images

انتھروپک کی حالیہ رپورٹ،’’ڈیٹیکٹنگ اینڈ کاؤنٹرنگ مِس یوز آف اے آئی: ستمبر 2026‘‘ ظاہر کرتی ہے کہ اے آئی کا غلط استعمال محض ڈیپ فیکس اور پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے تک ہی محدود  نہیں، بلکہ یہ ہتھیار بنانے کی کوششوں، نگرانی اور(ٹارگٹ) ہدف کی نشاندہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔اے آئی  ماڈلز کوڈ لکھنے میں لگنے والا وقت، مہارت اور انسانی محنت کو نہ صرف  کم کرتے ہیں، بلکہ تکنیکی خامیوں کی نشاندہی اور حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اوربکھری ہوئی معلومات کو  بہدف تجاویز(ٹارگٹنگ ریکمنڈیشنز) میں ڈھال سکتے ہیں۔ 

پاکستان کے سیاق و سباق میں، یہ خطرہ خاص طورپرسنگین ہے کیونکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اوردیگردہشت گرد گروہ پہلے ہی اے آئی کو پروپیگنڈا کے لیے استعمال کر رہے ہیں، ان کے مقامی انٹیلی جنس نیٹ ورکس ہیں، اور وہ افغانستان میں آپریشنل (عملیاتی) اور لاجسٹک سپورٹ (انتظامی معاونت) سے مستفید ہوتے ہوئے سکیورٹی فورسز پر ڈرونز کے ذریعے حملے کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، افغان طالبان نے سرحد پار حملے کرنے کی اہلیت بھی ظاہر کی ہے۔ پاکستان میں تشویش یہ ہے کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے ماڈلز دہشت گرد تنظیموں کی جارحانہ صلاحیتوں اور ہدف کے انتخاب کو بہتر بنا کر خطرے کو بڑھانے کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ابھرتے ہوئے ان  خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو عملے، ڈیٹا، اجزا، مالیات، اور ایسی ٹیسٹنگ سہولیات جومادی نقصان پہنچانے میں ڈیجیٹل مدد فراہم کر سکتی ہیں، کی نگرانی اور دشمن عناصر کے ان کے استعمال میں رُکاوٹ ڈالنے کے لیےایک حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔

ہتھیاروں کی انجینئرنگ سے لے کر ہدف کی معاونت تک 

اپنی ستمبر کی رپورٹ میں، انتھروپک اے آئی  نے انکشاف کیا کہ  حوثیوں کے زیرِاختیارشمالی یمن کے علاقے سے کام کرنے والے ایک ہتھیار تیار کرنے والے ادارے نے گائڈڈ ویپنز(رہنمائی کرنے والے ہتھیاروں) کے تین  منصوبوں پر کلاڈ کوڈ استعمال کیا۔ ان منصوبوں میں موبائل فلائٹ کمپیوٹر کے ذریعے استعمال ہونے والا ایک گائڈڈ راکٹ، 2,000 کلومیٹر سے زیادہ متعین شدہ رینج کا حامل ایک کثیر المرحلہ بالیسٹک میزائل، اور ایک ہائپرسونک گلائیڈ وِہیکل  کی حامل میزائل فیملی، شامل تھے۔ 

گو کہ انتھروپِک کو عناصر کا ہتھیار تیار کرنے میں کامیابی کا کوئی ثبوت نہیں مِلا، تاہم یہ پیش رفت ایک پریشان کن رجحان کو ظاہر کرتی ہیں۔اطلاعات کے مطابق اُس نے پسِ پردہ رہتے ہوئےتحقیق کرنے، سافٹ ویئر لکھنے، اور کوڈ کا جائزہ لینے کے لیے کلاڈ  کے مختلف اکاؤنٹس استعمال کیے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ اگرچہ کئی کوششوں  کوروک لیا گیا تھا تاہم  کچھ درخواستیں اس لیے کامیاب ہوئیں کیونکہ فعل کوکئی سیشنز میں تقسیم اورعام غیر متعلقہ تکنیکی کاموں کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ جب تک انتھروپک نے ان کے اکاؤنٹس بند کیے، استعمال کنندہ پہلے ہی ایک آف لائن سیمولیشن ٹول کٹ تیار کر چکے تھے۔ 

یہ رپورٹ ایران نیکسِس (ایران سے منسلک) عناصرکے انٹیلی جنس جمع کرنے اور ہدف کے انتخاب میں مددگار اے آئی ماڈلز کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔ ایک آپریشن میں، ایران سے منسلک عناصرنے اسرائیلی اور منتشر یہودی افراد کے خودکار پروفائلز تیار کرنے کے لیے ایک اے آئی ماڈل استعمال کیا،جبکہ دوسرے آپریشن میں انہوں نے مشرق وسطی میں امریکی بحری افواج کے خلاف بہدف سفارشات کی تیاری کے لیے (اے آئی) ماڈل کا استعمال کر کے اعلانیہ  دستیاب بحری اور تصویری ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ 
یمن کے معاملے کے برعکس، یہاں اے آئی ماڈل کا استعمال بکھری ہوئی معلومات کو منظم بہدف رپورٹس میں جمع کرنے کے لیے کیا گیا۔ 

پاکستان کے لیے ان کی نسبت یہ ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیمیں پہلے ہی مختلف مقاصد کے لیے اے آئی کو اپنا رہی ہیں۔ افغان طالبان نے کابل میں نگرانی کا ایک وسیع نظام نصب کیا ہے، جس میں چہرہ پہچاننے کی صلاحیت رکھنے والے 90,000 کیمرے موجود ہیں۔ یہ کنولوشنل نیورل نیٹ ورک  جیسے اے آئی الگورتھمز پر انحصار کرتے ہیں جو بصری فیڈ کو اسکین کر کے انسانی چہرے کو پس منظر سے الگ کر سکتا ہے۔ ٹی ٹی پی کا شعبۂ پروپیگنڈہ عمرمیڈیا خبرنامے، تراجم اور پروپیگنڈہ کے لیے وائس اوور کرنے جیسے مواد بنانے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے اے آئی کا استعمال کررہا ہے۔اسی دوران  ٹی پی پی اور اس کے شریکِ کار نگرانی اور حملوں کے لیے پہلے ہی ڈرونز استعمال کر رہے ہیں۔ مزید برآں، افغان طالبان نے سرحد پار ڈرون صلاحیت بھی ظاہر کی ہے۔ 

اب تک دونوں عناصر میں سے کسی کا بھی انتھروپِک کے بیان کردہ یمن اور ایران جیسے اے آئی ٹولز  کے استعمال کے متعلق کوئی ثبوت نہیں ہے ۔تاہم یہ مثالیں جنوبی ایشیا میں دھمکی دینے والے فریقین کے جنریٹیو اے آئی ٹولز کے استعمال کے ممکنہ اگلے مرحلے کو ظاہر کرتی ہیں۔ 

پاکستان کے لیے ابھرتے ہوئے خطرات کے دو پہلو

یہ دونوں کیسز اہم راستے دکھاتے ہیں جن کے ذریعے اے آئی دشمنانہ کارروائیوں میں مدد دے سکتا ہے۔ پہلا (راستہ) جارحانہ صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ہتھیاروں کی ترقی کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال ہے، جیسا کہ یمن کے کیس میں کوشش کی گئی تھی۔دوسرا (راستہ) ذہانت کے تجزیے اور ہدف کے انتخاب میں مدد کے لیے اے آئی  کا استعمال  ہے، جو ایک کم لاگت کے فیصلہ ساز معاون نظام کا کردار ادا کرتی ہے۔ 

پہلا راستہ خاص طور پر پاکستان کے لیے اہم ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے ہی دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایس. راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے تجزیے کے مطابق، 2026 کے پہلے نصف میں عسکریت پسندوں نے 100 سے زائد ڈرون حملے کیے، جن کے نتیجے میں 29 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 89 زخمی ہوئے۔ خیبر پختونخواہ (کے پی) پولیس کے ڈیٹا میں بھی یہی منظر دکھائی دیتا ہے: انہوں نے 2026 کے پہلے نصف میں 341 ڈرون حملے ناکام بنائے۔ اگرچہ ناکام حملوں کی زیادہ تعداد اس امر کو اُجاگر کرتی ہے کہ پاکستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی خطرناک صلاحیت ابتدائی نوعیت کی ہے، تاہم حملوں کی کثرت —کے پی میں روزانہ اوسطاً دو حملے—یہ ظاہر کرتی ہے کہ ڈرون وار فئیر  (جنگی کارراوئیاں)  ان دہشت گرد تنظیموں کے لیے بڑھتی ہوئی اہمیت کی حامل ہے۔ 

ڈرون کا خطرہ محض ٹی ٹی پی تک محدود نہیں ہے: جب پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، تو افغان طالبان نے پاکستان میں ڈرونز بھیجے۔ اطلاعات کے مطابق، 27 فروری سے 15 مارچ کے دوران، افغان طالبان نے 15 ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں سے ایک راولپنڈی کے قریبی علاقے تک پہنچا۔ سال کے پہلے نصف میں سرحد پار کے تبادلوں کے بعد سے یہ (حملے) جاری ہیں، جبکہ حال ہی میں یہ حملے اس سال کے جون اور ستمبر میں بھی ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے مطابق افغانستان سے لانچ کیے جانے والے تمام ڈرونز کو  (انٹرسیپٹ) روک لیا گیا، تاہم مارچ میں، کوہاٹ، راولپنڈی، اور کوئٹہ میں چار عام شہری، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، روکے گئے ڈرونز کے گرنے والے ملبے سے زخمی ہوئے۔ 

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان تعلق اس پیش رفت کو مزید تشویش ناک بناتا ہے: جیسا کہ دسمبر 2025 کی اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں اُجاگرکیا گیا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کواہم آپریشنل(عملیاتی) اورلاجسٹک سپورٹ (انتظامی معاونت) فراہم کر رہے ہیں۔ اس قسم کی معاونت انہیں ڈرون سسٹمز کو جانچنے اور موزوں بنانےکے لیے درکار علاقے اورلاجسٹک نیٹ ورکس تک رسائی فراہم کر سکتی ہے۔ 

ٹی ٹی پی کی حالیہ ڈرون مہم اور افغان طالبان کی سرحد پار ڈرون صلاحیتیں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تکنیکی بہتری کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہیں۔ یمن کامعاملہ یہ اُجاگر کرتا ہے کہ اسےعملی طور پر کیسے اختیار کیا جاسکتا ہے: اطلاعات کے مطابق کلاڈ کو گائیڈنس،  نیویگیشن، اور نیویگیشن سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا تاکہ اُڑان بھرنے والے (ڈرون) کو قابو میں اور متوازن رکھا جا سکے، اور ساتھ ہی سیمولیشن اور فیلیئر (ناکامی کے) تجزیے کی معاونت بھی کی جا سکے۔ اسی طرح، ٹی پی پی اور افغان طالبان اسے اپنے کمرشل آف دی شیلف ڈرونز (سی اوٹی ایس) کی متوازن (پرواز)، قابو (کنٹرول) اوراعتبار کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ مثلاً  کمرشل ڈی جے آئی کوڈکوپٹرز، بالخصوص میٹریس سیریز کے ڈرونز، ٹی ٹی پی اور ساتھی تنظیموں کی جانب سے خیبرپختونخواہ میں مختلف حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ 
اے آئی کوڈنگ کی معاونت سافٹ ویئر کی تیاری، جانچ اور خامیوں کو دُورکرنے کا وقت کم کر سکتی ہے۔ اگرچہ کمرشل ڈرونز کی اے آئی کے بغیر  بھی اصلاح کی  جا سکتی ہے اور کی بھی جا رہی ہے،تاہم ان سسٹمز کی اضافی قدر اس عمل کو تیز کرنے اور ماہرین کی مہارت کی ضرورت کو کم کرنے میں ہوگی۔ 

صرف اے آئی ماڈلز تک رسائی ہونا ہی ایک عملیاتی نظام تیار نہیں کرپاتا۔ دہشت گرد گروہوں کو پھر بھی انفرااسٹرکچر، ماہر افرادی قوّت، ٹیسٹنگ (جانچ) کی سہولیات، اور دیگر اجزا درکار ہوں گے۔ ان میں سے کئی  اجزا پہلے ہی مارکیٹ میں دستیاب ڈرونز میں موجود ہیں، جیسا کہ  زرعی ڈرونز(جو بغیر پائلٹ  اُڑان بھرتے ہیں، فصلوں کی نگرانی، بلندی سے ڈیٹا جمع کرنے اور کھیتوں سے متعلقہ جسمانی کاموں کو انجام دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں)، جن میں فلائٹ کنٹرولرز، نیویگیشن سسٹمز، کیمرے، موٹرز، اور بیٹریاں شامل ہیں۔ اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کے پاس پہلے ہی ایک پناہ گاہ ہے جو دونوں عناصرکو جمع کرنے اور بار بار تجربات کرنے کی جگہ فراہم کرتی ہے۔ 

حملے کی صلاحیت میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ  دوسرا راستہ اے آئی کو انٹیلی جنس کی طاقت بڑھانے والے کے طور پر استعمال کرنے کا ہے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ دہشت گرد گروہ اے آئی ماڈل کو ایک کم لاگت فیصلہ ساز سپورٹ سسٹم کے طور پر استعمال کر کے بکھری ہوئی عوامی اور مقامی دستیاب معلومات کو ہدف بنانے والے پروفائلز، تعلقات، نقشے، جائزے اور ممکنہ اہداف کے خلاصوں میں ترتیب دے سکتے ہیں۔یہ خطرہ پیش کرنے والے عناصر کو اپنے حملوں کی رفتار بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا۔ ممکن ہے کہ ایک چھوٹا دہشت گرد گروہ اے آئی ماڈلز کا استعمال کر کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا پروفائل بنا سکے، ان کے خاندانوں کی شناخت کر سکے، عملہ، چیک پوائنٹس یا قافلوں کو تیز حملوں کے لیے منتخب کر سکے۔ 

مجموعی طور پر، استعمال کے یہ نئے پہلو پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں اور افغان طالبان سے درپیش خطرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ 

پاکستان کا ردِ عمل کیا ہونا چاہیئے

پاکستان اس ناگزیرخطرے سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کر سکتا ہے۔ پہلا یہ ہے کہ ایک اے آئی-دہشت گردی کی حکمت عملی تیار کی جائے جو انسداد دہشت گردی، سائبر انٹیلی جنس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی پالیسی کو باہم ملاتی ہو۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی (این اے سی ٹی اے)، صوبائی انسدادِ دہشت گردی کے محکمے، سائبر اتھارٹیز، اور فوجی تکنیکی یونٹس کو مل کر بازیاب شدہ ڈرونز اور ڈیجیٹل آلات کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں اور ارتقا کو سمجھا جا سکے۔

آیا نیکٹا ایسی حکمت عملی کی قیادت کر سکتا ہے یا کرے گا، ایک سنجیدہ سوال ہے۔اگرچہ نیکٹا کا بنیادی مقصد، جیسا کہ اس کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے، پاکستان میں دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی کوششوں کی قیادت، ہم آہنگی اور ہم وقت کرنا ہے، تاہم اسے نمایاں ساختی اور عملیاتی مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث یہ اپنے بنیادی مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔حاض سروس میجر جنرل فیصل نصیر کے آئی ایس آئی کے داخلی ونگ، جو ملکی سیکیورٹی سے نمٹتا ہے، کی قیادت کرنے کےتجربے کے سبب میجر جنرل کی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے نیکٹا میں حالیہ  منتقلی، ایجنسی کو زیادہ فعال کردار میں لے جا سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ وہ بڑی اے آئی کمپنیوں کے ساتھ ایک خفیہ تھریٹ ارینجمنٹ (خطرے کا انتظام) اور تھریٹ شیئرنگ ارینجمنٹ (خطرے کا تقسیمی انتظام)  بنائے تاکہ نامزد شُدہ دہشت گرد تنظیموں سے منسلک اعتماد بخشنے والے ہتھیاروں کی تیاری یا نگرانی کی سرگرمی کا فوری سدِّ باب، تفتیش اور رپورٹ کی جا سکے۔ مثلاً 2025 میں دستخط شُدہ  یوکے-اوپن اے آئی کا معاہدہ، اے آئی کی صلاحیتوں اور سیکیورٹی خطرات سے متعلق  تکنیکی معلومات کے تبادلے کے لئے ایک فریم ورک (نظامِ کار) قائم کرتا ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ براہِ راست اے آئی سے متعلقہ دہشت گردی کے خطرات سے وابستہ نہیں تاہم یہ ایک ایسی مثال فراہم کرتا ہے جس سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ 

علاوہ ازیں، چونکہ پاکستان کے پاس پہلے سے ہی امریکہ کے ساتھ تعاون برائے  انسدادِ  دہشت گردی کے طریقہ کار موجود ہیں—جیسا کہ دو طرفہ کاؤنٹر ٹیررزم ڈائیلاگ، جو آخر میں اگست 2026 میں واشنگٹن میں ہوا—یہ اے آئی سے متعلقہ خطرات کے حوالے سے اس تعاون کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ مثلاً  یہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)–ایف بی آئی کے الرٹ ریفرلز کو مضبوط بناسکتا ہے، اے آئی کے ذریعے ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی معلومات کا تبادلہ کرسکتا ہے، اور ڈیجیٹل شواہد کی تصدیق اور حفاظت پر مشترکہ تربیت کر سکتا ہے۔ 

قانون نافذ کرنے والے اداروں، بالخصوص پولیس کی تربیت، اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اگر دہشت گرد اپنی کارروائیوں میں اے آئی کواستعمال کر سکتے ہیں، تو پولیس کے پاس بھی انہیں مات دینے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔پولیس کو اے آئی سے متعلقہ تکنیکوں میں بہتر تربیت دینے کے لیے خاص کورسز شروع کیے جا سکتے ہیں۔  اس مقصد کے لیے، فیڈرل حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ نیشنل پولیس اکیڈمی اور مڈ-کیریئر مینجمنٹ کورسز کے بنیادی نصاب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)  اور ڈیجیٹل پولیسنگ کو شامل کرنے کی سفارش کرے گی۔ اسی دوران، خیبر پختونخواہ میں ڈرون حملوں سے سب سے زیادہ متاثرہ پولیس ڈیپارٹمنٹ نے پہلے ہی پولیس اسکول آف انفارمیشن ٹیکنالوجی قائم کردیا ہے۔ مزید براں،  یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگز اینڈ کرائم (یو این او ڈی سی) مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے تاکہ تربیتی مراکز کو بہتر بنایا جا سکے اور معیاری کمپیوٹر پر مبنی ای لرننگ پروگرامز فراہم کیے جاسکیں۔ ان اقدامات کو بنیاد بنا کر بین الاقوامی، قومی، اور صوبائی سطح پر بنیادی علم فراہم کیا جا سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے عملے کو جدید اے آئی سے متعلقہ تحقیقی اور تجزیاتی طریقوں کی تربیت دی جا سکتی ہے۔

خطرہ پیش کرنے والے عناصرکے انفرادی اکاؤنٹس کو بند کرنا ایک اور اختیار (آپشن)ہے، لیکن یمن کے کیس نے ظاہر کیا کہ محض  یہ کافی نہیں: جب تک انتھروپِک اے آئی نے ان کے اکاؤنٹس بند کیے، تب تک وہ پہلے ہی ایک آف لائن انجینئرنگ ٹول ڈاؤن لوڈ کر چکے تھے۔ اس لیے پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ سیکھنے کے (اس)  نظام کے مکمل سلسلے پر توجہ دے، جس میں تکنیکی عملہ، اجزا، مالی معاونت، کمپیوٹر تک رسائی، جانچ کے مقامات، اور مختلف نیٹ ورکس کے درمیان ڈیجیٹل فائلوں کی منتقلی شامل ہیں۔ 

پاکستان بین الاقوامی قانونی راستہ بھی اپنا سکتا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی بار افغانستان سے اُبھرنے والے دہشت گردی کے مسئلے کو اٹھایا ہے۔ ٹی ٹی پی پہلے ہی اقوام متحدہ کے داعش (آئی ایس آئی ایل) اورالقاعدہ کی پابندیوں کے دائرے میں شامل ہے، جو مخصوص تنظیموں کو ہتھیاروں کے علاوہ  تکنیکی مشورے، معاونت اور عسکری سرگرمیوں سے متعلقہ تربیت فراہم کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو واضح کرنا چاہیے کہ دہشت گرد تنظیموں کو ارادتاً   اے آئی سے تیار کردہ ہتھیاروں کی انجینئرنگ، خصوصی کوڈ، یا ڈیجیٹل سیمولیشن سپورٹ فراہم کرنے کو ممنوع  تکنیکی معاونت قرار دیا جا سکتا ہے۔ 

حاصلِ بحث یہ کہ  اے آئی لاموجود سے دہشت گردانہ صلاحیتیں نہیں بناتا، تاہم یہ موجودہ کارروائیوں کو تیز تر،سستا اور زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔ یمن اور ایران کے معاملے اس امرکو اُجاگر کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان ممکنہ طور پر کس طرح اے آئی کو ہتھیاروں کی بہتری اور اے آئی  کی معاونت کے ذریعے ٹارگیٹنگ (ہدف بندی) میں استعمال کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس انضمام کے فعال ہونے اور موجودہ شدید مشکلات کو مزید ابترکرنے سے پہلے کارروائی ضرور کرلینی چاہیئے۔ 

***


This article is a translation. Click here to read the article in English.

Image 1: Defense Visual Information Distribution Service via Picyrl


Image 2: Ricardo Gomez Angel via Wikimedia Commons


 

Share this:  

Related articles

भारत-चीन संबंधों का पुनर्मूल्यांकन: कूटनीति को सीमित करते संरचनात्मक मतभेद   Hindi & Urdu

भारत-चीन संबंधों का पुनर्मूल्यांकन: कूटनीति को सीमित करते संरचनात्मक मतभेद  

सितंबर 2026 में ब्रिक्स शिखर सम्मेलन में भाग लेने हेतु…

پاکستان میں جوہری توانائی: وژن 2050 کی مسافرت Hindi & Urdu

پاکستان میں جوہری توانائی: وژن 2050 کی مسافرت

ستمبر 2026 میں  پاکستان نے انٹرنیشنل ایٹومِک انرجی ایجنسی (آئی…

फ्रांस एवं जर्मनी से परे यूरोप के साथ भारत का संबंधों में सुधार Hindi & Urdu

फ्रांस एवं जर्मनी से परे यूरोप के साथ भारत का संबंधों में सुधार

2021 में, विदेश मंत्री एस. जयशंकर ने इस तथ्य पर…