بھارت-چین معاشی تعلقات کا ایک جائزہ

سال ۲۰۱۷ بھارت-چین تعلقات کےلئے سنگین رہا۔ ڈوکلام معاملہ، چین کا بھارت کی طرف سے جیش محمد کو اقوامِ متحدہ سے عالمی دہشت گرد تنظیم کا درجہ دلوانے کو ویٹو کرنا اور نیوکلئیر سپلائرز گروپ میں بھارتی شمولیت پر چین کے عدم تعاون جیسے واقعات نے تعلقات کو گہنائے رکھا۔ تاہم سال کا اختتام اچھی  بیٹھک پر ہوا جب چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے بھارت کا دورہ کیا۔اس کے بعد سرحدی بات چیت کے ۲۰ویں دور کےلئے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوودل  اور چینی سٹیٹ کونسلر یانگ جائچی کے درمیان بھارت-چین تعلقات کی اہمیت  اور سرحدی امن و امان کےلیے بھی بات چیت کا دور ہوا۔

۲۰۱۸ میں سفارتی  سرگرمیوں سے نہ صرف سکیورٹی مسائل بلکہ معاشی رکاوٹوں سے نمٹنے کے معاملات بھی زیرِ غور رہے۔ حال ہی میں منتج ہونے والے بھارت-چین جوائنٹ گروپ آن اکنامک ریلیشنز ، ٹریڈ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  میں دونوں ملکوں نے  دوطرفہ ترقی، تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پر بات چیت کی اور تجارتی ناہمواری  کے ساتھ ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کےلئے بات چیت کا بھی آغاز کیا۔ چینی اور بھارتی نمائندوں نے سٹریٹیجک اکنامک ڈائیلاگ کے پانچویں دور میں بھی شرکت کی  تاکہ معاشی راہ میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ تمام واقعات اس بات کے غماز ہیں کہ سکیورٹی اور جغرافیائی  خدشات کے باوجود  دونوں ملکوں میں یہ  بات محسوس کی جاتی ہے کہ باہمی  تجارت اور تعاون کو مزید مضبوط کرنے میں فائدہ ممکن ہے۔

تجارتی ناہمواریت ؛

بھارتی حکومت سے حاصل شدہ ڈیٹا کے مطابق چین اور بھارت کی دوطرفہ تجارت گزشتہ عشرے میں  ۲.۳۸ بلین امریکی ڈالر سے ۴۵.۷۱ بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ ۲۰۱۱، ۲۰۱۲ اور۲۰۱۴-۱۵ میں تجارت میں کچھ اونچ نیچ رہی تاہم حالیہ سالوں میں تجارتی حجم ساکن ہی دیکھا گیا ہے۔

Figure 1: India’s Total Bilateral Trade with China and Indian Exports to and Imports from China (in US$ million)

Source: Ministry of Commerce and Industry, Government of India

نئی دہلی کے نقطہ نظر سےاسکی وجہ  وسیع تجارتی ناہمواری کا چین کی طرف جھکاؤ، مارکیٹ تک رسائی کے مسائل اور سکیورٹی خدشات ہیں۔۱۱.۵۱ بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ اور چینی تیار کردہ مال کے ساتھ عدم مطابقت بھی ایک اور وجہ رہی۔ چین کی طرف سے بھارت کو برقی مشینری اور توانائی کے آلات  کی برآمد ات کی گئیں جبکہ بھارت نے چین کو کاٹن اور آئرن (لوہا  اور دھاتیں) برآمد کیں۔

مزید برآں چین کی  صنعتی تحفظ کی پالیسی  بھارتی کمپنیوں کےلئے  چینی مارکیٹ تک رسائی مشکل بناتی ہے۔ نئی دہلی چین کو بھارتی انفارمیشن ٹیکنالوجی، دوائیوں اور زرعی ادویات کےلئے مارکیٹ کھولنے کی تگ و دو کرتا رہا ہے  اور ساتھ ہی ساتھ تجارتی عدم مساوات کے خاتمے کےلئے سرمایہ کاری پر بھی زور دیتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ وہ شعبے جن میں بھارت کو سبقت حاصل ہے، جیسا کہ ادویہ سازی  جہاں عالمی مارکیٹ میں بھارت کا ۲۰ فیصد شئیر ہے، ان میں بھی بھارت چین میں جگہ نہیں بنا سکا ہے۔ بھارتی کمپنیاں جن کی چین میں رسائی ہے،وہ بھی  مارکیٹ تک محدود رسائی  کا شکوہ کرتی ہیں۔تاہم بھارت کی طرف سے جوابی وار کے طور پر چینی درآمدات کو روکنا یا کم کرنا نقصان دہ ہو گا کیونکہ بھارت کی صنعت سازی سستے چینی مال (آئی ٹی اور الیکٹرانکس مصنوعات کےلئے) پر انحصار کرتی ہے۔

دو طرفہ تجارت اور خوش گمانیاں؛

اگرچہ ماضی میں دونوں ملکوں کے بیچ  معاشی سرمایہ کاری سے متعلق ان گنت مسائل تھے تاہم حالیہ سالوں میں دونوں طرف سے ایسی رکاوٹوں کو ہٹایا جا رہا ہے۔ ۲۰۱۴ میں چین نے  اگلے پانچ سالوں کے دوران بھارت میں ۲۰ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا  جس کے تحت گجرات، ہریانہ اور مہاراشٹرا میں صنعتی پارکس کی تعمیر کی جائے گی۔ اس سرمایہ کاری سے بھارت کی صنعت سازی کی صلاحیتوں میں اضافہ اور چین کے ساتھ تجارتی خسارے میں کمی ہوسکتی تھی۔ لیکن  ان میں سے کچھ منصوبے زمینوں کے حصول کے چیلنجز کی وجہ سے سست روی سے آگے بڑھے ۔ ۲۰۰۰ سے ۲۰۱۷ کے دوران چین کی بھارت میں براہ راست سرمایہ کاری ۶۷.۱ بلین ڈالر تھی جو بھارت میں  اسی عرصہ کے دوران مجموعی براہ راست سرمایہ کاری کا محض ۴۹.۰ فیصد تھی۔ اسکے باوجود بھارت کی طرف سے چینی سرمایہ کاری پر  زور سے کچھ مثبت نتائج سامنے آئے ہیں ۔ اپریل ۲۰۰۰ سے ستمبر ۲۰۱۵ تک چین کی بھارت میں براہ راست سرمایہ کاری  کا ۶۰ فیصد حصہ آٹوموبائیل  کے شعبے میں صرف ہوا اور سمارٹ فون کمپنی ‘ژیاؤمی’ جلد ہی بھارت میں پانچ  پیداواری یونٹ لگائے گی۔

اس معاملے میں زیادہ کامیابی اگرچہ نجی سرمایہ کاری بالخصوص ٹیکنالوجی اور ای-کامرس میں دیکھی گئی۔ محض ۲۰۱۷ میں چینی کمپنیوں جیسےعلی بابا، فوسن، بیدُو اور ٹین سنٹ  نے ۳۰  بھارتی سٹارٹ –اپس میں ۲.۵ بلین  ڈالر سرمایہ لگایا۔ علی بابا گروپ  اور اسکے ملحقین نے تنِ تنہا  سٹارٹ –اپس میں ۷.۱ بلین  ڈالر پے-ٹی ایم اور بِگ باسکٹ میں صرف کئے۔

مضبوط معاشی تعلقات کی حقیقی تصویر:

معاشی روابط میں بہتری دونوں ملکوں کےلئے فائدے کا باعث ہے۔ چین کا بہت بڑا رقبہ، بڑھتی ہوئی  مڈل کلاس اور اندرونی وسائل کےاستعمال پر مبنی پالیسی کا مطلب ہے کہ چین بھارتی مصنوعات کےلئے مستقبل کی  منڈی ہے ۔

چینی اعدادو شمار کے مطابق مثبت خبر یہ ہے کہ دو طرفہ تجارت ۲۰۱۷ میں ۴۴.۸۴ بلین ڈالر ہو گئی جو کہ ایک ریکارڈ ہے ۔ مزید برآں چینی کمپنیوں نے بھارت میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور گزشتہ برس ایک تجارتی اکٹھ پر ۸۵ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا۔ چین کی طرف سے بھارت میں سرمایہ کاری کا مطلب ہو گا کہ بھارتی فرمز کو  انتہائی ضروری رقم میسر آجائے گی جبکہ چین  بھارت کی آئی-ٹی شعبے کی مہارت کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

لیکن تجارتی عدم ہمواری، منڈیوں تک رسائی اور پابندیوں پر مشتمل ریگولیٹری ماحول  کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی و جغرافیائی عوامل چین و بھارت کو ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑا رکھیں گے جس سے نئی دہلی کےلئے معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانا مشکل ہو جائے گا(جیسا کہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو)۔ لیکن اختلافات  کو ایک طرف رکھتے ہوئے نئی دہلی چین کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھا سکتا ہے اور اس امر کو حال ہی میں چین کے کامرس کے وزیر ژہونگ شان نے بھارتی دورے پر اٹھایا ۔

ایڈیٹر نوٹ: ڈوکلام معاملے پر مہینوں کی کشیدگی کی بعد  بھارت –چین تعلقات میں بھارتی وزیرِخارجہ سشما سووراج اور دفاعی وزیر نرمالا ستھرمن  کے چین کے آئندہ دوروں  سے بہتری کی امید ہے۔ تاہم تعلقات میں سرد مہری کے عناصر بھی بدستور موجود ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائسز کی اس سیریز میں مصنفین نے ڈوکلام ایشو کے بعد کے حالات  میں دونوں ملکوں کے مقابلے کا جائزہ لیا ہے کہ آیا  معاملات الجھ رہے ہیں یا بہتری کی جانب گامزن ہیں اور پھر سکیورٹی، معاشی اور سیاسی طور پر ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ باقی کے مضامین پڑھنے کےلئے یہاں کلک کریں۔

***

.Click here to read this article in English

Image: Embassy of India, Beijing

Posted in , China, China in South Asia, Economics, Economy, India, Trade

Kashyap Arora

Kashyap Arora

Kashyap Arora is an economic policy researcher at the Centre for Policy Research (CPR), New Delhi, India. He is also the founder of “Indian Strategist”, a current affairs based online platform. Previously, he has worked at Standard and Poor, Global Development Network (GDN), and HDFC Life. He holds a Masters degree in Economics and International Financial Economics from the University of Warwick (UK) and a Bachelors degree in Economics from the University of Delhi.

Read more

Rimjhim Saxena

Rimjhim Saxena

Rimjhim Saxena is a Data Analyst and Researcher at the Centre for Policy Research (CPR), India in collaboration with the Centre for the Advanced Study of India (CASI), University of Pennsylvania. She holds a Masters degree in Economics from Boston University and a Bachelors in Industrial Engineering from Thapar University.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *