اندرونی خلفشار کے شکار طالبان سے بات چیت؛ مگر کیسے؟

گزشتہ دو دہائیوں میں طالبان کے ارتقاء سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھا رہے ہیں اور عسکری حکمتِ عملی  پر مسلسل کار فرما ہیں ۔ ۲۰۱۵ میں طالبان کی طرف سے موسمِ بہار  کے حملوں (سپرنگ آفینسِو) کے بعد سے افغانستان کی سیکورٹی صورتحال بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔  اقوامِ متحدہ  اسسٹنس مشنز کی ایک رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۱۶ کے پہلے چھ ماہ میں ۵۱۶۶  شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور ان میں سے تقریباً نصف ہلاکتیں طالبان کے ہاتھوں ہوئیں ۔ مزید برآں سیکورٹی کی اس صورتحال نے افغان حکومت میں اتحاد و یگانگت برقرار رکھنے میں مسائل پیدا کر دیئے ہیں وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب کچھ علاقائی کرداروں جیسے چین اور روس نے طالبان سے بات چیت کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں ۔ افغان طالبان کا اندرونی خلفشار بھی بات چیت کے ماحول کو ناسازگار بناتا ہے چونکہ  کچھ گروہوں کی امن بات چیت  سے متعلق رائے مختلف ہے اور اسی لئے یہ مشکل پیش آتی ہے  کس گروپ کے ساتھ مذاکرات کارگرثابت ہوں گے۔ اندرونی و بیرونی مسائل میں گھرے  یہ حالات بتاتے ہیں  کہ مستقبل قریب میں بھی بامعنی مذاکرات تقریبا ً نا ممکن ہیں۔

طالبان کا اچانک ۱۹۹۴  میں نمودار ہو جاناافغانیوں کے لئے  ایک ہی وقت میں نعمت اور زحمت تھا ۔ ایک طرف طالبان نے تمام افغانیوں کو ذمہ دارانہ اور بہتر گورننس کی امید فراہم کی ۔ لیکن دوسری جانب جب طالبان نے ۱۹۹۶ میں اختیارات کی مرکزیت کی تو ان کی ظالم اور آمریت پسندانہ  سوچ ظاہر   ہوئی ۔  طالبان  نے “ون مین شو ” کو  مُلا عمر کی صورت میں بحال کیا جس سے تحریک میں  موجو د خامیوں کی نشاندہی ہوئی ۔ جوں جوں افغان معیشت تباہ ہوتی گئی اور طالبان کے لئے لوگوں کی ہمدردی معدوم ہوتی گئی ، قیادت کے بیچ اختلافاتِ رائے بھی بڑھتا چلا گیا ۔

امریکہ کے ساتھ سولہ سالہ جنگ اور مُلا عمر کے مارے جانے کے بعد سے گروپ کے داخلی اقتدار میں تبدیلیاں آئی ہیں۔ ۲۰۱۵ کے بعد سے قیادت میں دو بار تبدیلی ہو چکی ہے۔ طالبان کے بہت سے گروہوں نے مُلا اختر محمد منصور اور مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ  کی نامزدگی پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مُلا عمر کی ہلاکت کے بعد جب مُلا  اختر منصور نے انکی جگہ لی تو طالبان شوریٰ سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ اسی تناظر میں طالبان کے قطر دفتر میں سیاسی راہنما سید طیب آغا نے احتجاجاً  استعفی دے دیا تھا۔

جہاں مُلا منصور نے اس مخالفت میں اپنا سفر جاری رکھا وہیں مُلا محمد رسول نے اپنی ایک الگ  “ہائیر کونسل آف اسلامی امارات افغانستان” بنا ڈالی۔ مُلا عبدالمنان اور مُلا داداللہ اس گروپ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔ تاہم رسول گروپ کو ایک اہم دھچکا لگا جب  مُلا داداللہ(کہ جس نے اختر منصور کو پاکستان ایماء پر مُلا عمر کی وفات کو چھپائے رکھنے کا الزام بھی لگایا)کو مُلا اختر منصور کے ساتھیوں نے اگست میں مار ڈالا۔ مُلا اختر کی امریکی حملے میں مارے جانے کے بعد اخونزادہ کو  بعض طالبان کی جانب سے جنگی تجربے میں کمی پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں عسکری کونسل کے سربراہ مُلا براہیم صدر نے افیون کی کثیر پیداوار والے صوبے ہیلمند سے کوئٹہ شوریٰ کو رقم بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

ان منتشر گروہوں نے طالبان کی دیرینہ اختیارات کے نظام پر اثر ڈالا۔ تاہم اپنی صفوں میں دراڑیں پڑ جانے کے باوجود طالبان عالمی اور افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑائی کو طول دینے میں کامیاب رہے ہیں۔ جہاں کچھ طالبان گروہوں نے امن مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تو  انکی آوازوں کو کٹر نظریات والے گروہوں نے (جو کہ مکمل جیت پر بضد ہیں) نے سننے سے انکار کر دیا۔ افغان حکومت کے سیاسی انتشار اور طالبان کی علاقائی پیش قدمی نے انکی عسکری حکمتِ عملی کو جاری رکھنے کو بھی جلا بخشی ہے۔ مزید برآں افغانستان میں داعش  کی موجودگی نے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا  ہے، افغان طالبان کے قیادت کے بحران میں داعش کےلئے اپنے نیٹ ورک کو قائم کرنے کے فوری بعد ایک موقع فراہم کیا جس کے نتیجے میں کئی باغی طالبان ممبران نے داعش میں شمولیت اختیار کر لی۔

اگرچہ  اندرونی خلفشار سے امن مذاکرات   تعطل کا شکار ہیں تاہم افغانستان میں امن کے لیے طالبان سے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں ۔ اس سال جون میں صدر اشرف غنی نے ایک علاقائی کانفرنس کا اہتمام کیا اور حصہ لینے والے ممالک پاکستان ، بھارت ، ایران ، روس ، چین اور سعودی عرب سے گذارش کی کہ وہ کابل حکومت کا دہشت گردی کے خاتمے میں ساتھ دیں ۔ انہوں نے افغان طالبان   کو ایک دھمکی بھی دے ڈالی کہ امن مذاکرات کریں یا نتیجہ بھگتنے کو تیار رہیں ۔ جواباً  طالبان نے اس دعوت کو لا حاصل مشق قرار  دے کر مسترد کردیا تھا ۔

اگرچہ طالبان نے روس کی تین پارٹی ( چین ، پاکستان ، روس ) حکمتِ عملی پر لچک کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ اس سے کئی طالبان رہنماؤں کو اقوامِ متحدہ کی پابندیوں سے استثنی حاصل ہو گا لیکن انہوں نے روسی حمایت یافتہ مذاکرات کو اس بنا پر انکار کر دیا کہ یہ محض سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے ہیں ۔ طالبان سے مذاکرات میں کئی اداکاروں کی شمولیت نے افراتفری اور الجھاؤ  پیدا کر دیا ہے اور اسی وجہ سے کئی طالبان گروہ باہمی مفادات پر اکٹھے نہیں ہو رہے اور نہ ہی مسائل کے پرامن حل کی طرف راغب ہو رہے ہیں ۔

افغانستان کو آج ماضی کی نسبت گھمبیر مسائل کا سامنا ہے ، لہٰذاٹوٹ پھوٹ کا شکار طالبان سے مذاکرات حالات کو مزید پچیدہ کرتے ہیں ۔ علاقائی طاقتیں طالبان کے ساتھ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ افغانستان پر اپنے مفادات کے مطابق اثر انداز ہوا جا سکے ۔ دوسری طرف پاکستان نے طالبان اور اپنی سرزمین سے حقانی نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں ۔ اسی طرح روس بھی طالبان کو داعش کے خلاف اور امریکی طاقت کو خطے میں کنٹرول کرنے کے لیے بھی آلہ کار سمجھتا ہے ۔ اور اس سارے کھیل کی وجہ سے امریکہ کی توجہ طالبان اور داعش کے بیچ منتشر ہو کر رہ گئی ہے۔طالبان کے ساتھ مفاہمت اور اتحاد کے پیچیدہ معاملات  (جو داراصل انسدادِ دہشت گردی کےلئے ناگزیر ہیں)ایک دفعہ پھر   جوں کے توں دکھائی دے رہے ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Wikimedia Commons via Aslan Media, Flickr

Image 2: U.S. Navy photo by Lt. Benjamin Addison via Flickr

Posted in , Afghanistan, Militancy, Terrorism

Neha Dwivedi

Neha Dwivedi

Neha Dwivedi is a Postgraduate Research Scholar at the Department of Geopolitics and International Relations at Manipal University, India. Her research interests include Afghanistan, emerging geopolitics of the Middle East, refugee crises, Islam and identity politics, and regional aspects of human rights. She is currently pursuing an internship at the Centre for Studies in International Relations and Development (CSIRD). Formerly, she worked as a journalist at the online news platform, Saddahaq.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *