہ داران رسائی سے بچ نہیں پائیں گے،’ اور واضح طور پر افغانستان میں مزید حملوں کی دھمکی دی۔ 

بھارت کا سرحد پار نظریہ اور پاکستان کے قانونی اعتراضات

پاکستان جنوبی ایشیا میں ‘نا خواہ یا نااہل’ نظریہ کے تحت سرحد پار حملے کرنے میں اکیلا نہیں ہے۔ بھارت نے 2015 سے اسی طرح کے جوازات کا حوالہ دیتے ہوئے پہلے میانمار میں کارروائیاں کیں اور بعد میں اسی نظریے کا 2016، 2019 اور 2025 میں پاکستان کے خلاف اطلاق کیا۔

 پاکستان کے 2004 کے وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے نہیں دے گا، 2016 کے اڑی حملے کے بعد، بھارت نے لائن آف کنٹرول کے پار ‘سرجیکل اسٹرائیکس‘ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اسی طرح فروری 2019 میں، بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد یہ دلیل دیتے ہوئے کہ بار بار انتباہ کے باوجود دہشت گردی کے خلاف پاکستان اقدامات کرنے میں ناکام رہا، بالاکوٹ میں فضائی حملے کیے۔ حال ہی میں پہلگام حملے کے بعد مئی 2025 میں آپریشن سندور عمل میں لایا گیا، جس پربھارت نے ایک بار پھر زور دیا کہ پاکستان  نے ’’اپنے علاقے یا اپنے زیرِ اختیار علاقے میں دہشت گردی کے انفرا اسٹرکچر کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کوئی واضح قدم [۔۔۔] نہیں اٹھایا‘‘۔

ہر موقع پر بھارت کا جواز یکساں رہا: پاکستان اپنی سرزمین کو بھارت کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہا۔اہم امر یہ ہے کہ فروری 2026 کے حملوں کا جواز پیش کرنے کا پاکستان کا طرزِ بیان، تقریباً اسی بیانیے کا پرتو ہے۔دونوں  نے ‘حتمی  شواہد‘ کو سرحد پار پناہ گاہوں پر حملوں سے جوڑا،دونوں کادعویٰ تھا کہ میزبان ریاست ‘کوئی واضح کارروائی کرنے میں ناکام‘ رہی، اور دونوں  نے سفارتی کوششوں میں ناکامی کے بعد حملوں کو دفاعی اقدام کے طور پر پیش کیا۔

یہی پاکستان کے لیے مخمصے کا باعث ہے:  جب اسلام آباد مستقبل کے حملوں کی مخالفت کرے گا تو اب بھارت پاکستانی مثال کا حوالہ دے سکتا ہے۔ یہ کمزوری  بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے معیاری ضابطۂ کار کواستعمال کر نے کی پاکستان کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔

پاکستان کے لیے تزویراتی اور قانونی مضمرات

پاکستان کے افغانستان پر حملے بھارت کے خلاف اس کے قانونی دفاع کو کئی اطوارسے کمزور کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ نئی دہلی یہ موقف اختیار کرے گی کہ اگر پاکستان سکیورٹی خدشات کی بنا پر افغانستان میں ٹی ٹی پی اہداف پر حملہ کر سکتا ہے تو بھارت اسی منطق کے تحت پاکستان میں اہداف پر حملہ کر سکتا ہے۔ پاکستانی سفارتکار بین الاقوامی ناظرین کو قائل کرنے کے لیے دونوں منظرناموں کے درمیان فرق پیدا کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ مشابہتیں بہت واضح ہیں: دونوں ممالک کو سرحد پار دہشت گردی کا سامنا ہے، اور دونوں دعویٰ کرتے ہیں کہ مبینہ میزبان ریاست عمل کرنے سے قاصر یا نارضامند ہے۔مزید برآں افغانستان کی خود مختار سرزمین پر خلاف ورزیاں کرتے ہوئے اسلام آباد بھارت کے خلاف خود مختاری کا معتبر طور پر دعویٰ نہیں کر سکتا۔ یہ تضاد اقوام متحدہ یا دیگر عالمی فورمز میں بھارتی کارروائیوں کے خلاف بین الاقوامی مخالفت کے اجتماع کو مشکل بنا دیتا ہے۔وہ ریاستیں جو بصورت دیگر پاکستان کی حمایت کر سکتی تھیں، اب بھارتی اقدامات کی مذمت کرنے کے لیے کہے جانے پر اسلام آباد کے اپنے رویے پر انگلیاں اُٹھا سکتی ہیں۔

دوسرا یہ کہ یہ حملے جنوبی ایشیا میں سرحد پار کارروائیوں کو معمول بنا رہے ہیں۔ ہر کارروائی اگلی (کارروائی) کے لیے حدِ آغاز (تھریش ہولڈ) کو مزید کم کر دیتی ہے، یہ ایک ایسے چکر کو جنم دیتا ہے جسے پلٹنا روز بروز مشکل ہوتا جاتا ہے۔مئی 2025 کا بحران اس امر کا مظہر ہے کہ ایسے تنازعات کتنی تیزی سے بڑھ سکتے ہیں، جس میں دونوں فریقین  نے فقید المثال ویپن سسٹمز استعمال کیے، جن میں کروز میزائل، کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلز اور کوآرڈینیٹڈ ڈرون سوارمز شامل تھے۔ جب جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور بیلسٹک میزائلز کے تبادلے کو معمول بنا لیتے ہیں، کشیدگی بڑھنے کا دورانیہ خطرناک حد تک کم ہو جاتا ہے۔ یہ مضمرات وقت کے ساتھ پیچیدہ ہوتےجاتے ہیں اور ہر آنے والے بحران کو مزیدخطرناک بناتے جاتے ہیں اور پاکستان کی قانونی پوزیشن بتدریج کمزور ہوتی جاتی ہے۔

مستقبل کا راستہ

پاکستان کے افغانستان میں حملے سیکیورٹی کے حقیقی خطرات کے جواب میں کیے گئے ہیں جنہیں کوئی بھی ریاست ناقابل برداشت سمجھے گی۔ٹی ٹی پی نے ہزاروں پاکستانیوں کو قتل کیا ہے؛ حالیہ یادداشت میں سب سے تباہ کن دہشت گرد حملوں کے سلسلے کے بعد فروری 2026 کے حملے کیے گئے۔ افغان طالبان افغان علاقے کو دیگر ممالک کے خلاف تشدد کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے دوحہ معاہدے کے عہد کو پورا کرنے میں واضح طور پر ناکام رہے ہیں۔ ایک ایسی حکومت جو اپنی سرزمین کو پاکستان پر حملے کرنے والے گروپوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنے میں ناکام رہی ہے، پاکستان کے فضائی حملے اس کے خلاف ایک تزویراتی ردعمل کی نمائندگی کرتے ہیں۔

تاہم قابل فہم ردعمل ضروری نہیں کہ تزویراتی طور پر دانشمندانہ بھی ہوں۔ بھارت کے بالاكوٹ حملےاور آپریشن سندور جیسی کارروائیوں کو،جن کی پاکستان  نے اس وقت مذمت کی تھی،سے مماثل کارروائیاں انجام دے کر  اسلام آباد اپنے قانونی اور سفارتی دفاع کو ایک روایتی طور پر برتر مخالف کے خلاف کمزور کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ پاکستان کو اپنے شہریوں کے دفاع کا ہر حق حاصل ہے، تاہم پاکستانیوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ منتخب کردہ طریقہ کار ملک کے طویل المدتی مفادات کے حق میں ہے یا نہیں۔

اس طرح پاکستان کو ایسے متبادل کے لیے کوشش کرنی چاہیے جو اس کی سیکیورٹی کی ضروریات کو پورا بھی کرے اور اس کی قانونی حیثیت کو برقرار بھی رکھے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ عملی سلامتی کے تعاون کو فروغ دے سکتا ہے جو افغان نگرانی کے تحت انٹیلی جنس کے اشتراک اور مشترکہ کارروائیوں پر مرکوز ہو۔ اگرچہ ماضی میں ایسےضابطۂ عمل (میکانزمز) پیش کیے گئے ہیں، طرزِ بیان نے وسیع ‘سیکیورٹی ڈائیلاگ میکانزمز’ اور ‘نفاذِ  قانون اور سیکیورٹی تعاون’ کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی ہے، بجائے اس کے کہ انٹیلیجنس شیئرنگ پروٹوکولز یا مشترکہ کارروائیوں کو رسمی معاہدوں کی صورت میں مدوّن کیا جائے۔ رضا مندی پر مبنی ٹھوس انتظامات گو کہ پرجوش ہیں، تاہم یہ ان رضامندانہ سیکیورٹی انتظامات کا عکس ہوں گے جو دیگر ریاستوں نے کامیابی کے ساتھ استعمال کیے ہیں۔جنوب مشرقی ایشیا میں فلپائن، انڈونیشیا اور ملائیشیا  نے 2017 میں معاہدہ برائے سہ فریقی تعاون کا قیام عمل میں لایا تاکہ مربوط بحری گشت انجام دئیے جائیں  اور اپنے مشترکہ پانیوں میں عسکریت پسند گروپوں اور اسمگلروں کا پیچھا کیا جائے۔اسی طرح جرمنی اور پولینڈ نے 2014 میں ایک پولیس تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے، جس سے مشترکہ گشت کی اجازت ملی اور دوسرے ملک کے علاقے میں کام کرنے والے اہلکاروں کو محدود خودمختارانہ اختیارات حاصل ہوئے۔ دونوں انتظامات اس امر کو ظاہر کرتے ہیں کہ ریاستیں حقیقی سرحد پار سکیورٹی خطرات کو خودمختاری کا احترام کرنےاور عملی تعاون کو ممکن بنانے والے دو طرفہ یا کثیر الجہتی ضابطۂ کاروں کے ذریعے کیسے حل کر سکتی ہیں۔تاہم موجودہ دشمنیوں، افغانستان کو درپیش حکومتی مشکلات اور گہری باہمی بے اعتمادی کے پیش نظر اس طرح کا تعاون دونوں فریقین کی جانب سے بہت زیادہ سیاسی عزم کا متقاضی ہوگا۔

دوطرفہ ضابطۂ کار سے بڑھ کر علاقائی اور بین الاقوامی عناصرتعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔
اکتوبر 2025 میں قطر اور ترکی کی ثالثی کے تحت جنگ بندی، گو کہ نازک تھی، تاہم اس امر کی مظہر بھی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے تناؤ کو سنبھالنے کے لیے تیسرے فریق کی ثالثی ابھی بھی قابل عمل ہے۔ پاکستان چین کی افغانستان میں تزویراتی دلچسپی سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے تاکہ طالبان کو انسداد دہشت گردی میں تعاون کی ترغیب دی جا سکے۔ سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں حالیہ سہ فریقی اجلاسوں کی ناکامی اور افغانستان میں چین کی حالیہ معاشی مشکلات کے باوجودبیجنگ کی یہ خواہش کہ وہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کو افغانستان تک بڑھائے، اسے کابل پر علاقائی سلامتی کے معاملے میں اثر ڈالنے کی خاطر نمایاں ممکنہ اثر و رسوخ فراہم کرتی ہے۔

چاہے پاکستان کسی بھی راستے پر چلے، اس کاتزویراتی حساب کتاب کڑا ہے۔ جیسے جیسے بھارت کی روایتی برتری ہر سال بڑھتی جاتی ہے، خودمختاری کے تحفظ کے لیے قانونی اصول پاکستان کے لیے ایک قیمتی تزویراتی آلہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ قاعدے پاکستان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ بھارت کے حملے کے وقت بین الاقوامی دباؤ جمع کرسکے، چاہے وہ ماضی کے بحرانات کی طرح امریکہ کے ذریعے ہو، یا کثیرالجہتی فورمز کے ذریعے ہو۔ خود مختاری کی خلاف ورزیوں کے لیےاپنی خود کی مثال قائم کر کے پاکستان اس ضابطۂ کار کو ہی نقصان پہنچاتا ہے جو اسے بھارت-پاکستان کے منظرناموں میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

This article is a translation. Click here to read the article in English.

***

Image 1: Francesco V. Govea II via Wikimedia Commons

Image 2: Ryan Matson via Wikimedia Commons

 

Share this:  

Related articles

परमाणु संयम का क्षरण: नतान्ज़ से दक्षिण एशिया के अगले संकट तक Hindi & Urdu

परमाणु संयम का क्षरण: नतान्ज़ से दक्षिण एशिया के अगले संकट तक

ईरान की नतान्ज़ यूरेनियम संवर्धन सुविधा पर हुए अमेरिका-इज़रायल के…

مصنوعی ذہانت، ہدف بندی اور بھارت-پاکستان ماحول میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات Hindi & Urdu

مصنوعی ذہانت، ہدف بندی اور بھارت-پاکستان ماحول میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات

امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ اس امر کی مظہر ہے کہ مصنوعی ذہانت…

भारत-पाकिस्तान परिवेश में कृत्रिम बुद्धिमत्ता, लक्ष्यीकरण एवं तनाव वृद्धि के जोखिम Hindi & Urdu

भारत-पाकिस्तान परिवेश में कृत्रिम बुद्धिमत्ता, लक्ष्यीकरण एवं तनाव वृद्धि के जोखिम

अमेरिका-इज़राइल-ईरान युद्ध यह दर्शाता है कि कृत्रिम बुद्धिमत्ता (एआई) सैन्य…