Pakistan-1

مقامی معیشت دانوں اور پالیسی سازوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات نے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کی تجدید کی کوششوں کو مسخ کر دیا ہے۔ نقاد اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کو جاری رکھنا چاہیئے، وہیں اسلام آباد کو اس حقیقت سے بھی نگاہیں نہیں چرانی چاہیئیں کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا پروگرام ملک میں دیرپا اور پائیدار اصلاحات کے نفاذ کے لیے درکار ہمہ گیریت اور لچک سے عاری ہے۔ مثال کے طور پر، یہ پروگرام ملک میں حال ہی میں آنے والا سیلاب جس نے چار میں سے تین صوبوں کو تباہی سے دوچار کیا ہے، اس کے نتیجے میں ملک میں پیدا ہونے والے اقتصادی بحران کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ گو کہ اس بارے میں بے یقینی میں لپٹی ایک امید موجود ہے کہ یہ پروگرام پاکستان میں میکرو فسکل استحکام لاتا ہے، وہیں مستقبل میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے واپس رجوع کے حوالے سے شکوک و شبہات بھی موجود ہیں۔

اسحاق ڈار جو نواز شریف کے قریبی مشیر ہیں، وہ نواز شریف، جو کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے بڑے بھائی ہیں، اور اب ان کے قریبی مشیر اسحاق ڈار کے ہاتھ میں پاکستان کا اقتصادی انتظام ہے۔ ڈار نے پاکستان کا دوبارہ وزیر خزانہ بننے سے قبل پانچ برس طویل جلاوطنی کاٹی۔ ایک تجربہ کار چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ڈار ماضی میں تین بار یہ عہدہ سنبھال چکے ہیں۔ اسحاق ڈار معیشت کے حوالے سے ایک روایتی سوچ رکھتے ہیں، جس کا اکثر اظہار مالی نظم و ضبط اور دانشمندی کی خاطر قلیل المدتی حل پر مبنی اقدامات کی شکل میں ہوا۔ تاہم پاکستان کے نئے وزیر خزانہ کے طور پر آئی ایم ایف ہیڈکوارٹرز کے اپنے پہلے دورے کے بعد ڈار اور ان کے جیسے دیگر کئی ہم خیال معیشت دان آئی ایم ایف پروگرام کی موثریت کے حوالے سے زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ کچھ بھی کہا جائے، پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے ساتھ کام کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ لہذا اسلام آباد کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مقامی حقائق آئی ایم ایف پروگرام میں ضم ہوں اور ایسے طریقے متعارف کروائے جائیں جن سے طویل المدت میں خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف

پاکستان نے آئی ایم ایف سے ۲۰۱۹ میں حاصل کیے گئے ساتویں توسیعی فنڈز (ای ایف ایف) کا ساتواں اور آٹھواں مشترکہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے اس مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات کے ایک اور دور کا آغاز کر دیا۔ پاکستان نے ۱۹۸۰ میں پہلی بار فنڈ کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دی تھی، اس کے بعد سے وہ اب تک آئی ایم ایف سے ۲۳ مرتبہ رجوع کر چکا ہے۔ پاکستان میں آئی ایم ایف کے نقاد، ادارے کی مداخلت کی وجہ سے اس کی اہانت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ زیادہ تر ممالک میں آئی ایم ایف پروگرام کا مالیاتی اور بیرونی تجارتی عدم توازن اکثر سکڑنے کے بجائے پھیلتا ہوا ہی دیکھا گیا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں رہا ہے۔ معاشی متغیرات کے اشاروں میں عدم استحکام ملک کو ہر چند برس کے بعد آئی ایم ایف کے پاس لے جاتا ہے، جہاں وقت کے ساتھ شرائط کڑی سے کڑی تر ہو چکی ہیں جو ملک میں ایک گرما گرم سیاسی بحث کا موضوع بن چکی ہیں۔

پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی خسارے کے حوالے سے اقتصادی صورتحال اسے بار بار ایک ایسے مقام پر لے آتی ہے جہاں اسے دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے فنڈ کی جانب سے فوری مدد کی ضرورت لاحق ہو جاتی ہے۔ دریں اثنا، ملک کی بدلتی پالیسی اور معاشی منظرنامے کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے، آئی ایم ایف ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے لیے اپنے مشوروں اور پالیسی حمایت میں کوئی تبدیلی نہیں لایا ہے۔

آئی ایم ایف قرضے کا ایک معیاری پروگرام

آئی ایم ایف کی جانب سے دور رس ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مالیاتی استحکام پر اصرار یہ واضح کرتا ہے کہ یہ عارضی سہارا فراہم کرنے والا ادارہ نہیں ہے۔ اس کی پالیسیاں کسی ملک کو ایک مخصوص مدت کے لیے قرضہ فراہم کرنے اور اس کی تاریخ ادائیگی کے آغاز پر ایک اور قرضے کے لیے بات چیت کے آغاز پر توجہ مرکوز نہیں کرتی ہیں۔ اس کے بجائے اس کے پروگرام پختہ ڈھانچہ جاتی اور پالیسی اصلاحات کی شرائط رکھتے ہیں تاکہ میکرواکنامک اور مالیاتی استحکام کو سہارا دیا جا سکے۔ آئی ایم ایف پروگرام اور کسی دوسرے مالیاتی ادارے یا کمرشل بینک میں یہی نمایاں فرق ہے کہ یہ نقد اور ڈالر سے محروم معیشتوں کے لیے تدارک اور علاج دونوں پر عمل کرتے ہوئے انہیں مستقبل میں اسی سے ملتی جلتی صورتحال کا شکار ہونے سے بچاتا ہے۔

پاکستان نے آئی ایم ایف اصلاحات تسلسل کے ساتھ نافذ نہیں کی ہیں۔ یہ عمران خان کی قیادت میں واقع پی ٹی آئی کی حکومت نہایت واضح تھا جہاں حکومت نے بے قابو ہوتی مہنگائی کو قابو میں لانے کے لیے مالیاتی استحکام اور مانیٹری امور میں سختی لانے کے آئی ایم ایف کے نسخے سے انحراف کیا تھا۔ لیکن پاکستان کے معاشی اعشاریے اس وقت بھی بدستور جمود کا شکار رہے اور آئی ایم ایف کی جانب سے جھنجھوڑے جانے پر کوئی ردعمل نہ دے سکے جب یہ پروگرام پورے زور و شور سے جاری تھا۔ آئی ایم ایف کی پیش رفت رپورٹس کچھ وقفوں کے بعد مرتب کی جاتی ہیں، لیکن اس میں پروگرام کے مجموعی نتائج کے بجائے اس کی شرائط سے حاصل ہونے والے فوائد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خساروں میں مسلسل اضافہ جاری رہا، جو پالیسی میں تبدیلی کے چھ ماہ کے اندر اندر ہی ملک کو معاشی تباہی کے دہانے پر لے آیا۔ اس صورتحال نے محکمہ خزانہ کے لیے ایک موقع پیدا کر دیا کہ وہ اعلیٰ سطحی اخراجاتی مطالبوں کو جگہ دے سکے۔

آئی ایم ایف اکثر تین ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر مشتمل ایک جیسے نسخے پیش کرتا ہے: پالیسی ریٹ میں اضافہ (مانیٹری سختیوں کا نسخہ) اخراجات میں کٹوتیوں کے ساتھ ساتھ ٹیکس ریونیو میں اضافہ (مالیاتی استحکام کا نسخہ)، اور مقامی کرنسی کی قدر میں کمی تاکہ اسے مارکیٹ کے شرح تبادلہ پر لایا جا سکے (بیرونی تجارتی عدم توازن کے لیے نسخہ)۔

ابتداء میں آئی ایم ایف کی تجاویز فری مارکیٹ اور آزاد معیشت کے تابع ہوتی ہیں۔ تاہم جب یہ فنڈز پائیدار اصلاحات کے نفاذ میں ناکام رہتے ہیں اور ممالک زیادہ ابتر صورتحال کے ساتھ آئی ایم ایف کے پاس واپس جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، تو ایسے میں وہ معیشت دان جو اس پروگرام کو ترتیب دیتے ہیں، انہیں اس تین ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر مشتمل نسخے میں کچھ نئی تبدیلیاں لانی چاہیئیں۔

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے نسخے کا تجزیہ

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا پالیسی نسخہ، باقی کی دنیا میں نافذ شدہ آئی ایم ایف کے معیاری ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر مشتمل نسخے سے زیادہ مختلف نہیں۔ تاہم ذیل میں بیان وجوہات کی بنا پر، یہ نسخہ پاکستانی معیشت کے ڈھانچے اور عملی پہلوؤں سے ہم آہنگی اختیار کرتا دکھائی نہیں دیتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ مطلوبہ مانیٹری اور مالی نتائج دینے کے قابل بھی نہیں ہو سکا ہے۔

اولاً یہ کہ مہنگائی اور میکرواکنامک عدم توازن پر شرح سود کے معمولی اثرات ہوتے ہیں کیونکہ ملک میں معاشی منڈیوں کا پختہ ہونا ابھی باقی ہے۔ مغرب، جہاں ان پالیسیوں کے حوالے سے تجربات، سود کے متغیرات پر اثرات ڈالتے دکھائی دیتے ہیں، وہیں پاکستان کی مالی منڈی، اس کے برعکس طور پر کام کرتی ہے۔ مغرب کے برعکس یہاں گھر جیسے اثاثہ جات بذریعہ رہن سرمایہ کاری کے بجائے نقد سے خریدے جاتے ہیں۔ مزید براں، کاروباری سرگرمیاں بھی بڑی حد تک کمرشل بینکوں کے قرضوں پر منحصر نہیں ہوتی ہیں۔ لہذا طلب اور رسد جو کسی معیشت میں ممکنہ مہنگائی کے اشاریئے ہیں؛ پاکستان میں دونوں کو زیر قابو لانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کارگر ثابت نہیں ہوتا ہے۔

دوئم یہ کہ ترقیاتی اخراجات میں کمی کے منفی پیداواری اثرات ہوتے ہیں؛ معیشت سکڑتی ہے، کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار ہوتی ہیں، اور لوگ بے روزگار ہوتے ہیں۔ گو کہ یہ بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لیے انتہائی ضروری ہے لیکن یہ تجویز صرف آسانیِ عمل کو ترجیح دیتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی اصلاحات متعارف کروانے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ تاہم جہاں اخراجات میں کٹوتیوں کا براہ راست اثر پیداواری توقعات میں کمی کی صورت میں ہوتا ہے، مالیاتی خسارے کو محدود کرنے پر اس کا معمولی اثر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کٹوتیاں عموماً شرح سود میں اضافے اور قرض کی ادائیگیوں سے شروع ہوتی ہیں، جو پاکستان کسی بھی فنڈ پروگروام میں شامل ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف اور دیگر کثیرالفریقی اداروں کو دینا شروع کر دیتا ہے۔

سوئم یہ کہ روپے کی قدر میں کمی، بیرونی قرض دہندگان سے مالی معاونت کے بغیر تیل کی درآمدات کے حصول لیے پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ میں لچک کے ذریعے، سستی برآمدات کا موجب ہونا چاہیئے۔ بہرحال برآمدات روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے ساتھ نتھی رہی ہیں اور درآمدات ان کو پیچھے چھوڑتی رہی ہیں۔ پاکستان کی ترسیلات زر اور برآمدات مشترکہ طور پر درآمدات کے مقابلے میں کم رہی ہیں؛ اس کے درآمدی منظرنامے پر تیل سب سے زیادہ جگہ گھیرتا ہے، اور یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل

یہ واضح نہیں کہ آئی ایم ایف کی ۱.۱۷ بلین ڈالر کی قسط اور اس کے لیے شرائط پاکستان کے میکرواکنامک مسائل کو کس حد تک حل کریں گی۔ اس کے سفر کے خطوط یہ بتاتے ہیں کہ سیلابوں سے بے دم پاکستان آئندہ اگرچہ ڈوبے گا نہیں، لیکن یہ چند برس بعد زیادہ سخت شرائط کے ساتھ ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس واپس لوٹے گا۔ اسلام آباد کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا یہ آئی ایم ایف پروگرامز کی کوئی قدر و قیمت دیکھتا ہے اور کیا مستقبل میں آئی ایم ایف میں واپسی سودمند ہو گی۔

اگر پاکستان آئی ایم ایف کے پاس واپس لوٹتا ہے تو ایسے میں اسے یہ یقینی بنانا چاہیئے کہ حتمی پروگرام اس کی مقامی ضروریات کو پورا کرتا ہو۔ جہاں پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے پاس واپسی کے سوا متبادل مختصرالمدتی کوئی چارہ نہیں ہے، وہیں اسے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر بھی غور کرنا چاہیئےجیسا کہ مخصوص طبقوں کے لیے سبسڈیز اور مالیاتی سمجھ بوجھ اور ریاستی وسائل کے بہتر انتظامات کے ذریعے موجودہ اخراجات کو منطقی بنانا۔

عطیہ کنندگان اور آئی ایم ایف کی کمزوری کے بارے میں بحث پاکستان کے علمی حلقوں میں جاری ہے، لیکن آئی ایم ایف پروگرام کی معیشت کی بحالی کے ضمن میں کارکردگی اور ڈار کا آئی ایم ایف کا حالیہ دورہ یہ پیغام دیتا ہے کہ یہ کمزوری دونوں جانب ہے۔بہرحال ان کمزوریوں کے باوجود، آئی ایم ایف کے پروگرام نے کم از کم یہ یقین دلایا کہ دیوالیہ کا امکان موجود نہیں ہے اور پاکستان سری لنکا جیسی صورتحال سے بچاؤ میں کامیاب ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Asif Hassan/AFP via Getty Images

Image 2: Asim Hafeez/Bloomberg via Getty Images

Share this:  

Related articles

<strong>بھارتی خارجہ پالیسی ۲۰۲۲ میں: سال بھر کا جائزہ</strong> Hindi & Urdu

بھارتی خارجہ پالیسی ۲۰۲۲ میں: سال بھر کا جائزہ

بھارت نے گزشتہ برس کے دوران اپنی خارجہ پالیسی میں…

سری لنکا کی نادہندگی کا باعث چین کیوں نہیں ؟ Hindi & Urdu

سری لنکا کی نادہندگی کا باعث چین کیوں نہیں ؟

  سری لنکا کو اپنی آزادی کے بعد پہلی مرتبہ…

<strong>پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور غذائی عدم تحفظ</strong> Hindi & Urdu

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور غذائی عدم تحفظ

گزشتہ کچھ برسوں کے دوران، انتہائی نوعیت کی موسمیاتی کیفیات…