پاکستان نے خود کو ’’پل بنانے والے (رابطہ ساز)‘‘ کے طور پر پیش کر کے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں ایک کلیدی کردار کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ، خبروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسان کا کردار ادا کرتے ہوئے، پاکستان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ جنگ میں دھکیلا نہیں جانا چاہتا۔درحقیقت حالیہ پیش رفت کے پیشِ نظر پاکستان کا استواریٔ روابط کا کردار اور اس کا تجدیدی سفارتی اعتماد ایران اور امریکہ و اسرائیل کے مابین عداوت کو کم کرنے میں نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی رابطہ ساز سفارت کاری کی جستجو تین اہم محرکات سے پیدا ہوتی ہے۔سب سے پہلا، تزویراتی پہلو: اس امر کو یقینی بنانا کہ جنگ جلد ختم ہو جائے۔پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک ایسی طویل جنگ جس میں سعودی عرب کا ساتھ دینا ضروری ہو، نقصان دہ ہے اور اسے ایران کی جانب سے سرحد پار حملوں سے غیر محفوظ بناتی ہے، جیسا کہ حال ہی میں جنوری 2024 میں دیکھا گیا—یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو پاکستان کی افغانستان میں جاری فوجی کارروائیوں کی بدولت پیچیدہ ترہو گئی ہے۔ دوسرا، اقتصادی پہلو: موجودہ جنگ محض پاکستان کے سماجی و اقتصادی مسائل کو بڑھائے گی، بالخصوص جبکہ محدود تیل کی فراہمی کے باعث اندرونِ ملک ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔تیسرا، داخلی شہرت کا پہلو: اگر پاکستانی عوام اپنے ملک کو محض ریاض کے ساتھ دیتے بلکہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ فعال طور پر کھڑا دیکھیں تو عوامی ردعمل اس حکومت پر مزید دباؤ ڈالے گا جو پہلے ہی متضاد مفادات اور سلامتی کے خطرات سے نبٹنے کے لیے سخت کوشش کر رہی ہے۔
یہ امرکہ پاکستان قابلِ اعتماد طور پر ان سفارتی تعلقات کو استوار کر سکتا ہے، اس کی ریاض، تہران اور خصوصاً واشنگٹن کے ساتھ بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات قائم کرنے میں سالوں پر محیط کامیابی کا ثبوت ہے۔ گو کہ پاکستان (کے پاس) ایسا کرنے کی ترغیبات حقائق پر مبنی ہیں، تاہم یہ وقت ہی ثابت کرے گا کہ جو تعلقات اس نے استوار کیے ہیں، وہ کتنے مضبوط رہ پائیں گے۔
تزویراتی خدشہ
جنگ کا نمایاں طور پر طویل ہونا پاکستان کے لیے بدترین صورت حال کا امکان پیش کرتا ہے۔جنگ جتنی طویل ہوگی، میدانِ جنگ اور حکمتِ عملی کی پیچیدگیاں اتنی ہی بڑھ جائیں گی، اور سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی طرف سے ایرانی حکومت کے خلاف محتاط ردعمل دینےکا دباؤ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
ایسے منظرنامے کا جس میں پاکستان ایران کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کے لیے خود کو پیش کرے، سب سے سنگین نتیجہ ایرانی جانب سے پاکستانی علاقے کو ہدف بنانے والے فوجی جوابی اقدامات کی صورت میں ہوگا۔ خلیجی ریاستوں کی اپنے علاقوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں موجودہ (محض) بیانیہ مذمت اور غیر فوجی رد عمل کے برعکس، پاکستان ممکنہ طور پر ایرانی جوابی حملوں کے تناسب میں مساوی رد عمل ظاہر کرے گا۔ پاکستان کی افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف جاری عسکری کارروائیاں اس ناتواں صورتحال کو پیچیدہ تر بنا دیں گی۔
پاکستان کا استواریٔ روابط کا کردار اور اس کا تجدیدی سفارتی اعتماد ایران اور امریکہ و اسرائیل کے مابین عداوت کو کم کرنے میں نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے فیصلہ ساز اپنے دونوں مغربی ہمسایہ ممالک کے ساتھ متنازع سرحدوں پر بیک وقت محاذ کھولنے پر مائل نہ ہوں گے۔ان کی دقّت ملک کے مشرقی ہمسائے کے ساتھ پہلے ہی سےکشیدہ تعلقات کے باعث پیچیدہ ترہو گئی ہے: گزشتہ سال کے چار روزہ بحران کے بعد بھارت کی یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی تنسیخ کے بعد سے پاکستان بھارت کی جانب سے (دریاؤں کے) پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی مبینہ حمایت کے سبب انتہائی حساس رہا ہے۔ ایک ایسے منظرنامے میں جہاں پاکستان سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی فعال فوجی حمایت کرنے پرمجبور ہوجائے، ملکی سلامتی کی کارروائیوں سے دھیان بٹنے کے باعث داخلی سلامتی کے مسائل کے نقائص مزید ابتر ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔ملک کے خطرے کے منظرنامے کی پیچیدگی کے پیشِ نظر، اسلام آباد اس امر سے پریشان ہے کہ ایران کے تنازعے میں فعال شرکت اس کی اپنی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور اسی سبب وہ اس طرح کے کسی بھی ممکنہ واقعے کو روکنے کے لیے زیادہ متحرک ہے۔
معاشی اثرات
پاکستان کے اقتصادی مفادات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اس کے تیل کی کھیپیں (شپمنٹس) اور رسدی زنجیریں (سپلائی چینز) جنگ کے منفی اثرات سے محفوظ رہیں۔یہ سیاسی عدم استحکام اور داخلی کارکردگی میں خسارے کا شکار حکومت کے لیے ناگزیر ہے۔
حکومت نے جنگ کے شروع ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا اور اطلاعات کے مطابق قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھی ہے۔ پاکستان کی بحریہ نے ملک کی اہم تجارتی اجناس کی فراہمی کے لیے سمندری نقل و حمل کے راستوں (سی لائنز آف کمیونیکیشن ایس ایل او سیز) کومحفوظ اور مامون رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے ایک تجارتی منصوبہ، محافظ البحر شروع کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی ایران کے نئے مذہبی رہنما آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری پر مبارکباد کے سمیت ایران کے ساتھ پاکستان کی سفارتی پیش قدمیوں کا نتیجہ یہ تھا کہ تہران نے 16 مارچ کو ایک پاکستانی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی۔حالیہ اطلاعات سے علم ہوتا ہے کہ کم از کم تین مزید پاکستانی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، جو ایران کے ساتھ ملک کے اچھے تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں پاکستان سعودی عرب میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے تاکہ اضافی تیل کی کھیپوں (شپمنٹس) کو یقینی اور اپنی رسدی زنجیروں (سپلائی چینز) کو متنوع بنایا جا سکے۔ایک تیز رفتار اقدام میں اسلام آباد نے سعودی عرب کی یَنبُع بندرگاہ کے ذریعے متبادل تیل کی فراہمی کی ضمانت حاصل کی۔ یہ مطابقت اس مثبت فائدے کو اجاگر کرتی ہے جو پاکستان اپنی رابطہ ساز سفارتکاری سے حاصل کر رہا ہے۔ تاہم پاکستانی معیشت پر دباؤ پہلے ہی سے واضح ہیں سو، حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے اوقاتِ کار میں کمی اور مخصوص امداد (سبسڈیز) دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

عوامی ردّعمل کی لاگت
پاکستان کے حقیقی تزویراتی اور اقتصادی دباؤ کے علاوہ عوامی ردّعمل کی لاگت ایک اور بھی زیادہ مشکل رکاوٹ کی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستان نے جنگ کے خلاف پرتشدد داخلی مخالفت دیکھی، جس میں کراچی میں امریکی سفارت خانے پر غصے میں بپھری عوام کا دھاوا بولنا شامل ہے، جس کے نتیجے میں 10 مظاہرین ہلاک ہوئے۔ شیعہ اکثریتی گلگت بلتستان کے علاقے میں ایک اتنے ہی پرتشدد مظاہرے کے دوران مظاہرین کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
اگر پاکستان سعودی یا خلیجی فوجی کارروائی میں حصہ لینے پر مجبور ہوا تو عوام اسے ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی حملوں کی توسیع کے طور پر دیکھیں گے۔ عوام کے ایران کی حمایت میں قائم رہنے کے سبب حکومت کے لیے یہ ایک غیر مقبول اقدام ہوگا جس کی بھاری سیاسی قیمت چُکانا ہو گی۔اس کا مجموعی اثر ملک بھر میں ہنگامہ خیز احتجاجات کی ایک اور لہر کی صورت میں ہو گا جو مہنگائی کے دباؤ کے ساتھ مل کر حکومت کی کم ہوتی حمایت اور بڑھتی ہوئی تنقید میں اضافہ کرے گی۔
اگر جنگ موجودہ حد سے آگے بڑھ جائے یا اگر اتنی قیاس آرائیوں میں گِھری امن بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہو، تو پاکستان پر فعال کردار ادا کرنے اور سعودی عرب کاساتھ دینے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہونا یقینی ہے۔ یہ (امر) اس کے رابطہ ساز کردار کو محدود کر دے گا۔
پائیدار تعلقات؟
پاکستان کا رابطہ سازی کا کردار کلیدی تزویراتی، اقتصادی، اور اندرونِ ملک عوام سے متعلقہ خدشات اور لاگتوں کی تلافی کی کوشش کرتا ہے۔ سعودی عرب کاساتھ دینے میں پاکستان کی سرزمین پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے امکان کے خدشات موجود ہیں۔اگر تیل کی فراہمی محدود رہتی ہے تو پہلے ہی سے ناتواں معیشت پر اقتصادی بوجھ بڑھ جائے گا۔ جب سعودی عرب کا ساتھ دینے کو اسرائیل اور امریکہ کا ساتھ دینے پر تاویل کیا جائے تو عوامی جذبات برانگیختہ ہونے کی صورت میں عوامی ردّعمل کی لاگت بڑھ جانے کا امکان ہے۔
ابھی تک ملک نے خود کو ایک ‘کلیدی مذاکرات کار‘ کے طور پر پیش کر کے امریکہ، ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ رابطے کے ذرائع کھولنے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم اگر جنگ موجودہ حد سے آگے بڑھ جائے یا اگر اتنی قیاس آرائیوں میں گِھری امن بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہو، تو پاکستان پر فعال کردار ادا کرنے اور سعودی عرب کاساتھ دینے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہونا یقینی ہے۔ یہ (امر) اس کے رابطہ ساز کردار کو محدود کر دے گا۔ اور ایک ایسی ریاست کے لیے جو خطے اور اس سے آگے بڑھ کر نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہو، ایسی پیش رفت نہایت مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.
***
Image 1: Saudi Foreign Ministry via X
Image 2: Shehbaz Sharif via X