جون 2025 میں امریکہ کے محکمہ جنگ نے اعلان کیا کہ قومی سلامتی کے اہداف کے حصول کے لیے ایشیا پیسیفک ( ایشیا-بحر الکاہل کے علاقے) میں (تعینات) امریکہ کی افواج کے انضمام کے لیے 1947 میں قائم کی گئی جغرافیائی متحارب کمانڈ کا نام انڈو-پیسیفک کمانڈ (انڈو پےکام) سے بدل کرواپس اس کے اصلی نام پیسیفک کمانڈ (پےکام) پرکردیا ہے۔ نام کی اس تبدیلی کو بھارتی تزویراتی حلقے کے بہت سے لوگوں نے امریکہ کی پالیسی برائے جنوبی ایشیا میں اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا، جس میں واشنگٹن ممکنہ طور پر بحرِ ہند کے ذیلی میدان سے پیچھے ہٹ سکتا ہے اوربھارت کو خطے کےانتظام کے لیے تنہا چھوڑ سکتا ہے۔ تاہم نام کی تبدیلی سے یہ سمجھنا کہ امریکہ مکمل طور پر انڈین اوشین ریجن سے پیچھے ہٹ رہا ہے، درست نہیں۔اس کے بجائے، یہ امریکہ اور بھارت کے لیے اُبھرتے ہوئے چین سے نمٹتے ہوئے، بالخصوص عملی تیاری کے حوالے سے اس خطے میں زیادہ مخصوص تعاون کرنے کا موقع ہو سکتا ہے۔
غیر ہم آہنگ مقاصد
امریکہ نے باضابطہ طورپرپیسیفک (بحر الکاہل) اورانڈین اوشینز(بحرِ ہند) کے درمیان باہمی تعلق کو تسلیم کرتے ہوئے 2018 میں پے کام کا نام تبدیل کر کے انڈو پے کام رکھ دیا تاکہ امریکہ کی مغرب کی طرف دوبارہ توجہ ظاہر کی جا سکے۔ یہ باہمی رابطہ ادارہ جاتی ارتباط، مشترکہ اور متحدہ مشقوں، اور اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ باقاعدہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے ذریعے دکھایا گیا تاکہ باہمی عملیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ مزید براں، نام کی اس تبدیلی کا آغاز اُبھرتے ہوئے چین سے نمٹنے کے لیے اوربیجنگ کے خلاف توازن قائم کرنے کے لیے امریکہ کے منصوبوں میں بھارت کو مرکزی حیثیت دینے کےلیے کیا گیا تاکہ نئی دہلی کو ممکنہ فصیل کے طورپرمضبوط کیا جا سکے۔
نئی دہلی اور واشنگٹن کے سیاسی وفوجی مقاصد، طریقۂ کار اور رابطہ کاری کے انداز مختلف ہونے کے سبب انڈو پے کام کا نام تبدیل کرنے کے اہم مقاصد پورے نہیں ہو سکے۔
تاہم متفقہ کوششوں کے باوجود بحرہند اور بحرالکاہل (کے علاقے) انڈو پے کام کے دور میں ایک متحدہ عملیاتی ادارے کے طور پر نہ اُبھر سکے۔ یہ ‘چین کے خطرے’ کو امریکہ اور بھارت کی تزویراتی اورعملیاتی ( آپریشنل) سطح پر مختلف انداز میں دیکھنے کے باعث تھا۔ مثلاً واشنگٹن نے بحرِ ہنداور بحرِ الکاہل کوچین کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہی خطہ کے طور پر تصور کیا تھا، جس میں سلسلۂ الجزائرالاولیٰ (فرسٹ ایلنڈ چین) پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ اسے مزید چینی دخل اندازی سے بچایا جا سکے، اور یہ سمجھا گیا کہ مستقبل میں تائیوان یا جنوبی چین کے سمندر کے کسی ہنگامی معاملے میں نئی دہلی سے کم از کم کچھ رسد و ترسیل (لاجسٹیکل) یا عملیاتی امداد ممکن ہو گی۔ اسے فعال صورت دینےکے لیے واشنگٹن نے بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون اور باہمی ہم آہنگی کو آگے بڑھانے پررضا مندی ظاہر کی (اور) ساتھ ہی اسے چین کے ساتھ برِاعظمی سرحد کے انتظام میں مستقل مدد کی پیشکش کی۔ تاہم بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان موجود فوجی عدم موزونیت کے باعث کسی براہ راست فوجی تصادم کے دوران چین کے خلاف امریکہ کے ساتھ بھارت کے شامل ہونے پر رضامندی کا بہت کم امکان ہے۔ مثلاً بھارتی بحریہ کا مسلسل یہ موقف ہے کہ تائیوان اس کے بنیادی دائرۂ کار سے باہر ہے، جبکہ آئی او آراس کا بنیادی مرکزِ توجہ ہے، اور نئی دہلی اعلانیہ چین کا مقابلہ نہ کرنے کے لیے ایسے اقدامات کرتا ہے جنہیں کئی تجزیہ کار انڈو- پیسیفک میں محدود سخت توازن (لیمیٹڈ ہارڈ بیلنسنگ) کہتے ہیں۔
نئی دہلی اور واشنگٹن کے سیاسی وفوجی مقاصد، طریقۂ کاراور رابطہ کاری کے انداز مختلف ہونے کے سبب انڈو پے کام کا نام تبدیل کرنے کے اہم مقاصد پورے نہیں ہو سکے ۔ تاہم نام کی تبدیلی ممکنہ طور پردونوں جانبین کی توقعات کو ترتیبِ نو دینے اور بحرِہند میں خطرے کی اپنی تشخیصات پرعملیاتی بات چیت کرنے کا موقع دیتی ہے اور یہ کہ وہ انہیں کس طورمشترکہ طور پر مؤثر طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔
چین بطور رخنہ پرداز خطرہ
کمزورممالک کو مشروط امداد دینے، گرے زون سرگرمیوں (حالتِ امن اور جنگ کی درمیانی مسابقتی حالت) کے استعمال، دوہری استعمال والے انفرااسٹرکچر کی تعمیر، اور عسکری مشقوں کو گہرا کرنے کے اقدامات کے ذریعے بیجنگ کی آئی او آر میں بڑھتی ہوئی دخل اندازی، بھارت اور امریکہ دونوں کے لیے خاصی تشویش کا باعث ہیں۔ بھارت کی پارلیمانی مستقل کمیٹی برائے خارجہ امور نے بھارت کے لیے آئی او آر میں چین کی تزویراتی موجودگی کو نئی دہلی کے لیے ایک مشکل(چیلنج) قرار دیا ہے، جبکہ 2026 کی امریکی قومی دفاعی حکمت عملی نے انڈو-پیسیفک خطے کو، آئی او آر جس کاایک لازمی حصہ ہے، بیجنگ کے ساتھ مقابلے کے تناظر میں اسے واشنگٹن کے لیے ایک اہم معاشی اور سلامتی کے خطِ حیات (لائف لائن) کے طور پر بیان کیا ہے۔

تاہم دونوں جانبین کو چین کے چیلنج سے علیحدہ علیحدہ نمٹنے میں مشکل رہی۔بھارت جو بحرِ ہند کو اپنی جغرافیائی حیثیت کا ایک قدرتی نتیجہ سمجھتا ہے، نے سالوں کے دوران ساحلی ریاستوں اور دیگر خارجی عوامل کے ساتھ تعاون اور شراکت داری کے انتظامات کیے ہیں، جن میں اپنے جزیرہ نما علاقوں کا فائدہ اٹھانا اور خطے میں صلاحیت سازی میں سرمایہ کاری کرنا شامل ہے۔ تاہم ان کوششوں کےمطلوبہ اثرات مرتب نہیں ہوئے۔آئی او آر میں اپنی عملی رسائی کو بڑھانے کے لیےبھارت اپنے مشرقی اور مغربی ساحلی علاقوں میں نئےبحری اڈے آئی این ایس جتایو، انڈین ایئر فورس کی اگتی میں سہولت، اور مینیکوئی میں ایک ایئر بیس جیسے اہم انفرا اسٹرکچر تعمیرکررہا ہے۔اس انفراسٹرکچرکی تعمیر سے (بھارت) اپنے بحری اور فضائی دفاع کو مضبوط کرے گا اور آنے والے فوجی حادثات سے نمٹے گا۔ایسی کوششیں بھارت کی اپنی مسلح اور دفاعی افواج کے درمیان عملیاتی انضمام اور بہتراشتراک کو بڑھانے کے لیے بھی کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح، گریٹ نیکوبار پروجیکٹ ممکنہ طور پر بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے ملاپ پر تزویراتی رسائی فراہم کرے گا، جس سے بھارت کو جامع انٹیلی جنس، نگرانی، اور تفتیشی صلاحیتیں (آئی ایس آر) حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
اگرچہ بھارت اب بھی آئی او آر میں ایک اہم رکن ہے، پھر بھی اسے اپنے پڑوس میں اپنے کردار کے بارے میں شکوک کا سامنا ہے۔ مزید براں، کچھ نمایاں سمندری ممالک کا داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر زیادہ جارحانہ رویہ اپنانے کے باعث آئی او آر کی ممکنہ عسکر کاری کا تصور مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ مالدیپ کی ‘انڈیا آؤٹ مہم‘ اور اس کا ‘فارورڈ میری ٹائم ڈیفنس‘ کا تصور، جس میں اپنے خصوصی اقتصادی زونز (ای ای زیز) سے باہر عمل کاری جبکہ موجودہ سیکیورٹی میٹرکس (سلامتی کے ضابطۂ عمل) میں چین، پاکستان اور ترکیہ کی شمولیت سے دفاعی شراکت داری کو متنوع بنانا بھی شامل ہیں، آئی او آرکے ساحلی ممالک میں ان حرکیات کی سب سے واضح مثالیں ہیں۔
دریں اثنا، امریکہ نے سرد جنگ کے بعد سے بحرِ ہند میں فوجی طاقت کی صف آرائی اور مظاہرہ جاری رکھا ہے، جسے وہ ایک ’سپورٹ اوشن‘ کے طور پر دیکھتا ہے تاکہ سکیورٹی اور توانائی سے متعلق ہنگامی حالات میں خلیج فارس سے پیدا ہونے والے خطرات اور دھمکیوں کو قابو کیا جا سکے۔ تاہم پچھلے تقریباً 15 سالوں میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے سبب آئی او آر میں عسکر کاری میں اضافے اور ایران جیسے کچھ ممالک کی مبینہ طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں نے بھی امریکہ کی توجہ دوبارہ آئی او آر کی طرف مبذول کردی ہے۔ اس رخ کا آئی او آر کی طرف موڑنا بھی اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ امریکہ کی (توانائی) انرجی سیکیورٹی ، نیویگیشن اور اوور فلائٹ ( جہاز رانی اور بالا پروازی) کی آزادی اور بین الاقوامی شپنگ لائنز (بحری راستوں) کے ذریعے تجارت کی آزادی برقرار رہے۔
ان تشویشات کے باوجود آئی او آر امریکی قومی سلامتی کے وسیع تربیانیےسے کافی حد تک غیرموجود رہا ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا کے لیے کوئی مخصوص حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ یہ خطے کے حوالے سے امریکہ کی پالیسی کو کسی حد تک تزویراتی ابہام دیتا ہے۔ حالیہ پیشکشوں کے باوجود،اس سلسلے میں واشنگٹن کی مغربی بحرِہند میں محدود موجودگی کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا میں اس کی محدود رابطہ کاری اس کی کمزوری ثابت ہو سکتی ہے۔
آئی او آر میں امریکہ اور بھارت کے تعلقات کو فروغ دینا
اس سیاق و سباق میں کمانڈ کے نام کی تبدیلی واشنگٹن اور نیو دہلی کے لیے آئی او آر کے ضمن میں اپنی رابطہ کاری کا دوبارہ جائزہ لینے اور اس کی ترتیبِ نو کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ حقیقت کہ کمانڈ کا نام تبدیل کرنے کے باوجود ذمہ داری کے عملیاتی علاقے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اس بات کی واضح نشانی ہے کہ امریکہ ابھی بھی انڈو-پیسیفک علاقے اور دہلی کے اس میں کردار کی پرواہ کرتا ہے۔ چین کے مستقل خطرات کے ادراک کے پیش نظر، امریکہ کو آئی او آر میں بھارت کے ساتھ رابطہ کاری کو یقینی اور گہرا بنانےکے لیے کثیر پہلو رکھنے والا طرزِ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
چین کے ہر سوپھیلے اثر و رسوخ کی بدولت ممکن ہے کہ آئی او آر مزید سیکیوریٹائز ہو جائے (تمسکات کی صورت اختیار کر لے)، واشنگٹن بھارت کے ساتھ موجودہ مشترکہ، متحدہ اور ٹیبل ٹاپ مشقوں کی سطح کو خصوصاً بحرِ ہند میں بحری تزویراتی گزرگاہوں (میری ٹائم چوک پوائنٹس) پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بڑھا سکتا ہے، تاکہ وہ خطے کی صورتحال سے بہتر طور پر آگاہ ہو سکیں۔ اس حوالے سے موجودہ یو ایس-انڈیا-لاجسٹکس میمورنڈم ایکسچینج ایگریمنٹ کا بہتر استعمال اور عمل کاری ایک شاندار آغاز ہو سکتا ہے۔ مثلاً اس معاہدے کا فائدہ بندرگاہ کی مشقوں کے دوران فوجی طیاروں، جنگی بحری جہازوں اور فوجیوں کی ایک دوسرے کے ساتھ موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے۔اسی طرح سمندر میں دوبارہ ایندھن بھرنا اور ہوائی ریفولنگ بھی باقاعدگی سے کی جا سکتی ہے تاکہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تعاون کےعملیاتی اطواراستوار کیے جا سکیں۔
مزید برآں امریکہ اور بھارت کو فرانس کے ساتھ شراکت دار کے طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ جنوب مغربی بحرِ ہند میں عملیاتی ہم آہنگیاں پیدا کی جا سکیں۔ موجودہ مثالوں میں بحرِ ہند کے فرانسیسی علاقے لا رینیوں میں بھارت کے اینٹی سب میرین وارفیئر آپریشنز (اور) امریکہ کے فراہم کردہ پی- 81 پر مبنی مشترکہ گشت کرنے کے عمل شامل ہیں۔زیادہ اہم بات یہ ہے کہ علاقے میں بحری نگرانی، مزاحمت اور فضائی عملیات کو بہتر بنانے کے لیے بھارت، فرانس اور امریکہ نے حال ہی میں مشترکہ طور پر لا پيروز مشق کی ۔اس ممکنہ سہ فریقی شراکت کو تینوں ممالک اپنے اپنے پلیٹ فارمز—بھارت اور امریکہ کے لیے پوسائڈن پی8 ، اور فرانس کے لیے اٹلانٹیک 2—استعمال کر کے آئی او آر میں بحری نگرانی کی کوششوں کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔
بھارت اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کے بہتر انضمام کی کوشش کریں تاکہ بحری حدود کی آگاہی کو زیادہ کارگربنایا جا سکے۔[….] نئی دہلی کے لیے، بھارت کو آئی او آر میں جزیرہ نما رکن ممالک کے ساتھ اپنی موجودہ شراکت داری کو بحری معاش پرمرکوز رکھ کر مضبوط بنانا چاہیئے۔
امریکہ سے حال ہی میں خریدے گئے بھارت کے سی ویژن سافٹ ویئر کے مؤثرانضمام کے بعد، اپنے مقامی نشار-میترا سافٹ ویئر کے ارتباط کے ساتھ، بھارت اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کےبہتر انضمام کی کوشش کریں تاکہ بحری حدود کی آگاہی کو زیادہ کارگربنایا جا سکے۔ اس معاملے پر کچھ کام پہلے ہی ہو رہا ہے، جیسے کہ بھارت میں امریکی سونو بوئز کی مشترکہ پیداوار، تاہم زیادہ بہتر کوششیں اس وقت ممکن ہوں گی جب موجودہ امریکی ضوابط جیسے کہ انٹرنیشنل ٹریفک اِن آرمز ریگولیشنز اور ایکسپورٹ ایڈمنسٹریٹو ریسٹریکشنز سے متعلقہ رکاوٹوں کو حل کر لیا جائے گا۔
نئی دہلی کے لیے، بھارت کو آئی او آر میں جزیرہ نما رکن ممالک کے ساتھ اپنی موجودہ شراکت داری کو بحری معاش پر مرکوز رکھ کر مضبوط بنانا چاہیے۔ فی الحال بھارت ان جہازوں اور کشتیوں کی بحالی، مرمت اور دیکھ بھال کرتا ہے جو علاقائی ممالک کو گرانٹ، لیز یا کریڈٹ لائنز کے تحت مہیا کی جاتی ہیں۔ اس سمت میں ایک قدم آگے اس طرح کے اقدامات کو باقاعدہ بنانے کے ذریعے اٹھایا جا سکتا ہے جیسا کہ ماسٹر شپ ریپیئر ایگریمنٹس (ایم ایس آر ایز) پر دستخط کرنا، جو امریکہ-انڈیا ایم ایس آرایز جیسے ہیں، یا مینٹیننس، ریپئیراور اوورہال (ایم آر او) آپریشنز کے لیے (جیسا کہ بھارت اور دیگر آئی او آر ساحلی ریاستوں مثلاً ماریشس اور مالدیپ کے درمیان) جیسے دیگرسہولت فراہم کرنے والے معاہدے ہیں۔مثلاً بھارت نے 2015 میں پہلی بار کسٹم میڈ جنگی جہاز سی جی ایس بریکوڈا ماریشس کو برآمد کیا اور 2021 میں اس کی مرمت بھی کی۔ اسی طرح تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت نے باقاعدگی سے ایم سی جی ایس ہوراوی ایم آر او آپریشنز سر انجام دیے ہیں، جو پہلے بھارتی بحریہ کا جہاز تھا اور اب مالدیپ کے پاس ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ آئی او آر کے یہ رکن ممالک ایسی ٹیکنالوجیز میں خود کفیل بننے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینا بھارت کے لیے آئی او آر میں حقیقی خیر سگالی اور اعتماد پیدا کرے گا اور ساتھ ہی اسے بحری جہاز کی مرمت اور دیکھ بھال کی سہولیات کے لیے عملی مرکز بھی بنا دے گا، جو مستقبل میں اسے ممکنہ تزویراتی فائدہ فراہم کرے گا۔
آخر میں، امریکہ اور بھارت کو آئی او آر میں کثیرالجہتی کوششوں کو مربوط بنانےمیں زیادہ سرمایہ کاری پر بھی غور کرنا چاہیے۔ مثلاً کواڈ کا انڈو پیسیفک میری ٹائم سرویلنس انیشیٹیو اورانڈو پیسیفک میری ٹائم ڈومین اویرنس انیشیٹیو – دونوں منصوبے جن کے نام میں ‘انڈو پیسیفک’ شامل ہے—کو مالدیپ اور سری لنکا جیسے آئی او آر کے رکن ممالک کو شامل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے یہ اقدامات مزید مشمولہ اور جزیرہ نما ریاستوں کے نقطہ نظر کی نمائندگی کرنے والے، آئی او آر کی رکن ریاستوں کی شرکت کو یقینی، اور مستقبل میں زیادہ عملیاتی ہم آہنگی پیدا کریں گے۔ یہ ان کی افواج کے درمیان گہرے تعلقات اور اعتماد سازی کو بھی یقینی بنائے گا، جو بدقسمتی سے اب تک سطحی ہی رہی ہے۔ ایسے اقدامات آئی او آر میں امریکہ اور بھارت کے درمیان زیادہ ہم آہنگی کو یقینی بنائیں گے جس سے ایک بڑھتے ہوئے غیر مستحکم بحری علاقے میں مؤثر تعاون، شراکت داری اورعملیاتی ہم آہنگی ممکن ہو پائے گی۔
***
This article is a translation. Click here to read the article in English.
Image 1: Wikimedia Commons