,

امریکی انتخابات ۲۰۲۰: بھارت نومبرمیں دونوں طرح کے نتائج کیلئے تیار

جنوبی ایشیا اور بالخصوص بھارت امریکہ کی خارجہ پالیسی کی بڑی ترجیح کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ بھارت کی ابھرتی ہوئی معیشت اور تزویراتی حیثیت نے امریکہ کو بھارت کی جانب اپنا رخ موڑنے میں مدد کی ہے جس کی وجہ امریکہ کی فری اینڈ اوپن انڈوپیسیفک حکمت عملی ہے- تاہم چین کے حوالے سے ملتے جلتے خدشات بھی جنوبی ایشیا میں امریکہ کے روابط کا اہم سبب ثابت ہوئے ہیں۔

۲۰۲۰ کے امریکی صدارتی انتخابات، امریکہ کی بھارت کے بارے میں پالیسی کے اعتبار سے کئی حوالوں سے اہم موڑ ثابت ہوسکتے ہیں۔ امریکہ میں بعض بھارتی نژاد امریکی ووٹ دہندگان غالباً پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی سے اپنا رخ موڑ رہے ہیں جو کہ روایتی طور پر انکی پسندیدہ جماعت رہی ہے۔ دونوں ہی صدارتی امیدوار یعنی کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو کہ ریپبلکن پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار کے طورپر دوبارہ انتخاب چاہتے ہیں اور ان کے مخالف ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن بھارتی نژاد امریکی ووٹ دہندگان کو راضی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بھارتی نژاد امریکی، امریکہ میں ووٹ ڈالنے کی اہل تارکین وطن آبادی کے کل کا ۵ فیصد (۱.۸ ملین) ہیں۔ بھارتی نژاد امریکی ووٹ دہندگان تک دونوں جماعتوں کی یکساں رسائی نیز بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات کو جاری رکھنے پر دونوں جماعتوں کے مابین اتفاق امریکہ بھارت تعلقات کے مستقبل کیلئے نیک شگون ہے۔

بھارتی نژاد امریکیوں کے “ٹرمپ بمقابلہ بائیڈن” پر تاثرات

بھارتی نژاد امریکیوں کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کی خواہش میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ کسی بھی تارکین وطن گروہ نے ووٹنگ کے رجحان میں ان جیسی حالیہ تبدیلی کا اظہار نہیں کیا ہے۔ یہ تبدیلی امریکہ اور بھارت دونوں جگہ بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی اور ٹرمپ مودی دوستی کے پس منظر میں واقع ہورہی ہے۔ ایک حالیہ رائے شماری کے مطابق، کم از کم ۲۸ فیصد بھارتی نژاد امریکی ٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں جبکہ ۶۸ فیصد ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ۲۰۱۶ میں تقریباً ۸۰ فیصد بھارتی نژاد امریکیوں نے ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کو ووٹ دیا تھا جبکہ فقط ۱۶ فیصد نے ٹرمپ کو ووٹ ڈالا تھا۔

بھارتی نژاد امریکیوں میں ٹرمپ کے حامیوں کے ابھرتے ہوئے گروہ نے اپنے فیصلے کیلئے متعدد وجوہات کو بنیاد بنایا ہے: اول، ٹرمپ اور مودی میں محسوس کی گئی دوستی جو کہ امریکہ بھارت تعلقات کو ٹھوس بنانے کے سبب کے طور پر دیکھی جارہی ہے؛ دوئم ، ٹرمپ کا دہشتگردی پر سخت موقف؛ سوئم، مودی کا روایات سے ہٹ کے بھارتی نژاد امریکیوں سے رابطے کی کوشش؛ چہارم، بھارت میں مودی کے حق میں سازگار تاثر۔ جہاں تک وسیع تر سیاسی افکار کا تعلق ہے تو ڈیموکریٹک امیدوار کے مقابلے میں ٹرمپ ایک ایسے صدر کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں جن کی جانب سے بھارت کے علاقائی حریف پاکستان کیخلاف زیادہ سخت موقف اپنائے جانے کا امکان ہے۔ ایسے جذبات ماضی کے واقعات سے امید پکڑتے ہیں مثال کے طور پر ۲۰۱۸ میں اپنی صدارت کے آغاز میں ٹرمپ  کے پاکستان کو نشانہ بنانے والے ٹوئیٹس۔

ٹرمپ کی غیر متوقع ٹوئٹر ڈپلومیسی نے بعض مواقع پرمودی حکومت کو حیران کر دیا، مثال کے طورپرتب جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مودی نے ان سے کشمیر پر ثالثی کیلئے کہا ہے۔ تب بھارتی حکومت کو وضاحت دینا پڑی تھی کہ یہ حقیقت کے منافی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر جس طرح مودی نے امریکہ میں پھیلی ہوئی بھارتی آبادی سے تعلق کیلئے کوشش کی ہے، ٹرمپ بھی بھارت میں شہریوں میں مقبول ہیں۔ یہ مقبولیت بھارتی نژاد امریکیوں کے بھارت میں موجود خاندانی تعلقات کے ذریعے سے ان کے اپنے سیاسی خیالات پر اثرانداز ہوتی ہے، وہ بھارت جہاں مودی کو بڑے پیمانے پر ایسا مضبوط رہنما تصور کیا جاتا ہے جس کی ملک کو ضرورت ہے۔ پیو ریسرچ پول کے مطابق بھارتیوں کی اکثریت (۵۶ فیصد) کو یہ بھروسہ ہے کہ ٹرمپ عالمی امور اور دونوں ریاستوں کے مابین تعلقات کے ضمن میں درست فیصلے کریں گے۔

مذکورہ تحقیق ہی یہ اشارہ بھی دیتی ہے کہ بھارت میں عوام کیلئے بائیڈن اتنے نمایاں اور پرکشش نہیں ہیں جتنا کہ ٹرمپ ہیں۔ مثال کے طور پر بائیڈن کا ویتنام جنگ سے تعلق اور ذاتی زندگی میں ان کی جدوجہد (مثلاً بیٹے اور اہلیہ کی وفات) بھارتی نژاد امریکی ووٹ دہندگان کے مقابلے میں بھارتی عوام کے جذبات کو چھونے میں ناکام رہی۔  غالباً ڈیموکریٹس کی جانب سے کاملا ہیرس کی نامزدگی کا مقصد اس فاصلے کو پاٹنا تھا جو کہ بھارتی نژاد امریکی ووٹ دہندگان کی جانب سے ۲۰۲۰ کے انتخابات سے قبل ٹرمپ کی جانب کھنچے جانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ ہیرس کی نامزدگی ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھوں سے پھسلتے بھارتی نژاد امریکی ووٹوں کو برقرار رکھنے میں فیصلہ کن ہوسکتی ہے، تاہم یہ نامزدگی اس لحاظ سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ اس کے ذریعے سیاسی، نسلی اور جنسی بنیادوں پر تصورات کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کاملا ہیرس کی ڈیموکریٹک نائب صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی پر بھارت کا مقابلتاً درمیانہ ردعمل جو کہ غالباً جانتے بوجھتے ہے، اس کی امریکی انتخابات کے نتائج کے بارے میں ملی جلی رائے کی عکاسی کرتی ہے۔ بھارت کی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ غیرجانبداری برقرار رکھنا چاہتی ہے تاکہ وہ ٹرمپ یا بائیڈن دونوں میں سے کسی بھی انتظامیہ کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھا سکے۔ بھارت نے کاملا ہیرس کی سیاسی نامزدگی پرسرکاری سطح پر ردعمل نہ دے کر خود کو امریکی داخلی سیاست میں موجود نسلی تنازعہ کا شکار ہونے سے بھی بچا لیا ہے۔ اس معاملے پر بھارتی حکومت کا موقف یہ ہے کہ نامزدگی پرکسی قسم کا بیان بھارتی داخلی سیاست میں مداخلت تصور کیا جاسکتا ہے۔

 موجودہ حکومت نے اگرچہ سرکاری سطح پر اس معاملے پر ردعمل نہیں دیا ہے تاہم وہ دونوں امیدواروں کے درمیان کچھ امتیازات کو محسوس کرتی ہے۔ خاص کر وہ محسوس کرتی ہے کہ بائیڈن کی صدارت میں سفارت کاری میں استحکام اور پیش گوئی کی اہلیت دو مثبت عوامل ہوں گے۔ بہرحال، بھارت نے بائیڈن کی نامزدگی پر محتاط رویہ اپنایا ہے جس کی بالخصوص وجہ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مابین پائی جانے والی کچھ سیاسی عدم مطابقت ہے۔ اس عدم مطابقت کی وجوہات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنمائوں بشمول بائیڈن کے، وہ بیانات شامل ہیں جس میں انہوں نے کشمیر کے مسئلے سے نمٹنے میں بی جے پی کے کردار کو مسترد کیا تھا۔ بھارتی آئین کی شق ۳۷۰ کی منسوخی جس نے جموں اور کشمیر کی انتظامی اور سیاسی حیثیت کو بھارتی ریاست کی جگہ وفاقی زیرانتظام علاقے میں تبدیل کردیا اور جس کا نتیجہ طویل دورانیئے کے کرفیو کی صورت میں ہوا، اس کی منسوخی کے بعد بائیڈن نے کشمیر میں انسانی حقوق کے مسئلے پر زور دیا تھا۔ 

تاہم بائیڈن کے حالیہ بیانات اور خیالات، ماضی میں بھارت کے حوالے سے امور میں انکی رائے کی نسبت زیادہ متوازن دکھائی دیئے ہیں۔ بذات خود ان کا یہ بیان کہ ”بھارت اہم ترجیح رہے گا“ بیک وقت بھارتی نژاد امریکیوں کے ذریعے داخلی سطح پر سیاسی مفادات حاصل کرنے اور امریکہ کی ایشیا پالیسی کے اہم سنگ میلوں میں سے ایک میں استحکام اور اس کے تسلسل کا احساس اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔ چین کے ساتھ امریکہ کے ابھرتے ہوئے تزویراتی مقابلے نے، خاص کر کرونا وبا کے دوران،  بھارت کے ساتھ  تعلقات کی اہمیت کو دوچند کیا ہے۔ یہ اہمیت بیک وقت نومبر میں انتخابات سے قبل کے دورانیئے میں داخلی پس منظر میں بھی ہے اور عالمی پس منظر میں بھی جہاں چین کے مقابلے کیلئے بھارت ایک کثیرالجہتی محاذ تخلیق کرنے کیلئے ناگزیر کردار رکھتا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ کا دور صدارت غیر یقینی ہے کیونکہ وہ دوطرفہ یا کثیرالطرفی مفادات کے بجائے امریکی مفادات کو اہمیت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کو سبق سکھانے کی ٹرمپ کی کوششیں وقت کے ساتھ ساتھ دھندلا گئی ہیں جبکہ چین کے حوالے سے جارحیت ان کی مہم کے بیانیئے کا خاص موضوع رہی ہے۔ چین اگرچہ امریکہ اور بھارت دونوں کیلئے بڑھتی ہوئی  باہمی تشویش کا سبب ہے، تاہم چین کے حوالے سے بھارت کی حیثیت کو سمجھنا قدرے مشکل ہے۔

ٹرمپ یا بائیڈن؟

ٹرمپ اور بائیڈن میں سے بھارت کیلئے کون زیادہ سودمند ثابت ہوگا؟ اس طویل بحث کا فیصلہ تاحال نہیں ہوسکا ہے۔ باوجودیکہ ٹرمپ غیر متوقع مزاج رکھتے ہیں جس نے ماضی میں بھارتی حکومت کو حیران کیا ہے، تاہم ان کے مابین کیمسٹری ثابت ہوچکی ہے، ایسے میں ان کے اور مودی کے مابین سیاسی اشتراک کی بھرپور کیفیت ہوسکتی ہے۔ بھارت کے چین کے ساتھ جاری سرحدی تنازعے پر امریکہ کی جانب سے بھارت کی کھلی حمایت، دہشتگردی پر اس کا سخت موقف، دو طرفہ اور کثیرالطرفہ لائحہ عمل میں مضبوطی (مثلاً 2+2 مذاکرات اور کواڈ) اور انڈوپیسیفک میں معاشی، سیاسی اور تزویراتی اجماع وہ امور ہیں جن کے سبب ٹرمپ، موجودہ بھارتی حکومت کے ترجیحی امیدوار بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، بھارتی سرکاری حکام یا حکمران جماعت کے کسی عہدیدار کی جانب سے کسی ایک امریکی صدارتی امیدوار کیلئے دوسرے کے مقابلے میں حمایت کے کھلے اعلان کا امکان نہیں۔

 قطع نظر اس کے کہ نومبر میں امریکہ میں صدارتی انتخابات میں کون جیت پاتا ہے، امریکہ بھارت تعلقات میں سیاسی اور تزویراتی تسلسل یقینی ہے۔ بھارت کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بنیادی طور پر مستحکم شعبوں کی بنیادوں پر استوار ہیں جیسا کہ دفاعی تعلقات، بڑھتا ہوا تجارتی انحصار، چین کے حوالے سے علاقائی خدشات، اور انڈوپیسیفک میں مشترکہ حکمت عملی۔ امید ہے کہ یہ بائیڈن کی صدارت میں بھی جاری رہیں گے۔ اوباما حکومت میں بھی نئی دہلی کے ہمراہ تعلقات کو بہتر بنانے میں بائیڈن کے کردار کو دیکھتے ہوئے انہیں بھارت کے قریب تصور کیا جارہا ہے۔ وہ (امریکی سینٹ میں بھارتی بیٹھک) انڈیا کاککس کے ممبران  نیز ۲۰۰۸ میں امریکہ بھارت سول جوہری معاہدے  کیلئے کانگریس کی منظوری یقینی بنانے والے اراکین سے  قریبی تعلقات پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔

ٹرمپ حکومت کے بھارت سے تعلقات نے دفاعی شعبے میں اہم نوعیت کی عسکری تنصیبات کی مسلسل فراہمی کے ذریعے سے، دفاعی شراکت دار کے طور پر بھارت کی اہمیت کو اضافی معنی بخشے ہیں۔ ان میں سے بعض خریداریاں بھارت کے چین کے ساتھ جاری سرحدی تنازعے کے ابتدائی مراحل پر کی گئی تھیں۔ امریکہ اور بھارت کے مابین 2+2 اور کواڈ کے فورم کے ذریعے مستقل بنیادوں پر سفارتی روابط نے نہ صرف سفارت کاری کے  عمدہ تجربوں کے تبادلے کو یقینی بنایا ہے بلکہ بحران کے دنوں میں مشترکہ علاقائی ردعمل کے تبادلے کو بھی ممکن بنایا  ہے۔ علاقائی سطح پر انڈوپیسیفک حکمت عملی  دو طرفہ معلومات کے تبادلے اور علاقائی تعاون کے بڑھتے ہوئے وعدوں کے ذریعے سے امریکہ بھارت تعلقات کو مضبوطی سے جوڑنے کا باعث بنی ہے۔

امریکہ بھارت تعلقات میں موجود بعض بدنما داغ بشمول ایچ-1 بی ویزہ پابندیاں جنہوں نے مہارت رکھنے والے بھارتی نژاد امریکی مزدوروں کو متاثر کیا، مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ جس نے دونوں ممالک میں درآمدات اور برآمدات پر اثرات مرتب کئے نیز بھارت میں ڈیٹا لوکلائزیشن پر امریکی خدشات کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت امریکہ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے جوابی فائدے کا از خود لائحہ عمل فراہم کیا ہے۔ ٹرمپ نے امریکی اقدامات کے بدلے میں دوسرے ممالک بشمول بھارت کو جوابی فائدہ دینے کیلئے مدد یا تجارت میں کبھی جھجھک محسوس نہیں کی۔ درحقیقت، کوروونا وبا کے بعد کے منظرنامے میں جہاں نئی دہلی اپنی برآمدات میں اضافے اور چین سے ترسیلات کی کسی اور جانب منتقلی چاہتا ہے، ایسے میں یہ لائحہ عمل ٹرمپ کی دوسری ممکنہ صدارتی مدت میں بھارت کیلئے ایک موقع ہوسکتا ہے۔ تاہم فی الوقت نئی دہلی بائیڈن کی ممکنہ فتح کے پیش نظر چوکس و ہوشیار ہے۔

ادارتی نوٹ: ۳ نومبر ۲۰۲۰ کو منعقد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات امریکہ کیلئے داخلی سطح نیز دنیا کے ساتھ اس کے معاملات کیلئے اہم مضمرات رکھتے ہیں۔ ایس اے وی کی اس سیریز میں افغانستان، بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے شرکاء یہ بحث کررہے ہیں کہ انتخابی نتائج کیونکر ان کے ملک سے امریکی تعلقات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ مکمل سیریز یہاں پڑھی جاسکتی ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Narendra Modi via Twitter

Image 2: Saul Loeb via Getty Images

Posted in , , democracy, Elections, India, South Asia, U.S. Elections 2020, United States

Vivek Mishra

Vivek Mishra is a Research Fellow at the Indian Council of World Affairs in New Delhi, India. Previously, he was an Assistant Professor in International Relations at the Netaji Institute for Asian Studies, Kolkata and was also South Asian Voices Visiting Fellow 2019-2020. He received his PhD in International Relations from Jawaharlal Nehru University (JNU), New Delhi. He has been a Fulbright-Nehru Doctoral Research Scholar at the Saltzman Institute of War & Peace, School of International Public Affairs, Columbia University in the City of New York for the academic year 2015-2016. His research interests include America in the Indian Ocean and Indo-Pacific and Asia-Pacific regions, particularly the role of the U.S. in security in South Asia, Indo-U.S. defense relations, and the Indian defense sector. Mr. Mishra is also an editorial associate with the Indian Foreign Affairs Journal, run by the Association of Indian Diplomats, besides a contributing Strategic Affairs Expert for the All India Radio’s External Services Division. He has also worked an associate with Indicia Research and Advisory, a New Delhi–based think tank consulting on the Indian defense sector and internal security. Previously Mr. Mishra was a research fellow with the Centre for Joint Warfare Studies, Integrated Defence Staff, Ministry of Defence, India. He was also an intern with the Institute of Peace and Conflict Studies, New Delhi. He was awarded a pre-doctoral fellowship by the Osmania University Centre for International Programs, Osmania University, Hyderabad, to study U.S.-India-China relations in the Indian Ocean. He has published seven peer-reviewed journal articles, six book chapters and more than 45 Op-eds including in The Diplomat, The National Interest and Huffington Post. Mr. Mishra is currently working on a book manuscript exploring India-US relation under Prime Minister Modi. He has a Bachelor’s degree in English Literature from Delhi University. He has a double Master’s degree in Linguistics and International Relations, besides an M. Phil. in International Relations from JNU, New Delhi.

Read more


Continue Reading

کیا مقصد حاصل ہوگیا؟ افغانستان میں امریکی مفادات اور مستقبل میں درپیش آزمائشوں میں توازن کی کوشش

افغانستان میں اگر حالات انتہائی سازگار ہوں تو بھی اگلے پانچ برس اس کیلئے مشکل ہوں گے۔ اگرغنی حکومت اورطالبان کے مابین پر امن طور […]

September 5, 2020 - Views 0

Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *