IMG-20260319-WA0079-scaled

پاک-چین تعلقات، جو’’نہ ٹوٹنے والے اورمضبوط‘‘ ہیں، اب زمین، سمندر اور ہوا کے دوائرِکار سے بڑھ کر خلائی مدار تک پھیلتے نظر آ رہے ہیں، جو اتحادوں کو مضبوط کرنے اور طاقت کے مظاہرے کے لیے ایک اہم میدان بنتا جا رہا ہے۔ 1990 میں پاکستان کے بدر-1 سیٹلائٹ کے لانچ کے بعد سے  دونوں ممالک کے درمیان خلائی تعاون میں قابلِ ذکر تبدیلی آئی ہے، جو اب چینی نیویگیشن سسٹمز کے انضمام اور پاکستانی خلا بازوں کی تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر شرکت تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم یہ شہری (سِول) اور ترقیاتی تعاون جنوبی ایشیا میں علاقائی سکیورٹی کے نمونے (پیرا ڈائم) پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جو ٹیکنالوجی کی برتری، معلومات پر کنٹرول اور کثیر الشعبہ جاتی انضمام پر  تیزی سےانحصار کرتا ہے۔ 

بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتے ہوئے خلائی تعاون  کو طویل المدتی ‘ہمہ موسمی’ تعلقات کو ایک گہری ساختی تبدیلی کے باعث زیادہ درست طور پر ‘ہمہ گیری’ شراکت داری کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا چین کے پھیلتے ہوئے خلائی ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم)  کے ساتھ جُڑنا ایک زیادہ مربوط اور ٹیکنالوجی کے زیرِ اثرسیکورٹی منظرنامے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو علاقائی سیکورٹی منظر نامے کو دوطرفہ ٹکراؤ سے ہٹا کر ایک زیادہ پیچیدہ کثیر الشعبہ جاتی سیکورٹی مسئلے کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ تعاون ممکنہ طور پر بھارت کی روایتی جغرافیائی برتری اور بحران سے نمٹنے کے طریقوں کو بھی غیر مؤثر کر سکتا ہے۔ یہ مضمون بڑھتے ہوئے پاک-چین خلائی تعاون کے ارتقا اور اس کے بھارت اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی مقابلے پر واضح اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔ 

ترقیاتی تعاون سے مربوط صلاحیت تک 

پاک-چین خلائی تعاون گزرتے سالوں میں  بتدریج ترقی کرتا گیا ہے۔ ابتدائی تعاون میں 1991 میں پاکستان کے اسپیس اینڈ اپر اٹمسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے تیار کردہ ایک تجرباتی سیٹلائٹ اور  2001 میں ایک اور سیٹلائٹ بدر-بی کے لانچ میں چین کی مدد شامل ہے۔ کچھ دہائیوں کے عرصے میں چین سیٹلائیٹس اور لانچ سروسز کی ترقی کی مد میں  پاکستان کا اہم ترین ساتھی بن گیا جسے سپارکو اور چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) کے مابین 2012-2020 کے تعاون کی حکمتِ عملی جیسے ضابطۂ عمل (فریم ورک) کے تحت ادارہ جاتی شکل دی گئی۔اس شراکت داری نے کئی مواصلاتی، ریموٹ سینسنگ اور زمین کی نگرانی کے سیٹلائٹس، جیسے کہ پاک ایس اے ٹی- آئی آر، پی آر ایس ایس-1، پاک ٹی ای ایس-1 اے، آئی کیوب-قمر اور پاک ایس اے ٹی- ایم ایم    1کے لانچ کے ذریعے توسیع پائی۔ حال ہی میں، اس تعاون میں انسانی خلائی پرواز بھی شامل ہو گئی ہے، جس میں پاکستانی خلانوردوں کو چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر مشنز کے لیے تربیت دی جا رہی ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔ 

تاہم پاک- چین خلائی تعاون کے ابتدائی دوراور آج کے دور کے درمیان فرق یہ ہے کہ اب یہ تعاون علیحدہ علیحدہ منصوبوں سے بڑھ کر متعدد شعبوں میں نظاماتی انضمام کی طرف پہنچ گیا ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے واضح  اظہار 2014 میں پاکستان کاامریکی گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) سے چینی بائے دوسسٹم کی طرف منتقلی میں ہے، جو چین کے علاوہ اس قدم کو اُٹھانے والا پہلا ملک تھا۔ پاکستان کا جی پی ایس پر انحصار اس کے تزویراتی حلقوں میں تشویش  پیدا کر رہا تھا کہ مستقبل میں بھارت کے ساتھ کسی تنازعہ کی صورت میں امریکہ نیویگیشن سسٹم تک رسائی محدود کر سکتا ہے، جس کا سبب کارگِل  کی جنگ میں حاصل  کردہ تجربہ بھی تھا، جس میں امریکہ نے اطلاعات کے مطابق سیٹلائٹ رسائی فراہم کر کے بھارت کو اعلیٰ پاکستانی فوجی قیادت کے مابین رابطوں تک رسائی  میں مدد دی تھی۔ پاکستان کی بائے دو  تک رسائی یقینی طور پر بیرونی نظامات پر اس کےانحصار کو کم کرتی ہے اور اس کی اپنی عملی خود مختاری کو بڑھاتی ہے، تاہم اسے چین کے ساتھ اس کی گہری تزویراتی ہم آہنگی کے آلۂ کار کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

 اس کا سبب دیگر گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹمز(جی این ایس ایس) کے برعکس بائے دو کا بنیادی طور پر دوہرا استعمال ہے؛ یہ پوزیشننگ ڈیٹا کو اپنے آر این ایس ایس اور آر ڈی ایس ایس سروسز کے ذریعے مختصر پیغامات کے ساتھ یکجا کرتا ہے، جس سے صارفین دور درازعلاقوں میں پیغامات بھیج اور وصول کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک  دوطرفہ فوجی معاہدے کے تحت پاکستان وہ واحد ملک ہے جو بائے دو کی محدود سروس استعمال کرنے کی اجازت رکھتا ہے، جو اینکرپٹڈ سگنلز کے ساتھ رئیل ٹائم  ڈیٹا بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ کسی علیحدہ تکنیکی تبدیلی کے بجائے  پاکستان کو ایک چین کے زیرِ انتظام ایکو سسٹم میں شامل کر دیتا ہے، جہاں سیٹلائٹ نیویگیشن کو مواصلات، انٹیلی جنس شیئرنگ اور زمینی انفرا اسٹرکچر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، جیسا کہ کنٹینیوسلی آپریٹنگ ریفرنس سٹیشن (سی او آر ایس) نیٹ ورک، ایک زمینی ریفرنس سسٹم جو پوزیشننگ کی درستگی کو بہتر بناتا ہے اور مسلسل جغرافیائی ڈیٹا اکٹھا کرنے کی سہولت دیتا ہے۔

 مجموعی طور پر یہ پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاک- چین خلائی شراکت داری زیادہ مربوط ہو رہی ہے، جس میں خلائی وسائل، زمینی انفرا اسٹرکچر اور انسانی وسائل زیادہ سے زیادہ منسلک ہو رہے ہیں۔ 

پاک-چین محور:(خلائی) مدار میں اور اُس سےآگے 

پاک چین خلائی بندھن کو خلا سے متعلق صلاحیتوں کو وسیع، مربوط عملی ڈھانچے کے انضمام کے طور پر سمجھا جانا چاہیئے۔ چین کی جانب سے ایس ایل سی-18 ایکٹیو الیکٹرانکلی اسکینڈ ارے (اے ای ایس اے) ریڈار کی پاکستان کو منتقلی، ایک ایسا سسٹم جو لو اررتھ اوربٹ (زمین سے کم بلندی کے مدار) میں سیٹلائٹس اور طویل فاصلے تک بیلسٹک میزائلز کا سُراغ لگانے اور ٹریک کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، بڑھتے ہوئے سیکورٹی ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے؛ بھارتی ذرائع کے لیے یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ اس سسٹم کے ذریعے حاصل کردہ  ڈیٹا کو چین کے ساتھ بھی شیئر کیا جا سکتا ہے، حالانکہ ایسی کسی بھی ڈیٹا شیئرنگ کی اعلانیہ تصدیق نہیں ہوئی ۔

اس ضابطۂ عمل کے اندر، پاک- چین خلائی تعاون کے سب سے اہم اثرات میں سے ایک انٹیلی جنس، سرویلنس اور ریکانیسنس (آئی ایس آر)، نیویگیشن اور کمیونیکیشن کو ایک مشترکہ عملی ضابطۂ عمل میں شامل کیا جانا ہے ۔ اس مرحلے پر پاکستان کی بائے دو (کے ساتھ) انضمام کا کام آنے کا امکان ہے: بائے دو کے ذریعے پوزیشننگ  کے ساتھ ساتھ  چینی تعاون یافتہ سیٹلائٹ پلیٹ فارمز اور زمینی انفراسٹرکچر، رئیل ٹائم  ڈیٹا کے حصول اور ان کی مؤثر ترسیل اور ہم آہنگی  کوممکن بناتا ہے۔ ساتھ ہی یہ ٹیکنالوجیز دوہرا استعمال رکھتی ہیں۔ مثلاً  بائے دو کی دوطرفہ  پیغام رسانی کی خصوصیت صارف کے مقام اور دیگر ڈیٹا کو ظاہر کر سکتی ہے، جس سے صارف کا سُراغ لگانا ممکن ہو جاتا ہے۔ کسی تنازعہ کے منظرنامے میں، یہ صلاحیتیں زیادہ درست ہدف بندی، میدان جنگ کی بہترآگاہی اور یہاں تک کہ فوجی حرکات کی شناخت (بھی) ممکن بنا سکتی ہیں۔ 

ان پیش رفتوں کو کثیر الشعبہ جنگ [ملٹی ڈومین وار فئیر] (ایم ڈی ڈبلیو ) کے وسیع ضابطۂ عمل کے اندر سمجھا جا سکتا ہے، جسے چین نے فعال طور پر اپنایا ہے۔ ایم ڈی ڈبلیو کا مقصد روایتی جنگی صلاحیت کو خلائی، سائبر، الیکٹرو میگنیٹک اور معلومات جیسے مختلف شعبوں کی عمل کاری کے انضمام  کے ذریعے بڑھانا ہے۔پاکستان نے اس حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش زیادہ کر دی ہے: مشترکہ مشقیں جیسے شاہین ایئر ڈرلز کثیرالجہتی عملی انضمام کو ظاہر کرتی ہیں، اور بھارتی ذرائع سے موصولہ اطلاعات یہ عندیہ دیتی ہیں کہ  چین کی سرپرستی میں سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ کمپیوٹنگ (سی ای این ٹی اے آئی سی) جیسے  اقدامات پاکستان میں موجود ہیں، جومستقبل میں بھارت کے ساتھ  کسی فوجی تنازعے  کی صورت میں ممکنہ طور پر پاکستان کو اضافی مدد فراہم کرسکتے ہیں، جن میں ریئل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ، اے آئی کے تحت  ہدف بندی اور بہتراسٹرائیک ریسپانس شامل ہیں۔

 یہ پیش رفتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاک-چین تعاون (خلائی) مدار سے متعلقہ تعاون سے کہیں زیادہ بڑھ کر ایک زیادہ مربوط، کراس ڈومین فریم ورک کی طرف جا رہا ہے جو مشترکہ انٹیلی جنس، ہم آہنگ سائبر آپریشنز، ایلیکٹرو میگنیٹک  اسپیکٹرم کی سرگرمیوں اور اے آئی کے تحت معلوماتی عمل کاریوں  جیسے اُبھرتے ہوئے آلاتِ کار  کو یکجا کرتا ہے۔ یہ ایک بہت پیچیدہ سیکیورٹی ماحول پیدا کرتا ہے جس میں خطرات صرف روایتی فوجی شعبوں تک محدود نہیں ہوتے، بلکہ اہم انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس تک پھیل جاتے ہیں۔  2024  میں بھارت کی پاور گرڈز اور بینکنگ سسٹمز میں رخنہ اندازیوں (بریچ)  کی اطلاعات یہ  ظاہر کرتی ہیں کہ مستقبل میں  پیش آنے والے حملے کیسے ہو سکتے ہیں، اور ان کا پتا لگانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ 

بھارت کی مشکلات دو محاذوں سے بڑھ کر متعدد شعبوں تک 

بھارت کےتزویراتی حلقے دو محاذوں کی جنگ کے امکان کے باعث طویل عرصے سے فکر مند رہے ہیں، جس میں شمالی سرحدوں پر چین کی طرف سے اور مغربی محاذ پر پاکستان کی طرف سے بیک وقت فوجی دباؤ شامل ہو۔  پاک-چین تزویراتی  شراکت داری میں گہرائی اس مسئلے کو ایک جغرافیائی طور پر واضح، دو محاذی مسئلے سے بدل کر ایک زیادہ تہ در تہ ، کثیر الشعبہ سیکیورٹی ماحول میں تبدیل کر سکتی ہے۔ پاک-چین تعاون کی بھارت کے لیے اہمیت کی ایک جھلک آپریشن سندور کے دوران دیکھی گئی، جہاں چین نے اطلاعات کے مطابق پاکستان کے ردعمل میں ایک بائے دو فعال سیٹلائٹ نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے ہدف بندی، ٹریکنگ اور فائر کنٹرول ڈیٹا فراہم کر کے مدد مہیا کی، جس کے سبب پاکستانی سسٹمز کو لائن آف کنٹرول کے پار ہدف کو زیادہ درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے میں مدد ملی۔ 

جیسے جیسے چین اور پاکستان کے درمیان ہم آہنگی بڑھ رہی ہے، بھارت کو ممکنہ طور پر سیکورٹی کی نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں آئی ایس آر کے میدان میں ممکنہ عدم توازن بھی شامل ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر اور ریئل ٹائم ڈیٹا صورتحال سے آگاہ رہنے کے لیے بہت اہم ہیں؛ اگر چین اور پاکستان اپنی خلا کاری  آئی ایس آر صلاحیتیں یکجا کر دیں، تو اس سے بھارت کی نگرانی اور مؤثر ردعمل کی صلاحیت میں ممکنہ خلل پیدا ہو سکتا ہے۔  دوسری  مشکل  بائے دو کے انضمام کا پاکستان کی پریسیژن جنگی صلاحیتوں پر اثر ہے۔
بائےدو کی درست جغرافیائی ڈیٹا تک رسائی میزائلز، ڈرونز اور دیگر پریسیژن گائیڈڈ سسٹمز  کی ہدف سازی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے، جو پاکستان کی مجموعی جنگی صلاحیتوں کو قوی تربناتی ہے۔ 

 تاہم بھارت اپنی خلا کاری صلاحیتوں کو فوجی کارروائیوں میں شامل کرنے کے لیے  اپنی کوششوں کو بڑھا رہا ہے ۔ 2000 کی دہائی  کے اوائل سے اس نے مختلف دوہرے استعمال والے سیٹلائٹس تعینات کیے ہیں اور این اے وی آئی سی اور جی اے جی اے این  جیسے سسٹمز تیار کیے ہیں،  جبکہ جی ایس اے ٹی-7، جی ایس اے ٹی-7 اے اور ایک ایلکٹرو میگنیٹک انٹیلی جنس سیٹلائٹ سمیت مخصوص فوجی اثاثے بھی لانچ کیے ہیں۔خصوصاً 2019 کے مشن شاکتی اے ایس اے ٹی ٹیسٹ کے ذریعے  بھارت نے کاؤنٹر اسپیس صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اپنی خلا کاری نگرانی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے 2024 میں بھارت کی کابینہ کمیٹی برائے سلامتی نے 52 سرویلنس سیٹلائٹس لانچ کرنے کے لیے ایک  دس سالہ منصوبے کی منظوری دی۔ ان ٹیکنالوجیکل پیش رفتوں کے تکلمہ کے طور پر 2025 میں  انڈیا نیول ڈاکٹرائن(آئی ایم ڈی- 25) جاری کیا گیاجو ملٹی ڈومین آپریشنز (ایم ڈی او) کی اہمیت پر زور دیتا ہے (اور)  زمین، سمندر، ہوا، خلا اور سائبر  کےشعبہ جات  کو جنگ کے اہم محاذوں کے طور پر شناخت کرتے ہوئے ان کے مربوط اور ہم آہنگ استعمال کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔ 

مجموعی طور پر  یہ واضح ہے کہ جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی مقابلہ بازی زیادہ تر باہمی کوششوں کے ذریعے صلاحیتوں کی  تلافی اور متوازن بنانے کی خصوصیت رکھتی ہے۔ 
اگرچہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی شراکت کے ذریعے بھارت کے مقابلے میں اپنی عدم توازن کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، بھارت کو بیک وقت دونوں حریفوں کی مشترکہ اور ترقی پذیر صلاحیتوں سے نمٹنا ہوگا۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی غیر شفاف نوعیت اور نسبت دینے کے عمل کی مشکلات کے پیش نظر، یہ عناصرسیکیورٹی کے مسئلے کو مزید بڑھا رہےہیں اورعلاقائی استحکام کو پیچیدہ کر رہے ہیں۔ 

جنوبی ایشیا میں خلائی انضمام اور تزویراتی استحکام 

پاک-چین خلائی تعاون میں گہرائی جنوبی ایشیا کے تزویراتی استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔ خلائی صلاحیتوں کی تکنیکی پیچیدگیوں اور دوہرےاستعمال کی نوعیت کے باعث صلاحیتوں اور ارادوں کو جانچنا مشکل ہے۔ خلا میں کیے جانے والے اقدامات کو بھی یقینی طور پر کسی طور منسوب کرنا مشکل ہے کیونکہ صلاحیتیں مختلف عناصر اور شعبہ جات پر پھیل گئی ہیں، جس کے سبب یہ واضح نہیں ہوپاتا کہ کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے جس کے باعث ردعمل کے طریقہ کار بھی پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ 

خلائی شعبے میں بھی کشیدگی  کے امکانات بہت زیادہ ہیں، کیونکہ یہ واضح نہیں ہے کہ خلا میں کس عمل کو جنگی کار روائی سمجھا جائے۔ اس سے غلط اندازے کا خطرہ اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے خطرات پہلے ہی متنازعہ جغرافیائی سیاسی میدانوں میں دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ بحیرۂ جنوبی چین ، جہاں سیٹلائٹ کے ذریعے میریٹائم ڈومین اویرنس (ایم ڈی اے)  نے کھلے تصادم کے بغیر ، مستقل ٹریکنگ اور گرے زون کوارژن ( ڈھکے چُھپے دباؤ) کو ممکن بنایا ہے۔ جیسے جیسے ریاستیں خلا کاری آئی ایس آر، نیویگیشن اور کمیونیکیشن سسٹمز کو فوجی آپریشنز میں شامل کرتی جا رہی ہیں، اس طرح کا منظر نامہ  جنوبی ایشیا میں بھی ابھرنے کا امکان ہے۔ 

بھارت اور جنوبی ایشیا کانیا تزویراتی جغرافیہ 

جنوبی ایشیا میں ابھرتا ہوا سیکیورٹی کا نظام ایسا ہے جس میں تعاون اور مقابلے کے درمیان، اور سول اور فوجی شعبوں کے درمیان حدود بتدریج دھندلی ہوتی جا رہی ہیں۔ پاک-چین تعاون کا ‘ہمہ موسمی’ سے ‘ہمہ گیری’  شراکت داری میں بدلنے کے ساتھ، خلا خطہ میں طاقت کے مظاہرے،بانٹنے اور مقابلہ کرنے (کے محاذ کی صورت)  میں مرکزی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ بھارت کے لیے اس تبدیلی کا جواب دینے کے لیے تکنیکی سرمایہ کاری اور تصوری جدت دونوں کی ضرورت ہوگی۔ 

سب سے پہلے بھارت کو اپنی خلاکاری آئی ایس آر صلاحیتوں کو مضبوط بناناچاہیے اور اپنے منصوبہ بند نگران سیارچوں کی تعیناتی کو تیز کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں  اسے اپنے انفارمیشن فیوژن سینٹر-انڈین اوشن ریجن (آئی ایف سی- آئی او آر) ، انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، اور بیٹل فیلڈ سرویلنس سسٹم جیسے  موجودہ ادارتی یونٹس ( نوڈز)  میں ڈیٹا کے انضمام (فیوژن) کو بہتر بنانا چاہیے، تاکہ رئیل ٹائم  نگرانی اور ڈیٹا کے انضمام میں کمی کو پورا کیا جا سکے۔ دوسرا، اسے مقامی نیویگیشن اور کمیونیکیشن سسٹمز، جیسا کہ  این اے وی آئی سی اور فوجی سیٹلائٹ نیٹ ورکس جیسا کہ   جی ایس اے ٹی-7 اور جی ایس اے ٹی -7 اےکو بڑھا کر زیادہ عملی خودمختاری حاصل کرنی چاہیے۔ تیسرا یہ کہ بھارت کو  کاؤنٹر اسپیس اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتوں کو مزید ترقی دے کر،  اور اپنی ظاہر کردہ اے ایس اے ٹی صلاحیتوں کو ملٹی ڈومین آپریشنل فریم ورک میں شامل کر کے اپنی ڈیٹیرنس (قوتِ مزاحمت) کو بڑھانا چاہیے۔آخر الذکر، خطے کی ایک اہم طاقت کے طور پر، بھارت کو چاہیے کہ وہ سارک اور کولمبو سیکیورٹی کونکلَیو جیسے پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے،خلا کاری کے شعبے میں ذمہ دار رویے کے اصولوں کو بنانے میں بھی فعال کردار ادا کرے۔خطے کےان گروپس کو شفافیت کو فروغ دینے، معلومات کے تبادلے میں آسانی پیدا کرنے اور رکن ممالک کے درمیان اعتماد قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اب جبکہ خلائی ٹیکنالوجیز علاقائی سیکورٹی کے منظرنامے کو از سرِ  نوتشکیل دے رہی ہیں، ایسے اصول قائم کرنا بھارت، پاکستان اور چین کے درمیان ابھرتے ہوئے سیکورٹی سہ رُخی مسائل کے انتظام میں ضروری ہوگا۔ 

***

This article is a translation. Click here to read the article in English.


Image 1: SUPARCO

Image 2: Shehbaz Sharif on X

Share this:  

Related articles

From All-Weather to All-Domain: China-Pakistan Space Cooperation and South Asian Security Defense & Security

From All-Weather to All-Domain: China-Pakistan Space Cooperation and South Asian Security

The “unbreakable and rock-solid” China-Pakistan relationship appears to be extending…

Facing the TTP Drone Threat in Pakistan Defense & Security

Facing the TTP Drone Threat in Pakistan

In recent years, drones have become a common sight in…

Recasting the Trajectory of Pakistan’s Defense Industry Defense & Security

Recasting the Trajectory of Pakistan’s Defense Industry

Pakistan's defense industry, which for decades focused on ensuring indigenous…