Nuclear-Security-India-e1632160240978

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۱۳۲۵: خواتین، امن اور سلامتی (ڈبلیو پی ایس) کے ایجنڈے کو اپنانے کے بعد پالیسی میں صنفی شمولیت کے حصول میں فیمنسٹ خارجہ پالیسی (ایف ایف پی) نقطہ نظر پچھلی دو دہائیوں میں پہلا بڑا ادارہ جاتی قدم ہے۔ پہلے ایف ایف پی فریم ورک طویل عرصے سے جاری گفتگو اور اس مباحثے کو روشنی میں لاتا ہے کہ خواتین اور دیگر پسماندہ گروہوں کی نمائندگی کس طرح سے کی جاسکتی ہے اور مذکورہ گروہ قومی سلامتی کی پالیسیوں اور گفتگو سے کس طرح غیر متناسب طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ یہ فریم ورک موجودہ طاقت کے ڈھانچے کو چیلنج کرتے ہوئے غیر ملکی اور سیکورٹی پالیسی سوچ اور عمل کے لیے صنفی نقطہ نظر کو مرکزی دھارے میں لانے کی حمایت کرتا ہے، جس کا مقصد پالیسی فیصلہ سازی کے ذریعے پسماندہ گروہوں کے لیے صنفی مساوات اور انصاف کا حصول ہے۔

جیسا کہ مزید ممالک اپنی حقوق نسواں کی خارجہ پالیسی کا اعلان کرنا شروع کر رہے ہیں اس لیے بھارت کے لیے ایف ایف پی کے حوالے سے بات کرنا اہم ہو رہا ہے، جہاں خواتین اس کی آبادی کا تقریبا نصف حصہ  ہونے کے باوجود سیاسی، سماجی اور اقتصادی طور پر نسبتاً بے اختیار ہیں۔ یہاں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ اس اصول پر قائم ہیں کہ پالیسی سازی میں صنفی شعور کو شامل کرنا ایف ایف پی کی تشکیل کی بنیاد ہے۔ اس کو خاص طور پر ایٹمی ڈومین کے بارے میں بیان کرتے ہوئے یہ مضمون اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ ہندوستان میں جوہری سلامتی کی سیاست کے لیے صنفی شعور کس طور سے اپنایا جائے تاکہ وہ میکانزم اور عوامل جو ہندوستان کی قومی سلامتی میں ایف ایف پی فریم ورک کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں ان کو تقویت ملے۔ اگرچہ صنف سے آگاہ پالیسی سازی اور ایف ایف پی مطلوبہ اہداف ہیں لیکن خواتین کو محض نمائندگی دینے کے دلائل سے آگے بڑھنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس مضمون میں اقوام متحدہ کے ڈبلیو پی ایس ایجنڈے کے تناظر میں صنفی شعور کی سوچ اور عمل کو بڑھانے کے لیے جوہری تحفظ کے میدان میں اسٹریٹجک کمیونٹی اور حکومتی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات کا احاطہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

ہندوستان کے جوہری بیانیے میں صنفی نقطہ نظر کو مرکزی دھارے میں لانا۔

ہندوستان کے دفاع اور سلامتی کے امور پر تحقیق کرنے والے سکالرز نے صحیح طور پر ملک میں سیکورٹی اور جوہری سیاست اور پالیسی میں صنف پر مکالمے کی “کمی” کا مشاہدہ کیا ہے اور ایف ایف پی جیسے فریم ورک تک پہنچنا اب بھی پہنچ سے دور ہے۔ یہ مضمون دلیل دیتا ہے کہ ہندوستان کے دفاعی اور ایٹمی پالیسی کے شعبہ جات میں ہندوستان کے مجموعی قومی سلامتی کے مباحثے میں صنفی نقطہ نظر کو مرکزی دھارے میں لانے کی سمت میں بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنا ایف ایف پی کے لیے ایک اچھا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔

دنیا کے بیشتر حصوں میں قومی سلامتی کی بات چیت پر مردانہ تسلط قائم  ہے اور ایک منظم اور ادارہ جاتی صنفی نقطہ نظر کا فقدان پایا جاتا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت اور بھی زیادہ واضح ہو جاتا ہے جب روایتی سیکورٹی مسائل جیسے فوجی حکمت عملی، جنگ، دفاعی پالیسیوں اور ہتھیاروں کی ٹیکنالوجیز کے بارے میں بیانیے کی بات کی جاتی ہے جہاں خواتین اور صنفی نقطہ نظر کو نظامی درجہ بندی (دفاعی اور تزویراتی) کی وجہ سے جان بوجھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ  یہ مسائل فطری طور پر ”مردانہ“ تصور کئے جاتے ہیں۔ دفاعی اور سیکیورٹی سیکٹر میں روز بروز خواتین کی تعداد میں اضافے کے باوجود بھی یہ نا انصافی بدستور جاری ہے۔ ہندوستان میں اسٹریٹجک کمیونٹی خواتین اراکین یعنی سائنسدانوں، محققین، ماہرین تعلیم، بیوروکریٹس اور سیکورٹی اہلکاروں سے بھری پڑی ہے، اس کے باوجود سیکورٹی پالیسی کے قائدانہ کرداروں میں خواتین کی واضح کمی ہے۔

سیکیورٹی پالیسی کی صنف سے آگاہی دو اہم سوالات کی طرف رہنمائی کرتی ہے: پالیسی کے اثرات کو کون محسوس کرتا ہے اور پالیسی کے فیصلے کون کرتا ہے؟ تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ خواتین اور دیگر پسماندہ سماجی و اقتصادی گروہ غیر متناسب طور پر سکیورٹی پالیسیوں، حتیٰ کہ جوہری پالیسیوں سے متاثر ہوتے ہیں لہٰذا صنفی شعور کا نقطہ نظر بنیادی طور پر یہ تجویز کرتا ہے کہ سیکورٹی پالیسی کے فیصلے میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھایا جائے اور صنف اور سیکورٹی کے درمیان فرق کو ختم کیا جائے۔

 

نمائندگی کا ایک کلیدی کردار ہے لیکن یہ ایف ایف پی کا واحد ستون نہیں ہے۔ ایف ایف پی میں خواتین اور دیگر پسماندہ گروہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ، رسائی اور وسائل کو قابل استعمال بنانا اور عمل میں لانا شامل ہے تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے اور ان کی بصیرت کو پالیسی سازی کی تشکیل میں حصہ بنایا جا سکے۔ تاہم یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ نمائندگی صنفی شعور کے مقصد تک پہنچنے کے لیے ایک ”وسیلہ“ ہے، نہ کہ منظلِ مقصود۔ لہٰذا نقطہ نظر کو صرف نمائندگی کے ذریعے ان چیلنجوں سے نمٹنے کے عام نقصانات کو بہر حال ذہن میں رکھنا چاہیئے۔ مثال کے طور پر، جوہری مسائل پر منعقدہ سیمینار کے ایجنڈے بعض اوقات ایسے طریقوں سے بنائے جاتے ہیں جو خواتین کو تخفیف اسلحہ، ہتھیاروں  کے پھیلاؤ پر قابو پانے، انسانی اثرات اور دیگر ایسے مسائل کے بارے میں بات کرنے پر مجبور کرتے ہیں جو کہ روایتی طور پر ”دوشیزگی اور نسائیت“ کے طور پر نمایاں سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری طرف، سیکورٹی کے امور پر تمام خواتین کے پینل سے جنس پر بیانات دلوا کر انہیں اہم سمجھا جاتا اور منایا جاتا ہے لیکن سیکورٹی پالیسی پر ان کو بات کا موقعہ نہیں دیا جاتا۔ سیکیورٹی پالیسی میں صنفی شعور رکھنے والا نقطہ نظر اس طرح کے تمام پھندوں سے آگے بڑھنے کی صلاحیت کا حامل ہونا چاہیئے۔

جیسا کہ جائیتا سرکار نے کہا ہے کہ اس بات  کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں بطور تجزیہ کار اپنے ملکوں میں ”ایٹمی سکیورٹی پالیسی کا میدان کس طرح آباد اور تشکیل شدہ ہے“ اور اس کے ارکان کی شناخت ان کے کام سے کیسے بنتی ہے جیسے عوامل کو زیادہ قریب سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ  بہت سا ایف ایف پی لٹریچر اور تھیوری زور دیتے ہیں کہ اسٹریٹجک کلچرز کے تناظر میں شناخت کو سمجھنے کے لیے ایک باہم مربوط نقطہ نظر اہم ہے جیسے سیکیورٹی سے وابستہ خواتین کی کثیر پرتوں والی پہچان بنانی ہوتی ہے جو ان کی سوچ ، تجربے اور سیکورٹی ڈسکورسز تک ان کی رسائی کا تعین کرتی ہیں۔ ویمن ان سکیورٹی،  کانفلکٹ مینجمنٹ اینڈ پیس جو کہ امن اور سلامتی کے حوالے سے گفتگو شروع کرنے کا ایک علمبردار ہے، نے ۲۰۰۵  میں ایک رپورٹ شائع کی جو جنوبی ایشیا میں خاص طور پر باہمی تعلق کے اصول کو واضح کرتی ہے۔ رپورٹ میں مصنف اے سبرامنیم راجو نے تجزیہ کیا کہ ہندوستان کی خواتین سائنسدانوں نے ہتھیاروں سے لے کر پاور پلانٹس تک کے ایٹمی مسائل کو کس طرح دیکھا۔ راجو نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہندوستان میں خواتین کی سائنسی برادری جوہری مسائل کے بارے میں ”ایک جیسی سوچ سے بہت دور“ ہے اور جوہری مسائل کے بارے میں ”خواتین سائنسدانوں“ کے خیالات ان کی پوزیشن اور ان کے شعبہء مطالعہ سے تشکیل پاتے ہیں  نہ کہ ان کے صرف عورت ذات ہونے کی وجہ سے۔ راجو کی رپورٹ ہندوستان میں ایٹمی مسائل کے بارے میں پہلی منظم صنفی تفریق شدہ مطالعات میں سے ایک تھی۔ بدقسمتی سے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے اس طرح کے منظم اور ڈیٹا پر مبنی تجزیے عام طور پر ہندوستان یا جنوبی ایشیا میں نہیں کیے جاتے۔

 ہندوستانی ایف ایف پی کے نقطہ نظر سےایٹمی سوال پر سوچ بچار۔

ہندوستان کی قومی سلامتی اور ایٹمی سیاست کے موضوع میں صنفی نقطہ نظر کو مرکزی دھارے میں لانے اور ایسی ایف ایف پی جو کہ ان شعبہ جات پر لاگو ہو کی تشکیل کے لیے حکومتی اور تزویراتی برادری کی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

ہندوستان کی اسٹریٹجک سیکورٹی اور نیوکلیئر کمیونٹی کے سیکشنز نے وقتاً فوقتاً فوجی اور خارجہ پالیسی  کے کلامیہ میں صنفی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ کوششیں شائع شدہ لٹریچر، اعلیٰ سطحی مکالموں، پروفیشنل نیٹ ورکس، اور سوشل میڈیا پر حمایت کی شکل میں خواتین کی آواز کو اٹھانے کے شکل میں ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران یہ سوالات بنیادی طور پر تمام مرد افراد پر مشتمل پینلز (یا “مینلز”)، جو کہ خاص طور پر سیکورٹی کے شعبہ سے تعلق رکھتے تھے، کی سخت تنقید کی صورت میں سامنے آئے۔ اگرچہ یہ قابل قدر کاوشیں ہیں جو صنفی شعور  کی بہتری میں اضافہ تو کرتی ہیں لیکن یہ جلدی میں کی جانے والی وہ کوششیں بھی ہیں جن کی بدولت صنفی شعور کے مرکزی دھارے میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ اس تبدیلی کے لیے مزید منظم کوششوں کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ تنظیمیں ڈبلیو پی ایس ایجنڈے کو اداراتی طور پر اپنائیں اور اس ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے تنظیمی سطح کے ایکشن پلان اپنائیں۔

صنف اور سلامتی پر موضوعاتی مباحثے  میں زیادہ نمائندگی دینے کے اصرار کے ساتھ ساتھ ، اسٹریٹجک کمیونٹی کو صنفی دوئی سے ہٹ کر زبان اور اخراج کے زیادہ اہم پہلوؤں پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹھوس اور منظم تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا اور سہولیات فراہم کرنا اس کوشش کے سب سے اہم اجزاء ہیں۔ حفاظت اور سلامتی سے لے کر ایٹمی استعمال کے خطرات تک، ایٹمی مسائل پر صنفی لحاظ سے ڈیٹا پر تحقیق بشمول سروے اور پول، خاص طور پر شراکت دارانہ مکالمے اور جمہوری مشغولیت کو بڑھانے کے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ مسائل لوگوں کی زندگیوں کو بھی اتنا ہی متاثر کرتے ہیں جتنا کہ حکومتوں کو۔ یہ تحقیق تعلیمی اور انتظامی سطح پر کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، سویڈن کی حکومت نے ایف ایف پی  کے لیے اپنے تازہ ترین ایکشن پلان میں اپنی خارجہ سروس کی توجہ کو صنفی نمائندگی کے توازن کو بہتر بنانے کے علاوہ ”صنفی تجزیات بشمول اعداد و شمار کو بہتر بنانے“ پر مرکوز کیا ہے۔

ریاستی اور حکومتی سطح پر بھارت کو اقوام متحدہ کے ڈبلیو پی ایس ایجنڈے اور یو این ایس سی آر ۱۳۲۵ 

سے زیادہ واضح طور پر وابستگی کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بھارت اپنی امن کوششوں، مختلف علاقائی ترقی پر مرکوز سرگرمیوں اور صنفی مساوات کے لیے گھریلو اسکیموں اور پروگراموں کے زریعے ڈبلیو پی ایس ایجنڈے کی حمایت کرتا ہے ، لیکن اس نے اقوام متحدہ کے ڈبلیو پی ایس ۸۰ ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کو نہیں اپنایا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان ایک ادارہ جاتی عزم کی نمائندگی کرتا ہے جس میں نفاذ کرنے والے ملک کو ڈبلیو پی ایس کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مخصوص اہداف، ٹائم لائنز اور بجٹ مقرر کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ لہذا ایف ایف پی کی طرف بڑھنے کے لیے ہندوستانی حکومت کو نیشنل ایکشن پلان کے ساتھ ساتھ ڈبلیو پی ایس پر قومی سطح کی ملکی پالیسی کو بھی اپنانا چاہیے جس میں دفاع، سیکورٹی یا جوہری پالیسی بشمول حکمرانی اور فیصلہ سازی کے تمام شعبوں میں قومی سطح پر ملکی پالیسی شامل ہے۔ ایک ہندوستانی ایف ایف پی نقطہ نظر کو ایسی متصادم سوچوں کا سامنا ہو گا جس کے نتیجے میں خواتین سیکیورٹی اور جوہری پالیسی کے قائدانہ کرداروں میں غیر حاضر رہیں گی۔ بھارت جنوبی ایشیا میں ایک بڑی طاقت کے طور پر اپنے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈبلیو پی ایس پر علاقائی ایکشن پلانز کو اپنانے میں سہولت فراہم کر سکتا ہے۔

ایک ایسی ریاست کے لیے جس میں اب بھی پدرسری ڈھانچے معاشرے میں اندر تک موجود ہیں، ڈبلیو پی ایس ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے وقت، وسائل اور بھارتی حکومت کی بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ تب بھی اسٹریٹجک اور سیکورٹی کے شعبوں میں صنفی شعور کے بارے میں بات چیت جاری رکھنا ضروری ہے کیونکہ ہم ہندوستان میں اب بھی ان سوالات کی وضاحت کر رہے ہیں جن سے یہ نقطہ نظر نمٹنے کی کوشش کرتا ہے، جن اقدامات کی وکالت کرنا چاہتا ہے اور جو تبدیلیاں لانے کی امید کرتا ہے۔

ایڈیٹر کا نوٹ: جب سے سویڈن نے ۲۰۱۴ میں حقوق نسواں کی خارجہ پالیسی کا اعلان کیا، کئی دیگر ممالک نے بھی یہ سفر شروع کیا ہے ، تاہم گفتگو اور فریم ورک زیادہ تر مغربی ممالک میں ہی موجود ہیں۔ اس سلسلے میں “کوبرینین انیشی ایٹو” کے ساتھ مشترکہ طور برصغیر بھر کے شراکت دار اس بات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں کہ “حقوق نسواں کی خارجہ پالیسی” کا کیا مطلب ہے ، اور یہ نقطہ نظر کس طرح جنوبی ایشیا میں خارجہ امور ، علاقائی پالیسی اور جیو پولیٹکس ، ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششوں کو مربوط کر سکتا ہے۔ یہ سلسلہ سوال اٹھاتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک نے کس حد تک حقوق نسواں کی خارجہ پالیسی کے نقطہء نظر کو اپنے نظام میں شامل کیا ہے اور کن طریقوں سے صنفی شعور کا نقطہء نظر برصغیر میں سلامتی ، جمہوریت اور سفارتکاری کی حمایت کرسکتا ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Pallava Bagla/Corbis via Getty Images

Image 2: Pallava Bagla/Corbis via Getty Images

Share this:  

Related articles

طالبان کو تسلیم کرنے کی سیاست Hindi & Urdu

طالبان کو تسلیم کرنے کی سیاست

اقتدار پر قبضے کے تقریباً تین ماہ اور عبوری حکومت…

خارجہ پالیسی میں غائب” صنف” Hindi & Urdu

خارجہ پالیسی میں غائب” صنف”

یہ بات تقریباً عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ…

تاریخ کے جھروکوں سے: پاکستان اور تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی Hindi & Urdu

تاریخ کے جھروکوں سے: پاکستان اور تحریک نسواں کی خارجہ پالیسی

پاکستان نے ۲۰۲۱ میں متعدد آزمائشوں کا سامنا کیا، جن…