معدوم ہوتی سفارت کاری اور اقوامِ متحدہ میں پاک-بھارت لفظی جنگ

سفارتی سطح پر اگر سمجھداری کا  نام پرسکون، پرتحمل اور جامع تقاریر  ہے تو پاکستان اور بھارت کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اس نظریے کو غلط ثابت کر دیا۔

پانچ دن تک لفظی بوچھاڑ داراصل پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی  کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ابتدائی اجلاس میں کی گئی تقریر سے شروع ہوئی۔ عباسی صاحب نے تقریر میں۱۷ دفعہ کشمیر کا ذکر کیااور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلقہ کمیشن کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں  پر تحقیقات کا کہا تاکہ”بھارتی خلاف ورزیوں  کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکے، ذمہ داران کو سزا دی جا سکےاورمتاثرین کو امداد اور انصاف دیا جا سکے”۔

جہاں  وزیراعظم عباسی کی اس مذمت نے بھارت کو دفاعی سطح پر دھکیلا ہو گا وہیں جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے پیلٹ بندوقوں کا استعمال عالمی برادری کےلئے ایک سنجیدہ مسئلہ کھڑا کرتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ کونسا ملک جغرافیائی طور پر دوسرے کو ڈرا دھمکا  سکتا ہے، مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں (جھٹلائے جانے کے باوجود) ایک سنگین حقیقت ہے۔

وزیراعظم عباسی نے مزید کہا “بد قسمتی سے اپنے قیام کے پہلے دن سے ہی پاکستان نے مشرقی ہمسائے کی طرف سے مسلسل  دشمنی ہی دیکھی ہے۔ بھارت اقوامِ متحدہ کی متفقہ قرارداد جو کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے زیرِ سایہ لوگوں کو اپنے مقدر کو چننے کےلئے رائے شماری کا حق دیتی ہے، کو لاگو کرنے سے انکار کرتا ہے”۔ بلاشبہ جب” مسلسل  دشمنی” کی بات ہوتی ہے تو کچھ بھارتی مبصرین آپریشن جبرالٹر اور آپریشن گرینڈ سلیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتےہیں  کہ یہ پاکستان کی طرف سے بھارتی زیرِانتظام کشمیر پر بلا اشتعال چڑھائی کی مثالیں ہیں۔

اس تاریخی پسِ منطر میں یہ واضح ہے کہ وزیراعظم عباسی کا بیانیہ دونوں ملکوں کے بیچ محض الزامات کا ہی اضافہ کرتا ہےاور اس بات سے پہلو تہی کرتا ہے ہے کہ نہ بھارت اور نہ ہی پاکستان ایک دوسرے پر جارحیت کرنے کی غلطیوں سے پاک ہیں۔اس نقطے کو سمجھتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کےلئے مناسب ہوتا کہ وہ اپنی تقریر کو کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں  کے اصولی موقف تک محدود رکھتے۔ تاہم جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست اور دائیں ونگ کی وطن پرست جماعتوں کے شدید دباؤ کی وجہ سے اکثروبیشتر دونوں اطراف کے رہنماؤں کو ایسے بیانات دینے پڑتے ہیں کہ جو انتہائی اہم مسائل کے پرامن  حل میں رکاوٹ کا باعث بن جاتے ہیں۔

لفظوں کی جنگ اور اصل مسائل سے پہلو تہی

پاکستانی موقف کے بعد بھارت نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں دشمنی کی فضاء کو قائم کئے رکھا۔ وہاں تعینات بھارت کے پہلے سیکرٹری اینم گھمبیر نے کہا“اپنی تھوڑی سے تاریخ میں پاکستان اپنے محلِ وقوع میں دہشت کا مترادف بن گیا ہے۔ ایک ‘لینڈ آف پیور’  کی تلاش دارصل’ لینڈ آف ٹیرر’  میں بدل گئی۔پاکستان اب’ ٹیررستان’ بن گیا ہے جہاں دہشت گردی اسکی صنعت ہے جسے وہ برآمد بھی کرتا ہے”۔اس بیان میں موجود انتہائی تلخی کو بھارتی پریس بالخصوص سفارتی  حلقوں میں زیادہ محسوس کیا گیا۔

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سواراج  کے بعد کے بیان سے معاملات مزید بگڑے اور انکی جماعت یعنی بھارتی جنتا پارٹی کا قدامت پسند سوچ بھی آشکار ہوئی۔ سشما کا کہنا تھا “ہم نے سائنسی و تکنیکی ادارے بنائے جن پر دنیا فخر کر سکتی ہے ۔اسکے برعکس پاکستان نے دنیا کو دہشت گردی کے علاوہ دیا ہی کیا ہے؟”

بعد میں جب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس بھارت گئے، تو ان کےلئے  دونوں ملکوں کے بیچ جاری سفارتی کشیدگی کو کم کرانا بھی ضروری تھا۔ بھارت کے افغانستان میں کردار اور اس پر پاکستانی ردِ عمل کا معاملہ بھی مذاکرات کی میز پر تھا۔اور پاکستان افغانستان میں بھارتی کردار سے غیر مطمئن ہے وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب بھارتی خفیہ ایجنسی “را” پر تحریک طالبان پاکستان (گروہ جس نے پاکستان بھر میں اعلیٰ سطحی دہشت گرد حملے کئے ہیں اور انکا تعلق افغان طالبان سے بھی ثابت ہوا ہے) کو فنڈز اور امداد دینے کے الزامات عائد ہوتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے گروہ کے را کے ساتھ تعلقات کا بھی دعویٰ کیا۔ چنانچہ اس دعوے کی روشنی میں بھارت کےلئے یہ مشکل ہو گا کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈال کر اسے پاکستان میں بھارت مخالف تنظیموں جیسے حزب الجاہدین کے خلاف اقدامات پر قائل کرسکے۔

اس صورتحال میں پاکستان اور بھارت آپس میں اختلاف کا شکار ہیں۔ پراکسی گروہوں اور دیگر مسائل کے متعلق دونوں اطراف سے ضروری اقدامات نہیں کئے جا رہے کہ جن سے تعلاقات بہتر ہو سکیں۔ دوطرفہ تعلقات کی حالیہ نوعیت یہ بتاتی ہے کہ اب ہی موقع ہے جب دونوں ملک قوم پرستوں اور اسلام پسندوں کے خلاف اقدامات کریں تا کہ خطے میں باہمی تعاون کی طرف قدم بڑھایا جا سکے۔ دونوںملکوں کو بالخصوص پراکسی جنگ ،خفیہ مہمات اورجنگی جنون سے اجتناب کرنا ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو برصغیر میں آباد ۱.۵ بلین لوگوں کی زندگیاں مسلسل دشمنی اور جنگوں کی زیر سایہ ہی رہیں گی۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: United Nations Photo via Flickr.

Image 2: MEAphotogallery via Flickr.

 

Posted in , Afghanistan, Cooperation, Defence, Foreign Policy, Geopolitics, Human Rights, India, Kashmir, Pakistan, UN

Shazar Shafqat

Shazar Shafqat

Shazar Shafqat is a counterterrorism and security analyst. His research focuses on South Asian security, Middle East politics, counterterrorism strategies, and military-related affairs. His commentary has been featured in such media outlets as The Hill, Middle East Eye, Middle East Monitor, The Diplomat, Asia Times, RealClearDefense, World Policy Journal, and Dawn, among others. He has also appeared on various electronic media platforms to discuss conventional and psychological warfare patterns, dynamics, and trends from across the world.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *