India_Pakistan_Border_Wagha_15027737723-1024×616-1

بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری اعتماد سازی کے اقدامات (این سی بی ایم)  کے ادارہ جاتی نظام کی عدم موجودگی ان دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک کے درمیان بحرانات سے نمٹنے کے مؤثر انتظام  کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ ۲۰۱۹ کے پلوامہ بالاکوٹ بحران اور ۲۰۲۲ کے حادثاتی برہموس میزائل لانچ جیسی مثالیں اس اہم کردار کو اُجاگرکرتی ہیں جو این سی بی ایم تناؤ کو کم کرنے اور مستقبل کے بحرانات کو روکنے میں ادا کرسکتے ہیں۔ اس پس منظر میں، این سی بی ایم  کے ایک مضبوط ادارہ جاتی نظام کا قیام اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اہم ہے کہ رابطے، شفافیت اور امتناعی میکانزم اپنی جگہ اٹل ہیں۔

این سی بی ایم کی ادارہ سازی میں دو اہم عوامل شامل ہیں۔  پہلا، دشمن جوہری ریاستوں کے درمیان اعتماد اور اعتبار قائم کرنے کے لئے  مناسب وسائل اور اختیارات کی حامل مختص ایجنسیوں کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ رابطے اور تعاون کو سہل بنایا جا سکے۔ دوسرا، ان مختص تنظیموں کو معیار کے مطابق نفاذِ عمل (آپریشنل) کے اصولوں اور طریقہ کار، بشمول رابطے اور  معلومات کے اشتراک کے ضابطے ( پروٹوکول)  کی ضرورت ہوگی۔ لاہور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تصوّر کے مطابق موجودہ ایڈہاک این سی بی ایمز  کو اداروں کے ایک مربوط نظام میں تبدیل کرنا ضروری ہے، جن کے مختص  کردار اور ذمہ داریاں ہوں۔

موجودہ این سی بی ایم فریم ورک

بھارت اور پاکستان کی این سی بی ایم کی تاریخ  متنوعہ ہے۔ دونوں ریاستوں نے ۱۹۹۸ ء میں  اپنی جوہری  اہلیت کے اعلان سے ایک دہائی قبل این سی بی ایمز  طے کرنے کے لیے بات چیت شروع کی تھی جس میں ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے سے باز رہنے کا معاہدہ کیا گیا ۔ دونوں ممالک نے اس معاہدے کی شرائط کی پاسداری کی ہے، جس کے تحت انہیں ہر سال اپنی غیر فوجی جوہری تنصیبات کے مقامات  کی نشان دہی کرنی ہوتی ہے۔ جوہری قوّت بننے (نیوکلیئرائزیشن )کے بعد، ۱۹۹۹ کے لاہور اعلامیہ اور مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) نے حتمی جوہری مذاکرات کے لئے ایک فریم ورک فراہم کیا اور بیلسٹک میزائلوں کی تجرباتی  پرواز کی پیشگی اطلاع دینے اور جوہری ہتھیاروں کے حادثات کے خطرے کو کم کرنے سے متعلق معاہدوں کا باعث بنا۔

اس کے باوجود بھارت اور پاکستان کے درمیان این سی بی ایم کے نظام میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔ موجودہ نظام مبادل معلومات کی کار فرمائی، خلاف ورزی کرنے والوں  کی جواب دہی کے نفاذ اور اعتماد سازی کے لئے فیڈ بیک لوپ ( ردِ عمل  کے تجزیے کا سلسلہ) کی  تشکیل کے  بارے میں طریقہ کار کی تفصیلات فراہم نہیں کرتا۔مثلاََ، لاہور اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک جامع این سی بی ایم کو پروان چڑھانے کے لیے ‘سیکیورٹی تصورات اور جوہری نظریات’ پر ایک دوسرے سے مشاورت کریں گے اور این سی بی ایم کے نفاذ کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے وقتا فوقتا جائزہ لینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ تاہم، اس معاہدے کو ایک چوتھائی صدی گزر جانے کے بعد بھی نہ تو کوئی جائزہ لینے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کسی ادارہ جاتی فریم ورک کی نشاندہی کی گئی ہے۔

حالیہ واقعات، جیسے برہموس مس فائر کا واقعہ، ان این سی بی ایم کی مطلوبہ فعالیت اور رئیل ورلڈ (حقیقی)  نتائج کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے این سی بی ایم کے لئے ایک ادارہ جاتی نقطہ نظر کی اشد ضرورت پر روشنی پڑتی ہے جس کا مقصد ان بندشوں کو دور کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، نئی تکنیکی پیش رفت، لاہور ایم او یو کے بعد سے بھارت اور پاکستان دونوں میں نظریاتی تبدیلیاں اور نتیجتاََ ہونے والے کمپوزٹ ڈائیلاگ این سی بی ایم کے نظام پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ اگرچہ کمپوزٹ ڈائیلاگ ۱۹۹۷ میں این سی بی ایم سے متعلقہ دو کامیاب  بات چیت کے ادوار کا باعث بنا، تاہم گزشتہ دہائی میں یہ کئی بار ٹوٹ چکا ہے اور این سی بی ایم پر ورکنگ گروپ کا ۲۰۱۲ کے بعد سے کوئی اجلاس نہیں ہوا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے این سی بی ایم فریم ورک کو ادارہ جاتی شکل دینے سے اس عمل کو مکمل طور پر غیر ضروری بنایا جا سکے گا۔

آگے بڑھنے کا راستہ

نئی دہلی اور اسلام آباد اپنے این سی بی ایم کو تین طریقوں سے ادارہ جاتی شکل دے سکتے ہیں۔ پہلا، دونوں ممالک لاہور اعلامیہ کے مطابق اپنے موجودہ مواصلاتی روابط کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے این سی بی ایم کے نفاذ کی نگرانی کے لئے باہمی مشاورتی میکانزم قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم انہیں رابطے کے لئے ایک ادارہ جاتی فریم ورک تشکیل دینا چاہیئے تاکہ موجودہ این سی بی ایم نظام کو مزید معاہدوں پر بات چیت کرکے، کشیدگی میں اضافے پر قدغن لگا کر اور جاری شُدہ اسلحے کی دوڑ پر قابو پا کر مضبوط بنایا جاسکے۔

دوسرا، این سی بی ایم کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے متعلقہ وزارتِ  خارجہ امور اور وزارت خارجہ کے مابین رابطوں سے آگے بڑھنے اور ہر ملک کے اندر دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطے قائم کرنے کی ضرورت ہوگی۔خطرناک فوجی  ڈھب سے نمٹنے کے لیے،  پاکستان کے میزائل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پروگرام اور بھارت کے ڈی آر ڈی او  کی تنظیموں کے مابین  این سی بی ایمز  پر معاملت ، نمو پاتی ہوئی میزائل ٹیکنالوجی مسابقت کی شدّت پر قابو پانے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔اسی طرح بھارت میں اسٹریٹیجک فورس کمانڈ (ایس ایف سی) اور پاکستان میں اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن (ایس پی ڈی) کے درمیان معاملت این سی بی ایمز کے نظریات اور کارروائی کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ اس سے وسیع تر بات چیت میں سہولت ملے گی اور موجودہ معاہدوں کے نفاذ اور این سی بی ایم کے لئے نئے خیالات  پیدا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ادارہ جاتی قبولیت سامنے آئے گی۔

این سی بی ایم  کے لیے مخصوص ادارے قائم کرنے سےبھارت اور پاکستان بالآخر امریکہ اور روس کی طرح نیوکلیئر رسک ریڈکشن سینٹرز (این آر آر سی ) کے باضابطہ قیام کی جانب قدم اٹھا سکتے ہیں۔ چوبیس گھنٹے کوشاں اور نیوکلیئر رسک ریڈکشن (جوہری خطرات کو کم کرنے) کے تربیت یافتہ فوجی افسران پر مشتمل عملے کے ساتھ، ان این آر آر سی نے میزائل لانچ، جوہری تجربات اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کے تبادلے میں سہولت بہم پہنچائی جنہیں غلطی سے دشمنانہ کارروائیوں کے طور پر لیا جاسکتا تھا۔بھارت اور پاکستان کے تناظر میں ادارہ جاتی این سی بی ایم کی ذمّہ داریوں میں مختص تنظیموں کی تشکیل، جن کا کام سی بی ایم کی نگرانی ہو، کے ساتھ ساتھ ان کے نفاذ کے لئے مخصوص  ضابطۂ کار یا طریقۂ کار کی تیاری بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ چونکہ دونوں ریاستیں جوہری مذاکرات اور تعاون میں زیادہ  معاملت کی عادی ہو رہی ہیں ، جس سے اعتماد پیدا کرنے اور  بہتر شفافیت اور پیش گوئی کی قابلیت  کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

تیسرا، ڈی جی ایم او ہاٹ لائن کی طرح، دونوں ممالک کو ایک ہنگامی مواصلاتی میکانزم کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔مثلاََ، پری نوٹیفکیشن معاہدے کے مطابق دونوں فریقین نے اپنے متعلقہ ہائی کمیشنوں کے ذریعے بیلسٹک میزائل کی تجرباتی پرواز  کی پیشگی اطلاع فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بدقسمتی سے اس معاہدے میں کروز میزائلوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارت برہموس میزائل کی  تجرباتی پرواز  کی قبل از وقوع معلومات فراہم نہیں کرتا۔ تاہم برہموس میزائل کے مِس فائر  کے بعد بھی بھارت نے پاکستان کو مطلع نہیں کیا اور رابطہ قائم کرنے میں ناکام رہا۔ یہ  پہلے سے موجود ہاٹ لائنز کو استعمال میں لانے کا ایک بہترین موقع تھا۔ اگر بھارت نے بروقت ایسا کیا ہوتا تو اس سے پاکستان کے خدشات کم ہو جاتے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حادثاتی میزائل فائر کے ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی بھارت مستقبل میں اس کے اعادہ کو روکنے کے لیے ایس او پیز تیار نہیں کر پایاہے۔

برہموس میزائل واقعے نے نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان ایڈہاک اقدامات، جو مخصوص سیاق و سباق میں نافذ کیے جاتے ہیں اور بحرانات کے باعث معطل ہوجاتے ہیں، کے بجائے ادارہ جاتی این سی بی ایم کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔ ادارہ جاتی این سی بی ایم  نہ صرف دونوں حریفین  کے مابین اعتماد، شفافیت اور پائیداری کی سطح میں اضافہ کریں گے بلکہ غیر یقینی صورتحال، ناقابلیتِ پیش گوئی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو بھی کم کریں گے۔ این سی بی ایم کو ادارہ جاتی شکل دینا بحرانات کے دوران ان کی فاعلیت کو یقینی بناتا ہے۔

مزید برآں، انتشاری اور دوہرے استعمال کی تکنیکات کے بڑھتے ہوئے خطرات، نیوکلیئر سائبر انٹرفیس کے سمیت، مضبوط این سی بی ایم کے نظام اور ان سے نمٹنے کے لئے متعلقہ اداروں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کو اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوسکتی ہے کہ کس طرح انتشاری تکنیکات موجودہ این سی بی ایم  کے نظام کو کمزور کرسکتی ہیں۔ مثلاََ، ہتھیاروں کے نظام کے ساتھ مصنوعی ذہانت کا انضمام (اے آئی انٹیگریشن) کشیدگی کے انتظام اور جوہری خطرے میں کمی (نیوکلیئر رسک ریڈکشن) کے اندر مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ بحران کے دوران کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز پر سائبر حملے تباہ کن نتائج کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ ادارہ جاتی این سی بی ایم سے دونوں ممالک کو نیوکلیئر سائبر انٹرفیس کو سمجھنے میں مدد بھی مل سکتی ہے کہ کہاں سائبر حملے جوہری سسٹم کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور وہ مشترکہ طور پر حفاظتی اصول اور اقدامات تیار کرسکتے ہیں۔ اسی طرح، این سی بی ایم کی ادارہ سازی سے ضابطۂ کار کی باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنے اور دوطرفہ این سی بی ایم مانیٹرنگ میکانزم میں ٹیکنالوجی کی خصوصیات کو شامل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ماحاصل

این سی بی ایم کی ادارہ سازی تکنیکی اور سیاسی چیلنجز  پیش کرتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کو جوہری استحکام کی جانب کسی بامعنی پیش رفت کے لیے سیاسی عزم اور مفاہمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ہمسایہ ممالک کی حیثیت سے نہ تو اسلام آباد اور نہ ہی نئی دہلی اس بات کےمتحمل ہو سکتے ہیں کہ وہ کسی دو طرفہ مذاکرات کے بغیر حالات کو حسبِ حال چھوڑ دیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک رسمی اور ادارہ جاتی این سی بی ایم نظام نہ صرف ایک عملی ضرورت ہے بلکہ خطے میں استحکام، اعتماد اور ذمہ دارانہ طرز عمل کو فروغ دینے کی جانب ایک فعال قدم بھی ہے۔ اس طرح کا نظام مؤثر رابطے، بحران کے انتظام اور خطرے میں کمی کے لئے بنیاد رکھے گا اور علاقائی سلامتی اور عالمی عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرے گا۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Wagah border via Wikimedia Commons

Image 2: BrahMos missiles via Flickr

Share this: