فاٹا انضمام کے بعدغیرفعالیت: توقعات بمقابلہ حقائق

مئی ۲۰۱۸ میں حکومت پاکستان نے ایک تاریخی آئینی ترمیم منظور کی جس کے ذریعے سے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کی نیم خودمختار حیثیت کا خاتمہ ہوگیا، یہاں کا نظم چلانے والے نوآبادیاتی دور کے قوانین منسوخ ہوگئے اورملکی علاقائی حدود میں اس کا انضمام ہوگیا۔ اس انضمام کی بڑے پیمانے پر تشہیرغربت زدہ قبائلی علاقے میں تعمیر وترقی متعارف کروانے اورعسکریت پسندی اور تنازعے سے بھرپور تاریخ کو امن و استحکام بخشنے کے طور پر کی گئی تھی۔

گزشتہ برس قبائلی علاقے میں ہونے والی ترقی پر ایک گہری نظر ان ابھرنے والے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے جو اس انضمام کیلئے چنے گئے لائحہ عمل کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ فاٹا کی عوام— جن کو توقع تھی کہ انضمام ترقیاتی منصوبے، باقاعدہ قانونی نظام اور سماجی اقتصادی مواقع لائے گا— اس کے برعکس انکو سست اور غیر مسلسل ترقی، تاخیر کا شکار نظام انصاف اور مزید تنہائی کا سامنا ہے، جو کہ خطے کو مزید تشدد اور عدم استحکام کی جانب لے جاسکتا ہے۔ اگر ریاست کسی اضافے کے بغیرموجودہ رفتار سے کام کرتی رہی تو یہ ابھرتی ہوئی ”پشتون بہار“ کا رخ موڑ کر اسے ریاست مخالف تحریک  اور ممکنہ طور پر علیحدگی کیلئے آوازوں میں بدل سکتی ہے۔

صدیوں پرانے قوانین کا خاتمہ

یہ سمجھنے کیلئے کہ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانا کیوں اس قدر بڑا معاملہ ہے، اس کی تاریخ کو سمجھنا اہم ہے۔ فاٹا کئی دہائیوں سے برطانوی حکمرانوں کے منظور کردہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن ( ایف سی آر) کے زیر انتظام تھا جسے بعد میں آزادی کے بعد پاکستان کی جانب سے اپنا لیا گیا۔ ایف سی آر کے تحت، یہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ الٹا، ایف سی آر نے ناانصافی پر مبنی شقیں جیسا کہ ایک شخص کے جرم پر پورے قبیلے کو حراست میں لینا ، اور اپیل اور قانونی نمائندگی کے حق سے محرومی، نافذ کی ہیں۔ غالباً پاکستان نے اس لئے ان قوانین کو برقرار رکھا تاکہ قبائلی عمائدین ( ملک) اور مقامی بیوروکریٹس ( پولیٹیکل ایجنٹس) کی وفاداری حاصل کی جا سکے اور اس کیلئے انہیں ایف سی آر کے ذریعے طاقت عطا کی گئی۔

بہرحال، افغانستان جنگ کا پھیلاؤ فاٹا کو اس وقت عالمی نگاہوں میں لے آیا جب امریکی صدر باراک اوباما نے اسے دنیا کی سب سے خطرناک جگہ قرار دیا۔ پاکستان کے اندر دہشتگرد حملوں میں اضافے کے نتیجے میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت فاٹا میں اصلاحات اولین ترجیح بن گئیں۔ فوج نے اسی برس  فاٹا اور دیگر علاقوں کو مزاحمت کاروں اور دہشتگردوں سے پاک کرنے کیلئے آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا جب کہ حکومت نے ۲۰۱۵ میں فاٹا اصلاحات کے سلسلے میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جس نے پانچ برس کے عرصے میں فاٹا کے خیبر پختونخواہ کے ساتھ انضمام کی تجویز دی۔

فاٹا کی قومی دھارے میں شمولیت کو درپیش چیلنجز

انضمام کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ جلدبازی کا ہے: یہ انضمام فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی تجویز سے پانچ برس قبل ہوگیا ہے۔ یہ قبل از وقت پیش رفت— حکومت کے مختلف حصوں سے چند دنوں کے اندر اندر ملنے والی متفتہ منظوری— نئے قوانین کی مدد کیلئے درکار انتظامی اداروں کی تخلیق سے قبل ہی وجود میں آگئی۔  نتیجے میں، قبائلی علاقے قانونی خلاء میں داخل ہو چکے ہیں جہاں پر وہ جنہیں نئے نظام سے انصاف ملنے کی امید تھی، خود کو عالم برزخ میں معلق پاتے ہیں۔ انضمام کے بعد آنے والے مہینوں میں بمشکل ہی کوئی عدالت یا پولیس کا ادارہ قائم کیا گیا اور عدالتی مقدمے رل جانے کیلئے چھوڑ دیئے گئے۔ یہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر قانونی اور منصوبہ بندی کے ضمن میں صلاحیت کی تشویش ناک حد تک کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ حال ہی میں، قبائلی اضلاع سے متصل علاقوں میں فاٹا کے مقدموں سے نمٹنے کیلئے دیوانی عدالتیں قائم کی گئیں تھیں، تاہم اس علاقے میں باقاعدہ مصروف عمل عدالتوں کا قیام ابھی باقی ہے۔

قانونی عدالتوں کے نفاذ سے قبائلی اضلاع کے بعض آواز اٹھانے والے شہریوں کو تنقید کی دعوت بھی مل گئی ہے۔ اختلاف کی بڑی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ قانونی عدالتیں جرگہ کی اہمیت کو کم کردیں گی۔ پشتونوں کے مابین اختلافات اکثرجرگہ کے ذریعے ہی نمٹائے جاتے ہیں، جو کہ قبائلی سرداروں کی روایتی اسمبلی ہوتی ہے جہاں زمین کے تنازعوں اور گھریلو امور سے لے کے شدید نوعیت کے جرائم تک معاملات پر اتفاق رائے سے فیصلہ کیاجاتا ہے۔ یہ صدیوں سے فاٹا میں حصول انصاف کا کلیدی ذریعہ رہے ہیں اور خواتین کو ان کےح قوق سے محروم رکھنے کے باجود بھی یہ مضبوط مقامی ادارے بن چکے ہیں۔ جرگے کو لاحق خطرے کے دو پہلو ہیں: اول، فاٹا کی عوام کیلئے ثقافتی اور روایتی ہتک ، اور دوئم،  رہائشیوں کو اس پر رضامند کرنے کا مشکل کام کہ ریاست کا بیمار نظام انصاف ان کی قانونی ضروریات کیلئے زیادہ بہتر ہوگا۔ قومی اسمبلی کے سابق ممبر اور نمایاں پشتون سیاستدان حمید اللہ جان آفریدی نے مصنفین کو بتایا کہ ” فوری انصاف کے نظام ( جرگہ) کو ہٹایا جارہا ہے اور اس کے بجائے ہم کو ان عدالتوں کی جانب دھکیلا جارہا ہے جہاں مقدمے ۷۰-۸۰ برس سے التواء کا شکار ہورہے ہیں”۔ 

جرگے سستا اور فوری انصاف فراہم کرتے ہیں کیونکہ یہاں فیصلے دنوں کے اندر کئے جاتے ہیں اور غیر معمولی اخراجات کے بغیر غریبوں کی ان تک پہنچ ہے، باوجود یہ کہ تنازعے کے فریقین سے جرگہ اراکین کے مالی معاوضہ وصول کرنے کی اطلاعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ جرگے کے نظام سے دستبرداری سے جڑے مقامی خدشات اس بڑے ثقافتی ردعمل کا پتہ دیتے ہیں جو اس انضمام سے پیدا ہوا ہے۔

اصلاحات کے نفاذ کو درپیش ایک اور اہم چیلنج قبائلی کمیونٹی کے اندر سے ظاہر ہورہا ہے۔ بہت سے قبائلی عمائدین اس انضمام کے خلاف ہیں کیونکہ یہ اس سٹیٹس کو کیلئے خطرہ ہے جوجوابدہی سے عاری طاقت کی صورت میں انہیں فائدہ دے رہا تھا۔ مقامی سٹیٹس کو کی اس مخالفت سے محض وقت کے ساتھ ساتھ انضمام کے بعد ریاست کی جانب سے ٹھوس ترقی کے ذریعے ہی نمٹا جاسکتا ہے۔ ترقی کے بغیر، عام شہری اور اس جیسے قبائلی عمائدین انضمام کی موثریت کے حوالے سے قائل نہیں ہوسکتے ہیں۔

ابھرتی ہوئی مایوسی

 پاکستانی افواج کی جانب سے مبینہ ماورائے عدالت اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم) کے ابھرنے سے یہ بعد از انضمام کے معاملات ایک غیر یقینی دور میں داخل ہوگئے ہیں۔ پشتون کارکنوں اور فوج کے مابین حالیہ جھڑپیں جس کے نتیجے میں پشتون قانون سازوں ( ممبران قومی اسمبلی) کی گرفتاریاں ہوئیں، پہلے ہی قبائلی اضلاع کے رہائشیوں کو برہم کرچکی ہے۔ مزید براں، اصلاحات کی سست رفتاری کی وجہ سے بھی ان مایوسیوں کے خاتمے میں مدد نہیں مل سکی ہے۔

پی ٹی ایم کے مطالبات کے علاوہ، فاٹا کے چند متحرک شہریوں کی جانب سے علیحدہ صوبے کا مطالبہ بھی بعد از انضمام اٹھنے والی دھول کو بیٹھنے نہیں دے رہا۔ قبل ازیں اس ماہ، مقامی آبادی کی جانب سے ایک آئینی درخواست دی گئی جس میں انضمام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ حمید اللہ جان آفریدی بھی انضمام مخالف افراد اور گروہوں کو یکجا کررہے ہیں تاکہ سابق فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانے کیلئے باقاعدہ مطالبہ کیا جاسکے۔ انہوں نے مصنفین کو بتایا کہ ” میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ قبائلی علاقے کسی نہ کسی مرحلے پر اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہوں گے، اور یہ بغاوت کو تخلیق کرے گا کیونکہ وہ تکلیف میں ہیں، انکے مسائل ہیں اور وہ کسی مرحلے پر انتقامے کاروائی کریں گے”۔

 یہ پی ٹی ایم کی طرح انتہائی پوزیشن لے رہے ہیں، تاہم انکے انصاف اور احتساب کے مطالبے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جب تک بعد از انضمام  ترقیاتی کام معلق رہیں گے اور انصاف تاخیر کا شکار رہے گا، اس قسم کی تحاریک پاک فوج کے اختیاراور ان کی شرح قبولیت کیلئے مستقل خطرہ بنی رہیں گی۔ یہ تناؤ پہلے ہی تشدد پر منتج ہوچکا ہے اوراگر معاملات بدستور جاری رہے تو اس میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔ پی ٹی ایم کی مقبولیت اور انضمام کے حوالے سے جاری تنازعوں سے علیحدگی کی تحریک کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ قبائلی علاقوں کی پاکستان سے باقاعدہ رسمی علیحدگی بعید از قیاس محسوس ہوتی ہے، تاہم تحریک بذات خود اس جیسے ملتے جلتے مطالبات کی فہرست میں نیا اضافہ کردے گی جن سے ریاست کئی دہائیوں سے بلوچستان میں نمٹ رہی ہے۔

مستقبل کیلئے حکمت عملی

 اس امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ فاٹا میں ترقیاتی کام اس قدر بھاری ذمہ داری ہے کہ اس میں کئی برس لگ سکتے ہیں، ابھرتی ہوئی مایوسی کے آگے بند باندھنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ فاٹا کے عام شہری کی توقعات کو کسی طرح مینیج کیا جائے۔ انضمام کو فاٹا کے مسائل کے واحد حل کے طور پربڑھا چڑھا کے پیش کیا گیا تھا، جبکہ موجودہ وزیراعظم عمران خان سے لے کے خیبرپختونخواہ کے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک تک بیشتر سیاسی قائدین نے اسے سراہتے ہوئےپاکستان کے لئے بڑی فتح قرار دیا تھا۔ اب جب کہ جشن کے لمحات گزرچکے ہیں تو زمینی حقائق فاٹا کی عوام کی بڑی بڑی امیدوں پر پانی پھیر رہے ہیں۔

گزشتہ کچھ ماہ کے دوران حکومت نے خطے کی تعمیر کے سلسلے میں متعدد اقدامات بشمول لوکل باڈی الیکشن کا اعلان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت اور قبائلی اضلاع کیلئے ججز کی تعیناتی اٹھائے ہیں۔ یہ اقدامات اگرچہ قابل تعریف ہیں، تاہم انہیں فاٹا کے رہائشیوں کی نظروں کے سامنے ابھی حقیقت کا روپ دھارنا ہے۔ انضمام پر جلدبازی میں عملدرآمد نے توقعات اور حقیقت کے درمیان فرق پیدا کیا ہے۔ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے دو قانون سازوں کی گرفتاری— دونوں پی ٹی ایم سے وابستہ— کے معاملے پر وزیراعظم کی خاموشی اور قبائلی اضلاع کے انتخابات میں سرکارکی جانب سے تاخیرکےاعلان نے مقامی آبادی اور حکومت کے درمیان فاصلوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔

آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کو تیزی سے قائم کیا جائے جیسا کہ  مقامی آبادی کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور انصاف تک رسائی ممکن بنانے کیلئے متحرک قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدلیہ۔ اسی کے ساتھ ساتھ، عوام میں جرگے سے وابستہ ثقافتی و تاریخی  لگاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے جرگہ کے نظام کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ جرگے، جیسا کہ سرکاری فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی جانب سے تجویز کیا گیا،  فوجداری اور دیوانی مقدمات میں ایک “جیوری نظام” کے طور پر خدمات فراہم کرسکتے ہیں۔

تاہم ان اقدامات کیلئے معاشی ذرائع کی ضرورت ہے جو کہ انضمام کے اعلان کے بعد سامنے آنے والی ایک اور رکاوٹ ہے۔ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ نئے وجود میں آنے والے قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ریونیو میں سے خصوصی طور تین فیصد مہیا کیا جائے گا۔ ایک برس بعد بھی پہلے سے ہی کمزور معیشت سے ایسی کسی بھی امداد کے حصول کیلئے جدوجہد جاری ہے۔  اپریل ۲۰۱۹ میں معیشت کے بارے میں ایک اجلاس میں حکومت نے دیگر صوبوں سے درخواست کی تھی کہ قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے رقوم فراہم کی جائیں، تاہم اس پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا تھا۔ جون ۲۰۱۹ میں، بالآخر انضمام شدہ علاقوں کیلئے ایک بلین امریکی ڈالر منظور کئے گئے تھے تاہم آیا یہ فنڈز کسی التواء کے بغیر جاری کردیئے جائیں گے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

انضمام سے شائد زیادہ تر فاٹا کو امید کی ایک کرن ملی ہو تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ کئی دہائیوں تک کٹے رہنے اور ترقیاتی کاموں میں کمی کو دور کرنے کیلئے ابتدائی کام ہونے تک، قبائلی عوام کی زندگیاں بدستور برزخ میں رہیں گی اور ان کی مایوسی بڑھتی رہے گی جو کہ ممکنہ طور پر ”پشتون بہار،“جسے فاٹا کے متحرک نوجوان کے سبب نئی توانائی ملی ہے، کیلئے ایندھن فراہم کرنے کا ذریعہ بنی رہ سکتی ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: FATA Committee via Flickr

Image 2: Asif Hassan via Getty Images

Posted in , Development, Economics, FATA, Pakistan, Policy, Security, Terrorism

Wajeeha Malik

Wajeeha Malik

Wajeeha Malik is a journalist and strategic communications consultant based in Islamabad, Pakistan. After graduating from Northwestern University’s Medill School of Journalism, she has reported on a variety of issues in the Middle East, the US and Pakistan, ranging from educational woes in Chicago’s low-income areas to migrant worker rights to whale sharks in the Arabian Gulf. Her work has been published in several magazines and newspapers, including National Geographic. Her interests include environmental activism, gender studies, and historical research.

Read more

Shakeeb Asrar

Shakeeb Asrar

Shakeeb Asrar is a Pakistani journalist specializing in interactive journalism and long-form storytelling. He has previously worked for Al Jazeera English and USA Today, and is currently working as a content creator in Doha, Qatar. He was also recipient of the Pulitzer Center reporting fellowship, through which he created a documentary on Pakistan’s death penalty laws. The project won a Mark of Excellence Award from the Society of Professional Journalists and was a finalist for SAJA Journalism Awards. Shakeeb majored in journalism from Northwestern University, with a minor in Media and Politics and Civic Engagement. His interests include covering stories on human rights and sociocultural issues in South Asia.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *