37063612554_d68bcfc6c0_k-1095×616

نومبر ۲۰۲۱ میں دنیا بھر سے سفارت کار و رہنما ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور پیرس معاہدے و یو این فریم ورک کنوینشن برائے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اہداف کی جانب سفرمیں تیزی لانے کے لیے  کوپ ۲۶ سمٹ کے تحت  ملاقات کی۔ اس اجلاس کا کلیدی اور ماحولیاتی تبدیلی پر بحث کا عمومی نکتہ  گرین ہاؤس گیس (جی ایچ جی) جو کہ عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے لیے ذمہ دار ہے، اس کے اخراج کی روک تھام اور اس میں کمی تھا۔ عسکری اخراج، جی ایچ جی کا ایک ذریعہ ہونے کے سبب اس امر کے تخمینے کو انتہائی اہم بنا دیتا ہے کہ عسکری قوت میں اضافہ کرنے والی ریاستیں عالمی ماحول کو تباہ کرنے میں کیسے حصہ ڈال رہی ہیں۔ عسکری اخراج  کے بارے میں مواد کی کمیابی کے سبب  اس حد کا تعین مشکل ہے کہ جہاں تک  ماحولیاتی مسائل کی ابتری میں عسکری ادارے عالمی سطح پر کردار ادا کر رہے ہیں تاہم عسکری بجٹ میں بیش بہا اضافہ اور قومی سلامتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اس کے حجم میں  پھیلاؤ یہ تجویز کرتا ہے کہ عسکری اخراج کا سلسلہ دنیا بھر میں بڑھتا رہے گا۔ پاکستان جس نے مالی سال ۲۰۲۱-۲۲ کے لیے دفاعی بجٹ میں ۶.۲ فیصد اضافہ کیا ہے جس میں ملک کی دفاعی صنعت کی معاونت کرنے والے ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن کے بجٹ میں ۱۱ فیصد اضافہ شامل ہے، اس صورتحال سے مثتثنیٰ نہیں۔  یہ امر عسکری اخراج کو زیر بحث لانے کو اہم بناتا ہے تاکہ کاربن کے صفر اخراج کی عالمی مہم میں انہیں جواب دہ بنایا جا سکے۔

ماحولیاتی تبدیلی اور تنازعہ

عسکری اخراج کی بڑی مقدار عسکری بیس آپریشنز اور سازوسامان کے استعمال کے لیے نامیاتی ایندھن جلانے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں حالت جنگ اور حالت امن دونوں ادوار میں ہونے والے عسکری آپریشنز شامل ہیں۔ اسلحے کی صنعت اور خام مال نکالنے میں شامل سپلائی چین کی جانب سے توانائی کے اس استعمال کے علاوہ، اسلحہ کی تیاری و حصول، دوران آپریشنز عسکری سازوسامان کا استعمال نیز ناکارہ یا مدت پوری کرنے پر تلف کیا گیا سامان (بشمول عسکری فضلہ) انتہائی نوعیت کی کاربن کی حامل سرگرمیاں ہیں۔ اضافی عسکری سازو سامان مثلاً گولہ بارود اس  میں مزید  حصہ ڈالتے ہیں  جسے عموماً دھماکے یا کھلے گڑھوں میں جلا کے تلف کیا جاتا ہے اور یوں ہوا آلودہ ہوتی ہے اور جی ایچ جی خارج ہوتی ہے اور زمین آلودہ ہوتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور عسکری جی ایچ جی اخراج کے درمیان ایک متضاد تعلق بھی ہے۔ شدید ترین ماحولیاتی مظاہر مثلاً سیلاب، خشک سالی، موسمی شدت، سطح سمندر میں اضافہ و دیگر عناصر تنازعے کے خطرات میں مزید اضافے کا باعث ہوتے ہیں اور جیسے جیسے ماحولیاتی تبدیلی کا تنازعے کے ساتھ تعلق گہرا ہوتا ہے، اس عدم استحکام کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاستوں کا افواج پر انحصار کا امکان بڑھتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور عسکری کردار پر مباحثے میں پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر اہم مثال کی حیثیت رکھتا ہے کہ جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے سامنے بڑی حد تک بے بس ہونے کے باوجود ملک کے مجموعی اخراجات کے بیس فیصد کے برابر عسکری بجٹ رکھتا ہے۔

پاکستان نے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز (ایس ڈی جیز) کے تحت برسہابرس کے دوران اٹھائے گئے ماحولیاتی اقدامات کے نتیجے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پاکستان گلوبل وارمنگ میں معمولی (جی ایچ جی  کے فقط  ۰.۸ فیصد کا) حصہ دار ہے لیکن امکان ہے کہ اس کا کاربن اخراج ۲۰۳۰ تک ۳۰۰ فیصد تک بڑھ جائے گا۔ مزید براں مئی ۲۰۲۱ کی ”ماحولیاتی خطرات سے دوچار ممالک“ کی فہرست میں پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ۱۹۱ ممالک میں ۱۸ ویں نمبر پر تھا۔ اس صدی کے اختتام تک پاکستان کے اوسط درجہ حرارت میں بھی دنیا کے اوسط  ۲.۷ ڈگری سیلسیس کے مقابلے میں نمایاں زیادہ اضافہ متوقع ہے جو کہ  پاکستان کی معیشت اور معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔

 پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات میں کمی کی بین الاقوامی کوششوں میں حصہ ڈالنے کی اپنی ذمہ داری سے باخبر ہے اور اسی کی وجہ سے ملک میں اس شعور میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی قومی سلامتی کا معاملہ ہے جو زراعت، صنعت، اقتصادی ترقی، معاشرے اور جنسی  تحفظ کے لیے خطرناک ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے سامنے پاکستان کی کمزوری، ان اثرات میں تخفیف کے لیے قومی سطح کی کوششوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔  ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متعدد منصوبے اور اہداف پہلے سے موجود ہیں۔ اس کے باوجود پیش رفت انتہائی سست ہے۔ اور سب سے اہم امر یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور عسکری سرگرمیوں کے درمیان تعلق عوام سطح پر بحث سے بڑی حد تک مفقود ہے۔

عسکری اخراج کی مباحثے میں شمولیت

 پاکستان کا فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس ڈاکٹرائن روایتی و جوہری طاقتوں پر مبنی ہے جسے ملک بھر میں پھیلے چالیس عسکری بیسز کے ذریعے برقرار رکھا جاتا ہے۔ ان بیسز کے آپریشنز، بحالی و مرمت اور طاقت کے استعمال کی حکمت عملی جی ایچ جی اخراج میں حصہ ڈالتے ہیں۔ ڈیٹرنس کی اس حکمت عملی پر عمل اور اسے برقرار رکھنے کے لیے نامیاتی ایندھن کو جلانا اس میں بڑے حصہ داروں میں سے ایک ہے۔ گو کہ عسکری بیسز اور سازوسامان کے لیے ایندھن کی ضروریات کے اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں، لیکن اس کے کردار کا اندازہ ان عمومی تخمینوں سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک گیلن ڈیزل تقریباً ۱۰.۲ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتا ہے، ایک بکتربند ٹرک فی مشن ۲۶۰ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتا ہے اور ایک لڑاکا طیارہ جیسا کہ ایف-۳۵ فی مشن ۲۷۸۰۰ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتا ہے۔

مزید براں سپری کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ۲۰۱۶-۲۰۲۰ کے درمیان ایشیا میں اسلحے کے سب سے بڑے درآمدکندگان میں شامل رہا ہے اور دنیا بھر میں اسلحہ درآمدکندگان کی فہرست میں۲.۷  فیصد کے حصے کے ساتھ دسواں بڑا ملک رہا ہے۔ چین، روس اور اٹلی ،پاکستان کو اسلحہ برآمد کرنے والے اہم ترین ملک ہیں۔ ترکی نے بھی حال ہی میں پاکستان کے ہمراہ عسکری سازوسامان کی مشترکہ پیدوار کے منصوبوں کے ساتھ اس میدان میں قدم رکھا ہے۔ ان برآمدکنندگان نے ۲۰۱۵ کے پیرس معاہدے کے تحت اخراج میں تخفیف کا عزم کررکھا ہے تاہم اس سپلائی چین کے  کاربن سے پاک ہونے کا دور دور تک کوئی نشان نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق جہاز رانی اور فضائی سفر (بشمول سول اور عسکری) کے شعبوں میں اگر روک تھام نہ کی گئی تو ۲۰۵۰ تک یہ عالمی سطح پر جی ایچ جی اخراج کے ۴۰ فیصد کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی عسکری افواج اسلحے کی اس سپلائی چین کا حصہ ہیں جو عسکری سازو سامان کی تیاری سے لے کر ترسیل تک اور درآمد شدہ عسکری سامان کے استعمال تک کاربن سے متعلقہ شدید نوعیت کی سرگرمیوں پر مبنی ہے۔

پاکستان، خود کو اسلحہ برآمد کرنے والوں کے برعکس، عسکری عوامل کے سبب ہونے والے عالمی جی ایچ جی اخراج میں معمولی حصہ دار ہے۔ تاہم  جوابی وار کی صلاحیت کے ضمن میں پاک بحریہ کا ارتقائی کردار، کراچی نیول شپ یارڈ کا جدید خطوط پر استوار کیا جانا، موجودہ بحری بیڑوں کی تجدید اور ان میں اضافہ، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی ترقی اور بڑھتے ہوئے بحری اڈوں اور اسٹیشنز کے فضائی دفاع اور ہوائی معاونت کی خاطر پاکستان ایئرفورس کا بڑھتا ہوا کردار بحری و فضائی شعبوں پر انحصار میں اضافے کا اشارہ ہے۔ اس سے یہ مطلب اخذ ہوتا ہے کہ ان شعبوں سے اخراج میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید براں کسی بھی قسم کے عسکری سامان کا حصول بھی اپنے ہمراہ کاربن لاتا ہے؛ اس میں بحری جنگی جہاز، آٹھ ہنگور ساختہ روایتی آبدوز، جنگی طیارے، ٹینک، ٹینک شکن میزائل، سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، ایم آئی-۳۵ ایم ہیلی کاپٹرز، اور دیگر عسکری ہتھیار شامل ہیں جنہیں پاکستان اپنے ڈیٹرنس کی مضبوطی اور روایتی جنگ کے لیے اپنی تیاری کو مزید بہتر بنانے کے لیے حاصل کر رہا ہے۔

یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستان اپنے آبدوز کے بیڑے میں تیزی سے اضافے کے باعث ہونے والے عسکری اخراج سے باخبر ہے۔ ۲۰۲۳ تک اس بیڑے میں ۱۱ ایس ایس کیز شامل ہوں گی جو کہ تمام کی تمام  ایئر انڈیپینڈینٹ پروپلشن (اے آئی پی) ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی روایتی آبدوزوں کو زیادہ عرصے تک گہرائی میں رہنے، انتہائی معمولی صوتی اثرات پیدا کرنے کے قابل بناتی ہے اور یہ زیادہ ماحول دوست ہے۔ اس میں مقامی طور پر تیار کردہ اور اے آئی پی ٹیکنالوجی سے لیس پی این ایس حمزہ شامل ہے جو کہ ستمبر ۲۰۰۸ میں شامل ہوئی، پی این ایس سعد اور پی این ایس خالد جنہیں ۲۰۱۱ میں اے آئی پی ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا جبکہ آٹھ آبدوزیں جن کی  پاکستان کے لیے تیاری پر چین نے رضامندی ظاہر کی ہے، اے آئی پی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ اس کے باوجود، عسکری سرگرمیوں کو کاربن سے پاک کرنے کا عمل برق رفتاری سے مکمل نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ پیش کی جا سکتی ہے کہ بحری و بری جہاز بشمول ان کے جو پاکستان کے ہیں، ان کی زندگی دیرپا ہوتی ہے اور جو کاربن کے شدید نوعیت کے اخراج کی حامل ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتے ہیں اور کاربن سے پاک ہونے کے امکان کو ملتوی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک اندازے کے مطابق ایک بحری جہاز کی عمر ۳۰ برس ہوتی ہے جس میں وسط عمر میں اسے بڑی سطح پر اپ گریڈ کرنے کا عمل شامل ہوتا ہے اور یا پھر اس اپ گریڈ کے بغیر اس کی عمر ۲۰ برس ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک جے ایف ۱۷ لڑاکا طیارہ تقریبا ۴۰۰۰ پروازوں (تقریباً ۲۵ برس) کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ میراج طیارہ ۱۵۰۰ گھنٹوں کے برابر پرواز کے لیے تیار کیا جاتا ہے لیکن میراج  ۴۰۰۰ گھنٹوں کے برابر پرواز کر رہے ہیں۔ بلندی پر پرواز کے دوران فوجی طیارے  لکیر کی صورت میں بادل نما دھواں بھی چھوڑتے ہیں جو کہ نائٹروجن آکسائڈ خارج کرتا ہے جو کہ ماحولیاتی درجہ حرارت کے اضافے میں حصہ ڈالتی ہے۔

پاکستانی افواج کی جانب سے جی ایچ جی اخراج کے مندرجہ بالاممکنہ ذرائع کے علاوہ عسکری فضلہ اور اضافی سامان بھی ایک اہم ذریعہ ہیں۔ معلومات تک عام رسائی نہ ہونے کے سبب یہ تخمینہ لگانا ممکن نہیں ہے کہ جی ایچ جی اخراج میں عسکری فضلے کا کس حد تک کردار ہے لیکن سالڈ ویسٹ مینجمنٹ (بشمول کیمیکل اور خطرناک کچرا)  قومی سطح پر قانون سازی، ادارہ جاتی صلاحتیوں اور قومی پالیسی میں کمی کی وجہ سے ملک بھر میں کسی آزمائش سے کم نہیں ہے۔ جہاں تک اضافی عسکری سامان کا تعلق ہے تو وزارت دفاعی پیداوار میں ایک ڈسپوزل ونگ ہے جو اضافی عسکری سامان کو اپنے قبضے میں لیتا ہے۔

 ایک نظرمستقبل پر

عسکری اخراج میں کمی کے لیے کوششوں کے باوجود، اس مسئلے کی نوعیت کے پیش نظر اسلحہ بنانے، بیچنے، خریدنے  والے اور ان کے آپریٹرز کو  سماجی ذمہ داری کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے عسکری  سرگرمیوں پر اثرات میں کمی اور کاربن اخراج میں عسکری کردار میں کمی کے لیے جامع حل انتہائی اہم ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلے بین الاقوامی سطح پر ایک کوشش کی ضرورت ہے تاکہ ریاستیں عسکری اخراج میں کمی کو اپنی ماحولیاتی تبدیلی کی پالیسی کا حصہ بنائیں اور اس بارے میں مطلع کریں۔ کوپ ۲۶ ایسی ہی کوششوں کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے۔ نیٹو کا حالیہ منصوبہ  برائے ماحولیاتی تبدیلی اور سیکیورٹی ایکشن جو عسکری سرگرمیوں اور تنصیبات سے ہونے والے جی ایچ جی اخراج کا تخمینہ لگانے کے لیے طریقہ کار وضع کرتا ہے، ایک حوصلہ افزاء پیش رفت ہے اور اس سے سیکھا جا سکتا ہے۔

عسکری اخراج سمیت جی ایچ جی  اخراج اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کمزوری  کے باوجود بھی پاکستان ماحولیاتی تبدیلی میں کمی کے حوالے سے ایس ڈی جیز کے حصول میں  اپنے متاثر کن ریکارڈ کی ناصرف کوپ ۲۶ و دیگر پلیٹ فارمز پر تشہیر کرسکتا ہے بلکہ دیگر ریاستوں کو اس جانب متوجہ کرنے کے لیے بھی کام کرسکتا ہے کہ وہ عسکری اخراج کو اپنے مباحثوں اور قومی اہداف میں شامل کریں۔ اس ضمن میں پاکستان قیادت کرسکتا ہے۔ مزید براں ماحولیاتی تبدیلیوں کیخلاف قومی سطح  پر مزاحمت کلیدی نکتہ ہے جسے اپنانے اور اس کے نفاذ  کے لیے باہمی تعاون کی حامل فیصلہ سازی، ابلاغ، اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے منسلک قومی و بین الاقوامی متعلقہ افراد میں وسائل کا اشتراک پاکستان کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ قومی سطح پر معاونت کی حامل کوششوں کے علاوہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے، لائحہ عمل میں بہتری اور دنیا کے بہترین طریقوں کو اختیار کرنے کے لیے خود کو نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے موافقت حاصل کرنی چاہیئے۔ یہ اقدامات نہ صرف حالات زندگی کو بہتر کریں گے بلکہ مستقبل کی عسکری سرگرمیوں (کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں) کو بھی ناقابل واپسی ماحولیاتی تباہی سے محفوظ رکھیں گے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Robert Sullivan via Flickr

Image 2: U.S. Army via Flickr

Share this:  

Related articles

افغانستان میں ہندوستان کی عملیت پسندی کیوں کام کر سکتی ہے؟ Hindi & Urdu

افغانستان میں ہندوستان کی عملیت پسندی کیوں کام کر سکتی ہے؟

 اگست ۲۰۲۲ میں، ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر…

طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد: علاقائی خطرات و اثرات Hindi & Urdu

طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد: علاقائی خطرات و اثرات

ایک برس پہلے، ۱۵ اگست ۲۰۲۱ کو طالبان نے کابل…

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین Hindi & Urdu

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین

 پاکستان کی قومی شناخت آزادی کے وقت سے ہی اسرار…