صدر ٹرمپ کا ایف-پاک چیلنج

   الیکشن مہم اور حکومت  کے پہلے کچھ دنوں کے دوران صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، بشمول امریکہ کی افغانستان میں موجودگی  ہر معاملے میں مبہم تھی۔  تاہم حالیہ دنوں میں  صدر ٹرمپ کی غیر واضح  خارجہ پالیسی عالمی مفادات اور سٹریٹیجک صورتحال کی وجہ سے قدرے واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔ سب سے پہلے یہ آشکارہوا ہے کہ صدر ٹرمپ کا سابقہ مالی معاملات میں تخفیف کا بیانیہ اب ختم ہو رہا ہے اور حقیقت میں امریکہ نے دنیا بھر میں اپنے فوجی پڑاؤ کو مزید تقویت دی ہے۔

تاہم فوجی پالیسیوں میں یہ ردوبدل افغانستان میں ایک بڑی سٹریٹیجک تبدیلی لائے بغیر امریکہ کےلئے بےسود ہو گا۔ حالیہ  سٹریٹیجک پالیسی نے پاکستان اور افغانستان دونوں کو “تزویراتی مگر مہنگے” اتحادی بنا دیا ہے جنہوں نے فوجی و معاشی امداد میں اربوں ڈالر  لے کر بھی امن سے متعلق اہداف حاصل نہیں کئے ہیں۔ سٹریٹیجک  اہداف کو لازمی طور پر دو طرح سے دیکھنا ہو گا۔1) افغانستان اور پاکستان کو الگ کر کے ان  سے متعلق پالیسی میں تبدیلی، 2) علاقائی ممالک (چین اور روس) کےلئے افغانستان میں امن کےلئے راہ ہموار کرنا۔

امریکہ نے ۹/  ۱۱سے اب تک پاکستان اور افغانستان کو دو  الگ ممالک مگر ایک مشترکہ چیلنج سمجھ کر کوششیں کی ہیں۔ رچرڈ ہالبروک،  جو کہ ۲۰۰۹    سے ۲۰۱۰ تک افغانستان  میں امریکہ کے خاص سفیر رہے، نے  امریکہ کی اس پالیسی کو ایف-پاک کا نام دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پاکستان سے انتہا پسندوں کی آماجگاہوں کو ختم کئے بغیر حالات میں بہتری نہیں آ سکتی۔

ایف-پاک پالیسی پر فوکس کر نے سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ جس میں امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کو سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر پاکستان کی معاشی اور فوجی امدادکو حقانی نیٹ ورک(پاک- افغان سرحدی علاقوں میں متحرک انتہا پسند گروہ) کے خلاف کاروائی سے مشروط کر دیا۔ تاہم دونوں ملکوں میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پالیسی  دونوں ملکوں میں انتہا پسندی کو قابو کرنے کےلئے کارگر ثابت نہیں ہوسکی۔

مزید برآں ایف-پاک پالیسی نے افغانستان اور پاکستان کو اکٹھا کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے کوسوں دور کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں موجود پالیسی ساز اس  نقطہ نظر سے سخت بیزار ہیں اور اس بات پر بضد ہیں کہ امریکہ نے افغانستان میں بھارت کی موجودگی، جس سے پاکستان خائف ہے ، کو کبھی سنجیدہ لیا ہی نہیں ہے۔ تاہم  اس پالیسی میں تبدیلی بھی شائد اسی لیے ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو سنجیدہ لینا شروع کیا کیونکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی افغانستان سے جنم لیتی ہے اور دشمن ایجنسیاں اس کو ہوا دیتی ہیں۔

جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے انسداد دہشت گردی کےلئے محض فوجی آپریشنز  اس وقت تک سود مند ثابت نہ ہوں گے جب تک افغان اداروں کو مضبوط نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک اہم جزو تھا جو کہ ایف-پاک پالیسی میں یکسر نظر انداز کیا گیا۔ اس لئے توجہ اس امر پرمرکوز کرنی ہو گی  کہ افغان اداروں کی استعدادِ کار کو بڑھایا جائے۔ امداد اور تربیت کا حالیہ طریقہ کار عدالتی نظام اور قانون پر عمل درآمد کی اصلاحات نافذ کرنے میں رکاوٹ ہیں اور اسی وجہ سے افغانستان فرسودہ نظام پر کاربند ہے۔ جس سے بد عنوانی رائج ہے اور افغان آبادی کےلئے ایک بڑے سپورٹ پروگرام کی ضرورت آج بھی باقی ہے۔

نئی امریکی حکومت کو دیگر علاقائی ملکوں  بالخصوص روس اور چین کےلئے افغانستان میں امن کےلئے جگہ بنانی ہو گی۔ تاہم اس امر کو یقینی بنانے کےلئے پہلے سے موجود پالیسی کو بدلنا بھی ناگزیر ہے وہ بھی ایسے لمحے جب امریکہ نے افغانستان میں امن سے متعلق روس کی سپانسر کردہ کثیر ملکی کانفرنس ( جس میں روس، چین، بھارت، ایران، پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں نے شرکت کی) کی مخالفت کی۔

اگرچہ امریکہ  روس اور چین کے بڑھتے ہوئے معاشی و فوجی اثرورسوخ سے خائف ہو گا مگر افغانستان میں ان کے کردار سے متعلق آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیئں۔امریکہ کو  روس کا افغانستان میں  امن کےلئے مذکرات منعقد کرانا اور چین کا  کابل سے سفارتی وتجارتی  تعلقات کو مظبوط کرنا  نا پسندیدہ عمل نہیں سمجھنا چاہیئے۔امریکہ ایک ایسے خطے میں جہاں اس نے کئی بلین ڈالر خرچ کیے ہیں اور ایک دہائی سے وہاں مصروف ہے، کو  یکسر نظر انداز نہیں کرنا چاہیئےچونکہ افغانستان ایک عشرے کی امریکی کوششوں کے باوجود آج بھی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف امریکہ کی افغانستان میں حالیہ بمباری نے یہ پیغام دیا ہے کی امریکہ کہیں نہیں جا رہا تاہم ساتھ ہی ساتھ کھلے عام بم برسانا اس بات کی طرف بھی واضح اشارہ ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں کوئی واضح پالیسی  نہیں ہے کہ جو افغانستان اور پاکستان میں امن کو یقینی بنا سکے۔

افغانستان کی دِگرگوں صورتحال دیکھتے ہوئے امریکہ کو روس اور چین کے امن کےلئے کوششوں کو مسترد نہیں کرنا چاہیئے چونکہ دونوں ملکوں  کے افغانستان میں سٹریٹیجک مفادات ہیں جو کہ امریکی مفادات سے متصادم نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر بیجنگ اور ماسکو کے معاشی مفادات افغانستان اور پاکستان میں امن سے مشروط ہیں۔ چین کا سی-پیک کو افغانستان تک وسعت دینا اور روس کا افغانستان میں نئی مارکیٹس  تلاش کرنا صرف اسی صورت میں ممکن ہو گا جب وہاں دیرپا امن قائم ہو جائے گا۔ اسکے علاوہ دونوں ملکوں کے افغانستان میں  سکیورٹی مفادات بھی موجود ہیں۔ داعش کے افغانستان میں پنجے گاڑ لینے سے روس اس لئے خائف ہے کہ اسکے اثرات وسطی ایشیائی ریاستوں تک پھیل سکتے ہیں جبکہ چین بھی سمجھتا ہے کہ خلفشار کے شکار صوبے ژن جیانگ میں  افغانستان کی بد امنی کا اثر ہو سکتا ہے۔ مزید برآں اگر افغانستان میں امن ہوتا ہے اور امریکی افواج مکمل طور پر وہاں سے انخلاء کرتی ہیں تو یہ چین اور روس کےلئے ایک مثبت پیش رفت ہو گی۔

محض ایف-پاک پالیسی پر انحصار کر نے کے بجائے امریکہ کو افغانستان اور پاکستان سے متعلق دیگر عوامل کو بھی دیکھنا چاہئے اور ساتھ ہی ساتھ علاقائی ممالک کو کھل کر اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دینا ہو گی۔ اگر امریکہ افغانستان میں فوجی حکمتِ عملی کو بروئے کار لاتا ہے مگر معاملات کو دیگر  (غیر فوجی) آپشنز سے حل نہیں کرتا تو خطے میں عدم استحکام کی فضاء قائم رہے گی جو کہ بہر صورت طالبان اور داعش کےلئے فائدہ مند ثابت ہو گی۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Gage Skidmore via Flickr (cropped)

Image 2: DoD photo by Tech. Sgt. Efren Lopez, U.S. Air Force via Wikimedia

 

Posted in , Afghanistan, Foreign Policy, Militancy, Pakistan, Terrorism, United States, US

Umair Jamal

Umair Jamal

Umair Jamal teaches History and South Asian security at the Forman Christian College University. He is a correspondent for The Diplomat magazine, based in Lahore, Pakistan. His research focuses primarily on the analysis of South Asian security and politics. His work has been featured in a number of renowned media outlets including Foreign Policy, Al-Jazeera, The National Interest, The Huffington Post, The Diplomat, Asia Times, The News on Sunday, Pakistan Today and others. He can be reached at umair.jamal@outlook.com.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *