ستمبر 2026 میں پاکستان نے انٹرنیشنل ایٹومِک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ عنقریب (دستیاب) ہونے والے 1200 میگاواٹ کے نیوکلئیرپاور پلانٹ (این این پی) چشمہ نیوکلئیر پاور پلانٹ-5 (سی ایچ اے ایس این یو پی پی-5) کے لیے ادارے سے متعلقہ حفاظتی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان میں 1993 کے بعد سے چین کا تعمیر کردہ یہ ساتواں اور صلاحیت کے اعتبار سےسب سے بڑا این پی پی ہوگا۔ یہ جوہری توانائی پرایک قابل بھروسہ، کم لاگت اورماحولیاتی طور پر پائیدار بنیادی توانائی کے ذریعے کے طور پر پاکستان کے طویل المدتی اعتماد کو ظاہر کرتا ہے ۔چشمہ نیوکلئیر پاور پلانٹ-5 کے عملی خدمت کے لیے تیار(کمیشن) ہونے سے پاکستان کی جوہری صلاحیت حالیہ 3,530 ایم ڈبلیوای سے بڑھ کر 4,730 ایم ڈبلیو ای ہو جائے گی،تاہم 2005 میں خود کے لیے مقرر کیے گئے 8,800 ایم ڈبلیو ای کے 25 سالہ ہدف کا یہ محض نصف ہے ۔تاہم ابھی بھی طویل سفر باقی ہے:وژن 2050 کے تحت پاکستان کا جوہری توانائی کا اگلا سنگِ میل جوہری توانائی کے 40,000 میگا واٹ الیکٹریکل پیدا کرنا ہے۔
محض بڑے ری ایکٹرز کے ذریعے 35,270 میگاواٹ الیکٹریکل کے اس خلا کو پورا کرنے کے لیے 2030 سے 2050 کے بیس سالوں میں 1,200 میگاواٹ الیکٹریکل کی صلاحیت رکھنے والے تقریباً 30 مزید نیوکلیئر پاور پلانٹس بنانے کی ضرورت ہوگی —تعمیر کی اس رفتار کو بہترین حالات میں بھی برقراررکھنا مشکل ہوگا۔ اسے 2050 کے ہدف تک پہنچانے کے لیے پاکستان کو بڑے ری ایکٹرز کے بجائے چھوٹے ماڈیولرری ایکٹرز(ایس ایم آر) میں سرمایہ کاری پر غور کرنا چاہیے،( کیونکہ) بڑے ری ایکٹرز بنانے اور چلانے میں زیادہ وقت، سرمایہ، زمین اور وسائل استعمال ہوتے ہیں۔ ہر ایس ایم آر تقریباً 300 میگاواٹ الیکٹریکل پیدا کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ صلاحیت کے خلا کو پورا کرنے کے لیے 2030 اور 2050 کے درمیان تقریباً 100 یا زائد ایسے ری ایکٹرز کی ضرورت ہوگی۔ یقیناً یہ ایک بڑی تعداد ہے تاہم 1,200 میگاواٹ الیکٹریکل (کی صلاحیت کے) 30 مزید پلانٹس کے مقابلے میں تعمیر کی ایک زیادہ ممکنہ رفتار بھی ہے۔ ایسی تبدیلی اختیارات کی منتقلی پر پاکستان کےداخلی سیاسی مباحثوں میں سیاسی حمایت حاصل کر سکتی ہے اور پاکستان کو جوہری توانائی پر بین الاقوامی تعاون کو دوبارہ متحرک کرنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔
پاکستان میں جوہری تعاون کا ارتقا
پاکستان جنوبی ایشیا میں جوہری توانائی اپنانے والے پہلے ممالک میں شامل تھا(جس نے)ایٹمز فار پیس پروگرام کے تحت سول جوہری تعاون کو قبول کیا۔ اس نے 1965 میں ایک نیوکلیئر ریسرچ ری ایکٹر قائم کیا اور 1971 میں اپنا پہلا نیوکلیئر پاور پلانٹ قائم کیا، اس کے ابتدائی معاونین میں امریکہ، کینیڈا اور فرانس شامل تھے۔ آج یہ چھ نیوکلئر پاور پلانٹس چلا رہا ہے جن کی مجموعی صلاحیت 3,530 میگا واٹ الیکٹریکل ہے، (جن میں) چین ہرایک کا واحد شراکت دار ہے۔
پاکستان کا مغربی فراہم کنندگان ہٹ کر چین کی طرف بڑھنا ایک منطقی نتیجہ تھا، انتخاب نہیں۔ بھارت کے 1974 کے جوہری تجربے کے نتیجے میں پاکستان کے سِول جوہری تعاون پر پابندیاں لگ گئیں (اور) امریکہ، کینیڈا اور فرانس نے فراہمی (سپلائی) کے تعلقات منقطع کر دیئے۔ ایک دہائی بعد، پاکستان کو چین کی صورت میں ایک نیا ساتھی ملا جب دونوں نے 1989 میں ایک سول جوہری تعاون کےمعاہدے پر دستخط کیے۔اس معاہدے کے نتیجے میں 1993 میں چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ-1 (سی ایچ ایس این یو پی پی-1) کی تعمیر ہوئی۔
چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ-1 کے بعد چشمہ کمپلیکس میں تقریباً 300 میگاواٹ الیکٹریکل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے تین اور ری ایکٹر لگائے گئے، جبکہ چوتھا (سی ایچ ایس این یو پی پی-4) 2016 میں مکمل ہوا۔2013 میں پاکستان نے کراچی میں دو بڑے یونٹس کی بنیاد رکھی جو 2021 اور 2022 میں گرڈ سے منسلک ہوئے اورہرایک نے 1,100 میگاواٹ الیکٹریکل پیدا کیے۔ اس کے بعد 2023 میں پاکستان نے چشمہ میں 1,200 میگاواٹ الیکٹریکل کے پلانٹ (سی ایچ ایس این یو پی پی-5) پر کام شروع کیا، جس کی 2028 تک گرڈ سے منسلک ہونے کی توقع ہے۔
ایس ایم آرز کم سہولت یافتہ علاقوں کے لیے گرڈ سے آزادی بھی فراہم کرتے ہیں اور پاکستان کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک ہی مقام پرموجود توانائی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں، جو پاکستان کی اے آئی خواہشات کے لیے بہت اہم ہوگا۔
جوہری توانائی کا اطلاق
پاکستان کی جوہری توانائی کی صلاحیت بڑھانے کی رفتار تیز کرنے کی دلیل مضبوط ہے۔ پاکستان کی جوہری توانائی کی صلاحیت کومزید بڑھانے سے سستی اور صاف توانائی، صنعت، جدّت اورانفرا اسٹرکچر، اچھی صحت و بہبود اور بھوک کے خاتمے جیسے پاکستان کے قومی اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی سمت پیش رفت ہو گی۔
توانائی کے حفاظتی مباحثےکے تناظرمیں، جوہری(توانائی) درآمدات پر انحصار کو کم، اِخراج میں کمی اور قومی گرڈ کے لیے قابل اعتماد مستقل مقدار( بیس لوڈ) فراہم کرتی ہے۔ اگرچہ چھتوں پر نصب شمسی توانائی کے سسٹمز(رُوف ٹاپ سولر سسٹمز) نے پاکستان کو تیل کی درآمدات میں اربوں روپے بچانے میں مدد دی ہے اور یوکرین اورایران کی جنگوں کے بعد ایندھن کی فراہمی کے جھٹکوں کو سہنےمیں بھی مدد دی ہے، تاہم (رُوف ٹاپ) سولر لینڈ پرنٹ (چھتوں پر نصب شمسی توانائی کے سسٹمز کا احاطہ کیا گیا رقبہ) آن گراؤنڈ سولر پی وی (زمین پر نصب شمسی توانائی کے سسٹمز کا احاطہ کیا گیا رقبہ) سے 18 سے 27 گنا کم ہے، جو کہ پاکستان جیسے گنجان آباد اور زراعت پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے ایک اہم عامل ہے۔ اس ظاہر ہوتا ہے کہ جوہری توانائی اب بھی توانائی کے وسیلےکے طور پر اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جوہری(توانائی) اے آئی اور ڈیٹا سینٹر میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کی پاکستان کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے اورغیر ملکی فراہم کنندگان سے اے آئی کمپیوٹنگ کرایہ پر لینے کے 700–800 ملین امریکی ڈالر کے سالانہ اخراجات کو کم کر سکتی ہے۔ تاہم یہ خواہشات جوہری توانائی کو ایک قابل اعتماد بیس لوڈ (مستقل مقدار فراہم کرنے) کے ذریعے کے طورپراستعمال کرنے کے لیے سرمایہ کاری اور انفرا اسٹرکچرکو تیز کیے بغیر مؤثر طریقے سے پوری نہیں کی جا سکتیں۔
صلاحیت کے خلا کو پُر کرنا: ایس ایم آرز کے حق میں دلیل
سال 2005 میں جوہری توانائی پاکستان کی توانائی کے کُل مجموعے میں 0.8 فیصد تھی، اور2030 تک اس کے 4.12 فیصد تک بڑھ جانے کا اندازہ تھا؛ آج یہ پہلے ہی 8.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ کم از کم شیئر کے سوال پر تو پاکستان نے 2005 کی اپنی توقعات سے یقینی طور پر بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت 2005 میں تقریباً 3600 میگاواٹ الیکٹریکل جوہری توانائی پیدا کر رہا تھا، جو اس وقت اس کی توانائی کے کُل مجموعے کا 2.5 فیصد تھی، جبکہ اس کی موجودہ پیداوار 7,935 میگاواٹ الیکٹریکل ہے، جو اس کی توانائی کے کُل مجموعے کا 2 فیصد ہے۔ بھارت کی جوہری صلاحیت میں 2.2 گنا اضافہ پاکستان کے 7.5 گنا (اضافے) کے مقابلے میں کافی کم ہے، تاہم مطلقاً دیکھا جائے تو پچھلے 20 سالوں میں بھارت کی اضافی ترقی پاکستان کے موجودہ توانائی کےتمام ذرائع کے برابر ہے۔ مستقبل میں بھارت 2047 تک 100 گیگاواٹ الیکٹریکل جوہری توانائی کا خواب دیکھ رہا ہے، جبکہ پاکستان 2050 تک جوہری توانائی سے 40 گیگاواٹ الیکٹریکل حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ تاہم اس مقصد کوپانے کے لیے بہت زیادہ محنت درکار ہوگی۔
سال 2014 سے پاکستان کا جوہری آپریٹر، پاکستان ایٹومک انرجی کمیشن (پی اے ای سی)، ویزن 2050 کے تحت بڑے گیگاواٹ کی صلاحیت والے پلانٹس کی تعمیر کے ذریعے صلاحیت کے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نے 2030 تک پانچ بڑے ری ایکٹرز کا تصور کیا تھا، تاہم اس وقت تک صرف تین فعال ہونے کی توقع ہے۔ یہ صلاحیت کے اہداف اور ان کو پورا کرنے کے طریقوں کا دوبارہ جائزہ لینے کو اور بھی زیادہ اہم بنا دیتا ہے—اور ایس ایم آر تعاون کو ایک زیادہ پرکشش امکان بنا دیتا ہے۔
گو کہ بڑا ری ایکٹر زیادہ ثابت شُدہ ٹیکنالوجی سمجھا جاتاہے، تاہم وہ سرمایہ، وقت، اور زمین کے لحاظ سے اتنی ہی بڑی ذمہ داری ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، بڑے پلانٹس خواہ کتنے ہی موثرہوں، پاکستان کی قومی گرڈ کے دیرینہ مسائل کے سبب مشکلات کا سامنا کرتے رہیں گے۔ پاکستان کا نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) سے اِخراج بین الاقوامی مالی معاونت تک رسائی کو بھی مشکل بنا دیتا ہے۔ دوسری جانب ایس ایم آرز فی یونٹ کم لاگت اور تعمیر کے لیے کم وقت (کا فائدہ) بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ ایک منفرد نوعیت کے ایس ایم آر کی موجودہ قیمت کسی بڑے ری ایکٹر کے معروف ڈیزائن سے زیادہ ہے، تاہم ایس ایم آر ڈیزائنز کی تجارتی پیمانے پر تیاری سے قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے۔ ایس ایم آرز کم سہولت یافتہ علاقوں کے لیے گرڈ سے آزادی بھی فراہم کرتے ہیں اور پاکستان کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک ہی مقام پرموجود توانائی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں، جو پاکستان کی اے آئی خواہشات کے لیے بہت اہم ہوگا۔ مجموعی طور پر، یہ مختلف دلیلیں توانائی کے مختلف ذرائع کے ایک مجموعےکے حق میں دلیل کو مضبوط کرتی ہیں۔

پاکستان کا جوہری ادارہ ایس ایم آرز کے مستقبل کے بارے میں محتاط اندازمیں پرامید دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً پی اے ای سی، آئی اے ای اے کے ایس ایم آرز پر ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کا رکن ہے اور اس نے ایجنسی میں خاص طور پر ایس ایم آرز اور جدید ری ایکٹرز پر سات بلا قیمت ماہرین تعینات کیے ہیں۔ تاہم بظاہر یہ ایس ایم آر کی ترقی کی تیاری کرنا لگتا ہے، پی اے ای سی اقتصادی مسابقت، اپنی طرز کے پہلے انجینئرنگ خدشات،اور ناقص لائسنسنگ کے طریقوں جیسی ممکنہ غیر یقینی صورتحال سے بھی آگاہ ہے۔ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (پی این آر اے) کو بھی یہی تشویش ہے، کیونکہ اسے مستقبل قریب میں پاکستان میں ایس ایم آرز لگانے کی توقع نہیں ؛ تاہم اس نے ملک کو ایس ایم آرز کی حتمی لائسنسنگ کے لیے تیار کرنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے۔ جوہری ادارہ ایس ایم آرز کی بنیادیں فوری طور کے بجائے 50-2030 منصوبے کے مطابق قائم کر رہا ہے۔
بین الاقوامی تعاون کے امکانات؟
گوکہ چین تقریباً یقینی طور پر پاکستان کا بنیادی جوہری توانائی کا شریک کار رہے گا، ایس ایم آرز امریکہ اور روس کو پاکستانی جوہری توانائی کے شعبے میں کم خطرے اور کم لاگت کے ساتھ داخل ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ چینی، امریکی اور روسی ایس ایم آر ڈیزائنز کےآئندہ پانچ سالوں میں نافذ ہونے کی توقع کے ساتھ، پاکستان کا نیوکلیئر انرجی وژن 2050 صنعت کے ان سرکردگان کے لیے ایک مارکیٹ کھول سکتا ہے۔
امریکہ کے لیے ڈاکٹراے کیو خان کی (جوہری ہتھیاروں کے) پھیلاؤ کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کے ساتھ جوہری تعاون ناقابلِ عمل رہا ہے۔خان کے نیٹ ورک کے دریافت ہونے کے بعد کی دہائیوں میں پاکستان نے بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق تزویراتی برآمدی کنٹرولز نافذ کیے ہیں، اوراس کا ٹریک ریکارڈ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرلز، امریکہ کی قیادت، اور این ٹی آئی کے نیوکلیئر سیکیورٹی انڈیکس جیسے بین الاقوامی جائزوں کی طرف سے شناسائی حاصل کر چکا ہے۔ علاوہ ازیں اس کا پورا سول پروگرام آئی اے ای اے کے تحفظات کے تحت رہتا ہے اور پاکستان کے سول اور فوجی جوہری ایندھن کے سائیکلز میں کوئی چڑھاؤ نہیں ہوتا۔
امریکی کمپنیوں کے لیے ایس ایم آر کی کم صلاحیت، کم لاگت اور پھیلاؤ کے خلاف مزاحمت کچھ ترغیبات فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ اس ممکنہ مارکیٹ کو کھوجیں جو دہائیوں سے صرف چین کے لیے دستیاب رہی ہے۔ جیسے جیسے امریکہ انڈو-پیسیفک کے ممالک پر توجہ دیتے ہوئے ایس ایم آرز پر تعاون بڑھاتا ہے، پاکستان کے ساتھ فاؤنڈیشنل انفرا اسٹرکچر فار رسپونسیبل یوز آف سمول ماڈیولر ری ایکٹر ٹیکنالوجی (ایف آئی آر ایس ٹی) کے تحت تعاون کے امکانات کھوجنے کے قابل ہو سکتا ہے۔
ایس ایم آر کے اُبھرتے ہوئے منظرنامے میں روس ایک اور اہم کھلاڑی ہے۔ جوہری توانائی میں مہارت رکھنے والی روس کی ریاستی کمپنی روس ایٹم نے ازبکستان، کرغزستان اور افریقہ کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔ حالیہ خبریں روس کے روس ایٹم اور پی اے ای سی کے مابین تعاون کی تیاریوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ گو کہ ایس ایم آرز اس وقت روس کی پاکستان کے ساتھ حالیہ بات چیت کا حصہ نہیں ہیں، تاہم یہ ماسکو کے عالمی مارکیٹ کا 20 فیصد حصہ حاصل کرنے کے مقصد کا حصہ ہیں اور آخرکار یہ پاکستان کے لیے دستیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ جوہری منصوبوں کے لیے 90 فیصد تک کی مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
چینی، امریکی اور روسی ایس ایم آر ڈیزائنز کےآئندہ پانچ سالوں میں نافذ ہونے کی توقع کے ساتھ، پاکستان کا نیوکلیئر انرجی وژن 2050 صنعت کے ان سرکردگان کے لیے ایک مارکیٹ کھول سکتا ہے۔
ایس ایم آرز اور داخلی حکمرانی پر مباحثے
اگرخدمات کی فراہمی اورحکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان میں صوبوں کی ازسرِنوتشکیل کے بارے میں حالیہ بحث حقیقت میں ڈھل جائے، تو یہ دراصل پاکستان بھر میں ایس ایم آرز کو اپنانے کی رفتار کو تیز کر سکتا ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخواہ کی حکومت پہلے ہی بجلی کی قابل اعتماد سپلائی یقینی بنانے اور وسائل پر اپنے آئینی حقوق کےتحفظ کے لیے اپنے گرڈ اور ٹرانسمیشن سسٹم پرسوچ بچار کر رہی ہے۔مقامی سروس کے خلا کو پورا کرنے کے لیے 2023 میں وفاقی حکومت کی جانب سے علاقے کے لیے پشاور سے الگ ایک علیحدہ بجلی تقسیم کرنے والا ادارہ بنانے کی ایک مثال بھی موجود ہے۔کسی بھی نئے صوبے کو یہ مسئلہ وراثت میں ملے گا اور اس لیے ان کے لیے اپنی گرڈ اور ٹرانسمیشن لائنیں بنانے کی زیادہ ترغیب ہوگی۔
موجودہ نظام میں کم سہولت یافتہ صوبہ یا ایسا (صوبہ) جو وصول کردہ وسائل سے زیادہ قومی گرڈ کو دیتا ہو اس کے لیےایسی ترغیبات زیادہ ہوں گی۔ ٹرانسمیشن اتھارٹی کے ساتھ ساتھ ایک ہی جگہ پر واقع قومی گرڈ سے آزاد بجلی کے ذرائع جیسے کہ ایس ایم آرز، سولر، اور بیٹری اسٹوریج، کسی نئے صوبے کے مذاکراتی ایجنڈے پر ہو سکتے ہیں۔ چھوٹے ری ایکٹرز ماڈیولر انداز میں تیار کیے جا سکتے ہیں اور کم ترقیاتی لاگت اور چھوٹے لینڈ فُٹ پرنٹ کے ساتھ کم سہولت یافتہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر لگائے جا سکتے ہیں، اور وہی ماحولیاتی اور بیس لوڈ فوائد فراہم کر سکتے ہیں جوجوہری توانائی کو پر کشش بنانے کا سبب ہیں۔
لیکن یہ سب کچھ پانا آسان نہیں ہوگا۔ ماضی کی طرح صوبائی ترتیبِ نو رک سکتی ہے، تاہم کم سہولت یافتہ علاقوں کے لیے گرڈ خودمختاری اور غیر مرکزی توانائی کی صلاحیت کی اہمیت برقرار رہے گی۔ اس انتظام کے باعث وفاقی حکومت کو بھی وسائل بچانے اور مقامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ایک اور غیر یقینی امر یہ ہے کہ آیا ایس ایم آر ٹیکنالوجی 2030 کی دہائی کے اوائل میں اپنی وکالت کرنے والوں کی توقعات کے مطابق تیار ہو گی یا نہیں۔سب سے بڑھ کر، چین شاید بس واحد سپلائر ہی رہ جائے جو پاکستان میں نیوکلیئر پاور پلانٹس بنانے کے لیے تیار ہو۔ تاہم وقت مناسب ہے، اور توانائی کے چیلنج اتنے واضح ہیں کہ پاکستان میں بین الاقوامی سول نیوکلیئر تعاون دہائیوں تک مشترکہ اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی مقاصد کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
***
This article is a translation. Click here to read the article in English.
Image 1: Bloomsbury Intelligence and Security Institute via rawpixel.com
Image 2: Stefan Kühn via Wikimedia Commons