,

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں میں اضافہ

۲۰۲۰ کے ابتدائی نصف کے دوران، بھارت اور پاکستان کے درمیان جموں و کشمیر میں واقع لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی خلاف ورزی کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین ۲۰۰۳ کے سیز فائر معاہدے کے بعد سے تاحال یہ خلاف ورزیوں کی بلند ترین شرح ہے۔ باوجود اس کے کہ دونوں ممالک کووڈ ۱۹ وبا کیخلاف جدوجہد میں مصروف ہیں، سیزفائر کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک سو سے زائد شہری اور فوجی جوان زخمی یا ہلاک ہوچکے ہیں۔ وہ کون سا عنصر ہے جو پاکستان اور بھارت کی سرحد کو اس قدر غیر مستحکم بناتا ہے؟ گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ خلاف ورزیاں کیسے اس قدر شدت اختیار کر گئی ہیں؟

ایل او سی کیا ہے؟

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) جنوبی ایشیا میں واقع سرحد ہے جو بھارتی زیرانتظام کشمیر کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے جدا کرتی ہے۔ بین الاقوامی سرحد جو آزاد ریاستوں کے ماتحت علاقوں کو واضح طور پر بیان کرتی ہے، اس کے برعکس ایل او سی پاکستان اور بھارت کے مابین باہمی تسلیم شدہ لکیر ہے جو کہ علاقے میں سٹیٹس کو کو اس وقت تک برقرار رکھے گی تاوقتیکہ دونوں فریق کشمیر کے علاقائی تنازعے کے کسی حتمی حل پر رضامند نہیں ہوجاتے۔

فی الوقت، جموں و کشمیر (جے اینڈ کے) کے علاقے میں پاک بھارت سرحد تین حصوں میں منقسم ہے: دی انٹرنیشنل ورکنگ باؤنڈری (آئی بی)/ورکنگ بائونڈری (ڈبلیو بی)، ایل او سی اور ایکچوئل گراؤنڈ پوزیشن لائن (اے جی پی ایل)۔ آئی بی، جموں سیالکوٹ سیکٹر (بھارتی پنجاب کے جموں بارڈر سے جموں کے اکھنور سیکٹر تک) ۲۰۱ کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ پاکستان جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا حوالہ دینے کیلئے اسے ورکنگ باؤنڈری کہتا ہے۔ اکھنور سے سیاچن کے علاقے میں پوائنٹ این جے ۹۸۴۲ تک ایل او سی کی لمبائی ۷۴۰  کلومیٹر ہے۔ آخر میں اے جی پی ایل، پوائنٹ این جے ۹۸۴۲ سے اندراکول کے درمیان ۱۱۰ کلومیٹر پر مشتمل ہے اور سیاچن کے علاقے میں بھارتی اور پاکستانی قبضے میں موجود چوکیوں کو تقسیم کرتی ہے۔ ان تین حصوں میں سے، آئی بی/ ڈبلیو بی نقشے پر بھی لکیر کی صورت میں موجود ہے اور اصل میں بھی زمین پرسرحدی ستونوں کی مدد سے اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بھارتی جانب بارڈر سیکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) اور پاکستانی جانب رینجرز اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ایل اوسی نقشے پر موجود ہے مگر زمین پر اس کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ بھارتی اور پاکستانی افواج دونوں جانب اس کی نگرانی کرتی ہیں۔

۱۹۷۲ کے شملہ معاہدہ  نے جموں و کشمیر میں واقع ۱۹۴۹ کی ابتدائی سیزفائر کی لکیر (سی ایف ایل) کوایل او سی سے تبدیل کیا۔ اگرچہ ایل او سی، سی ایف ایل سے مماثلت رکھتی ہے تاہم یہ ۱۹۷۱ کی جنگ کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے مابین متعدد معمولی نوعیت کی علاقائی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مشاہدہ کار (یو این ایم او جی آئی پی) قانون کی رو سے بطور تیسرے فریق سی ایف ایل کی نگرانی کرتے تھے۔ اس کے برعکس، ایل او سی کے تقدس کو برقرار رکھنا سرحد کے دونوں جانب بھارتی و پاکستانی فوجی کے ذمے ہے۔ بھارت نے آئی بی/ ڈبلیو بی اور جموں و کشمیر میں ایل او سی کے مقام پر باڑ تعمیر کی ہے جو سرحدی لکیر (زیرو لائن) سے کہیں ۵۰ گز اور کہیں ۵۰۰ گز تک کے فاصلے  پر ہے۔ مزید براں علاقے کے خدوخال کی وجہ سے بعض دریائی مقامات پر باڑ کی راہ میں رکاوٹ آئی ہے۔

سیزفائر کی خلاف ورزیاں کیا ہیں؟

ایل او سی دنیا بھر میں سب سے زیادہ عسکریت کا حامل، غیر مستحکم بارڈر ہے جہاں بعض مقامات پر بھارتی اور پاکستانی سپاہی ایک دوسرے کے انتہائی قریب پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔ ایل او سی اگرچہ نقشے پر موجود ہے تاہم روئے زمین پر یہ محض تصوراتی لکیر ہے اور ۱۹۷۱ سے خلاف ورزیوں اور حکمت عملی کے تحت استحصال کا نشانہ بنتی آرہی ہے۔ سیز فائر کی خلاف ورزیوں (سی ایف ویز) میں متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی اور سرحد پار فائرنگ دونوں شامل ہیں۔ دونوں فریق، سرحد پار فائرنگ کیلئے چھوٹے ہتھیار اور بھاری ہتھیار جیسا کہ آرٹلری گن اور مارٹر گولے استعمال کرتے ہیں۔ سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا نتیجہ عسکری و شہری آبادی کے مسلسل جانی و مالی نقصان کی صورت میں ہوتا رہتا ہے۔ مزید براں، سرحد پار دہشت گردی کے واقعات اور پاکستانی علاقے سے بھارت میں دراندازی بھی ایل او سی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے ۰۲-۲۰۰۱ کے ٹوئن پیک بحران کے بعد باڑ کی تعمیر جموں و کشمیر کی بھارتی جانب اس قسم کی مداخلت کیخلاف تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہے۔

بھارت اور پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں سیزفائر کی خلاف ورزیوں کو علیحدہ علیحدہ درج کرتی اور اس کی اطلاع دیتی ہیں، نیز پاکستان ان خلاف ورزیوں کی یواین ایم اوجی آئی پی کو مسلسل اطلاع کرتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں جموں و کشمیر میں سیزفائر کی خلاف ورزیوں کے جمع شدہ اعداد و شمار پریس ریلیز، پارلیمانی ریکارڈ اور سالانہ رپورٹس کی صورت میں سالانہ اور وقفے وقفے سے جاری کرتی رہتی ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر باقاعدہ ایسی کوئی دستاویزات موجود نہیں کہ جو ان خلاف ورزیوں کے مقام یا کسی بھی واقعے میں خلاف ورزی کی وجوہات بیان کرسکیں۔

۱۹۷۲ میں ایل او سی کی لکیر کھینچے جانے کے بعد تقریباً ایک دہائی تک سرحد پرامن رہی جبکہ اس دوران کبھی کبھار خلاف ورزیاں ہوئیں۔ ۱۹۸۰ کے عشرے کے اختتام پر سیزفائر کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافہ شروع ہوا اور ۱۹۹۰ کی دہائی میں کشمیر میں شورش میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد بے حد بڑھ  گئی۔ ۲۰۰۱ میں بھارت کی جانب سے سرحد پر اپنے علاقے میں باڑ کی تعمیر کے آغاز کے بعد ایل او سی پار فائرنگ کے واقعات میں شدت آگئی۔ بھارت کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے ۲۰۰۱ میں ۴۱۳۴ مرتبہ، ۲۰۰۲ میں ۵۷۶۵ مرتبہ اور نومبر ۲۰۰۳ تک ۲۸۴۱ مرتبہ سیزفائر کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔

۲۵ اور ۲۶ نومبر۲۰۰۳ کی درمیانی شب پاکستان نے ایل او سی اور انٹرنیشنل باؤنڈری/ ورکنگ باؤنڈری پر جاری جارحیت کے یکطرفہ خاتمے کا اعلان کردیا۔ یہ فیصلہ دونوں طرف کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کے ذریعے سنایا گیا اور سیزفائر معاہدے (سی ایف اے) کے نام سے مشہور ہوا۔ ۲۰۰۳ کا سی ایف اے ایک غیر تحریر شدہ باہمی رضامندی سے طے پانے والا وعدہ ہے جو ایل او سی کے تقدس کو بحال رکھنے نیز ۱۹۴۹ اور ۱۹۷۲ کے معاہدوں کے ذریعے سے جموں و کشمیر میں پاک بھارت سرحد کو پرسکون رکھنے کیلئے طے کئے گئے لائحہ عمل جیسا ہاٹ لائن پر رابطے اور فلیگ میٹنگز کو برقرار رکھنے کیلئے تھا۔

۲۰۰۳ سے سیزفائر کی خلاف ورزیوں کا کیا رجحان رہا ہے؟

۲۰۰۳ کے سی ایف اے کے بعد سے دونوں جانب سے پانچ برس تک سیزفائر کی خلاف ورزیوں کے معمولی واقعات کی اطلاعات دی گئیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات نے سرحد پر امید افزاء نتائج ظاہر کئے تھے۔ تاہم ۲۰۰۸ میں ممبئی حملوں کے نتیجے میں امن عمل میں کمی اور جموں و کشمیر میں سرحد پر سیزفائرکی خلاف ورزی میں اضافہ ہونے لگا۔۲۰۱۳ میں آئی بی/ ڈبلیو بی اور ایل او سی پر خلاف ورزیوں کے واقعات یکدم بڑھ گئے اور بھارت نے پاکستان کی جانب سے ۳۴۷ واقعات جبکہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے ۴۶۴ مرتبہ پابندیوں کی خلاف ورزی کی اطلاع دی۔ اس کے بعد سے ان خلاف ورزیوں میں ہر برس اضافہ ہورہا ہے۔ ۲۰۱۷ میں پاکستان نے بھارت پر ۱۹۷۰ مرتبہ خلاف ورزی کا الزام لگایا جبکہ بھارت نے ۲۰۱۸ میں جموں و کشمیر بارڈر پر پاکستان کی جانب سے ۲۹۳۶ بار خلاف ورزیوں کی اطلاع دی۔ سی ایف اے پر دستخط کے بعد گزشتہ پندرہ برس میں یہ خلاف ورزیوں کی بلند ترین تعداد تھی۔

 بھارت اور پاکستان نے ادارہ جاتی طریقہ کار (مثلاً احتجاجی مراسلے، مقامی کمانڈروں کے مابین فلیگ میٹنگز، ہاٹ لائن رابطے اور ڈی جی ایم او کی سطح کے مذاکرات) کے علاوہ سیزفائر کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کیلئے سیاسی و سفارتی ذرائع بروئے کار لانے اور پس پردہ ذرائع کے ذریعے مذاکرات کی بھی کوشش کی ہے۔ ۲۰۰۳ کے سی ایف اے کے نفاذ کے بعد مئی ۲۰۱۸ میں بھارت نے جموں و کشمیر میں ”نان انیشی ایشن آف کمبیٹ آپریشن“ کا اعلان کیا جسے رمضان سیزفائرقرار دیا گیا۔ تاہم جلد ہی جارحیت دوبارہ پھوٹ پڑی جس کے بعد ۲۰۱۹ اور ۲۰۲۰ میں سیزفائر کی خلاف ورزیوں میں شدت آگئی۔

پاک بھارت سرحد پر سیزفائر کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کی حرکیات کے بارے میں ڈاکٹر ہیپی مون جیکب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں سرحد پر خلاف ورزیاں بنیادی طور پر تین عناصر کا نتیجہ ہیں:اولاً، کارفرما زمینی حقائق جیسا کہ دفاعی تعمیرات، غلطی سے سرحد پار کیا جانا، باڑ کی تعمیر جو یا تو ابہام یا پھر سرحدی انتظامات کے لئے ادارہ جاتی لائحہ عمل کی کمی کا نتیجہ ہیں؛ دوئم، خود مختارعسکری عناصر جیسا کہ قیمتی زمینوں کو ہتھیا لینا یا پھر سرحد کے دوسری جانب نئے دستوں کا تجربہ کرنا؛ سوئم سیاسی عناصر، جیسا کہ مقامی انتخابات یا جموں و کشمیر کے سیاسی دورے۔ یہ عناصر، بھارت میں پائے جانے والے  اس عام بیانئے کہ سیزفائر پابندی کی خلاف ورزی عموماً پاکستان سے ہونے والی دراندازی پر پردہ ڈالنے کیلئے ہوتی ہے اور پاکستانی بیانئے کہ بھارت سرحد پر بلااشتعال سیزفائر کی خلاف ورزیاں کرتا ہے، پر سوال اٹھاتے ہیں۔ سیزفائر کی خلاف ورزی کو، اگرچہ دونوں ممالک کے مابین سیاسی و سفارتی حل تلاش کئے جانے تک دباؤ کو کسی حد تک کم رکھنے کا ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے تاہم جیکب یہ دلیل دیتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں جاری سیزفائر کی خلاف ورزیاں بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی و عسکری تناؤ کو بڑھانے کی طاقت رکھتی ہیں۔ یہ بہت سی وجوہات کی بنا پر ممکن ہوسکتا ہے بشمول ”جیسے کو تیسا“ جیسے اقدامات، ردعمل دینے کیلئے داخلی سطح پر سیاسی دباؤ، غیر ارادی طور پر اشتعال انگیزی وغیرہ جو کہ پہلے سے موجود بحران کو شدید بنا سکتے ہیں یا دوطرفہ تنازعوں کو وسیع تر کرسکتے ہیں۔ دو طرفہ سیاسی تعلقات بھی سیزفائر کی خلاف ورزی کی نوعیت طے کرنے میں ایک اہم عنصر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر جامع مذاکرات (۲۰۰۷-۲۰۰۴) کے دوران خلاف ورزیاں انتہائی کم رہیں۔ ۲۰۱۹ میں بھی بھارت کی جانب سے مطلع کی گئی ۳۲۸۹ خلاف ورزیوں  میں سے ۱۵۸۶ بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی  حیثیت کے حوالے سے آئین کی شق ۳۷۰ کی ۵ اگست ۲۰۱۹ کو منسوخی کے بعد واقع ہوئیں۔

ایل اوسی پر موجودہ صورتحال کیا ہے؟

جموں و کشمیر سرحد پر ۲۰۱۸ کے بعد سے ہر برس سیزفائر پابندیوں کی خلاف ورزی کے واقعات بلند ترین سطح پر پہنچ جاتے ہیں۔ خود ۲۰۲۰ کے ابتدائی نصف میں بھارت نے پاکستان کی ۲۴۰۰ سے زائد خلاف ورزیوں کی اطلاع دی جبکہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے ۱۶۰۰ سے زائد خلاف ورزیوں کی شکایت کی ہے۔ سیزفائر کی خلاف ورزیوں کی تعداد میں اضافے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے مابین ۲۰۰۳ میں قبول کیا گیا ان دیکھا معاہدہ سی ایف اے اب متروک ہوچکا ہے۔ اس کی نشاندہی اس امر سے ہوتی ہے کہ اب دونوں ممالک  کے مرکزی ذرائع ابلاغ میں سی ایف اے کا حوالہ ”سیزفائر پراتفاق رائے“ کے طور پردیا جاتا ہے۔ یہ نیا حوالہ واضح کرتا ہے کہ ۱۹۴۹ اور ۱۹۷۲ کے معاہدوں کے برعکس ۲۰۰۳ کے سی ایف اے کی وہ قانونی حیثیت نہیں کہ جو بھارت اور پاکستان کو سیزفائر برقرار رکھنے پر مجبور کرسکے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی موجودہ کیفیت کو مثبت ترین انداز میں بیان کیا جائے تو بھی انتہائی خراب ہی کہا جاسکتا ہے۔ کووڈ ۱۹ وبا کی عین موجودگی میں ایل اوسی اور انٹرنیشنل باؤنڈری/ورکنگ باؤنڈری کے دونوں جانب مسلسل جارحیت سینکڑوں شہریوں اور مسلح جوانوں کی جانیں لے چکی یا انہیں زخمی کرنے کا باعث بنی ہے، املاک کو نقصان پہنچا ہے اور شہری آبادی اپنے گھروں کو چھوڑ کے دوردراز کیمپوں یا بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔ کشیدگی میں کمی کیلئے سیاسی سطح پر سنجیدہ کوششوں کی عدم موجودگی میں مستقبل قریب میں بھی جموں وکشمیر میں ایل او سی اور انٹرنیشنل باؤنڈریی /ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ مزید براں ایل او سی اور ایل اے سی یعنی وہ لکیر جو بھارتی اور چینی زیرانتظام علاقوں کو علیحدہ کرتی ہے، دونوں پر ۲۰۲۰ کے موسم گرما سے بالترتیب پاکستان اور چین کی جانب سے فوجی دستوں کو مسلسل جمع کئے جانے  کے سبب نئی دہلی میں جموں و کشمیر اور لداخ کے علاقوں میں دو رخی محاذ کھلنے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ لہذا، بڑھتی ہوئی سیز فائر خلاف ورزیوں اور زوال پذیر بھارت پاکستان سیاسی تعلقات کی موجودگی میں جموں و کشمیر میں بھارت پاکستان سرحد پرنگاہ رکھنا اہم ہوگا۔

***

.Click here to read his article in English

Image 1: Usman Malik via Flickr

Image 2: Usman Malik via Flickr

Posted in , , Border, India-Pakistan Relations, Kashmir, LoC, Security

Tanvi Kulkarni

Tanvi Kulkarni

Tanvi Kulkarni teaches Defence and Strategic Studies at the Savitribai Phule Pune University in India. She has a PhD in Diplomacy and Disarmament Studies from the Jawaharlal Nehru University, New Delhi. Her thesis examines why states in a nuclear dyad negotiate nuclear confidence-building measures (NCBMs). Tanvi completed her M.Phil in Diplomacy and Disarmament in August 2014, and for her dissertation, she worked on tracing the evolution of the ideas of Credible Minimum Deterrence and No First Use in India's nuclear doctrine and policy. She researches and writes on nuclear politics, national security, and strategic issues. She was a South Asian Voices Visiting Fellow in 2015. Tanvi has previously worked with the the Institute of Peace and Conflict Studies in New Delhi and the Chaophraya Track II Dialogue.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *