فوجی طاقت کا بطور آلۂ کار استعمال یا اسے استعمال کرنے کی دھمکی دینا، سفارت کا ایک لازمی جزو ہے اور اب اسے ریاست کاری (اسٹیٹ کرافٹ) میں ایک ہمہ گیر معیاری طریقہ کار کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ بالخصوص تہدیدی سفارت حریف کی موجودہ صورتحال کو اپنے مفاد میں بدلنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی دفاعی حکمت عملی ہے۔ پاکستان طالبان کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تہدیدی سفارت استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں کی جانب سےدہشت گرد تنظیم کے طور پر درجِ فہرست تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرنے کی ضمانت دی جائے۔ تاہم ترکی اور قطر کی ثالثی کے تحت حالیہ جنگ بندی کے باوجود ابھی تک پاکستان کی تہدیدی و سفارتی کوششیں مثبت نتیجہ دینے میں ناکام رہی ہیں۔
اگرچہ پاکستان نے ازروئے تاریخ کابل میں مختلف حکومتوں کے خلاف تہدیدی سفارت کا استعمال کیا ہے،تاہم اس تازہ ترین واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب حالیہ مہینوں میں ملک میں شدت پسند حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جن میں زیادہ تر کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے لی۔ سب سے پہلے اکتوبر میں کابل میں حملے کیے گئے، جن کے بعد ڈیورنڈ لائن پر جھڑپیں اور پکتیکا، خوست اور کنڑ کے صوبوں میں کئی فضائی حملے کیے گئے۔اگرچہ طالبان نے ان حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا تاہم پاکستان نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ ایک دوسرے تہدیدی آلۂ کار کے طور پر پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنے مقررہ راستے (ٹرانسٹ روٹس) بند کر دیے، جن پر افغانستان بھارت اور دیگر دنیا کے ساتھ اپنی تجارت کے لیے بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔پاکستان نے صرف نومبر میں ہی تقریباً 241,000 افغان پناہ گزینوں کو، جن میں قانونی پناہ گزین دستاویزات رکھنے والے پناہ گزین بھی شامل تھے، ملک بدر کرکے مزید دباؤ بڑھایا، جس سے 2025 میں پاکستان کی جانب سے نکالے گئے افغان پناہ گزینوں کی کل تعداد ایک ملین سے تجاوز کر گئی۔
پاکستان کی تہدیدی سفارت اس کے داخلی سیاسی اور تزویراتی عوامل سے تشکیل پاتی ہے۔ تاہم طالبان حکومت کی ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں سے متعلق کسی معاہدے سے انکار جاری رکھنا اور مستقل مزاجی سے ٹی ٹی پی کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دینا پاکستان کی تہدیدی سفارت کی نمایاں محدودیت کو اجاگر کرتا ہے۔لہٰذا یہ مضمون نظریاتی نقطہ نظر سے طالبان کے خلاف پاکستان کی تہدیدی سفارت کا جائزہ اور اس کا تجزیہ کرے گا۔
تہدیدی سفارت کا جائزہ
تہدیدی سفارت کی مؤثریت سے متعلق محققین کی آراء میں اختلاف ہے۔ٹوڈ سیچسر سمیت کئی محققین دباؤ ڈالنے والی دھمکیوں کی اثر اندازی کو دباؤ ڈالنے والے کی طاقت سے جوڑتے ہیں۔تاہم پیٹر جیکبسن اس کی مخالفت میں دلیل دیتے ہیں کہ 1990 سے 2008 تک تہدیدی سفارت کے کل چھتیس واقعات میں سے صرف پانچ میں ہی دیرپا کامیابی حاصل ہوئی۔ دیگر محققین کی رائے ہے کہ تہدیدی سفارت کی کامیابی مطالبے کی معقولیت پر انحصار کرتی ہے۔یہ سمجھنا کہ تہدیدی سفارت کب اور کیوں کامیاب ہوتی ہے، بین الاقوامی تعلقات کاایک اہم مسئلہ ہے۔
عموماً جبر اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کسی دھمکی کے زیرِ اثر تکلیف مزاحمت کے متوقع فوائد سے زائد ہو۔ تاہم اس امر پر بہت کم اتفاق ہےکہ کسے جبر و دباؤ کی سفارت کا کامیاب نتیجہ شمار کیا جائے۔ بروس جینٹل سن اور کرسٹوفر وائیٹوک ایک طریقہ کار پیش کرتے ہیں جو کامیاب تہدیدی سفارت کے لیے ضروری متغیرات کو دو درجات میں تقسیم کرتا ہے: (1) دباؤ ڈالنے والے کی حکمت عملی، یعنی آیا دباؤ ڈالنے والا قابلِ یقین دھمکیوں کو ماہر سفارت کے ساتھ مؤثر طریقے سے جوڑتا ہے اور تناسب کے اصول کے ساتھ باہمی تبادلہ اور دباؤ ڈالنے کی معتبریت کا استعمال کرتا ہے؛ اور (2) ہدف ریاست کی کمزوری، جس کا اندازہ ہدف ریاست کی داخلی سیاسی اور اقتصادی حالت سے لگایا جاتا ہے۔ اس میں (ریاست) کے اہلکاروں اور دیگر اہم کرداروں کے کردار کی نوعیت شامل ہے،تاہم محض اس تک محدود نہیں۔جینٹل سن اور وائیٹوک کے ماڈل کو ایک تہدیدی ریاست کے طور پرپاکستان کی استعمال کردہ حکمت عملیوں کے جائزے کے ساتھ ساتھ ہدف ریاست، افغانستان، کے اندرونی حالات کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
طالبان حکومت کی ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں سے متعلق کسی معاہدے سے انکار جاری رکھنا اور مستقل مزاجی سے ٹی ٹی پی کو پاکستان کااندرونی مسئلہ قرار دینا پاکستان کی تہدیدی سفارت کی نمایاں محدودیت کو اجاگر کرتا ہے۔
دباؤ ڈالنے والی ریاست: پاکستان
پاکستان کی تہدیدی سفارت کی مؤثریت کا جائزہ لینے کے لیے استعمال ہونے والا پہلا متغیرہ مقاصد اور وسائل کے درمیان تناسب ہے۔ جینٹل سن اور وائیٹوک کے معیارات کی بنیاد پر تہدیدی سفارت کے ماڈل کی منطق یہ تسلیم کرتی ہے کہ حریف کےتعمیل سے گریز کی شدت مطالبے کے دائرہ کار کے ساتھ بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ زیادہ مطالبات ہدف کی تعمیل کے بھگتان کو بڑھا دیتے ہیں، جس سے دباؤ ڈلنے والے پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ عدم تعمیل کی سزا اور تعمیل کے انعامات کو تناسب کے مطابق بڑھائے، اور وسائل کو مقاصد کے مطابق یقینی بنائے۔ بہ الفاظ دیگر، مطالبات جتنے کم ہوں گے، کامیابی کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
اگرچہ وقت کے ساتھ پاکستان کے مطالبات کی شدت میں تبدیلی آئی ہے، تاہم اس کے مطالبات میں سے دو یہ ہیں کہ طالبان ٹی ٹی پی کو افغانستان سے نکال دیں اور طالبان حکام پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کریں، جن سے متعلق پاکستان کا دعوٰی ہے کہ ان کے اڈے افغانستان کےافغان علاقے میں ہیں۔پاکستان نے 2025 کے موسم خزاں اور موسم سرما میں طالبان حکومت کی قانونی حیثیت پر اعتراض بھی کیا (اور) نمائندہ حکومت کا مطالبہ کیا گوکہ یہ بیانیہ قلیل المدت تھا۔ اس صورتحال میں پاکستان کے مطالبات طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان اہم جذباتی اور نظریاتی تعلقات سے متصادم ہوتے ہیں، جس سے مطالبات اور کامیابی کے امکان کے مابین تناسب شدید طور پر متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا طالبان کا ان مطالبات کو پورا کرنے کے امکانات کم ہیں۔
اس ماڈل میں دوسرا عنصر جوابی عمل ہے، جس میں ہدف ریاست تعمیل کے فوائد کا موازنہ عدم عدم تعمیل کے نقصانات سے کرتی ہے۔ مبادلہ میں ایک واضح، یا کم از کم ضمنی طور پر مشترکہ سمجھوتا جو دباؤ ڈالنے والے کی ترغیبات کو ہدف کی رعایتوں سے جوڑتی ہے، شامل ہے۔ تاہم پاکستان کے مطالبات طالبان کے لیے پورا کرنا آسان نہیں ہیں، نہ ہی یہ ان کے مفاد میں ہیں، کیونکہ ٹی ٹی پی کے شیڈو اسٹرکچر (بے ضابطہ ڈھانچے) خیبر پختونخوا کے کئی حصوں سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں موجود ہیں؛ طالبان خواہ انہیں قابو کرنا چاہیں بھی تو شاید ان کے پاس اس کے وسائل یا صلاحیت موجود نہیں۔ لہٰذا پاکستان کے مطالبات کا بھگتان طالبان کی استطاعت سے بڑ ھ کر ہے۔ اہم امریہ ہے کہ پاکستان کا تبدیلیٔ حکومت کے مطالبے کا مقصد طالبان حکومت کی تبدیلی ہوگا۔ بہ الفاظ دیگر ہدف ملک کے لیے اس امر کا اندازہ لگانا ضروری ہےکہ تعمیل کا بھگتان ان کے لیے مفید ہے بھی یا نہیں۔ اور کوئی بھی ذی شعورفریق ایسا سودا نہیں کرے گا جس کی قیمت خود اس کا اپنا وجود ہو۔
تہدید کی معتبریت دباؤ ڈالنے والے کی حکمت عملی کا تیسرا عنصر ہے جو عدم تعمیل کے حقیقی نقصانات ظاہر کرتا ہے تاکہ اس پر یقین قائم کیا جا سکے اور ہدف کو قائل کیا جا سکے کہ مزاحمت بے سود ہے۔ اس واقعے میں پاکستان کے افغانستان میں ٹی ٹی پی کےمبینہ ٹھکانوں پر سرحد پار حملے، جو شدید داخلی بحران کے دوران کیے گئے، نے شہری نقصان اور ردعمل کے خوف کے حوالے سے تنازعہ کھڑا کر دیا، جس نے اسلام آباد کی مزید تصادم کی خواہش کو محدود کر دیا ہے۔ اسی طرح ماضی میں پاکستان نے 2023 سے 2025 کے درمیان افغان پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کے اپنے اعلان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کئی بار اسے مؤخر کیا، اور قانونی اور انسان دوستی کے دباؤ کے باعث بار بار اسے ملتوی کیا۔پاکستان نے گزشتہ دہائی میں افغان اشیاء کے لیے اپنی سرحدیں بارہا بند کیں، جس سے ہر بار افغان تاجروں کو شدید اقتصادی نقصان اٹھانا پڑا—اور پھر تجارت کودوبارہ کھول دیا جاتا رہا۔ ان سب بے قاعدگیوں کے سبب افغانستان کی نظر میں پاکستان کی تہدید کی معتبریت کمزور پڑ گئی ہے؛ افغانستان میں ہوائی حملوں کے بعد نومبر 2025 میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملےشدت اختیار کر گئے،یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان اسلام آباد کی دھمکیوں کو قابلِ بھروسہ سمجھنے کے بجائے غیر متناسب دھونس کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ہدف ریاست: افغانستان
جینٹل سن اور وائیٹوک کے متغیرات کا دوسرا مجموعہ ہدف ملک پر لاگو ہوتا ہے۔ ان متغیرات میں سے ایک ہدف کی صلاحیت ہے، بالخصوص طالبان کی سیاسی اور اقتصادی صلاحیت کہ وہ تجارت اور ترغیبات سے حاصل ہونے والے فوائد کے مقابلے میں فوجی کارروائیوں، پابندیوں اور دیگر دباؤ کے اقتصادی نقصان کو برداشت کر سکے۔ یہ بھگتان معیشت کی مضبوطی اور مطابقت پذیری سے تشکیل پاتے ہیں۔
ان کے حالیہ داخلی اور علاقائی اقدامات کی بنیاد پر لگتا ہے کہ طالبان خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں۔ نومبر 2025 میں طالبان کے نائب وزیر اعظم ملا برادر نے افغان تاجروں کو پاکستان سے کوئی سامان درآمد نہ کرنے اور اپنے تجارتی معاملات تین ماہ کے اندر مکمل کر لینے کو کہا۔ اگرچہ مقررہ راستوں (ٹرانزٹ روٹس) کے بند ہونے سے طالبان کوسنگین سیاسی اور اقتصادی نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں، اور بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سرحد کا بند ہونا دونوں اطراف کے تاجروں کے لیے مفید نہیں ہے، طالبان ان نقصانات کو متبادل تجارتی راستوں کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں چابہار انٹر نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ ٹرانزٹ کوریڈور شامل ہے، جس میں بھارت نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اور وسطی ایشیا تک شمالی راستوں کی تیزی سے توسیع بھی شامل ہے، جن میں افغانستان، ترکمانستان، قازقستان، اور کیسپین خطہ شامل ہیں۔ طالبان کا خیال ہے کہ یہ راستے طویل مدت میں افغانستان کے پاکستان پر مقررہ راستوں (ٹرانسٹ روٹس) کے لیے انحصار کو ختم کر دیں گے۔ کیونکہ پاکستان مقررہ راستوں پر اپنے لائحۂ عمل سے پلٹ گیا اور اس نے اعلانیہ عندیہ دیا کہ وہ افغانستان کو اقوام متحدہ کی خوراک کی فراہمی آسان بنانے کے لیے تیار ہے اور افغان ٹرانسٹ کارگو کی دوبارہ برآمد کی اجازت دے دی جو اس کی بندرگاہوں پر رُکا ہوا تھا، افغانستان کے خطرہ مول لینے کی قبولیت کو درست ثابت کرتا ہے۔
طالبان حکومت نے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک سے لاکھوں پناہ گرینوں کی واپسی کو بھی جذب کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود طالبان نے پناہ گرینوں کے لیے ایک خصوصی کمیشن قائم کیا ہے، جو انہیں ان کے آبائی صوبوں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے اور انہیں بنیادی ضروریات فراہم کرتا ہے۔ گوکہ ملک کے اندرونی حالات غیر معمولی طور پر مشکل ہیں، طالبان نے عدم تعمیل کے نقصانات کے سامنے گہری لچک داری دکھائی ہے، اور وہ پاکستان کو کوئی رعایت دیتے دکھائی نہیں دیتے۔
مطالبات کے بھگتان اور فوائد میں توازن نہ ہونے، دباؤ ڈالنے والے کے طور پر پاکستان کی کمزور معتبریت اور طالبان میں عدم تعمیل کے خطرات کو قبول کرنے کی صلاحیت کے باعث پاکستان کی تہدیدی سفارت کا مقدر ناکامی ہے۔
مستقبل پر نظر
جینٹل سن اور وائیٹوک کے تہدیدی سفارت کے ماڈل کی بنیاد پر ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مطالبات کے بھگتان اور فوائد میں توازن نہ ہونے، دباؤ ڈالنے والے کے طور پر پاکستان کی کمزور معتبریت اور طالبان میں عدم تعمیل کے خطرات کو قبول کرنے کی صلاحیت کے باعث پاکستان کی تہدیدی سفارت کا مقدر ناکامی ہے۔
شاید پاکستان کے حالیہ تہدیدی سفارتی واقعے کی ناکامی کے باعث پاکستانی حکام کے افغانستان سے متعلق مطالبات بدل گئے ہیں: اب وہ کابل میں ‘حکومت کی تبدیلی‘ کا تذکرہ نہیں کرتے۔ایک اہم موڑ پر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرا بی نے اعلان کیا کہ افغان عوام کو بیرونی مداخلت سے بالاتر استحقاق حاصل ہے کہ وہ جس حکومت کو مناسب سمجھیں منتخب کرلیں، اور پاکستان موجودہ کابل انتظامیہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے۔ پاکستان اور افغانستان نے ایک 13 رکنی مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جس میں دونوں جانبین کے تجارتی رہنما شامل ہوں گے تاکہ سرحد دوبارہ کھولنے کے رسمی مذاکرات کیے جا سکیں، جس سے پاکستان کی ایک اہم تہدیدی حکمت عملی کو نقصان پہنچے گا۔
پاکستان کی پس قدمی ممکنہ طور پر اس کے تہدیدی اقدامات کے منفی ملکی اثرات سے متاثر ہو سکتی ہے، جن میں سرحد بند ہونے کے باعث اقتصادی نقصان اور افغانستان میں حملوں کے مبینہ شہری جانی نقصانات پر بین الاقوامی مذمت شامل ہیں۔تاہم طالبان کو اپنی سکیورٹی مطالبات کی تعمیل کرنے پر مجبور کرنے میں ناکامی، اسلام آباد کو ایک نازک موڑ پر لے آتی ہے۔ٹی ٹی پی حملوں میں عارضی کمی ممکن ہے تاہم یہ (کمی) غالباً عارضی ہوگی، درمیانی اور طویل مدت میں تشدد میں اضافہ متوقع ہے۔مزید برآں یہ ناکامی مستقبل میں تشدد کے اضافے کی صورت میں پاکستان کے اختیارات کو محدود کرتی ہے۔
اسی دوران طالبان کا اصل دعویٰ کہ ٹی ٹی پی محض پاکستان کے لیے ایک داخلی مسئلہ ہے، بدستور برقرار ہے۔ جیسا کہ ذبیح اللّٰہ مجاہد نے ایک مرتبہ اعلانیہ کہا تھا،ــ پاکستان کے پاس ’’اپنی سلامتی کو محفوظ بنانے‘‘ کے سوا کوئی اور حل نہیں ۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.
***
Image 1: MoFA Qatar via X
Image 2: Asmatafridi787 via Wikimedia Commons