,

امریکہ طالبان معاہدے پر دستخط، لیکن کس قیمت پر؟

.This article has been translated from its original English version by SAV staff. To read the original version, click here

گزشتہ دنوں، امریکہ اور طالبان کے مابین ایک برس کی براہ راست بات چیت اور افغان سرزمین پر امریکہ کے قدم دھرنے کے ۱۹ برس بعد، دونوں فریقوں نے ملک میں قیام امن کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ معاہدے کے مطابق، طالبان نے کسی بھی ایسے دہشت گرد گروہ یا افراد سے تعلقات یکسر ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تحفظ کیلئے خطرہ ہوں (اس میں غالباً القاعدہ اور داعش شامل ہیں) نیز ملک سے امریکی اور نیٹو افواج کی مکمل واپسی، ۵۰۰۰ تک طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان پر عائد اقوام متحدہ و امریکی پابندیوں کے خاتمے کے عوض ”افغان فریقوں“ سے مذاکرات کے آغاز کا وعدہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ افغانستان میں قیام امن کیلئے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ طالبان اورافغان حکومت و سول سوسائٹی کے نمائندوں کے مابین براہ راست بات چیت کا امکان پیدا کرتا ہے، تاہم یہ اس معاہدہ کا واحد مثبت پہلو دکھائی دیتا ہے جو بدستور افغانستان کے مستقبل اور ملک میں شورش اور دہشت گردی پر مبنی ممکنہ کارروائیوں کے حوالے سے منفی خدشات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

ان خدشات میں سرفہرست تو یہ ہے کہ امریکہ نے دراصل طالبان قیادت کی جانب سے اپنے جنگجو دستوں پر قابو پانے کے انتہائی کمزور ثبوت (جو کہ  بذات خود مشکوک ہیں) کے بل بوتے پر افغانستان سے اپنی افواج نکالنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ مثال کے طور پر، معاہدے سے قبل کی ”تشدد میں کمی“ پر مبنی طے شدہ سات روزہ مدت میں ہی ۱۲ افغان صوبوں میں طالبان شورش پسندوں کی جانب سے حملے کئے گئے جن میں کم از کم ۲۱ فوجی اور نو سویلیئنز ہلاک جبکہ ۴۹ دیگر زخمی ہوئے تھے۔ مزید براں، گزشتہ ہفتے میں طالبان نے ایک ڈسٹرکٹ کے گورنر کو اغواء کیا ہے۔

 دریں اثناء،  طالبان کی جانب سے کسی بھی بڑے  سمجھوتے پررضامندی ظاہر کئے بغیر ہی امریکہ کی جانب سے انہیں ان کی حیثیت سے زیادہ یکطرفہ رعایتیں فراہم کی گئیں جس سے انہیں بین الافغان مذاکراتی عمل میں افغان حکومت اور دیگر فریقوں کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن حاصل ہوئی۔ مذاکرات کے دوران طالبان ڈھٹائی پر اترے رہے اور بین الافغان مذاکراتی عمل کیلئے کوئی بھی لائحہ عمل فراہم کئے بغیر ہی وہ اپنی ضد کے ذریعے امریکہ سے کامیابی سے رعایتیں حاصل کرتے رہے۔ اہم امر یہ ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ معاہدہ اس خطرناک مفروضے پر کیا گیا کہ مستقبل میں فیصلہ سازی کے عمل میں طالبان کا اثرورسوخ اس حد تک ہوگا کہ وہ اپنے اس عہد کی پاسداری کرسکیں گے جس کے مطابق افغان سرزمین کسی بھی امریکی یا اس کے اتحادی کیخلاف دہشت گرد گروہوں کی جانب سے استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔ یہ مفروضہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں طالبان کو افغان حکومت کی قیادت کرتا ہوا دیکھتا ہے اور مستقبل میں افغان حکومت میں طالبان کا کردار “ایک گروہ” سے بڑھا کے ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر کرنا چاہتا ہے۔ پہلے ہی  اس معاہدے میں طالبان کو “اسلامی امارات افغانستان جسے امریکہ بطور ریاست تسلیم نہیں کرتا” کہا گیا ہے جبکہ افغان حکومت کو “فریق مخالف” پکارتا ہے جو بظاہر انہیں طالبان کے مقابلے میں کم تر حیثیت دینے کے موافق ہے۔ یہ تمام امور بین الافغان مذاکرات کو مزید بے قابو اور پیچیدہ بناتے اور مذاکراتی عمل میں طالبان کا پلڑہ بھاری کرتے ہیں، بالخصوص ایسے میں کہ جب افغان حکومت اور سیاسی قوتیں پہلے سے ہی امن عمل اور انتخابات کے سلسلے میں تقسیم کا شکار ہیں۔

معاہدے کی ایک اور کمزوری یہ ہے کہ یہ امریکی اور نیٹو افواج کی واپسی کے بعد طالبان کی جانب سے طاقت کے استعمال کی جانب واپس رجوع کی صورت میں  افغان حکومت کی مدد کرنے کے لئے کسی طریقہ کار یا یقین دہانیوں کے موضوع پر تفصیلی روشنی نہیں ڈالتا ہے۔ افغان حکومت کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اس قابل ہے کہ وہ حکومت کی آئینی حیثیت  ختم کرنے اور شورش کی حمایت کرنے کے ضمن میں طالبان کیلئے “ٹروجن ہارس حکمت عملی” جیسا کردار ادا کرے۔ اس قسم کی صورتحال خارج از امکان نہیں اور امریکی حکام نے یہ محسوس کیا ہے کہ یہ معاہدہ خطرات سے خالی نہیں ہے۔ اسی سے جڑا ایک اور چیلنج یہ ہے کہ یہ معاہدہ طالبان کے غیر ممالک میں موجود حمایتیوں/ معاونین، خاص کر پاکستان کے حوالے سے خاموش ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ امریکہ طالبان معاہدے کے بعد امریکہ نے افغان سیکیورٹی حکام کی مدد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم افغان افواج کی حمایت جاری رکھنے کا عزم طالبان کے ساتھ دستخط شدہ معاہدے کے برابر نہیں ہے۔ مزید براں، یہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ  بدترین حالات میں جب طالبان کی جانب سے تشدد بپا کیا جارہا ہو، ایسے میں یہ زبانی عہد عملی کاروائی میں کس طرح ڈھالا جائے گا اور یہ امریکہ کی جانب سے افغان افواج کو سامان مہیا کرنے اور انکی تربیت کرنے پر کس طرح اثرانداز ہوگا۔

 سچ تو یہ ہے کہ بین الافغان مذاکراتی عمل میں تمام فریقوں کی جانب سے جنگ ختم کرنے اور دیرپا امن کیلئے پختہ عزم  دکھائے جانے کی صورت میں یہ معاہدہ ملک میں دہائیوں سے جاری تشدد کی لہر کو ختم کرنے کیلئے ایک تاریخی موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر یہ معاہدہ  طالبان کے لئے فتح کے مترادف ہے کیونکہ یہ گزشتہ ۱۹ برس میں متعارف کروائی گئی اصلاحات بشمول آئینی و جمہوری عمل، خواتین کے حقوق، تمام شہریوں کیلئے سول و سیاسی حقوق، ابھرتی ہوئی سول سوسائٹی اور ابلاغ عامہ کا گروہ، سیاسی عمل میں بڑے پیمانے پر شمولیت اور برداشت کی روایت شامل ہے، ان کے تحفظ کیلئے کوئی حقیقی ضمانت دینے میں ناکام رہا ہے۔ لمحہ موجود میں ایک افسانوی بیانیے کے مطابق جنگ سے نڈھال افغان امن چاہتے ہیں۔ جو تشدد افغان سہتے رہے ہیں، اس کے مدنظر یہ بیانیہ حسب توقع اور برمحل ہے۔ تاہم وہ فوائد جو کہ تقریباً دو دہائیوں کے بدترین نقصانات کے عوض افغانستان کو ملے ہیں، اگر انکا دفاع نہیں کیا جاسکتا تو اس صورتحال کو خطے میں موجود غیر ریاستی عناصر، افغانستان پر درانداز قوتوں کیخلاف اسلامی گروہ کی فتح کے طور پر دیکھیں گے اور یہ جہاد کے بیانیئے کو زیادہ مضبوط کرے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ امر افغانستان اور اس سے باہر سیکیورٹی کے ضمن میں خطرناک ہوگا۔

افغان حکومت اور سیاسی اشرافیہ کو ان خامیوں اور اپنے لئے واضح سرخ لکیروں کو ذہن میں رکھتے ہوئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہونا ہوگا۔ جمہوری مفادات اور آئینی جمہوریہ کے نظم کی حفاظت اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ جب ان اقدار کی اہمیت کا تمام فریق اعتراف کریں، بامقصد اتحاد ہو اور طالبان سے مذاکرات کے ایجنڈے پر اتفاق رائے ہو، نیز اس اتفاق رائے میں معاشرے کے تمام مکاتب بشمول خواتین، تمام اقلیتیں اور سول سوسائٹی سمیت تمام سیاسی کرداروں کے خیالات شامل ہوں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: NATO Training Mission Afghanistan via Twitter

Image 2: Karim Jaffar/AFP via Getty Images

Posted in , , Afghanistan, Governance, Negotiations, Peace, Politics, Security, Taliban, Terrorism, United States

Bismellah Alizada

Bismellah Alizada

Bismellah Alizada is the co-founder of Rahila Foundation, an organization working for youth empowerment through education and capacity building, and Deputy Director (on academic sabbatical) at Organization for Policy Research and Development Studies (DROPS), a research and advocacy organization based in Kabul. He is currently pursuing an MSc in Violence, Conflict and Development at SOAS, University of London. His articles have appeared on Al Jazeera English, The Diplomat, Global Voices, and the Institute of Peace and Conflict Studies (IPCS) in New Delhi. He has also co-translated into Persian the book China in the 21st Century: What Everyone Needs to Know.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *