Rupee-photo

 موسم گرما کے دوران پاکستان کی معیشت ڈھانچہ جاتی کمزوریوں، کووڈ۱۹ وبا کے چھوڑے ہوئے اثرات نیز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مابین ٹکراؤ کے سبب انتہائی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہی۔ دریں اثناء سابق وزیراعظم عمران خان اپریل میں بذریعہ تحریک عدم اعتماد اپنی بے دخلی کے بعد سے عوام میں اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں جس سے ملک داخلی تقسیم میں مزید الجھتا جا رہا ہے۔ اس ارتقاء پذیر معاشی و سیاسی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے ساؤتھ ایشین وائسز نے عزیر یونس کو ان رجحانات پر ایس اے وی کی ادارتی ٹیم کے ہمراہ گفتگو کے لیے مدعو کیا۔ مندرجہ ذیل گفتگو میں ہم نے پاکستان کے موجودہ معاشی بحران کے محرکات، پاکستان کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف درج مقدمات اور داخلی ابتری کے معیشت پر ممکنہ اثرات، آئی ایم ایف کا بیل آؤٹ پیکج سمیت بہت سے موضوعات پر گفتگو کی ہے۔ 

عزیر یونس اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشیا سنٹر میں پاکستان انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر ہیں۔ عزیر کاروبار کو عوامی بہبود کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں کمپنیوں کی امداد کرنے والی ایک فرم، دھامری میں روابط و حکمت عملی کے منتظم بھی ہیں۔ یونس جنوبی ایشیائی سیاست اور معاشی مسائل پر ڈان کے لیے باقاعدگی سے لکھتے ہیں نیز بلومبرگ، سی این این اور سی این بی سی ان کی تحاریر شائع کر چکے ہیں اور وہ پاکستانومی نامی پوڈ کاسٹ کے میزبان بھی ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی حالیہ معاشی و سیاسی پیش رفت پر ایس اے وی کے ہمراہ ان کا انٹرویو مندرجہ ذیل میں پڑھیئے۔

آپ گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان کی معیشت کے رجحانات کو کیسے بیان کریں گے؟ پاکستان کی معیشت آج جس مقام پر کھڑی ہے اس میں عالمی سطح کے واقعات جیسا کہ کرونا وبا اورمہنگائی کا کتنا کردار ہے؟

ایک ایسی معیشت جو پہلے ہی تباہی کے دہانے پر تھی، کرونا وبا اس کے لیے ایک شدید دھچکہ تھی جو نتیجتاً پاکستان کی تاریخ میں دوسری بار کساد بازاری کا سبب بنی۔ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کا شعبہ صحت و معیشت میں ردعمل قابل تعریف تھا اور اس نے ملک کو ان بدترین اثرات سے محفوظ رکھا جو ہمیں مثال کے طور پر بھارت جیسے ملک میں دیکھنے کو ملے۔ 

لیکن حکومت نے ان تکلیف دہ اصلاحات کو متعارف کروانے کا وہ موقع ضائع کر دیا جو اس بحران کی وجہ سے اسے ملا تھا اور اس نے پاکستان کی اپنی معاشی قیود کو نظرانداز کرنا شروع کر دیا۔  اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈھانچہ جاتی کمزوریاں اپنی جگہ بدستور رہیں اور جب عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوا تو پاکستان کی معیشت ایک بار پھر کھائی میں جا گری۔

لہذا، اگرچہ عالمی جھٹکوں نے پاکستان میں مسائل کو مزید ابتر کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ سارقیت کا شکار ملک کی معیشت جس میں اصلاحات اور تنظیم نو کے لیے گزشتہ تین دہائیوں سے کچھ نہیں کیا گیا، اس نے اس بدترین طوفان کے لیے حالات پیدا کیے جس میں آج ملک گھرا ہوا ہے۔

آج قومی منظرنامے پر جو سیاسی بے یقینی ہم دیکھ رہے ہیں، اس میں پاکستان کی معیشت کا کس قدر کردار ہے؟

حزب اختلاف یعنی پی ڈی ایم کا  اگرچہ یہ موقف ہے کہ وہ خان کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دشواریوں کی وجہ سے نکالنا چاہتے تھے لیکن یہ محض بات برائے بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہمراہ ساز باز کے ذریعے خان کو نکالنا اس لیے ہدف تھا کیونکہ خان نے اس سے پہلے آنے والے وزرائے اعظم کی طرح ان حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کی تھی جو ملک میں کسی بھی سویلین رہنماء  کے لیے متعین ہیں۔

میری نگاہ میں فی الوقت ملک میں جاری سیاسی بے یقینی معاشی مسائل کا باعث ہے کیونکہ یہ سیاسی اشرافیہ کو طویل المدتی معاشی استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہوئے عوام میں مقبول فیصلے کرنے پر مجبور کر رہی ہے ۔ پٹرولیم کے استعمال پر سبسڈی دینے کی تباہ کن پالیسی اس کی ایک مثال ہے۔  خان نے یہ فیصلہ حکومت سے بے دخلی کے وقت کیا تھا جو غالباً انہوں نے ناصرف اپنی حکومت کو مزید مقبول بنانے کے لیے بلکہ اپنے بعد آنے والی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے بھی کیا تھا۔ شریف حکومت نے یہ فیصلہ واپس لینے میں ہفتوں لگا دیے جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ اس چال کے سیاسی اثرات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار تھے۔

نتیجتاً سیاسی افراتفری معاشی عدم استحکام  میں بڑھاوے کا ذریعہ بنی جس سے پاکستان کے لیے معاشی منظرنامہ مزید ابتری کا شکار ہوا اور یہ معیشت کو دیوالیہ پن کے قریب لے آیا۔ 

گزشتہ ہفتے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پاکستان کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس سے ان کی شہرت (جو پہلے ہی بلندیوں پر تھی) اس میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ حکومت اور پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے اس کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟

خان کے خلاف عجیب و غریب مقدمات درج کرنا دراصل اسی سلسلے کا تسلسل ہے جہاں حکومتوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے؛ خان صاحب کی اپنی حکومت بھی اسی قسم کے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتی رہی ہے۔ جنوبی ایشیائی سیاست میں عوام  اس رہنما کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں جسے وہ ایک بلند تر مقصد کے لیے مصائب کا نشانہ بنتے دیکھتے ہیں۔  کسی بھی سیاسی رہنماء کی مقبولیت کو بڑھانے میں یہ ہتھکنڈے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں، اس کی مثال خود پاکستان کی اپنی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔

یہ مقدمے درج کرنا صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والے سیاسی میدان میں خان کے عروج کو چوٹ پہنچانے کے حوالے سے پراعتماد نہیں ہیں اور اسی لیے وہ انسداد دہشت گردی مقدمات کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ اقدامات محض عدم استحکام میں اضافہ کریں گے اور ملک کی پالیٹکل اکانومی کو غیرمتوازن رکھیں گے۔

جیسا کہ پاکستان متعدد خلیجی ممالک سے قرضوں کے علاوہ آئی ایم ایف سے ۱.۲ بلین ڈالر کی قسط وصول کرنے میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے، آپ موجودہ معاشی صورتحال پر اس کے کون سے مختصر اور طویل المدتی اثرات رونما ہوتے دیکھ رہے ہیں؟

مستقبل قریب میں ان رقوم کی آمد سے پاکستان کی معیشت میں استحکام کی امید ہے۔  تاہم طویل دورانیے میں معاشی منظرنامے میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے معیشت میں اصلاحات کے لیے کوئی نمایاں قدم نہیں اٹھایا ہے۔ درحقیقت وہ شعبے جہاں پہلے ہی ٹیکس کی مقدار کم ہے جیسا کہ پرچون اور جائیداد کی خرید و فروخت، ان کے معاملے میں یہ حکومت پیچھے ہٹ گئی ہے۔ 

 

 

یہ پاکستان کی معیشت کو مستقل درپیش مسائل میں سرفہرست ہیں؛ لہذا جب تک ان مسائل سے نہیں نمٹا جاتا تب تک یہ ملک بیرونی عناصر اور ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا مستقل شکار ہوتا رہے گا۔

کیا ایسے کوئی اشارے مل رہے ہیں کہ وہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات متعارف کروائی جائیں گی کہ جن کی بدولت پاکستان کو مستقبل میں بیرونی امداد کی ضرورت نہ رہے؟ ایسا کیا کرنا ہوگا کہ جس سے آئی ایم ایف کا یہ پیکج آخری ثابت ہو؟

اس کا مختصر جواب ہے: نہیں۔ یہ ایک اتحادی حکومت ہے جو عنقریب انتخابات میں جائے گی۔ مزید براں خان صاحب پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ  ان کے پاس ان فیصلوں کے لیے بہت کم سیاسی حمایت دستیاب ہے جو آنے والے دنوں میں تو مہنگے ثابت ہوں لیکن طویل المدتی دورانیے میں ملک کو درپیش مسائل کو حل کریں۔ مزید براں، پاکستان  کی سیاسی و غیر سیاسی اشرافیہ یہاں موجود سارقیت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے والے ایسے اقدامات کیوں اٹھائیں گے جو معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر دے، خاص کر ایسے میں کہ جب ایسا کرنے کی صورت میں وہ اثر و رسوخ، آمدنی اور طاقت بھی کھو دیں گے؟

اس چکر سے نکلنے کے لیے پاکستان کو زندگی، جائیداد اور معاہدوں کو محفوظ بنانے کے لیے بنیادی اقدامات سے شروع کرتے ہوئے اپنی پوری معیشت کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ یہ زیادہ تر معاشی نہیں بلکہ سیاسی مسائل ہیں۔ معاشی میدان میں نکتہ آغاز ٹیکس پالیسی ہونا چاہیئے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے زرعی آمدنی پر ٹیکس نہ لگانا، غیررسمی تجارت کو نظرانداز کرنا، جائیداد کی خرید و فروخت کے شعبے کو ٹیکسوں سے محفوظ رکھنا اور تنخواہ دار طبقے اور پیداواری شعبے پر ٹیکسوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بالواسطہ ٹیکس لگاتے رہنا انتہائی غلط ہے۔

یہ پالیسی پوری معیشت کو غیر متوازن کر دیتی ہے جس میں سرمایہ ایسے غیر پیداواری شعبوں کی جانب منتقل ہو رہا ہے جو معیشت کی کل پیداواری صلاحیت کو نہیں بڑھاتے ہیں۔ نتیجتاً ملک ایسی مصنوعات نہیں تیار کر پا رہا ہے جو باقی کی دنیا خریدنا چاہتی ہے جبکہ ان غیر ٹیکس شدہ شعبوں سے ہونے والی آمدنی درآمدات کی بڑھتی مانگ کا سبب بن رہی ہے۔

پاکستان کے سیاسی و معاشی فیصلہ ساز سری لنکا میں معاشی بحران اور بنگلہ دیش میں معاشی سست روی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا ایسے کوئی خدشات ہیں کہ اگلا نشانہ پاکستان ہو سکتا ہے؟

ایک ایسا مختصر وقفہ آیا تھا کہ جب پاکستان کے اندر اور باہر بہت سے تجزیہ کار، بشمول میرے سری لنکا جیسا نتیجہ سامنے آنے سے خوفزدہ تھے۔ میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ معاشی تباہی کے اجزاء اب بھی موجود ہیں، لیکن غالباً پاکستان ”ٹو بگ ٹو فیل“ ہے، یعنی یہ اتنا بڑا یا اہم ہے کی اسے ناکام ہونے نہیں دیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے قرضہ ملتا رہتا ہے۔ پاکستان میں اشرافیہ بھی یہی نکتہ نگاہ رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ غلط فیصلے کرتے ہیں جو انہیں قرضوں کے لیے آئی ایم ایف اور دوست ممالک کے دروازے تک لے جاتا ہے۔

تاہم یہ ادراک بڑھ رہا ہے کہ موجودہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار نہیں رکھی جا سکتی ہے۔  موجودہ وزیر خزانہ متعدد مواقع پر کھلے عام یہ کہہ چکے ہیں۔ بدقسمتی سے وہ اور ان جیسے دیگر افراد جو اصلاحات کے حامی ہیں زیادہ وسیع انتخابی حلقوں کے مالک نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بارہا یہ سنتے رہتے ہیں کہ مفتاح اسماعیل عنقریب وزارت سے باہر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کو نکالنے کے لیے خود ان کی جماعت کے اندر سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

لہذا جب تک اشرافیہ اپنے اندر یہ ادراک پیدا نہیں کر لیتی کہ موجودہ صورتحال کو طویل عرصے تک برقرار نہیں رکھا جاسکتا، پاکستان کہ جس کی معیشت کو تیس برس تک جمود کا تجربہ ہو چکا ہے، وہاں بحران جاری رہے گا۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Asim Hafeez/Bloomberg via Getty Images

Image 2: U.S. Institute of Peace via Flickr

 

Share this:  

Related articles

<strong>پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز</strong> Hindi & Urdu

پاکستان میں پناہ گزینوں کے نظم و نسق کو درپیش چیلنجز

اگست ۲۰۲۱ میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے…

<strong>پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  </strong> Hindi & Urdu

پاک امریکہ تعلقات کے ۷۵ برس: تسلسل کو برقرار رکھنا  

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ۲۹ ستمبر کو…

<strong>پاکستان کی نئی حکمت عملی: ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تعاون</strong> Hindi & Urdu

پاکستان کی نئی حکمت عملی: ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تعاون

جنوری ۲۰۲۱ میں پاکستان نے اپنی پہلی قومی سلامتی پالیسی…