افغانستان کے استحکام میں بھارت کی دیرینہ دلچسپی رہی ہے اور یہ جغرافیائی سیاسی ضرورت کے باعث بھی ہے۔حالیہ مہینوں میں نئی دہلی نے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ رابطہ کاری کے لئے محتاط اقدامات کیے ہیں تاکہ اپنے علاقائی جغرافیائی و تزویراتی مفادات کو مستحکم کیا جا سکے، خصوصاً جبکہ اس کےجوہری طور پر مسلح ہمسائے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر کافی نمایاں کامیابی ملی ہے۔گزشتہ خزاں میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اور وزیر صنعت و تجارت الحاج نورالدین عزیزی کے بھارت کے دورے نئی دہلی اور کابل کے درمیان بڑھتی ہوئی مفاہمت کی علامت ہیں۔دو طرفہ رابطہ کاری میں یہ اضافہ نریندر مودی حکومت کا یہ امر تسلیم کرنے کے باعث ہے کہ افغانستان اور دیگر ممالک میں بھارت کی مسلسل اقتصادی امداد، خیر خواہی سرگرمیاں اور صلاحیت سازی کے اقدامات نئی دہلی کو ایک مقامی قوتِ نرم (سافٹ پاور) کا فائدہ فراہم کر سکتے ہیں جو محض چند ہی دیگر علاقائی شراکت داروں کے پاس ہے۔
افغانستان کی اقتصادی امداد اور مالی معاونت کی شدید ضرورت کے پیش نظر، بھارت کا طالبان کے ساتھ حالیہ قریبی تعلق، بھارت کے موجودہ انفراسٹرکچر اور وسطی ایشیا اور اس کےارد گرد سڑکوں کے منصوبوں میں افغانستان کو گہرے طور سے شامل کرنے سے-خصوصاً انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (آئی این ایس ٹی سی) کی توسیع کے ذریعے، بہتر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
توثیق کے بغیر رابطہ کاری
امریکہ کے افغانستان سے اخراج اور طالبان کے عروج کے سالوں کے دوران، بھارت نے اس کی قانونی حیثیت کو تسلیم یا اس کے حکومتی ماڈل کی حمایت کیے بغیر طالبان کے ساتھ “عملی رابطہ کاری” کے محتاط رویے کو اپنایا ہے۔ یہ اقدام کسی حد تک اس نے اپنی موجودگی برقرار رکھنے اور اپنے اہم اقتصادی اور انفراسٹرکچر سے متعلقہ سرمایہ کاری کی حفاظت کے لیے کیا ہے، جو (گزشتہ) سالوں کے دوران افغانستان میں 500 سے زائد منصوبوں میں تقریباً 3 بلین امریکی ڈالر پر مشتمل ہے۔ گوکہ طالبان عالمی طور پر ابھی بھی بڑے پیمانے پر اعتماد کی کمی اور سیاسی تنہائی کا شکارہے، تاہم نئی دہلی سالوں کی محنت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتی، خصوصاً اس وقت جبکہ پڑوس میں اس کے دیگر اہم تعلقات بظاہر مزید نازک ہوتے جا رہے ہیں۔
اس مقصد کے لیے مودی حکومت نے حالیہ مہینوں میں افغان خارجہ، صنعت و تجارت اور صحت کے وزرا کا استقبال کیا اور 2022 میں کابل میں قائم کردہ تکنیکی مشن کو بھارت کے سفارتخانے کا مکمل درجہ دیا۔ دریں اثنا طالبان کے وزرا خارجہ و صنعت نے بھی بھارتیوں کی حفاظت اور سلامتی کی یقین دہانی کراتے ہوئے، افغانستان میں ٹیکسٹائل مراکز، کان کنی کے عملیات،دوا سازی کے مراکز (فارماسیوٹیکل حبز) اور زرعی کاروبار قائم کرنے کے لیے بھارتی کاروباری گروپوں کو دعوت دی ہے۔دونوں ممالک نے مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ادارہ جاتی قیام اور کابل-دہلی اور کابل-امرتسر سیکٹرز پر ائیر فریٹ کوریڈور (فضائی مال برداری کی گزرگاہ) کے آغاز پر بھی اتفاق کیا ہے، جو دونوں قوموں کے درمیان سامان کی مؤثر نقل و حمل کو تیز کرے گا۔ موجودہ طالبان انتظامیہ نے زیادہ بڑے پیمانے پر تجارت اور صحت کے شعبوں میں تعاون بڑھاتے ہوئے ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کا انتخاب کیا ہے جو سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں۔
افغانستان کی اقتصادی اور انفرا اسٹرکچر کے ضمن میں مدد کی ضرورت اور بھارت کی اپنی کمزور ہوتی ہوئی علاقائی ساکھ کو بہتر بنانے میں دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کو چاہیے کہ وہ آئی این ایس ٹی سی کے ایک ذیلی حصے کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک ترقی دینے پر غور کرے تاکہ اس تجدید شدہ تعلق کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
بھارت کی مسلسل ترقیاتی معاونت اور انسان دوستانہ امداد نے—جس کی اب براہِ راست یا بالواسطہ طور پر امریکہ پشت پناہی نہیں کر رہا—طالبان کے اعتماد کا رخ نئی دہلی کی صلا حیتوں اور افغانستان میں بھارتی موجودگی کی طرف موڑ دیا ہے۔ان سازگار حالات کے نتیجے میں بھارت-افغانستان کا دوطرفہ تجارتی حجم 2025 میں 1 بلین امریکی ڈالر تک پہنچا، گوکہ یہ اب بھی 20-2019 کے کل 1.5 بلین امریکی ڈالر سے کم ہے۔ افغانستان کی اقتصادی اور انفرا اسٹرکچر کے ضمن میں مدد کی ضرورت اور بھارت کی اپنی کمزور ہوتی ہوئی علاقائی ساکھ کو بہتر بنانے میں دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کو چاہیے کہ وہ آئی این ایس ٹی سی کے ایک ذیلی حصے کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک ترقی دینے پر غور کرے تاکہ اس تجدید شدہ تعلق کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
ممکنہ عملی تعلق
بھارت 2030 تک برآمدات میں 2 ٹریلین امریکی ڈالر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ آئی این ایس ٹی سی، جو ایک 7200 کلومیٹر طویل نقل و حمل کا کثیر الوضع راستہ ہے جو بحرِ ہند اور خلیج فارس کو ایران، وسطی ایشیا اور روس کے ذریعے بحیرۂ قزوین (کیسپئین سی) کے ساتھ جوڑتا ہے، ان برآمدی اہداف کے حصول کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس راستے (روٹ) کا آغاز سن 2000 میں بھارت، ایران، اور روس کے درمیان ایک بین الحکومتی معاہدے کے ذریعے کیا گیا تاکہ تجارتی تعلقات میں بہتری، نقل و حمل (ٹرانزٹ) کے وقت میں کمی اور یوریشیا، وسطی ایشیا اور بھارت کے درمیان نقل و حمل کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ مزیدبرآں یہ راہداری نہرِ سوئز (سوئز کینال) کا متبادل راستہ بھی فراہم کرتی ہے جبکہ بحیرہ احمر میں ہونے والی سمندری ڈکیتی کے خطرات کو (بھی) کم کرتی ہے۔ بھارت کا وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی حجم کسی حد تک آئی این ایس ٹی سی کی کامیابی کی بدولت 2010 میں محض 500 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2023 میں 2 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
تاہم اس خطے میں افغانستان سے گزرتا ہوا ایک محفوظ اور مامون نقل و حمل کا راستہ شامل کرنا متعدد فوائد فراہم کر سکتا ہے۔ بھارت کے لیے ہرات اور مزار شریف کے درمیان ایک نئی تجارتی نقل و حمل کی راہداری بنانے سے اسے وسطی ایشیا تک کے مختصر ترین راستے کا فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے جو پاکستان کے ساتھ حالیہ غیر فعال گذرگاہوں کو شامل نہیں کرتا۔ بھارت کو افغانستان میں انفراسٹرکچر کی ترقی کا تجربہ بھی حاصل ہے، مثلاً 2009 میں اس کے بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کے ذریعے جنوب مغربی افغانستان کو ایران سے جوڑنے والی 218 کلومیٹر طویل دلارام-زرنج ہائی وے کی تکمیل۔ (اس کے) لاجسٹکل فوائد بھی واضح ہیں، کیونکہ تین وسطی ایشیائی ممالک—قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان—بشمول ایران کے، پہلے ہی آئی این ایس ٹی سی کے رکن ہیں۔

تاہم آئی این ایس ٹی سی کے ذیلی حصےکی ترقی میں کئی ممکنہ مشکلات حائل ہیں۔مقامی سطح پر طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کا استحکام اب بھی باعثِ تشویش ہے، کیونکہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) اب بھی حکومتی نظام کو غیر مستحکم کرنے کے لیے گوریلا حملوں میں سرگرم ہے اور اسلامی ریاست-خراسان صوبہ (آئی ایس کے پی) اور القاعدہ جیسے دیگر دہشت گرد گروپوں نے ملک کے اندر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ علاقائی سطح پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے باغی گروپ سرحد پار سرگرمیوں میں شدت لے آئے ہیں، جس کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان فعال تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
عالمی سطح پر آئی این ایس ٹی سی کی توسیع کو دو بڑے مسائل کا سامنا ہے: مالی نااہلیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں۔ ایک نئے ذیلی حصے کونمایاں مالی معاونت کی ضرورت ہوگی، تاہم افغانستان کے بےقاعدہ موجودہ مالی وسائل مبادلہ تجارت، بےجا عوامی ٹیکس وصولی اور غیر رسمی حوالہ نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہیں؛ بین الاقوامی پابندیاں اور افغان بینکوں کا بین الاقوامی لین دین کے سوئفٹ نیٹ ورک سے انقطاع افغانستان کی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرتے ہیں۔ آخرش، طالبان کے خواتین اور لڑکیوں کو خارج کرتے سخت قوانین، انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں، بڑھتی ہوئی بدعنوانی، اور ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروپوں کی حمایت کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی برادری اس کی حکومت اور قابل اعتبار کردار کے طور پر قانونی حیثیت پر شک کرتی رہے گی۔ طالبان کا یہ مسائل کیسے اور کس طرح حل کرنے کا فیصلہ اس کے مستقبل کو ایک جائز حکومت کے طور پر متعین کرنے کا فیصلہ کرے گا۔
افغان علاقے کے ذریعے ترقی پذیر وسطی ایشیائی ممالک کے اہم اقتصادی مراکز کو جوڑنے والی ایک تجارتی نقل و حمل کی راہداری کی حمایت کرنے سے نہ صرف افغانستان کی ایشیا میں تجارتی مال کی منتقلی (ٹرانس شپمنٹ) کے ایک اہم مرکز کے طور پر علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے بلکہ یہ خطے کے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔
آغاز کے طور پر آئی این ایس ٹی سی کاریڈور جیسے انفرا اسٹرکچر کے منصوبے کی ترقی اور (اسے) فروغ دینے کے لیے افغانستان کے موجودہ مالیاتی نظام کو منظم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ بھارت کے پاس ماضی میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کو سنبھالنے کی مہارت ہے اور بینکنگ کے شعبہ جات کی اصلاح میں مدد فراہم کرکے وہ خود کو زیادہ گہرائی سے شامل کر سکتا ہے۔ بھارت نے انسانی بحران اور مالی شمولیت کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد کے لیے پہلے ہی 2022 میں دا افغانستان بینک (ڈی اے بی) کو تکنیکی امداد فراہم کی تھی؛ (بھارت) ایمیڈیٹ پیمنٹ سروس (آئی ایم پی ایس) پر مبنی حکومت کے یونائیٹڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) کے بنیادی خاکے سے تجویزات اپنا کر اور شرکت کی حکمت عملیاں تیار کرنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتا ہے، جبکہ کابل مجموعی نفاذ پر عملدرآمد کرے اور نگرانی کرتا رہے۔ایسا مالی شمولیت کے پروگرام، جسے محفوظ اور مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی پشت پناہی حاصل ہو، افغانستان کے اندر بروقت رقم کی منتقلی کو ممکن بنائے گا، (اور اس طرح) لاکھوں افغانیوں تک امداد پہنچائے گا اور انہیں بینکنگ خدمات استعمال کرنے کی ترغیب دے گا۔گو کہ طالبان خود ’’نگران‘‘ انتظامیہ ہونے کا اب دعویٰ نہیں کرتے، تاہم ابھی تک اس پیمانے اور پیچیدگی کی پالیسی سازی میں، خواہ علاقائی شراکت داروں کی مدد سے ہو یا اس کے بغیر، وہ دلچسپی دکھانے میں ناکام ہیں۔
ماحصل
ایک مزید غیر مستحکم ہوتے ہوئے پڑوس میں، بھارت افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو عملی طور پر گہرا کر کے اہم جغرافیائی اقتصادی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ افغان علاقے کے ذریعے ترقی پذیر وسطی ایشیائی ممالک کے اہم اقتصادی مراکز کو جوڑنے والی ایک تجارتی نقل و حمل کی راہداری کی حمایت کرنے سے نہ صرف افغانستان کی ایشیا میں تجارتی مال کی منتقلی (ٹرانس شپمنٹ) کے ایک اہم مرکز کے طور پر علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے بلکہ یہ خطے کے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔گو کہ افغانستان کی آئی این ٹی ایس سی میں شمولیت پر عمل درآمد بھارت اور اس کے وسطی ایشیائی شراکت داروں سے سنجیدہ کوشش کا متقاضی ہوگا، تاہم طویل مدت میں اس کے فوائد لاگت سے بڑھ کر ہیں اور یہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں اقتصادی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کر سکتا ہے۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.
***
Image 1: S. Jaishankar via X
Image 2: S. Jaishankar via X