داعش بمقابلہ طالبان: افغانستان میں تزویراتی محاذ آرائی

شہری و سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں اضافے نے ۲۰۱۷ میں افغانستان کی پرتشدد فضاء کو نیا رخ دیا ہے۔کابل میں یکے بعد دیگرے ہونے والے حملوں اور ملک میں سکیورٹی کی دگرگوں صورتحال کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے  لیکن اس قتل و غارت کے ایک اور پہلو نے نسبتاً کم توجہ حاصل کی ہے اور وہ ہے داعش کے علاقائی  ملحقین یعنی خراسان  صوبہ میں داعش (آئی-ایس-کے-پی)  کی طرف سے پر تشدد واقعات میں اضافہ۔ ۲۰۱۷ میں آئی-ایس-کے-پی افغان حکومت، امریکہ و افغان فوجوں اور طالبان کےلئے ایک مظبوط چیلنج کے طور پر ابھرا ہے۔ کابل میں ۹ دنوں کے حملوں جن میں ۱۳۰ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ، طالبان اور آئی-ایس-کے-پی نے دو دو حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور خراسان گروپ کے حملوں کا مقصد شائد حریفوں کو  اپنی طاقت دکھانا  تھا۔ ان دو دہشت گرد گروہوں کے بیچ  بدمزگی پچھلے کچھ سالوں میں بڑھی ہے تاہم یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا خراسان گروپ طالبان سے سبقت لے جاتا ہے یا نہیں۔ مزید برآں بیرونی عناصر جیسے سعودی عرب اور ایران  کا بھی مداخلت کا اپنااپنا انداز ہے اور دونوں فنڈز، اسلحہ اور مدد کے مختلف طریقہِ کار سے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکروں میں ہیں۔ یہ بیرونی امداد اور گروپ کی مذہبی فلاسفی  میں تبدیلی ہمیں آنے والے وقت میں بتائے گی کہ آئی-ایس-کے-پی نے افغانستان میں طالبان   سے زیادہ اثرورسوخ حاصل کر لیا ہے کہ نہیں۔

افغانستان میں داعش کا ابھرنا:

عراق اور شام میں فوجی کامیابی کے بعد داعش نے اپنی شاخوں کو  مشرق وسطیٰ سے باہر ہم خیال گروہوں سے تعاون بڑھا کر پھیلایا۔ اس لئے جنوبی ایشیا میں داعش کے ظہور کو ۲۰۱۴ سے ہی دیکھا جا سکتا ہے جب داعش رہنما ابوبکر البغدادی نے مبینہ طور پر ایک وفد کو  بلوچستان اور جنوبی وزیرستان میں تحریکِ طالبان پاکستان کے جنگجوؤں سے بات چیت کےلئے بھیجا۔ پاکستانی فوج کےشمالی وزیرستان میں  آپریشن ضربِ عضب  کے نتیجے میں کچھ عناصر افغانستان کو فرار ہوئے اور انہوں نے افغان صوبے ننگر ہار میں قیام کر لیا۔

جب آئی-ایس-کے-پی نے ۲۰۱۴ میں البغدادی کے ساتھ وفاداری کا وعدہ کیا تو طالبان اور آئی-ایس-کے-پی کے بیچ ایک دراڑ نمودار ہوئی۔ دو مہینے کے اندر اندر آئی-ایس-کے-پی نے طالبان سے علاقے چھین لئے  اور طالبان کے ساتھ ساتھ انکے ہمدردوں کو بھی مارنا شروع کر دیا۔ داعش کی طرف سے طالبان کے قتل سے یہ پیغام سامنے آیا کہ یہ (داعش) طالبان سے بھی زیادہ ظالم ہے۔ جواباً طالبان کو بھی اپنے جنگجوؤں کوا کٹھا کرنا تھا تاکہ داعش کو  ان علاقوں سے باہر نکالا جا سکے جو کبھی طالبان کا گڑھ تھے۔ اس دوران افغان حکومت کو بھی طالبان سے لڑنے کےلئے داعش کے استعمال والی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا پڑا چونکہ ہمسایہ ممالک روس، چین اور پاکستان نے افغانستان میں داعش کے سامنے آنے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

آج آئی-ایس-کے-پی اُن جنگجوؤں کو بھرتی کر کے طاقت حاصل کرتا ہے جو طالبان کو  بیرونی ایجنسیوں کا (آسان) آلہِ کار سمجھتے ہیں۔ اس نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی-ٹی-پی) کے بکھرتے شیرازے سے بھی تازہ دم بھرتیاں کی ہیں  اور پھر انہی بھرتیوں کی وجہ سے پوست کی کاشت سے حاصل ہونے والی رقم اکٹھی کی ہے جو کبھی ٹی-ٹی-پی کے زیرِ قبضہ تھی۔ اسی کے پیشِ نظر کچھ ماہرین اب یہ کہتے ہیں کہ منشیات سے حاصل کردہ مال اب  ٹی-ٹی-پی کے بجائے آئی-ایس-کے-پی کے پاس ہے ۔اگر یہ بات درست ہے تو آئی-ایس-کے-پی کا اپنے مالی حالات سدھارنے کا موقع مل جائے گا جو عراق اور شام میں  حالیہ وقتوں میں مسائل سے دوچار تھے۔

ایران-سعودی عرب دشمنی:

ایران اور سعودی عرب کے بیچ جغرافیائی اور نظریاتی دشمنی  نے بھی طالبان اور آئی-ایس-کے-پی کے بیچ متحرک کردار ادا کیا ہے۔ آئی-ایس-کے-پی سلفی اسلام (اسلام کا بنیاد پرست رجحان جسے ایک لمبے عرصے تک سعودیہ نے پھیلایا) کے پیروکار ہیں جو شیعوں کو بطورِ کافر دیکھتے ہیں۔ افغانستان میں ۔ آئی-ایس-کے-پی نے فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دی ہے تاکہ خود کو شیعوں سے چھٹکارے کا واحد نجات  دہندہ ثابت کرسکے۔ اس نے اس مہم کا آغاز نومبر ۲۰۱۶ میں  کابل میں ایک پُرہجوم مسجد میں خود کش حملہ کر کے کیا ۔ افغانستان میں شیعہ مسلک کے خلاف بے روک ٹوک حملوں نے ایران کو  طالبان  کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا چونکہ ایران خود کو شیعہ آبادی کا محافظ سمجھتا ہے اور اسی لئے ایران نے طالبان  باغیوں کو اسلحہ، تربیت اور دیگر نوعیت کی امداد فراہم کی۔

طالبان کی سلفی اسلام کی طرف رغبت قدرتی طور پر انکو ایران کی بجائے سعودی عرب کا حلیف بنا دے گی۔ تاہم اصل کہانی اس سے بھی پیچیدہ ہے۔ مشرقی افغانستان میں  سلفی اسلام اور طالبان  اندرونی خلفشار اورطالبان کے مذہبی  رجحانات پر شکوک و شبہات  کے باوجود مل کر کام کرتے ہیں۔ جب آئی-ایس-کے-پی مشرقی ننگر ہار صوبے کی طرف مائل ہوا تو بہت سے لوکل سلفی اسلام پسند طالبان سے الگ ہو کر آئی-ایس-کے-پی میں جا ملے جس سے گروپ (آئی-ایس-کے-پی) کو صوبے میں اپنی بنیاد رکھنے میں آسانی آ گئی۔ افغانستان اینالسٹ نیٹ ورک کے برہان  عثمان کی تحقیق بتاتی ہے کہ داعش نے افغانستان سے سلفی جہاد کی مکمل حمائت خود کو ‘واحد خالص جہادی طاقت‘ ظاہر کرکے حاصل کر لی ہے۔

آئی-ایس-کے-پی چونکہ شیعہ مذہبی جگہوں کو نشانہ بنا رہی تھی تو ایران نے طالبان کے ذریعے اُنکو جواب دیا۔ تاہم ایران کی امداد طالبان کے اتحاد کےلئے خطرناک ہو سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب طالبان-ایران اتحاد کو بنتا دیکھتا ہے تو وہ براہِ راست طالبان کے اندر کے سلفی اسلام پسندوں کے ساتھ روابط استوار کرے گا جو طالبان کے اتحاد کا شیرازہ بکھیر دے گا۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو طالبان رہنماؤں کےلئےاچھا  نہیں ہو گا اور اُنکے اندرونی خلفشار کو مزید وسیع کرے گا جو سابق کمانڈر مُلا عمر  کی ہلاکت کے بعد واضح ہوئے تھے۔

مذہبی فیصلے:

مئی ۲۰۱۷ میں  آئی-ایس-کے-پی نے تکفیریت کے معاملے پر ایک صفحے کا  میمو (دستاویز) جاری کی جس میں (اپنے مسلک کے علاوہ) دیگر مسلمانوں کو  ایمان نہ رکھنے والا کہا گیا۔میمو تکفیریوں کے خلاف انتہائی  شدت  پسند ثابت ہوا  چونکہ اس میں یہ بھی درج تھا کہ دیگر مسلمان جو انہیں (تکفیریوں) کو مانتے ہیں وہ بدعت کر رہے ہیں۔ اور یہ نظریہ یا ایمان داعش کے انتہائی سخت  گروہ ، سے مطابقت رکھتا تھا ۔اس گروہ نے لمبے عرصے تک (اپنے عقائد کے علاوہ دیگر کی اسلام سے) اخراج  کی پالیسی اپنائے رکھی  تاہم بعد میں سینئر داعش سکالرز کے احتجاجات کے نتیجے میں  اسے ختم کر دیا گیا۔ تکفیر کو  منسوخ کر کے داعش پاکستان اور افغانستان میں  نئی بھرتیاں کر سکے گا جو پہلے گروپ کی  دیگر تنظیموں کی طرف انکساریت  کی وجہ سے ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ اگرچہ یہ بات  غیر یقینی ہے کہ دیگر دہشت گرد تنظیمیں مکمل طور پر آئی-ایس-کے-پی کے ساتھ الحاق کر لیں گی  تاہم اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ آئی-ایس-کے-پی کچھ دیگر شدت پسند گروہوں کے ساتھ تعاون کرنا شروع کر دے جیسے طالبان حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعاون قائم کئے ہوئے ہیں۔

ایک اور قابلِ غور مسئلہ تاتارس ہے جسکا مطلب مسلمانوں کا  جنگ کے دوران بطورِ حفاظت  تعیناتی ہے۔یہ نظریہ  داعش  کے مذہبی  ڈاکٹرائن  کا حصہ ہے۔ عسکری زبان میں اسکا مطلب  آئی-ایس-کے-پی مسلمانوں (جیسا کہ طالبان، شیعہ، شہری یا اور کوئی بھی مسلمان گروہ جس کے خلاف آئی-ایس-کے-پی لڑ رہا ہو یا کوئی ایسا آپریشن کر رہا ہو جس سے طالبان، افغان حکومت یا امریکہ کے خلاف کسی قسم کا  اثر پڑتا ہو)کو جہاد میں دوطرفہ نقصان  کی اجازت دیتا ہے۔ ماضی میں داعش کے کچھ حلقوں نے تاتارس کے استعمال کا دفاع کیا ہے۔ تاہم اگر آئی-ایس-کے-پی طالبان کو  عسکری و نظریاتی طور پر شکست دے رہا ہو تو  اس  فتوے کو واپس لے سکتا ہے۔ اگر افغانستان کے لوگ آئی-ایس-کے-پی کو طالبان کے مقابلے میں اچھا سمجھیں  تو وہ یقینی طور پر  آئی-ایس-کے-پی کے “دل اور دماغ” جیت سکتے ہیں اور گروپ (آئی-ایس-کے-پی) لمبے عرصے تک افغانستان میں اثرورسوخ برقرار رکھے گا۔

خلاصہ:

پارلیمانی انتخابات چونکہ قریب آ رہے ہیں اس لئے امریکہ اور افغان حکومت کو ملک میں استحکام لانے کےلئے کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ دونوں کو طالبان اور آئی-ایس-کے-پی کے بیچ تزویراتی مقابلے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے۔ بے شک افغان حکومت دونوں گروہوں کے اختلافات سےوقتی فائدہ اٹھا سکتی ہو مگر آنے والے وقت میں یہ حکمتِ عملی تباہ کن اور فرقہ واریت کو جنم دے سکتی ہے۔

آئی-ایس-کے-پی طالبان کا اثر ختم کرنے کی طرف متوجہ رہے گا اور افغانستان میں واحد جہادی گروپ بننے کی کوشش کرتا رہے گا۔ یہ لوگ پیچیدہ مذہبی رجحانات ، بیرونی اتحادوں اور نظریاتی تفرقات سےطالبان کے مقابلے میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ۔ بیرونی طاقتیں جیسے روس، چین ایران، سعودی عرب اور پاکستان بھی اپنی اپنی چال حالات کےمطابق کھیلیں گے۔ اگر آئی-ایس-کے-پی اپنے کارڈ درست طرح استعمال کرتا ہے تو وہ طالبان  سے آگے نکل سکتا ہے اور انکی اس کامیابی کے امریکہ اور افغان حکومت کےلئے یکساں اثرات ہوں گے۔ تب تک یہ ایک  ناقابلَ تردید سچائی ہے کہ آئی-ایس-کے-پی نہ صرف افغانستان کےلئےایک تلخ حقیقت ہے بلکہ ایک طاقت ہے جسکو مستقبل میں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: DVIDSHUB via Flickr 

Image 2: Andrew Reinnesan via Getty

Posted in , Afghanistan, China, Iran, ISIS, Militancy, Military, Pakistan, Russia, Saudi Arabia, Security, Terrorism

Yaqoob ul Hassan

Yaqoob ul Hassan

Dr. Yaqoob ul Hassan is an SAV Visiting Fellow, January 2018. He received is Ph.D. from Jamia Millia Islamia in New Delhi, India and his thesis was on United States-Pakistan relations after 9/11. He was also a post-doc fellow in the Department of Political Science and International Relations at Istanbul University, Turkey. His research interests are the politics and security of Pakistan and Afghanistan, and Political Islam.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *