سری لنکا کی جنوبی ایشیا سے آگے نئی علاقائیت پالیسی

سری لنکا میں تین دہائیوں پر مشتمل (خانہ جنگی) تنازعہ کے۲۰۰۹ میں منتج ہونے کے بعد سے بحرِ ہند کی سیاست میں سری لنکا کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔ تنازعات میں گھرے ہونے کے وقت سری لنکا کو عمومی طور پر  سکیورٹی کی گومگو صورتحال سے دوچار ملک کے حوالے سے دیکھا جاتا تھا  مگر اب اس جزیرہ نما ملک نے علاقائی معاشی و سیاسی معاملات میں اہمیت اختیار کر لی ہے۔ تاہم جنوبی ایشیا میں علاقائیت کے فروغ میں سارک تنظیم کے ذریعے بنیادی کردار ادا کرنے کے باوجود سری لنکا اب وسیع تر تعلقات کےلئے تیزی سے مشرقی ایشیا کا رخ کر رہا ہے۔ داراصل ایسا کرنے سے سری لنکا اپنی اہمیت کو باور کر رہا ہے جو اسے بھارت اور چین دونوں کےلئے تزویراتی اثاثہ بھی بناتی ہے۔ سری لنکا کی جنوبی ایشیا سے باہر کے معاملات میں دلچسپی  نے اسے بھارت اور چین کے بیچ لا کھڑا کیا ہے جسے اگر سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو سری لنکا کی معیشت  کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور علاقائی  قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

مشرقی ایشیا کا محور

سری لنکا کا جنوبی ایشیا سے الگ معاملات میں شمولیت کا رجحان سابق صدر مہندا راجا پکسے کے دور میں آغاز ہوا جو انہوں نے خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد شروع کیا تھا۔ ایسا کرنا اہم سیاسی ضرورت تھی چونکہ مبینہ جنگی جرائم کی وجہ سے سری لنکا عالمی برادری کی طرف سے سیاسی دباؤ کا شکار تھا۔ جبکہ چین نے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر سری لنکا کی حمائت کی۔ مزید برآں چین بنیادی معاشی ڈھانچے کی تعمیر کےلئے غیر مشروط امداد دینے کو تیار تھا اگرچہ مارکیٹ میں موجود قرضوں پر شرح سود کے عین مطابق۔ بھارت کی جانب سے راجہ پکسے حکومت کی مکمل حمائت میں عدم دلچسپی نے چین کو موقع دیا کہ وہ سری لنکا کو جیو سٹریٹیجک پوزیشن ہونے کے باعث  اہم اتحادی کے طور پر اہمیت دےسکے۔ اس کے بدلے سری لنکا بحرِ ہند میں انتہائی احتیاط کے ساتھ بنائی ہوئی اپنی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی سے دور ہونے لگا اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو گیا جس سے چین کی مکمل تابعداری عیاں ہونے لگی۔ گزشتہ پانچ سالوں میں چین نے سری لنکا کو ایک بین الاقوامی بندرگاہ اور ہوائی اڈہ بنانے میں معاشی مدد دی اور ساتھ ہی ساتھ کولمبو پورٹ سٹی منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔ ایسے تمام روابط اور سرمایہ کاری نے بھارت کےلئے خدشات کو جنم دیا ہے۔

سری لنکا  کے جنوبی ایشیا سے باہر ملکوں سے معاشی و سیاسی روابط بنانا معاشی ضرورت کے ساتھ ساتھ سیاسی مصلحت کا نتیجہ ہے۔  ایک چھوٹی جزیرہ نما ریاست جسکی آبادی محض ۲۱ ملین ہے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر بہت ذیادہ انحصار کرتی ہے تا کہ برآمدی شعبے میں بھی ترقی ہو سکے۔ تا ہم خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد ملک کی معاشی بالخصوص  برآمدی شعبہ میں  ترقی خوش آئند نہیں رہی۔ داخلی تحفظ پسند پالیسیوں کی وجہ سے سری لنکن فرمز بہتر کارکردگی کرنے سے قاصر ہیں ۔ ملک میں اس وقت برآمدی  شعبے میں ڈرامائی  تبدیلیوں کی اشد ضرورت اور ساتھ ہی ساتھ اپنی روائتی  مارکیٹوں جیسے امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ دیگر مارکیٹس بھی تلاش کرنا لازم ہے۔

جنوبی ایشیائی ممالک کے آپس میں عدم تعاون کی وجہ سے بھی سری لنکا کو یہ ضرورت پیش آئی کہ وہ معاشی روابط کےلئے دیگر خطوں کی طرف دیکھے۔ مشرقی ایشیا، لاطینی امریکہ اور یورپ  کی طرح جنوبی ایشیا میں پیداوار اور تجارتی روابط تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جنوبی ایشیا کی باہمی تجارت محض پانچ فیصد ہے اور یہ اعدادو شمار بھی یہاں کی ریاستوں کا بھارت کے ساتھ باہمی  تجارت کی وجہ سے ہیں۔ عالمی معاشی پلیٹ فارم پر اپنی کمزور پوزیشن اور جنوبی ایشیا میں آزادانہ تجارت کے معاہدے (سافٹا) پر عمل درآمد نہ ہوتا دیکھ کر سری لنکا بھارت، چین اور سنگاپور کے ساتھ دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کےلئے بات چیت کر رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ معاہدات سری لنکا کےلئے پلٹ فارم کا کردار ادا کریں گے۔

بھارت-چین سیاست کی پیمانہ بندی

 سری لنکا کی علاقائیت پالیسی کا اہم نقطہ بھارت اور چین کے مفادات میں توازن رکھنا ہے۔ جنوری ۲۰۱۵کے انتخابات کے فوری بعد نئی حکومت نے کولمبو پورٹ سٹی منصوبے پر کام روک دیا تاکہ بھارتی خدشات کو کم کیا جاسکے اورا یک پیغام دیا جائے کہ سری لنکا چین کے اثرورسوخ سے آزاد ہے۔ حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ سری لنکا کےلئے سرمایہ کاری اور قرضوں میں نرمی کےلئے قریبی باہمی تعاون ضروری ہے۔ اسکے باوجود سری لنکا نے پچھلے دو سالوں  میں چین اور بھارت کے مفادات میں توازن برقرار رکھنے کےلئے قابل قدر اقدامات اٹھائے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی تب عیاں ہوئی جب سری لنکن وزیراعظم نے اپنے ہم منصب نریندر مودی کو کولمبو میں  خوش آمدید کہا اور اسکے بعد بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کےلئے چین روانہ ہو گئے۔ لیکن حکومت چینی کمپنیوں کے ساتھ ڈیٹ-ٹو-ایکویٹی سویپ کرنے سے متعلق بھی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے اور اسکے بدلے چین کو صنعتی پارک میں رسائی، ہمبنٹوٹا بندرگاہ اور مٹالہ ہوائی اڈے کا انتظام دے دیا گیا۔ یلکن ان سب اقدامات کے ساتھ سری لنکا نے بھارتی خوشنودی کےلئے اسکے ساتھ مل کر مشرقی ساحل پر تزویراتی اہمیت کی حامل ٹرینکولا بندرگاہ پر دورانِ جنگ تیل ذخیرہ کرنے والا ٹینک بھی تعمیر کر رہا ہے۔

جہاں پہلے بھارت  سری لنکا کے چین کی طرف جھکاؤ پر نا خوش دکھائی  دیتا تھا  اب سری لنکا کی بحرِ ہند پالیسی میں ترمیم کو   مفید سمجھتا ہے۔ یہ اس لئے بھی ہے چونکہ بھارت خود بھی وسیع علاقائی  سرگرمیوں میں سرگرم ہو رہا ہے۔ آسیان  تنظیم کے ممالک  کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے ساتھ ساتھ بھارت  آزادانہ تجارت کےمعاہدے ریجنل کمپرہینسو اکنامک پارٹنرشپ میں بھی اہم سٹیک ہولڈر ہے۔ اسی لئے سری لنکا کے  بڑھتے ہوئے علاقائی تعلقات بھارتی مفادات سےعین مطابقت رکھتے ہیں۔ سری لنکا نہ صرف بھارت کی تجارت  اور  صنعتکاری کےلئے لاجسٹیکل مرکز بن رہا ہے بلکہ خود کو خطے میں بھارت کےلئے ایک قابل بھروسہ سیاسی اتحادی بھی بنا رہا ہے۔ بھارت  بھی  سری لنکا کےلئے اسکی وسیع بحر ہند پالیسی میں مددگار ثابت ہو رہا ہے اور خلیج بنگال تکنیکی و معاشی تعاون (بمسٹیک)   پر بھی توجہ دے رہا ہے تاکہ بمسٹیک کو سارک کا متبادل بنایا جا سکے۔

عین اسی وقت اگرچہ چین سری لنکا کا اہم اتحادی بننا چاہ رہا ہے مگر بیجنگ کو لمبو کی متوازن علاقائیت پالیسی کا بھی حمائتی ہے۔ مثال کے طور پر چین نے زمین کی ملکیت اور سرمایہ کاری جیسے معاملات میں نرم رویہ رکھا اور سری لنکن حکومت کو یہ موقع دیا کہ وہ بھارت کے ساتھ من چاہے تعلقات بنا سکے۔ چین اس متوازن پالیسی کی حمائت تب تک جاری رکھے گا جب تک اسے سری لنکا اور بنگلا دیش میں کی گئی تزویراتی سرمایہ کاری جاری رکھنے دی جائے گی۔ حقیقت میں اگر سری لنکن حکومت کے بھارت، چین اور سنگاپور کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدات توقعات کے مطابق آگے بڑھتے ہیں تو جزیرہ نما ملک (سری لنکا) علاقائی طاقتوں کے بیچ مزید معاشی تعاون کےلئے ایک کارگر گزرگاہ کے طور پر کام کرے گا جو کہ تینوں ملکوں کےلئے سودمند ثابت ہو گا۔

خلاصہ

سری لنکا کی مشرقی ایشیا کی طرف جھکاؤ سارک کے ایک دہائی سے غیر موئثر ہونے اور امریکی و یورپی مارکیٹوں پر انحصار کم کرنے کےلئے ناگزیر ہے۔ مزید برآں، امریکہ کا باہر کی بجائے اندرونی پالیسیوں پر انحصار کرنا اور عالمی معاشی نظام میں مشرق کی طرف رجحان سری لنکا کےلئے خود کو علاقائی  مرکز بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم  ترجیحات میں تبدیلی بھارت اور چین دونوں کےلئے کئی چیلنجز کا باعث بن سکتا ہے۔ چین اور بھارت دونوں سری لنکا کو تزویراتی اثاثہ سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسکے خدشات  بھی سمجھتے ہیں۔ اس لئے بھارت اور چین کے مفادات (کو اپنے فائدے کےلئے) توازن میں رکھنے کےلئے سری لنکا کو ایک تزویراتی مخلوط پالیسی اپنانی ہو گی تاکہ خطے کی دونوں طاقتوں سے فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Maithripala Sirisena via Flickr

Image 2: Press Information Bureau, Government of India

Posted in , China, Economics, Foreign Policy, India, SAARC, Sri Lanka, Trade

Kithmina Hewage

Kithmina Hewage

Kithmina V. Hewage is a Research Officer at the Institute of Policy Studies of Sri Lanka (IPS) and his work is mainly focused on international political economics, foreign direct investment, international trade policy, and private sector development. He completed his undergraduate degree at the Johns Hopkins University with departmental and university honours. Kithmina graduated from University College London (UCL) with an MSc. in International Public Policy and authored a thesis on the political-economy of foreign aid at the World Trade Organization (WTO). His other publications discuss issues such as the influence of victim-politics in post-conflict societies, improving regional cooperation through aid for trade, and investor-state dispute settlement mechanisms. Kithmina is a member the World Economic Forum’s Expert Network and can be contacted at kithmina@ips.lk.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *