RMG_Bangladesh

 علاقائی انضمام کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر متصورہ ساؤتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن(سارک) کو(گذشتہ) سالوں کے دوران اپنے رکن ممالک کے درمیان دو طرفہ کشیدگی کے سبب متحرک رہنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے اور سارک سمٹس (سربراہی اجلاس) مسلسل  التوا کا شکار رہے ہیں۔ یہ تعطل تعاون کے باہمی طورپرمفید شعبوں کی کمی کے باعث نہیں ۔اس کے برعکس، جنوبی ایشیا میں علاقائی رابطہ کاری اکثر روایتی سلامتی کی تشویشات کے سبب محدود رہتی ہے، جس سے مفادات  کے ہم آہنگ ہونے والے شعبوں میں تعاون کے لیے کم  ہی موقع ملتا ہے۔ 

کیئر اکانومی پرسارک  کی حالیہ گفت و شنید علاقائی تعاون کے لیے زرِ مروجہ کی حیثیت رکھنے والےغیر روایتی مسائل کی طرف ایک اہم جھکاؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔اس سال کے اوائل میں منعقدہ اجلاس میں سارک کے رکن ممالک نے کیئر سسٹمز میں تبدیلی کے ایک ایکشن پلان پر اتفاق کیا، جو جنوبی ایشیا میں اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہے، جس کا مقصد خواتین کی محنت کش طبقے میں حصہ داری اور روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔ 

بظاہر یہ روایتی بین الاقوامی تعلقات کے دائرہ کار سے باہر(کا معاملہ)  لگتا ہے، تاہم  یہ تبدیلی اس امر کی عکاس ہے کہ غیر روایتی مشکلات (چیلنجز ) خطے کے استحکام کے لیے اہم تر ہوتی جا رہی ہیں۔ اہم امر یہ ہے کہ یہ سارک میں جینڈر ڈپلومیسی (صنفی سفارتکاری) نامی (عمل کے) ظہور کا بھی عکاس ہے جس میں خواتین کی اقتصادی عطائے اختیار، (لیبر مارکیٹ) بازارِکار میں شمولیت اور امن قائم کرنے میں خواتین کی قیادت کی حمایت میں ممالک کے درمیان تعاون شامل ہے۔ یہاں کیئر اکانومی یا ’ادا شدہ اورغیرادا شدہ محنت اور خدمات جو ہر قسم کی دیکھ بھال (کئیر گیونگ) کی حمایت کرتی ہیں‘، صنفی مساوات کو آگے بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ 

ایک ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا سیاسی طور پر ہمیشہ کی طرح تقسیم شدہ دکھائی دیتاہے، سارک اور اس کے رکن ممالک کا کیئر اکانومی ( دیکھ بھال کی خدمات سے متعلقہ معیشت) پر کام کرنا صنفی مساوات اور سماجی پالیسی کو علاقائیت کے اِحیا کے لیے عملیتی اور قابل عمل آغاز کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ 

جنوبی ایشیا کا مشترکہ بحران: خواتین کی لیبر مارکیٹ میں شمولیت

جنوبی ایشیا میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح  دنیا بھر میں سب سے کم میں سے ایک ہے: ورک فورس (افرادی قوّت) میں کام کرنے کی عمر کی خواتین 30 فیصد سے کچھ ہی زیادہ  شامل ہیں، جبکہ جنوبی ایشیائی مردوں میں یہ تناسب 77 فیصد ہے۔ اہم امریہ ہے کہ یہ شرح دہائیوں سے یکساں رہی ہے، 1990 سے 2025 کے درمیان 30-35 فیصد کے دائرے میں رہی، جو بیشتر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں دیکھی جانے والی شرح سے کہیں کم ہے۔ ساتھ ہی اس خطے کو کام کرنے والی عمرکی اپنی  آبادی کے لیے روزگار پیدا کرنے کی مزید مشکل بھی درپیش ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال 18 سے 20 ملین کام کرنے کی عمر کے جنوبی ایشیائی افراد لیبر مارکیٹ میں شامل ہوتے ہیں، جن میں سے کئی خواتین ہیں، مگر صرف ایک تہائی سے نصف تک  ہی روزگار حاصل کرپائیں گے۔ 

اس مسئلے کو حل کرنے میں حائل ایک اہم ساختی رکاوٹ غیر ادا شُدہ دیکھ بھال کی خدمات (کئیر ورک) ہے۔ جنوبی ایشیا بھر میں، بچوں، بوڑھوں اور معذور افراد کی دیکھ بھال کرنے کے ساتھ ساتھ گھریلو کاموں کی ذمہ داریاں بھی زیادہ تر خواتین اور لڑکیوں پر ہوتی ہیں۔ یہ خواتین کے لیے لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے اور شامل رہنے میں ناکامی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ عوامی سہولیات جیسے  دیکھ بھال کی خدمات (کیئر سروسز) اور سپورٹ انفراسٹرکچر، جیسے سڑکیں اور پانی کی بذریعہ پائپ فراہمی، میں توسیع کم آمدنی والے خاندانوں کی مدد کر سکتی ہے، جس سے خواتین کو اقتصادی اور سماجی زندگی میں حصہ لینے کے لیے وقت مل سکتا ہے۔ 

اس پس منظرمیں، جنوبی ایشیا کے کئی ممالک  دیکھ بھال کی خدمات کو نہ صرف نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بلکہ مشمولہ معاشی ترقی کے ذریعہ کے طور پر  بھی تسلیم کرنا شروع کر رہے ہیں۔دیکھ بھال (کی خدمات) میں عوامی سرمایہ کاری تعمیراتی شعبے (کنسٹرکشن) سے بھی زیادہ نوکریاں پیدا کر سکتی ہے اور ساتھ ہی خواتین کے اقتصادی مواقع کو بڑھاسکتی ہے۔ حال ہی میں بنگلہ دیش نے قومی جی ڈی پی میں غیرادا شدہ دیکھ بھال(کی خدمات) کی اہمیت کو تسلیم کیا، اوراپنے پہلے ٹائم یوزسروے میں جانا کہ خواتین ہر سال اپنا 88 فیصد وقت غیرادا شدہ گھریلو اور دیکھ بھال کے کاموں پر صرف کرتی ہیں۔ اسی طرح  2023 کے جی20 سمٹ میں نئی دہلی کے اعلامیے نے خواتین کےاقتصادی عطائے اختیار کے لیے کیئراکانومی میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ اسی طرح، بھارت اور سری لنکا نے قومی دیکھ بھال ( کی خدمات) کی حکمت عملیاں تیار کی ہیں۔نیپال نے دیکھ بھال (کی خدمات) میں سرمایہ کاری کے جواز کو بنانے، قومی اور ذیلی قومی کوریج گیپس کا تخمینہ لگانے، اورملازمتیں پیدا ہونے کے فوائد پیش کرنے کے اقدامات کیے ہیں، جن میں خواتین کو فائدہ پہنچانے والی ملازمتوں کی تعداد بھی شامل ہے اور اس مقصد کے لیے ایک کثیر الشعبہ جاتی ورکنگ گروپ بھی بنایا ہے۔ 

جنوبی ایشیا میں دیکھ بھال کی خدمات اورانفراسٹرکچر کی توسیع محض ملکی مفاد کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ کیئر اکانومی کی قومی حدود سے بالاتر حرکیات ایسی رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں جنہیں علاقائی تعاون کے بغیر مکمل طور پر حل نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً علاقے بھر میں دیکھ بھال (کی خدمات) کی فراہمی کے لیے مالی معاونت قابلِ تکرار ماڈلز کی نشاندہی کرنے اور اقتصاد الحجم ( اکانومیز آف اسکیل)  پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ اسی طرح،  بڑے پیمانے کےموجودہ سماجی تحفظ کے پروگراموں، جیسے پاکستان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بھارت میں انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز کا موازنہ کر کے سبق سیکھے جا سکتے ہیں، جو نتیجتاً اپنی دیکھ بھال کی خدمات کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ 

عنقریب ہونے والا سارک ایکشن پلان آن کیئر ان میں سے بہت سی مشکلات کو حل کرنے کا مقصد رکھتا ہے، (اور) مجموعی طور پر یہ تسلیم کرتا ہے کہ قومی دیکھ بھال کی (خدمات سے متعلقہ)  معیشتوں میں اصلاح کے لیے بے ربط  کوششوں کے بجائے منظم تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ منصوبہ اس تبدیلی کے  پالیسی کے طریقوں کو ہم آہنگ کرنے، دیکھ بھال کی خدمات  اور سماجی تحفظ کے  مختلف ماڈلز سے سیکھنے جیسے عناصر پر زور دیتا ہے جنہیں علاقائی تعاون کے ذریعے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ اس امر کی بھی وکالت کرتا ہے کہ معیاری خدمات کے لیے مشترکہ معیار تیار کیے جائیں، دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے لیے کام کے حالات بہتر کیے جائیں، اور مردوں اور لڑکوں کو شامل کرنے والے مشترکہ رویے کی تبدیلی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔یہ دوہرا طریقہ کار  ایک بین الحکومتی پلیٹ فارم کے طور پر  سارک کی ادارہ جاتی طاقتوں کا بھی مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھاتا ہے، جو بات چیت، پالیسی ہم آہنگی، معیار مقرر کرنے، اور خطے میں زیادہ ہم آہنگی کے ذریعے رکن ممالک کی مدد کر سکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات سارک ممالک کے لیے ایک ایسا ماحول بنانے میں مدد دیتے ہیں جہاں وہ مل کر خواتین کی لیبر فورس میں شرکت بڑھا سکیں۔ 

علاقائیت کی جانب  تدریجی راستہ  

 معمولی ہم آہنگی سے لے کر گہرے اقتصادی انضمام تک، علاقائیت مختلف شکلیں اختیار کر سکتی ہے۔ سارک کی محدودیت کا کچھ حصہ ساؤتھ ایشین فری ٹریڈ ایریا (ایس اے ایف ٹی اے) کےنسبتاً کم استعمال (کی طرح) زیادہ قابل عمل شعبوں میں تعاون کو پہلے مضبوط بنائے بغیر معاشی انضمام کی زیادہ اولوالعزم صورتوں پر زور دینے کی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ایک تدریجی طرزِعمل زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ تعاون تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے جب مفادات ہم آہنگ ہوں، ہم ربطگی کی لاگت کم ہو، سیاسی خطرات قابو میں ہوں اور اجتماعی عمل کے فوائد واضح ہوں۔ کیئر سسٹمز یہ سب شرائط پوری کرتے ہیں۔

خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بڑھانے کی مشترکہ اور اہم مشکل( چیلنج) پرتوجہ مرکوز کرنا سارک کے رکن ممالک کو باہمی تعاون کے لیے کم سیاسی حساسیت والا میدان فراہم کرتا ہے۔ اہم امریہ ہے کہ صنفی مساوات کو بڑھانے کے لیے وزارتوں کی رابطہ کاری سیاسی سطح کے بجائےتکنیکی سطح پر ہونی چاہیے، جس سے سرحد پار گفت و شنید کے لیے رکن ممالک کا انحصار سارک سمٹس (سربراہی اجلاس) اور اُمورِ خارجہ  کی متعلقہ وزارتوں  پر کم ہو جائے گا۔

یہ  سارک  کے اندرچھوٹے یا جغرافیائی سیاسی طور پر کم نمایاں ممالک کو بھی فنی مہارت کے اشتراک اور خواتین کےمعاشی عطائے اختیار پر مختلف ممالک کے درمیان تعلم کو فروغ دے کر علاقائی لائحہ عمل ترتیب دینے کامواقع فراہم کرتا ہے۔مثلاً  نیپال نے حال ہی میں کمیونٹی کی بنیاد پر کیئر سسٹمز کو بہتر بنانے کے لیے کیئر کوآپریٹیوز کا آغاز کیا ہے ۔سارک کے زیادہ با اثر ممالک کے لیے، غیر روایتی مسائل پر بات چیت کا  آغاز  ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ایسی فارورڈ-لُکنگ خارجہ پالیسی اپنا کر جو داخلی اور علاقائی استحکام کے لیے مشمولہ اقتصادی ترقی کے باہمی تعلق کو تسلیم کرتی ہو، اپنی قیادت کا مظاہرہ کریں۔یہ جغرافیائی سیاسی خیر خواہی قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ 

مزید براں، عالمی سانحات اورغیر مستحکم عالمی تجارتی تعلقات کے درمیان، زیادہ مربوط علاقائی بلاکس کی تشکیل سپلائی چین کے خدشات کو متنوع بنانے میں مدد کر سکتی ہے جبکہ مستقبل میں جنوبی ایشیائی ممالک کو مذاکرات کے دوران اپنے مفادات کو ایک گروپ کی صورت میں (پیش کرنے سے) مضبوط اجتماعی موقف فراہم کر سکتی ہے۔ 

تمام آٹھ جنوبی ایشیائی ممالک کو اراکین کے طور پر شمار کرتے ہوئے، سارک ایک ایسا ذریعہ بھی فراہم کرتا ہے جو بمسٹیک (بی آئی ایم ایس ٹی ای سی) اپنے چھوٹے اور زیادہ منتشر گروپنگ کے باعث فراہم نہیں کر سکتا۔ سارک کی ایک ادارے کے طور پر شروعات بہت زیادہ معیاری ہیں، (اور) اس کے بنیادی لائحہ عمل (فریم ورکس) جیسا کہ سارک سوشل چارٹر میں سماجی ترقی، صنفی مساوات اورغربت کم کرنے جیسے مسائل مضبوطی سے شامل ہیں۔بمسٹیک کے علاقائی رابطہ کاری اوراقتصادی ترقی پر زیادہ ارتکاز کے مقابلے میں سارک صنفی سفارت کاری کے ذریعے علاقائیت کاایک زیادہ قدرتی مرکز ہوگا۔ 

اب جبکہ سارک اس نئے نقطہ پر توجہ دے رہا ہے، تو اسے مفید مثالوں کے لیےدیگر خطوں کی طرف بھی دیکھنا چاہیئے۔ آسیان (اے ایس ای اے این) نے 2024 میں اپنا پہلا کیئر ڈیکلیریشن منظور کیا، جو سارک کے کیئر ایکشن پلان جیسا ہے۔ متواتر آسیان چیئرز (صدور) نے باقاعدگی سے اپنی رکن ریاستوں کو اس اعلامیے کے قومی سطح پر تطابق  کی غیر رسمی نگرانی کے لیے طلب کیا، جس سے کیئر اکانومی کو اقتصادی شمولیت کا ایک ذریعہ سمجھنے والے قول وعمل میں واضح تقارب  اُبھرا ہے۔آسیان ملاقاتوں میں خطے میں کیئر ڈیکلریشن  سے متعلقہ خواتین کے زیرِ  قیادت کیئر انٹرپرینیورشپ کی حمایت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی جیسے حل اب دوسرے رکن ممالک میں بھی پھیل چکے ہیں۔

سارک اپنے کام کے لیے آسیان تجربے سے واضح سبق سیکھ سکتی ہے۔ فعال تعاون اعتماد اورادارہ جاتی عادات  پیدا کر سکتا ہے اورمختلف محکموں کے مابین رابطے میں اضافہ کر سکتا ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ گہرے علاقائی انضمام کی بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔ معیاری مطابقت میں اضافہ، حتیٰ کہ تکنیکی شعبوں میں بھی، رکن ممالک کو متعلقہ پائیدار ترقی کے اہداف پر پیش رفت کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور سارک ممالک کے مابین  ورکنگ ڈپلومیسی کے مشترک  انداز کے فروغ میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ درحقیقت، ‘آسیان کا طریقہ‘ بالکل اسی قسم کی سفارتکاری ہے جو عملیت اور ’لگاتار تعامُل کے توسط‘ سے غیررسمی اتفاقِ رائے قائم کرنےکے ذریعے علاقائیت کی ایک عملی صورت پر زور دیتی ہے،  جس کے نتیجے میں اسے ‘نرم  علاقائیت'(سافٹ ریجینلزم) یا ‘کمزور ادارہ جاتی تشکیل’ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ 

 جنوبی ایشیا میں صنفی سفارتکاری بطور عملیت 

جب تک سارک کا منشور( مینڈٹ) اسے ایکشن پلان کی سہولت کاری، نگرانی اور اس کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے، اسے اپنے اراکین کو طلب کرنے کااختیار دیتا ہے، کسی بھی علاقائی بلاک جو کسی سپرانیشنل(قومی حدود سے بالاتر) اختیاریا علاقائی پارلیمنٹ کے بغیر کام کرتا ہے (یورپی یونین جیسی معروف استثنیات)، اس کی کامیابی اس کے اراکین کی جانب سے اس کے نفاذ پر منحصر ہوگی۔ اگرچہ سارک  کو مستقبل میں زیادہ مضبوط اختیارات تفویض کیے جانا ممکن نہیں لگتا،تاہم صنفی سفارت کاری پر یہ تعاون،جو ایک ایسےعملی، ترقی پسند شعبے پر انحصار کرتاہے جو واضح فوائد پہنچاتا ہےاور جہاں سیاسی رکاوٹیں کم ہیں، ظاہر کرتا ہے کہ ایک مختلف قسم کی عملیاتی سفارت کاری، یا ایک نیا ‘سارک انداز’، پہلے ہی جنوبی ایشیا میں کام کر رہا ہے۔ 

***

This article is a translation. Click here to read the article in English.


Image 1: Wikimedia Commons


Image 2: Public Services International via Flickr

 

Posted in:  
Share this: