Screenshot 2025-08-18 151241

ایک زمانے میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی  پیك) کو پاکستان کی غیر مستحکم معیشت كو سہارا دینےکے لیے تبدیلی کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا، تاہم اب اسے ہاتھ سے نكل جانے والے مواقع اور ادھوری امیدوں كی علامت سمجھا جاتا ہے۔2015 میں 46 بلین امریکی ڈالر کی مالیت کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے سی پیک کا مقصد پاکستان کے توانائی کے بحران کو حل کرنا، بنیادی ڈھانچے (انفرا اسٹركچر)  کو بہتر بنانا اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کے ذریعے صنعتی ترقی کو فروغ دینا تھا۔تاہم ایک دہائی كے بعد جوش و خروش کم ہو گیا ہے۔ اگرچہ ابتدا میں سی پیک میں بلا شبہ بڑی صلاحیت تھی تاہم سیاسی جھگڑوں، اقتصادی غلطیوں، سیكیورٹی مشكلات اور گفت و شنید میں كمی کے باعث پاکستان بظاہر اسے بڑی حد تک ضائع کر چکا ہے۔ ان رکاوٹوں کے باوجود کچھ اہم کامیابیاں اصلاح کی امید فراہم کرتی ہیں۔

سیاست کاری: تقطیب (پولرائزیشن) کے خطرات

سی پیك كے آغاز سے ہی یہ پاکستان کی تقسیمی سیاست میں الجھ گیا تھا۔پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-ن)  جس کی قیادت نواز شریف اور بعد میں شہباز شریف نے کی ، نے پنجاب اور گوادر میں مشہورِ زمانہ انفرا اسٹركچر (بنیادی ڈھانچے) اور توانائی کے منصوبوں کا آغاز کرکے اس منصوبے کا بنیادی معمار ہونے کی حیثیت سے اپنا مقام مرتب کیا۔اس کے برعکس عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ،جس نے بدعنوانی كے خاتمے اور ادارہ جاتی اصلاحات كے باعث حمایت حاصل كی، نے پی ایم ایل-ن پر بدعنوانی اور ملتان-سکھر موٹر وے جیسے سی پیک منصوبوں میں مبالغہ آمیز قیمت بڑھانے کا الزام لگایا۔ اقتدارمیں آنے کے بعد پی ٹی آئی نے حکومت کے مالی خدشات کو کم کرنے کے لیے سی پیک کے نظام العمل (فریم ورك) کا جائزہ لیا۔ علاوہ ازیں 2019 میں پی ٹی آئی کی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مالی امداد کی جستجو نے سی پیک منصوبوں کو سست کر دیا، جس كے باعث چین ناراض ہوا اور مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) دونوں کی جانب سے  (اُسے) تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے سی  پیک كو محدودکرنے کی ایک مثال 1320 میگا واٹ رحیم یار خان پاور پروجیکٹ کو مؤخر کرنے کا فیصلہ تھا، جس میں اضافی پیداوار کی صلاحیت اور مالی پائیداری کے بارے میں تحفظات کا حوالہ دیا گیا تھا۔

دریں اثنا سی پیک سے متعلق بڑھتی ہوئی صوبائی کشیدگیوں نے سست نفاذ العمل اور بڑھتے ہوئے عدم اطمینان میں حصہ ڈالا ہے۔ 2016 میں خیبر پختونخوا (کے پی کے) کی صوبائی حکومت نے یہ دلیل دی کہ یہ صوبہ سی پیک کے منصوبوں میں تقریباً 13 فیصد حصہ لینے كا اہل ہے تاہم اسے منصوبے كی محض 2 فیصد مختصات مل رہی ہیں۔ پنجاب كےمنصوبوں کو  کے پی کے اور بلوچستان (كے منصوبوں) پر ترجیح ملنے پرمقامی پی ٹی آئی سیاستدانوں نے سی  پیک کو ‘چین- پنجاب اکنامک کوریڈور‘  قرار دیا۔ اسی طرح بلوچستان كی قوم پرست جماعتوں نے دلیل دی کہ وفاقی منصوبہ سازوں نے سی پیک کے مشرقی راستے کو مغربی راستے پر ترجیح دی ہے تاکہ پنجاب میں انفرا اسٹركچر کی ترقی کو باسہولت بنایا جائے، جبکہ بلوچستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں کو نظر انداز کیا گیاہے۔ ان صوبائی خدشات نے مقامی رنجشوں کو بڑھایا ہے، جس سے عدم اعتماد اور عوامی مظاہروں کو تقویت ملی ہے،  جس کے باعث سی پیك كا نفاذ العمل پیچیدہ بن گیا ہے۔

معاشی غلطیاں: قرض پر مبنی ترقی

ان سیاسی مسائل سے بالاتر، پاکستان کی مسلسل اقتصادی بدانتظامی نے سی پیک کی انقلابی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔برآمدات بڑھانے کے لیے  پیداوار ی گنجائش زیادہ كرنے کے لیے سی پیک کو  ایك ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے پاکستان  كےخارجی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔2023 کے آخر تك ملک کا بیرونی قرض تقریباً 130.85 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیاتھا، جس میں چینی قرضے تقریباً 29 بلین امریکی ڈالر—یا کل قرضے کا 22 فیصد بناتے ہیں۔سی پیک کے تحت زیادہ تر چینی مالی معاونت یقینی منافع  كے ساتھ توانائی کی پیداوار كی مد میں كی گئی —پاکستان کو استعمالِ واقعی سے بالاتر توانائی کی قائم كردہ صلاحیت کے لیے ادائیگی کرنی تھی۔مزید برآں 2018 کے آخر میں یہ بات منظر عام پر آئی کہ 26.5 بلین امریکی ڈالر كی چینی سرمایہ کاری کے مقابلے میں پاکستان تقریباً 40 بلین امریکی ڈالر کی  قرض ادائیگیاں اور منقسمہ (ڈیویڈنڈز) 20 سالوں میں ادا کرے گا، جس سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑے گا۔ مالی مسائل کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث پاکستان کو بیل آؤٹ (معاشی امدادی)  پیکج حاصل کرنے کے لیے پہلی بار اپریل 2019 میں اور پھر  2023 كے وسط میں، دو بار آئی ایم ایف سے رابطہ کرنا پڑا۔ پاکستان اب بھی ستمبر 2024 میں دستخط کی گئی 7 بلین امریكی ڈالر كی آئی ایم ایف سہولت کے تحت ہے۔متواتر آئی ایم ایف پروگراموں نے معیشت کو مستحکم کرنے، غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو بحال کرنے اور حکومتی اخراجات کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے—جس میں چین کے ساتھ قرضوں کے بھاری  بوجھ والے معاہدوں کی تشکیلِ نو شامل ہے، جو پاکستان کی کم ہوتی ہوئی مالی گنجائش (فِسكل سپیس) کا سبب بنے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں، گو کہ 14 بجلی کے منصوبوں نے تقریباً 8,700 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد میں اضافہ کیا ہے، یہ بجلی ایک مہنگی قیمت پر حاصل کی جا رہی ہے۔سی پیک کے تحت تین بڑے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں—ساہیوال، پورٹ قاسم اور حب—کا انحصار انڈونیشیا، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا سے درآمد کیے گئے کوئلے پر ہے۔یہ مہنگی بجلی پیدا كرتے ہوئے ایندھن كےدرآمدی بل میں اضافہ کرتا ہے۔علاوہ ازیں  چینی پاور پلانٹس اب پاکستان کے دائمی گردشی قرضے (كرونك سركلر ڈیٹ) کے مسئلے میں پھنس چکے ہیں، کیونکہ صارفین كے غیر ادا شُدہ بل جمع ہو رہے ہیں، جو جولائی 2025 تک 1.5 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ یكے بعد دیگرے حکومتوں نے گردشی قرض کے مسئلےکو حل کرنے کی کوشش کی ہے  تاہم پائیدار حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ہر سال ایک یک وقتی ادائیگی کی جاتی ہے، جس کے بعد چند مہینوں میں دوبارہ سی پیک پاور پلانٹس کے قرضے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

صنعتی شعبے میں سی پیک کے تحت اسپیشل اكنامك زونز (ایس ای زیز) کے ذریعے صنعتی (ترقی كی) بحالی کے وعدوں کے باوجود پاکستان کی متوقع صنعتی ترقی بڑی حد تك نامكمل ہے، کیونکہ فی الوقت متوقع نو ایس ای زیز میں سے صرف چار پر کام جاری ہے۔یكے بعد دیگرے حکومتوں نے مختلف شعبوں سے چینی صنعت کاروں کو ایس ای زیز میں یونٹ قائم کرنے کے لئے ٹیکس میں پُر كشش چھوٹ اور مراعات دینے کا وعدہ کیا ہے۔

پھر بھی پاکستان میں چینی کمپنیوں کے لیے کاروبار کرنے کی لاگت زیادہ ہے—دیگر عوامل کے علاوہ سرمایہ کار اکثر زمین کی مہنگائی اور بجلی کے ٹیرف کی بے یقینی کا ذکر کرتے ہیں۔چنانچہ  چینی سرمایہ کاروں کی تشویشات کا حل تلاش کرنے کی مسلسل کوششوں اور 2023 میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے آغاز کے باوجود ٹھوس پیشرفت محدود رہی ہے۔

سیکیورٹی مشكلات اور برگشتہ بلوچستان

خاص طور پر بلوچستان میں سیاست اور معیشت سے ماورا سیکیورٹی كی مشكلات  سی پیک کو پٹری سے اُتار چُكی ہیں۔منصوبے كو دو بڑے خطرات كا سامنا ہے: بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، ایک علاقائی علیحدگی پسند گروپ جو وسائلی قوم پرستی کے تحت كام كرتا ہے اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، ایک اسلامی شدت پسند تنظیم جو پاکستانی ریاست کے خلاف ہے۔

چینی باشندوں اور منصوبوں كو خاص طور پر نشانہ بنانے والے بی ایل اے كے حملے
بلوچستان میں دیرینہ شكایات، مبینہ وسائلی استحصال، بد عنوانی اور سی پیك كے تحت ہونے والی ترقی اور  مقامی ملازمتوں كے مکمل نہ ہونے والے وعدوں كے باعث ہے۔2021 سے  لے كر 2024 كے آواخر تك كم از كم 14 دہشت گرد حملوں میں 20 چینی شہری ہلاك اور 34 زخمی ہوئے، جن میں سے بیشتر حملوں كی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول كی۔

دریں اثنا ٹی ٹی پی نے پاكستان میں چینی مفادات كو بھی نشانہ بنایا۔اگرچہ ٹی ٹی پی شنجانگ كے  وِی گر مسلمانوں كے ساتھ چینی سلوك كے خلاف ہے، تاہم اس كی بنیادی تحریك اس كی پاكستان كے ساتھ گہری نظریاتی دشمنی كے باعث ہے، جسے وہ ایك “بے دین ریاست” كے طور پر دیکھتا ہے۔ ٹی ٹی پی پاكستان اور اس كے قریبی شراكت داروں -بالخصوص چین- كے ساتھ تعلقات كو تزویراتی انفرا اسٹركچر  اور غیر ملكی شہریوں پر حملے كر كے تباہ كرنا چاہتی ہے۔ كے پی كے میں مارچ 2024 میں ہونے والے ایك ہائی پروفائل (عوامی توجہ كا مركز) خودكش بمبار  كےچینی اہلكاروں پرحملے میں پانچ چینی انجینئر اور ایك پاكستانی شہری ہلاك ہوئے۔
تفتیش کاروں نے بعد میں حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کا تعلق ٹی ٹی پی سے جوڑا جو مبینہ طور پر افغانستان میں مقیم اپنے سینئر کمانڈروں سے ہدایات حاصل کر رہے تھے۔

ان دوہری دھمکیوں  نے دوطرفہ تعلقات کو کشیدہ کر دیا ہے (اور)  اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی پاکستان کی صلاحیت پر بیجنگ كے شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔
جواباً  پاکستان نے متعدد اقدامات کیے ہیں: (جن میں) چینی اہلکاروں اور سی پیك تنصیبات کو محفوظ بنانے کے لیے فوج کی زیر قیادت اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (ایس ایس ڈی)، صوبائی پولیس فورسز میں نئے اسپیشل پروٹیکشن یونٹس (ایس پی یوز) اور چینی شہریوں کے لیے اندرونِ پاکستان سفر  كے لیے نئے اسٹینڈرڈ  آپریٹنگ پروسیجرز (معیاری فاعلی طریقہ کار)
(شامل ہیں)۔یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ مستقبل میں سی پیك کی کسی بھی توسیع کے لیے پائیدار سلامتی ایک اہم شرط کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ناکامیوں کے درمیان کامیابیاں

ان مشكلات کے باوجود سی پیك نے کچھ ٹھوس نتائج بھی دیئے ہیں۔آٹھ سو  كلو میٹرسے زائد  نئی موٹر ویز ،بشمول ایم 5 -سكھر-ملتان اور ہلكہ- ڈی آئی خان پروجیكٹ، نے قومی رابطہ كاری كو بہتر بنایا جبكہ ستمبر 2021 میں فعال ہونے والی  مٹیاری-لاہور پاور لائن، جو کہ 4,000 میگاواٹ بجلی جنوب میں واقع بجلی كے ذرائع (پاور سورسز) سے شمالی پاكستان تك پہنچانے کی اہلیت رکھتی ہے، سے ملک بھر میں گرڈ کے استحکام میں اضافہ ہوا۔نو نئے پاور پلانٹس – کوئلہ، ہائیڈل اور سولر – چینی مالی معاونت سے مکمل کیے گئے ہیں جبکہ تھر کے کوئلے كو اب نكالا جا رہا ہے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے دو پاور پلانٹس میں استعمال كیاجا رہاہے۔ شہری نقل و حمل (ٹرانسپورٹ)  کو بھی فائدہ ملا : پاکستان كےپہلے اورنج لائن ٹرین میٹرو سسٹم  کا افتتاح اکتوبر 2020 میں کیا گیا اور اب اس میں سالانہ 100 ملین سے زیادہ  افراد  سفر كرتے ہیں۔

 یہ منصوبے بنیادی طور پر پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو با سہولت بنانے کی ضرورت پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان وسیع اتفاق رائے کی بدولت کامیاب ہوئے۔2013 اور 2018 کے درمیان وفاقی سطح پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گفت و شنید كرنے  والے چینیوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے  پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور سندھ میں پی پی پی کی حکومت کو اہم پالیسی معاونت فراہم کی۔ان چار كرداروں کے مابین قریبی وابستگی كے باعث  پاور سیکٹرز میں انضباطی رکاوٹوں کو دور کیا گیا جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے نفاذ کی نگرانی کی۔

اسی طرح پاکستان کے بحری انفراسٹرکچر میں ایک اہم سنگ میل  گوادر كی  گہرے سمندر کی بندرگاہ مئی 2021 میں فعال ہوئی، جس میں عام کارگو (بحری كھیپ)، کنٹینرز اور متعلقہ سرگرمیوں سے نمٹنے کی اہلیت ہے۔اہم پیش رفتوں میں ایسٹ بے ایکسپریس وے (2022) کی تکمیل، ایک جزوی ڈی سیلینیشن پلانٹ (2023) اور اکتوبر 2024 میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح شامل ہیں۔ان سے خطے میں رسائی،ترسیلِ رسد اور بنیادی خدمات میں بہتری آئی ہے۔تاہم محدود کارگو کی نقل و حمل اور بڑی حد تک غیر فعال فری زون کے باعث بندرگاہ کا استعمال کم ہے۔مسلسل سیکورٹی خدشات، کمزور مقامی روابط اور صنعتی سرمایہ کاری کی کمی نے وسیع تر اقتصادی فعالیت کو سست کر دیا ہے۔ تاہم  یہ نفع بخش  پیشرفت مستقبل کی ترقی کے لیے اہم بنیاد رکھتی ہیں۔

مستقبل كی راہ

سی پیك کبھی بھی محض سڑکوں، بندرگاہوں یا پاور پلانٹس سے متعلق نہیں تھا- اسے معاشی انقلاب، علاقائی انضمام اور طویل المدت خوشحالی کے لیے ایک محرك کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔تاہم دونوں ممالک كے معاہدے پر دستخط كرنے كے ایک دہائی بعد اسے لاحاصل امکانات میں کیس اسٹڈی (مطالعاتی جائزہ) بننے کا خطرہ ہے۔اس راہ سے پلٹنے کے لیے پاکستان کو رد عمل کی طرز حکمرانی سے ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف منتقل ہونا پڑے گا۔
سی پیك پر موجودہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو زیادہ بااختیار اور شفاف ادارے كے طور پرمضبوط بنانا ایک ضروری پہلا قدم ہے۔اس کمیٹی کو علامتی ملاقاتوں سے آگے بڑھ کر ماہرین کی تحقیقات كی شنوائی کے مواقع، پروجیکٹ کی کارکردگی کی رپورٹس شائع کرنے اور ملک بھر میں اپنے اجلاس کے ذریعے عوام کو شامل کرنے کے ذریعے سخت نگرانی کا کام سونپا جانا چاہیے۔
دریں اثنا اگرچہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ (ڈی ای ای پی) کے تحت اصلاحات کو آگے بڑھا رہا ہے تاہم وزارت آئی ٹی اور صوبائی حکومتوں کے مابین اہم غیر مختتم مفاہمت ناموں(ایم او یوز) کے ساتھ عمل درآمد ضرورت سے کم ہے، جس سے نظام میں صوبائی اور مقامی خدمات کے انضمام میں تاخیر ہو رہی ہے۔
اگرچہ مخصوص کھاتے کھولے گئے ،عملے كا شمول (آن بورڈ نگ) کیا گیا اور ابتدائی خریداری شروع كر دی  گئی ہے تاہم یہ اقدامات محض تمہیدی ہیں۔مضبوط وفاقی-صوبائی ہم آہنگی کے بغیر  پاکستان بزنس پورٹل ضابطہ  پرستانہ تاخیر کو کم کرنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے ایک حقیقی ون ونڈو میکانزم کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کر سکتا۔سیکورٹی کے محاذ پر وفاقی حکومت کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ ایس ایس ڈی اور ایس پی یوزجیسے خصوصی یونٹ صوبائی حکومتوں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بروقت معلومات کے تبادلے کے ذریعے فعال رابطہ برقرار رکھیں۔اس طرح كی تشكیلی اصلاحات اور نئے قومی اتفاق رائے کے بغیر  پاکستان كے لیےسی پیك کی بے پناہ صلاحیت كارِ بے سود رہنے کا اندیشہ ہے- اور  یہ موقع خارجی رکاوٹوں كے باعث نہیں بلکہ اندرونی بے عملی كے سبب ضائع ہوگا۔

Views expressed are the author’s own and do not necessarily reflect the positions of South Asian Voices, the Stimson Center, or our supporters.

This article is a translation. Click here to read the article in English.

***

Image 1: Chinese trucks await customs clearance on the Karakoram Highway at Sost, Pakistan – Anthony Maw via Wikimedia Commons

Image 2: Offices of the Gwadar Port Authority – Moign Khwaja via Flickr

 
Share this: