Screen-Shot-2022-08-15-at-11.40.10-AM-1095×616

ایک برس پہلے، ۱۵ اگست ۲۰۲۱ کو طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھوں اپنی گزشتہ حکومت گرائے جانے کے دو دہائی بعد افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آگئے۔ اقتدار میں ان کی یکلخت واپسی سے افغانستان کے اندر اور باہر موجود افراد کو دھچکا پہنچا اور ایک شورش پسند گروہ کے ہاتھوں میں موجود ملک کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کی نئی کیفیت نے جنم لیا۔ جلد ہی اس بارے میں بحث ہونے لگی کہ آیا طالبان میں ۱۹۹۰ کے مقابلے میں جدت آئی ہے، کیا شورش پسند گروہ میں نظام حکومت چلانے کی صلاحیت ہے اور کیا افغانستان ان کی سربراہی میں عالمی برادری کا ایک ذمہ دار رکن بن سکتا ہے۔

اپنے قبضے کے ابتدائی دنوں میں طالبان نے خود کو ایک معتدل قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا، ہمہ گیر نمائندگی کی حامل حکومت کے قیام کا وعدہ کیا، تمام افغانوں کے حقوق اور آزادی کے احترام کا عہد کیا اور افغانستان کو خطے اور اس سے باہر کی دنیا کے لیے خطرے کا ذریعہ بننے سے محفوظ رکھنے کا عزم کیا۔ تاہم اس کے بعد گزشتہ ایک برس کے دوران ان کے اقدامات اور پالیسیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس گروہ نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا اور یہ دوبارہ وہی غلطیاں دوہرا رہا ہے۔ نتیجتاً افغانستان تباہ شدہ معیشت اور دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کی حامل ایک تنہا ریاست بن چکا ہے جو ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ طالبان کے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ ایک برس کے دوران ہونے والی پیش رفتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان کی امارت اسلامیہ نہ صرف افغانستان کو عدم استحکام اور افراتفری کی جانب لے جا سکتی ہے بلکہ یہ ملک کو خطے میں عدم استحکام کے موجب عنصر میں بھی تبدیل کر سکتی ہے۔ 

طالبان کی قیادت میں افغانستان


طالبان کی اقتدار میں واپسی کے ایک برس بعد، طالبان کی قیادت میں افغانستان کا مستقبل تاریک اور دہلا دینے والا دکھائی دیتا ہے۔ تاحال، یہ گروہ ایک موثر انتظامیہ بنانے میں ناکام رہا ہے اور اسے شورش زدہ گروہ سے ایک متحرک حکومت میں تبدیل ہونے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

اپنے ابتدائی وعدوں سے منہ موڑتے ہوئے طالبان نے امارت اسلامیہ کو دوبارہ قائم کیا ہے اور کلی طور پر طالبان پر مشتمل حکومت قائم کی ہے۔ ان کی کابینہ اور اعلیٰ حکام جن میں سے زیادہ تر مذہبی علماء ہیں، مہارتوں سے عاری ہیں اور انتظامی امور کا معمولی تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے تعلیم یافتہ بیوروکریٹس کی جگہ پر بھی اپنے نااہل جنگجو یا حامی بھرتی کر دیے ہیں اور خواتین سرکاری افسران کو گھروں پر رہنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں وزارتیں موثر طور پر کام نہیں کررہی ہیں اور سابق حکومت میں شامل سرکاری ملازمین کو اپنے نئے سربراہوں کے ہمراہ کام کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

مزید براں طالبان کی امارت اسلامیہ آبادی کے مصائب پر غور و خوض میں بھی زیادہ دلچسپی رکھتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ ایک طرف تقریباً نصف کے قریب آبادی شدید نوعیت کی غذائی قلت کا شکار ہے جبکہ طالبان کا وزیراعظم ذمہ داری سے انکاری ہے اور کہتا ہے کہ انہوں نے آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ اس کے بجائے اس حکومت کی ترجیح شہریوں خاص کر خواتین اور بچیوں کے حقوق اور آزادی پر انتہائی نوعیت کی اور سخت پابندیاں کرنے میں رہی ہے جس کا نتیجہ عوام کے حکومت مخالف جذبات میں اضافے کی شکل میں ہوا ہے۔ دریں اثنا، طالبان حکومت کمزور ترین طبقوں خاص کر شیعہ ہزارہ اور سکھوں کو دولت اسلامیہ خراسان (آئی ایس کے پی) جو طالبان کی اقتدار میں آمد کے بعد سے پھیل چکے ہیں، ان کے حملوں سے بچانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ یوناما کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے پہلے دس ماہ کے دوران ملک بھر میں آئی ایس کے پی کے حملوں کے نتیجے میں تقریباً ۲۰۰۰ شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ گروہ تعداد اور طاقت کے اعتبار سے پھل پھول رہا ہے لہذا یہ ملکی استحکام جو پہلے ہی نازک ہے، اس کے لیے انتہائی شدید نوعیت کا خطرہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب عوام کو دہشت زدہ رکھنا اور انہیں اپنے قابو میں رکھنے کے لیے تشدد کا استعمال بدستور طالبان حکومت کا خاصہ ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ انہیں محدود پیمانے پر حمایت دستیاب ہے، طالبان اپنی حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی مخالفت کو بغاوت قرار دیتے ہیں اور اسے دبانے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اظہار رائے کی آزادی اور جلسے جلوس پر پابندی عائد کی ہے اور مظاہرین کے خلاف تشدد کا استعمال کیا ہے۔ طالبان نے پنج شیر، بغلان اور بلخاب میں مسلح جدوجہد کو کچلنے کے لیے شہریوں پر بدترین مظالم ڈھائے اور انسانی حقوق کی شدید پامالی کی گئی۔ یہ اقدامات مایوس عوام کو مزید منحرف کر دیں گے جو نہ صرف مسلح جدوجہد کو بڑھاوا دے سکتا ہے بلکہ آئی ایس کے پی کو بھی نئی بھرتیوں کا موقع دے سکتا ہے، اور اس کا ثبوت گزشتہ حکومت کی وہ غلطیاں ہیں جنہوں نے طالبان کی شورش میں کردار ادا کیا تھا۔

طالبان کے حکومت چلانے میں نااہلی نے انسانی بحران کو ابتر کردیا ہے، عوام میں غم و غصے کو بڑھایا ہے، مسلح جدوجہد میں اضافہ کیا ہے اور آئی ایس کے پی کے بڑھتے خطرات میں حصہ ڈالا ہے۔ ان کی حکومت افغانستان کو زیادہ غیر مستحکم کرتی اور سیاسی ابتری کی جانب لے جاتی دکھائی دیتی ہے جس کے پورے خطے کے استحکام پر لامحالہ منفی اثرات ہوں گے۔

خطے کے لیے اثرات

طالبان جہاں اپنے اقتدار پر قبضے کا پہلا برس مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں وہیں ان کے اقتدار کو علاقائی ریاستوں سمیت کسی بھی ملک نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے۔ خطے اور اس سے باہر کی دنیا میں روابط اور تسلیم کروانے کے خواہاں طالبان نے مسلسل اور بار بار یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ افغانستان ان کی زیر نگرانی عالمی برداری کا ایک ذمہ دار رکن رہے گا، وہ دہشت گرد گروہوں کو پناہ نہیں دیں گے اور کسی گروہ کو دوسرے ممالک کے خلاف افغانستان کی زمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ تاہم یہ ایک سالہ دور حکومت ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل اور خطے میں دیگر ممالک کے لیے خطرے کا بڑا ذریعہ بن رہا ہے ۔

اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی ۳۰ویں رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے اور انہیں آزادانہ نقل و حرکت اور تربیتی کیمپس لگانے سمیت مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کی آزادی حاصل ہے۔ ان کے اراکین اور جنگجو مبینہ طور پر طالبان کی حکومت میں عہدیدار ہیں، طالبان کے جنگی یونٹوں کا حصہ ہیں اور حتیٰ کہ ان کے لڑاکا یونٹوں کی قیادت بھی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر طالبان نے جماعت انصاراللہ کے کمانڈر مہدی ارسلان اور اس کے ساتھیوں کو پانچ ڈسٹرکٹس کی حفاظت کا ذمہ دیتے ہوئے تاجکستان کے ساتھ سرحد پر تعینات کیا ہے۔

طالبان نے تسلسل کے ساتھ یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایکشن لینے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔ اپنے گزشتہ دور حکومت سے ان کے غیر ملکی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں جو شورش کے دوران اور تاحال جاری ہیں۔ کابل کے عین مرکز میں الظواہری کی میزبانی یہ عندیہ دیتی ہے کہ القاعدہ قیادت کہ جس کی موجودگی کی قیمت خود کو تسلیم کروانے میں ناکامی اور اپنی بقا کی صورت میں چکانی پڑ سکتی ہے، اگر طالبان اس کو پناہ دینے پر رضامند ہیں تو ایسے میں ان کا دیگر دہشت گرد گروہوں سے تعلقات ختم کرنا یا ان کے خلاف کارروائی کرنا بہت مشکل ہے۔ نظریاتی وابستگی کے علاوہ بہت سے عوامل نے دہشت گرد تنظیموں کے ہمراہ ان کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ غیرملکی عسکریت پسند دہائیوں سے طالبان کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں جس دوران ان کے مابین ذاتی مراسم پیدا ہو چکے ہیں جس میں آپس میں شادیاں بھی شامل ہیں۔ وہ طالبان کے امیر کے ہاتھوں پر بیعت بھی کر چکے ہیں اور طالبان جنگجوؤں میں انہیں مقبولیت حاصل ہے۔ لہذا ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کو نہ صرف جہادی بھائی چارے سے دھوکہ دہی سمجھا جائےگا بلکہ یہ طالبان کے مابین اندرونی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے جس کا نتیجہ اختلاف رکھنے والوں کی آئی ایس کے پی میں شمولیت کی صورت میں ہو سکتا ہے۔

آئی ایس کے پی وہ واحد دہشت گرد گروہ ہے جس کے خلاف طالبان کارروائی کر رہے ہیں۔ تاہم طالبان اس سے وابستہ خطرات کو محدود کرنے میں نااہل ثابت ہوئے ہیں۔ اپنی کارروائیوں کا دائرہ افغانستان سے بڑھا کے زیادہ وسیع خطے تک پھیلانے کا خواہش مند یہ گروہ افغانستان کے اندر سے وسط ایشیائی پڑوسیوں خاص کر تاجکستان اور ازبکستان کے خلاف راکٹ حملے کرنے کی صلاحیت کا کامیاب مظاہرہ کر چکا ہے۔ آئی ایس کے پی کی صلاحیتیں اگرچہ ابھی محدود ہیں تاہم مالی وسائل کی دستیابی اور طالبان کی جانب سے عوام کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں یہ پھیلنے کا امکان رکھتا ہے۔

مستقبل میں عدم استحکام

افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی موجودگی جنہیں طالبان کی بھرپور حمایت حاصل ہے، خطے کے لیے خطرے کی علامت سمجھی جانی چاہیئے۔ طالبان بار بار یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ دیگر جہادی گروہوں اور سابق اتحادیوں کی حمایت ترک کرنے کے بجائے خطرات مول لینے کے لیے تیار ہیں، لہذا ان کے خلاف ان کے کارروائی کرنے کا امکان نہیں ہے۔ چونکہ یہ گروہ اپنے ملک میں اقتدار پر قبضے کے لیے طالبان کی فتح سے متاثر دکھائی دیتے ہیں، ایسے میں امارات اسلامیہ طالبان کی مضبوطی خطے میں دہشت گردی اور اسلامی بنیاد پرستی پھیلا سکتی ہے۔

خطے کے ممالک کو اپنے مختصر المدتی مفادات کی خاطر طالبان سے رابطے قائم کرتے ہوئے اس کے طویل المدتی اثرات کے حوالے سے چوکس رہنا چاہیئے۔ بعض علاقائی ریاستیں جیسا کہ پاکستان، چین اور بھارت اس امید کے ساتھ طالبان سے رابطے میں ہیں کہ یہ گروہ ان جہادی گروہوں سے وابستہ خطرات کو کم کرسکتا ہے کہ جن سے انہیں تشویش ہے۔ طالبان اپنے بعض مطالبات بشمول خود کو تسلیم کروانے کے مطالبے کے عوض عارضی طور پر ایسا کر سکتے ہیں۔ تاہم اس امر کے علاوہ کہ یہ عمل طالبان کو دیگر علاقائی ریاستوں پر برتری دے گا، طالبان طویل مدت میں غیرملکی عسکریت پسند گروہوں کو زیرقابو رکھنے پر رضامندی سے انکاری اور ان پر اپنا اختیار قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں، خاص کر ایسے میں کہ جب یہ گروہ خطے میں کاروائیوں کی منصوبہ بندی اور حملے کرنے میں ان کی صلاحیتیں بڑھاتے بھی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان طالبان کے وجود میں آنے کے وقت سے ان کی حمایت کرتا ہے ۔ اس کے باوجود طالبان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو سیزفائر سے قبل پاکستان پر حملے کرنے سے باز نہیں رکھا یا ایسا نہیں کر سکے۔ 

علاقائی ممالک نے جہاں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیا ہے وہیں انہیں ایسے کسی اقدام سے بھی باز رہنا چاہیئے جو اس کی مضبوطی کا سبب بنے۔ مزید یہ کہ اگرچہ تمام علاقائی ریاستیں افغانستان میں تمام دھڑوں کی نمائندگی کی حامل حکومت کے قیام کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہیں، انہیں طالبان پر مربوط دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اس ربط کی کمی طالبان کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ ایک ریاست کی حمایت کو دیگر کی جانب سے دباؤ کے خلاف بطور ڈھال استعمال کرسکیں۔ 

علاوہ ازیں، اگرچہ الظواہری کی ہلاکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی “افق پر نمودار” ہو رہی ہے تاہم مزید ایک حملے سے بچنے کے لیے امریکہ کو یورپی یونین، اقوام متحدہ اور علاقائی ریاستوں کے ہمراہ مل کے کام کرنا چاہیئے تاکہ طالبان پر تمام دھڑوں کی نمائندہ حکومت قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ حکومت بذات خود عدم استحکام کے ذرائع سے نمٹنے کی اہل اور آمادہ ہو سکتی ہے۔ افغانستان کو باقی ماندہ خطے کے لیے مسائل پیدا کرنے سے باز رکھنے کے لیے عالمی برادری کے اراکین، علاقائی ریاستوں، امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ہمراہ مل کے کام کر سکتے ہیں تاکہ انسانی حقوق کی پامالی کی جانب زیادہ بڑے پیمانے پر توجہ مبذول کروائی جا سکے اور طالبان کو ہمہ گیر نمائندہ حکومت کی جانب قدم بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ تاحال طالبان نے خود کو تبدیل کرنے پر آمادگی کا معمولی اشارہ ہی دیا ہے تاہم موجودہ نظام کو جوں کا توں تسلیم کرلینے اور ناقص طرز حکمرانی کے خلاف مشترکہ دباؤ جاری نہ رکھنے کی صورت میں دہشت گردی کے امکانات اور اقلیتوں کو لاحق خطرات میں طویل مدت میں اضافہ ہو جائے گا۔

***

Click here to read this article in English. 

Image 1: Javed Tanveer via Getty Images

Image 2: Angelos Tzortzinis via Getty Images

Share this:  

Related articles

افغانستان میں ہندوستان کی عملیت پسندی کیوں کام کر سکتی ہے؟ Hindi & Urdu

افغانستان میں ہندوستان کی عملیت پسندی کیوں کام کر سکتی ہے؟

 اگست ۲۰۲۲ میں، ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر…

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین Hindi & Urdu

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین

 پاکستان کی قومی شناخت آزادی کے وقت سے ہی اسرار…

 عسکری ادارے اور ماحولیاتی تبدیلیاں: پاکستان کی صورتحال Hindi & Urdu

 عسکری ادارے اور ماحولیاتی تبدیلیاں: پاکستان کی صورتحال

نومبر ۲۰۲۱ میں دنیا بھر سے سفارت کار و رہنما…