Prayer_Flags_of_Namgayal_Tsemo-1095×616-1

نئی دہلی میں مرکزی حکومت اور لداخی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے تازہ ترین دور  میں ناکامی کے بعد ۶ مارچ کو ماہر ماحولیات سونم وانگچک نے چھٹے شیڈول کے تحت لداخ کے لئے آئینی تحفظات کی حمایت میں شہید میموریل لیہہ میں ۲۱ روزہ بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ لداخ کے کئی گاؤں ان کی حمایت میں احتجاج کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ لداخ  کے دارالحکومت لیہہ میں بھوک ہڑتال میں ان کے ساتھ رضاکارانہ طور پر شامل ہو رہے ہیں۔

سال 
۲۰۱۹ تک لدّاخ ریاستِ جموں و کشمیر کا حصّہ تھا۔اگست ۲۰۱۹ میں آرٹیکل ۳۷۰ کی تنسیخ کے بعد دونوں علاقوں کو علیحدہ  اور ان کا درجہ کم کر کے یونین علاقہ جات ( یونین ٹیریٹری) میں تبدیل کر دیا گیا جو اب نئی دہلی سے مرکزی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔ تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے لداخ خود کو جموں و کشمیر سے الگ محسوس کرتا رہا ہے، اس لیے ہمیشہ سے علیحدگی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ حکمراں بی جے پی حکومت نے اس مطالبے کو پورا کیا اور چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات فراہم کرنےکے وعدے  کی بنیاد پر ۲۰۲۰ میں لداخ کے مقامی پہاڑی کونسل کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ تاہم چار سال بعد بھی ان کے مطالبات پورے نہ ہو پائے۔بھارت میں ۲۰۲۴ کے عام انتخابات سے قبل خطے کے عوام آئینی تحفظات اور ان کی بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول میں شمولیت کا مطالبہ کرنے احتجاجاََ باہر نکل  آئے ہیں۔


دسمبر ۲۰۲۳ سے لے کر اب تک ایپکس باڈی لیہہ (اے بی ایل) اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے نمائندوں نے مرکزی حکومت کی تشکیل کردہ  ہائی پاور کمیٹی (ایچ پی سی) کے ساتھ مذاکرات کے  چار ا دوارمکمل کیے ہیں۔اس موسم سرما میں مذاکرات کے بے نتیجہ  ہونے کے بعد اے بی ایل اور کے ڈی اے نے لیہہ چلو احتجاج کی کال دی، جس کی بدولت ۳ فروری کو کاروبارِ زندگی تھم گیا۔ ۴ مارچ کو مذاکرات کا تازہ ترین دور بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے ختم ہونے کے بعد لداخ میں دوبارہ  احتجاج شروع ہوا۔ وانگچک نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی آبادی کے ایک بڑے حصے کی حمایت کے ساتھ، ان کی تا دمِ مرگ بھوک ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت چھٹے شیڈول کے نفاذ، لداخ کو مزید خودمختاری دینے اور ماحولیاتی اعتبار سے حساس خطے  کو آنے والے ماحولیاتی بحرانات سے بچانے کے ان کے مطالبات کی حمایت نہیں کرتی۔

مظاہرین کے مطالبات

سال 
۲۰۱۹ میں آرٹیکل ۳۷۰ کی تنسیخ کے بعد لداخ کو مقننہ کے بغیر ایک علیحدہ یونین ٹیریٹری (یو ٹی) کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ گو کہ  نئی دہلی اور پانڈیچیری جیسی یو ٹی  کی اپنی قانون ساز اسمبلیاں ہیں، تاہم  لداخ کی اپنی قانون ساز اسمبلی نہیں ہے۔ جواباََ  کارگل اور لیہہ کی عوام بھارت کے آئین کے چھٹے شیڈول میں شمولیت کا مطالبہ کرنے کے لئے متحد ہوگئی ہے، جو کچھ قبائلی علاقوں کا انتظام خود مختار اکائیوں کے طور پر چلانے کی اجازت دیتا ہے۔ عوام کے (اس) مطالبے کے لیےمثال موجود ہے؛ آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم  کے قبائلی علاقے اسی شیڈول کے تحت کام کرتے ہیں۔


لداخ کے لئے چھٹے شیڈول میں شمولیت کے لئے جاری عوامی تحریک کے چار بنیادی مطالبات ہیں: چھٹے شیڈول میں شمولیت، ریاست کے درجے کی واپسی ، ایک پبلک سروس کمیشن اور دو پارلیمانی نشستیں؛ ایک کارگل کے لئے اور دوسری لیہہ کے لئے۔اس شیڈول میں شولیت سے لداخ کو خود مختار ضلعی اور علاقائی کونسلیں (بالترتیب اے ڈی سی اور اے آر سی) تشکیل دینے کی اجازت ملے گی، جو زمین کی خریداری، صحت عامہ اور زراعت پر ماحولیاتی اور ثقافتی طور پر ہم آہنگ قوانین تشکیل دے کر قبائلی آبادی کی حفاظت کرتی ہیں۔ لداخ کی ۹۷ فیصد آبادی قبائلی ہونے کے پیشِ نظر، رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس سے وہ آبادیاتی تبدیلیوں اور غیر مقامی لوگوں کے ہاتھوں وسائل کے استحصال سے محفوظ رہ سکیں گے۔


دوسرا اہم مطالبہ ریاست کا درجہ واپس پاناہے۔ ایک یو ٹی کی حیثیت سے لداخ پر براہ راست مرکزی حکومت کا کنٹرول ہے۔ لداخ کی خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلیں، جو ۲۰۱۹ سے پہلے بااختیار تھیں اور ضلعی انتظامیہ میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنا کر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرتی تھیں، لداخ کے یوٹی بننے کے بعد سے تقریباََ غیر فعال ہو چکی ہیں۔آج  لداخ کی سیاسی نمائندگی ہر ضلع میں ایک پارلیمنٹ سیٹ اور دو خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں تک محدود ہے، جو اقتدار کی مبہم تقسیم کے باعث ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مارا ماری میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ ریاستی مقننہ کے بغیر مرکز کا مقرر کردہ گورنر ترقیاتی کاموں کی ہدایات دیتاہے، اور یہاں عوام کے اظہارِ خیال کا کوئی فورم نہیں ہے۔


 پبلک سروس کمیشن  کا تیسرا مطالبہ اس لیےہے کہ لداخ کے نوجوانوں کے لئے شیڈول کے تحت ذات اور قبیلہ کی بناء پر مخصوص نشستوں کے ذریعہ سرکاری ملازمتوں کا حصول یقینی بنایا جا سکے تاکہ حکومت کے مختلف شعبہ جات میں ان کی شمولیت اور نمائندگی ممکن  ہوسکے۔ 
چوتھا مطالبہ دو پارلیمانی نشستوں کا ہے، جو تحریک کے مطابق لیہہ اور کارگل کے دو الگ اضلاع کے مقاصد اور امنگوں کی نمائندگی کرنے کے لئے ضروری ہے۔

اب تک کے مذاکرات


لداخ کے نمائندوں کے مطابق ہائی پاور کمیٹی نے لداخ میں پبلک سروس کمیشن کی تشکیل پر کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول کے خیال کو مسترد کردیا ہے۔ لداخ کے ایک چینل کو دیے گئے انٹرویو میں لداخی بی جے پی لیڈر پی ٹی کنزانگ نے لداخیوں پر زور دیا کہ وہ آخری مذاکرات میں وزارت داخلہ کی جانب سے تجویز کردہ آئینی تحفظات کو اپنائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ حکومت چھٹے شیڈول پر عمل درآمد نہیں کرے گی  تاہم وہ مذاکرات کے دوران اس سے مماثل  شرائط پر غور کرے گی۔ انہوں نے  پہلے سےموجود خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کی از سرِ نو تشکیل اور انہیں مزید اختیارات دینے کی تجویز کا بھی ذکر کیا۔ تاہم اے بی ایل اور کے ڈی اے نے اس پیش کش کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے دوران ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جائیں گے۔

 
اگرچہ مرکزی حکومت نے ابھی تک مظاہرین کے مطالبات  پورے نہیں کیے ہیں  تاہم بی جے پی نے لداخ میں دو مزید اضلاع  زنسکر اور نوبرا کو شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے ، کیونکہ ان علاقوں نے ۲۰۰۶ سے ضلع کا درجہ پانے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر سے دوری کے باعث یہ علاقے اب بھی صحت، رابطے، بجلی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ حکومت کا یہ اقدام ممکنہ طور پر موجودہ مظاہروں کو منتشر کرنے اور ۲۰۲۴ کے عام انتخابات میں زنسکر اور نوبرا میں ووٹ کی اکثریت  حاصل کرنے کا ایک حربہ ہے۔  تاہم دو نئے اضلاع کی تشکیل بی جے پی کو لداخ میں انتخابات ہارنے سے یقینی طور پر بچا نہیں سکتی، کیونکہ مظاہرین آنے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ بھی دے رہے ہیں۔


ایپکس باڈی لیہہ کے نمائندوں کے مطابق یہ احتجاج توقع سے زیادہ دیر تک جاری رہ سکتا ہے۔  
لداخ میں احتجاج کی حمایت میں بھارت بھر سے کئی  ہم خیال گروپ سامنے آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی، انڈین نیشنل کانگریس جیسی  بڑی سیاسی جماعتیں اور دیگر آزاد کونسلر بھی مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کے طور پرمتحد ہو رہے ہیں۔


سیاسی اور مذہبی تقسیم والے  اس خطے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کارگل اور لیہہ اضلاع چھٹے شیڈول کے مطالبے پرمتحد ہوگئے ہیں۔ اس صورت میں کوئی درمیانی راستہ کام نہیں کرے گا۔  حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے اور قبائلی ثقافت اور ماحولیاتی طور پر حساس علاقے کو غیر ضروری ترقی سے بچانے کے لئے لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنا چاہیئے۔ مقامی پہاڑی کونسلوں کو فیصلہ سازی کے زیادہ اختیارات دیے جائیں تاکہ مقامی لوگ علاقے کے معاملات میں اپنی رائے دےسکیں۔ اپنی ماحولیاتی بھوک ہڑتال کے ۱۴ ویں دن، وانگچک نے دھمکی دی کہ وہ ۲۷ مارچ کو ہزاروں مقامی لوگوں کے ساتھ بھارت -چین سرحد کی طرف مارچ کریں گے تاکہ اپنے خدشات کو عالمی سطح پر اجاگر کر سکیں۔ اس سے جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر سے لداخ کے احتجاج کے پیمانے اور سنگینی کو از سرِ نو   تعبیر  کیا جاسکتا ہے اور لداخ کے لئے چھٹے شیڈول میں شمولیت کے لئے عوامی تحریک کے لئے ایک نیا باب رقم ہو سکتا ہے۔ 

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Prayer flags in Ladakh via Wikimedia Commons

Image 2: Sonam Wangchuk giving a TED talk via Flickr

Posted in:  
Share this:  

Related articles

اقتصادی دائرۂ کار کی خریطہ نگاری: پاک چین مال برداری کی فضائی رابطہ کاری کا وعدہ Hindi & Urdu

اقتصادی دائرۂ کار کی خریطہ نگاری: پاک چین مال برداری کی فضائی رابطہ کاری کا وعدہ

حال ہی میں قائم ہونے والا پاک چین   فضائی  مال برداری کا…

अग्नि-V: दक्षिण एशिया में नई MIRV प्रौद्योगिकी के लिए दौड़ Hindi & Urdu

अग्नि-V: दक्षिण एशिया में नई MIRV प्रौद्योगिकी के लिए दौड़

भारत के रक्षा अनुसंधान और विकास संगठन (DRDO) ने 11…

کواڈ کو انڈو پیسیفک میں جوہری خطروں سے نمٹنا ہو گا Hindi & Urdu

کواڈ کو انڈو پیسیفک میں جوہری خطروں سے نمٹنا ہو گا

کواڈ کے نام سے معروف چار فریقی سیکیورٹی ڈائیلاگ کے…