سی-پیک منصوبہ  :چین کا نرم خُو تشخص

چین کا پاکستان کے چھوٹے فشنگ ٹاؤن (مچھلیوں کے شکار کے شہر) گوادر میں اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی-آر-آئی) کےلئے غیر معمولی ترقی دینے کو جنوبی ایشیا  اور دیگر ملکوں میں  بغور دیکھا گیا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری میں  اہم مقام ہونے کے باعث  گوادر بندرگاہ ایک دفعہ آپریشنل ہونے کے بعد پانچ سال کے اندر اندر جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی بندرگاہ بن سکتی ہے۔ سی پیک چونکہ پاکستان کی توانائی ، بنیادی ڈھانچے اور نقل و حمل  کے شعبے میں تبدیلی برپا کرے گا اس لئے ۶۲ بلین ڈالر کے اس منصوبے سے متعلق پاکستانی  جوش و خروش  سمجھ میں آتا ہے۔ گیم تھیوری  کا مطلب استعار لیتے ہوئے  سی-پیک کو “دوطرفہ جیت” (وِن وِن) کا نام دیا جا سکتا ہے۔

تاہم اس منصوبے سے چین کی تزویراتی فوائد اتنے زیادہ ہیں کہ دیگر ممالک اس منصوبے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ گوادر پاکستان کی  نسبت چین کےلئے زیادہ اہم ہے۔ چین کی معیشت ساحلوں پر منحصر ہے اور اس (گوادر)منصوبے کی تعمیر چین کے مغربی  صوبوں کوبھی مشرقی صوبوں کی طرح تیز تر ترقی پر گامزن کر دے گی۔ مبصرین نے گوادر کو چین کی “سٹرنگ آف پرلز”  حکمتِ عملی کا حصہ مانا ہے  جسکا مطلب چین کی طرف سے بھارت کا سمندری احاطہ کرنا ہے۔ ۲۰۱۵ میں افتتاح کے بعد سے سی-پیک کامیابی کی طرف گامزن ہے چونکہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں اور اسی لئے امریکہ کےلئے سی-پیک سے چینی مفادات کا اندازہ لگانے میں مشکل آرہی ہے۔

ان  بیرونی شکوک کے باوجود، پاکستان کے اندر جوش و خروش برقرار ہے۔ بلاشبہ معاشی راہداری ترقی کے متلاشی پاکستان کےلئے ایک ‘گیم چینجر’ منصوبہ بن سکتا ہے اگر اسلام آباد اس معاملے پر اندورنی طور پر اتفاقِ رائے پیدا کر لے بالخصوص  بڑھتے بیرونی قرضوں اور ملکی مزدوروں  کے سلسلے میں۔

تمام فوائد چین کی طرف:

چین کے جنوبی سمندر (ساؤتھ چائنہ سی) میں عسکری اقدامات اور بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات نے چین کے ایشیا میں تو سیع  پسندانہ منصوبہ آشکار کیا ہے۔ دباؤ اور جبر کے بجائے چین نے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کےلئے بی-آر-آئی کے ذریعے امدادی پیکجز اور ترقی دینا مناسب سمجھا۔ ایشین انفراسٹکچر انویسٹمینٹ بینک ، شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن اور  بی-آر-آئی  کے  منصوبوں کے ذریعے چین نے عالمی برادری کو اپنی سافٹ لیڈرشپ کی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

اگر چین بی-آر-آئی کے ذریعے  تبدیلی لاتا ہے تو  یہ اس کو تجارت کے عالمی مرکز میں لا کھڑا کرے گا اور  چین کی کامیابی کے ساتھ ایشیا اور اس سے آگے زمینی راستوں  کو باہم ملانے  کی چینی کوششوں کی تصدیق کرے گا۔ سی-پیک اس سلسلے کی اہم کڑی ہے اور پاکستان  کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ چین کی وسطی ایشیائی ریاستوں ، افغانستان  اور ایران  تک پہنچنے کے معاشی منصوبے میں کلیدی دروازے کا کردار ادا کر سکے۔

۲۰۱۸ میں سی پیک سے وابستہ توقعات:

سی پیک میں توانائی اور ربط سازی  دو اہم ستون ہیں اور قابل تجدید اور دیگر توانائی کے ۲۱ منصوبوں کا اعلان ہو چکا جبکہ ان میں سے ۱۹ کا آغاز اگلے کچھ مہینوں میں ہو جائے گا۔ نومبر ۲۰۱۷ میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ۱۳۲۰ میگاواٹ صلاحیت کے حامل کوئلہ پر چلنے والے منصوبے کا افتتاح کر دیا اور کہا کہ منصوبہ ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا  جس نے پاکستان کو توانائی  میں خود کفالت  کی طرف بھی گامزن کر دیا ہے۔

چین نے ملک بھر میں وسیع  ریل اور سڑکوں کے نیٹ ورک کو بنانے کا وعدہ بھی کیا ہے جس سے ملک کے اہم تجارتی ضلعوں کو ۲۰۳۰ تک ربط سازی میسر آجائے گی۔ بہت سے اہم منصوبے مارچ ۲۰۱۸ میں تکمیل کو پہنچ رہے ہوں گے۔ گوادر ایسٹرن ایکسپریس کی تکمیل دسمبر ۲۰۱۸ میں  متوقع ہے جس سے گوادر بندرگاہ کے قریب چیزوں اور سامان کی نقل و حمل آسان ہو جائے گی۔ سندھ میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اور کراچی سے پشاور تک ٹرانسمیشن  لائن کابھی ۲۰۱۸ میں آغاز ہو جائے گا۔ پاکستان مسلم لیگ –ن کے زیر سایہ لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کا ۷۵ فیصد کام مکمل ہو گیا ہے اور یہ ایسا منصوبہ ہے جس میں تقریباً ۲۵۰۰۰۰ افراد روزانہ سفر کریں گے۔ کوئلہ سے چلنے والے پورٹ قاسم پلانٹ  میں مزید یونٹس کی پیداوار کےلئے منصوبہ بھی ۲۰۱۸ میں تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

اندرون خانہ کیا چل رہا ہے؟

اگرچہ چین نے بارہا یہ بات دوہرائی ہے کہ سی-پیک پاکستان کےلئے گیم چینجر ثابت ہو گا تاہم بیجنگ کے بیانات سے یہ کہیں بھی عیاں نہیں ہوتا کہ سی-پیک منصوبوں کا فائدہ مزدور  طبقے یا داخلی کاروبار کو کس حد تک پہنچے گا۔ مثال کے طور پر تمام بڑے سٹیک ہولڈرز اسلام آباد کی اس نا اہلی پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ  گوادر سے متعلقہ لوکل مزدوروں اور تاجروں کے خدشات کو کہاں تک ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔ پاکستانی قانون سازوں نے جنوری ۲۰۱۸ میں مسلم لیگ –ن کے چینی کمپنیوں کو ٹیکس میں خاطر خواہ  چھوٹ دینے کی منطق پر سوال اٹھائے ہیں۔

مزید برآں  چین منصوبوں میں کس حد تک سرمایہ لگائے گا اس بارے میں بھی کوئی واضح بات سامنے نہیں آ رہی ہے۔ دسمبر ۲۰۱۷ میں سری لنکا نے اپنی ہمبنٹوٹا بندرگاہ  کو بیرونی قرضوں (زیادہ تر چینی) کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ۹۹ سالہ لیز پر چین کے حوالے کر دیا۔ سری لنکا کی معیشت ۸.۱ بلین امریکی ڈالر  کی مقروض  ہے جسکی وجہ سے وہ  معیشت سست روی کا شکار ہے۔ پاکستان پہلے ہی  چینی حمائت یافتہ قرضوں کا سب سے بڑا حاصل کنندہ ہے  اور یہ رقم  ۴ بلین امریکی ڈالر ہے۔ پاکستان میں  پلاننگ، ڈویلپنٹ اینڈ ریفارمز کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ریلوے کی مین لائن-۱ کی ترقی کےلئے ۸۰۲ بلین ڈالر حاصل کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ مزید برآں پاکستان نے حال ہی میں جاپانی حکومت سے قرضہ لینے کی پیشکش مسترد کر دی ہے اور یہ قرضہ چینی قرضوں کی نسبت کم شرح سود پر دیے جانے تھے۔ مسلم لیگ-ن کی طرف سے سی-پیک سے متعلق کم معلومات فراہم کرنے کی وجہ سے بھی  ہمبنٹوٹا جیسی صورتحال بن جانے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی مرکزی بینک کی طرف سے (گفت و شنید کے بغیر) تجارت میں ڈالر کو یوان سے تبدیل کر دینے کے عمل نے  بھی  چند خدشات کو جنم دیا ہے۔

سی-پیک سے متعلق کئی طرح کے بد عنوانی  کے مسائل بھی موجود ہیں۔ پاکستان کا بغاوت اور شورش زدہ صوبہ بلوچستان سکیورٹی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ ۵ فروری کو ایک سینئیر چینی ایگزیکٹو کو کراچی میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ جون ۲۰۱۷ میں اطلاعاً داعش نے بلوچستان میں  دو چینی باشندوں کو اغوا کے بعد مار ڈالا تھا۔اس دوران چین نے بد عنوانی کی شکایات پر سڑک بنانے کے تین منصوبوں پر کام بھی روک دیا تھا۔ بد عنوانی جیسے مسائل سی-پیک اور چین کےلئے کوئی اچھی علامت نہیں ہے اور اس سے سی-پیک کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے اور ایسے منصوبوں کی تکمیل متاثر ہو گی جو پاکستانی مفاد میں ہیں۔

لامتناہی خوش امید ی پر ایک نظر:

گیلپ کے ۲۰۱۷ میں ایک سروے کے مطابق قریباً دو تہائی افراد نے سی-پیک کو پاکستانی معیشت کےلئے اہم قرار دیا۔اگر چین سی-پیک کے ذریعے پاکستانی معیشت میں ڈرامائی تبدیلی نہیں لاتا تو عوام کا چین پر اعتماد کم ہو جائے گا اس لئے چین بد عنوانی اور سکیورٹی مسائل سے احتیاط برتتے ہوئے آگے چلے گا۔ اسلام آباد سی-پیک سے بہت زیادہ پُر امید ہے تاہم وہ راستے میں حائل رکاوٹوں سے کیسے نبرد آزما ہوتا ہے اُسے دیکھ کر پتا چلے گا کہ کیا منصوبہ واقعتاً گیم چینجر ہے یا محض اَیم (مقصد)-چینجر۔

ایڈیٹر نوٹ؛ یہ آرٹیکل ساؤتھ ایشین وائسز کی نئی “سی-پیک؛اب کہاں کھڑا ہے” سیریز کا حصہ ہے جس میں سی-پیک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ باقی کے آرٹیکلز پڑھنے کےلئے یہاں کلک کریں۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Moign Khawaja via Flickr

Image 2: Sultan Dogar via Getty

Posted in , China, CPEC Today, Development, Economy, Energy, Internal Security, Militancy, Pakistan, Regional Connectivity

Hemant Shivakumar

Hemant Shivakumar

Hemant Shivakumar is a Chevening Scholar and a War Studies alum from King’s College London. He has over four years of research experience on South Asian affairs and has worked in research and consulting roles at the Centre for Policy Research, the Australian National University, the Asia Foundation and RIS at the Indian Ministry of External Affairs.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *