,

فوری تبصرہ: پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ میں برقرار

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ۲۱ سے ۲۳ اکتوبر تک جاری رہنے والے کل رکنی ورچوئل اجلاس کے موقع پر معاشی امور کے نگران ادارے نے پاکستان کو ”گرے لسٹ“ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا- پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کیخلاف ۲۷ نکاتی ایکشن پلان  میں سے ۲۱ پر کامیابی سے عمل درآمد کیا تھا۔ ٹاسک فورس نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ فروری ۲۰۲۱ تک باقی ماندہ نکات پر عمل درآمد کرے۔ یہ باقی ماندہ چھ نکات ”جزوی عمل درآمد شدہ امور“ کے درجے میں آتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب پاکستان کو بین الاقوامی نگران ادارے کی جانب سے گرے لسٹ میں شامل کیا گیا- پاکستان ۲۰۱۵ میں گرے لسٹ سے سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب ہوا تاہم دہشتگردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ سے نمٹنے  کیلئے اقدامات کے نفاذ میں درپیش ادارہ جاتی خامیوں کے باعث جون ۲۰۱۸ میں فیٹف نے اسے ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کردیا تھا۔

فیٹف نے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں پاکستان اپنی تزویراتی خامیوں پر قابو پاسکتا ہے- پاکستان کو قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں (ایل ای ایز) کی مدد سے ایسے افراد کو شناخت کرنے اور تحقیقات کی ضرورت ہے جو دہشتگردی کی مالی معاونت میں ملوث ہیں؛ اس امر کو یقینی بنائے کہ دہشتگردی کی مالی معاونت کیخلاف مقدمامات کا نتیجہ پابندیوں کی صورت میں ہو؛ معاشی پابندیوں پر موثر انداز میں عمل درآمد ہو؛ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر ۱۲۶۷ اور ۱۳۷۳ کے تحت دہشتگرد قرار دیئے گئے افراد اور ان کے نام پر کام کرنے والے افراد  کے اثاثے منجمد اور رقوم کی ناجائز ترسیل پر سختی سے قابو پائے؛ نیز صوبوں اور وفاقی حکومتوں کے مابین دہشتگردی کی مالی معاونت پر پابندی کی خلاف ورزی کیخلاف اقدامات کے نفاذ کیلئے تعاون کو بہتر بنائے۔

گزشتہ برس اکتوبر ۲۰۱۹ میں پاکستان اس وقت بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بال بال بچا تھا جب فیٹف نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کو رقوم کے ناجائز انتقال پر کڑی نگاہ رکھنے اور دہشت گرد قرار دیئے گئے افراد کیخلاف معاشی پابندیاں نافذ کرنے اور دہشتگردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کیلئے وفاقی اور صوبائی سطح پر تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں ستمبر ۲۰۲۰ میں ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی پہلی فالو اپ رپورٹ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ پاکستان نے تکنیکی عمل درآمد کے ضمن میں ان خامیوں سے نمٹنے میں کچھ پیش رفت کی ہے جن کی ابتداً اکتوبر ۲۰۱۹ میں نشاندہی کی گئی تھی۔

 ۲۰۱۸ سے پاکستان نے غیرقانونی دولت یا ویلیو ٹرانسفر سروسز (ایم وی ٹی ایس) کی شناخت اور ان کے خلاف کاروائی، قانون سازی، اور اینٹی منی لانڈرنگ/ دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام (اے ایم ایل/ سی ایف ٹی) کے خلاف پابندیوں کے نفاذ، نقدی کے سرحد پار تبادلے  پر قابو پانے  اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے مقدمات میں بین الاقوامی معاونت میں مسلسل اضافہ ظاہر کیا ہے۔ اس برس کے اوائل میں پاکستان نے ۸۸ ممنوعہ تنظیموں اور ان کے رہنمائوں کیخلاف پابندیاں عائد کی تھیں۔ ستمبر ۲۰۲۰ میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے تحفظات کے باوجود فیٹف مطالبات پر عمل درآمد کے سلسلے میں ۳ بلوں کی منظوری دی؛ ان میں اینٹی منی لانڈرنگ (دوسری ترمیم) بل، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) وقف املاک بل، اور اینٹی ٹیررازم ایکٹ (ترمیم) بل ۲۰۲۰ شامل ہیں۔ پاکستانی حکام بے حد پرامید تھے کہ دہشتگردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے حکومتی کوششیں ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے کافی ہوں گی۔ تاہم اس برس گرے لسٹ میں برقرار رہنے کے باوجود حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ فیٹف اجلاس کا حالیہ فیصلہ ”سفارتی فتح“ ہے اور وہ باقی ماندہ نکات کی فروری ۲۰۲۱ تک تکمیل کے حوالے سے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔

کرونا وبا کی جاری لہر کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو باقی ماندہ چھ نکات پر مکمل عمل درآمد کیلئے چار ماہ کی حتمی مہلت دی گئی ہے۔ وبا نے فیٹف تجاویز پرعمل درآمد میں پاکستان کی پیش رفت کو متاثر کیا تھا کیونکہ زیادہ تر ملکی مشینری لاک ڈائون کی وجہ سے جامد تھی اور زیادہ تر وسائل وبا سے نمٹنے کیلئے مختص کرنا پڑے تھے۔ اس قدر مختصر مدت میں باقی ماندہ نکات پر عمل درآمد کرنا ایک امتحان ثابت ہوسکتا ہے خاص کر ایسے میں کہ جب معاملہ دہشتگردی کی مالی معاونت جیسی سرگرمیوں کی شناخت اور تحقیقات کا ہو جس کیلئے تربیت یافتہ اور ماہر افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملک کی گرے لسٹ میں شمولیت اس کی معاشی سرگرمیوں، ترسیلات زر کے بہاؤ، اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر منفی طور پر اثرانداز ہوئی ہے۔ ایسے وقت میں کہ جب پاکستان آئی ایم ایف کے کڑے اقدامات اور عالمی وبا کی وجہ سے معاشی کسادبازاری کا شکار ہے، اگر وہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہتا ہے تو اسے فیٹف کی گرے لسٹ سے باہر نکلنا ہوگا۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Guilhem Vellut via Flickr

Image 2: Abdul Majeed/AFP via Getty Images

Posted in , , Economics, FATF, Pakistan

Shahroo Malik

Shahroo Malik is currently working as a Research Associate at Institute of Strategic Studies Islamabad (ISSI). She’s a GDI Development Leadership Scholar and holds degrees in MSc International Development from University of Manchester, UK (2016) and BS (Hons) Economics from NUST, Islamabad (2014). Her research interests include Indo-Pak relations and South Asia’s economic and development issues.

Read more


Continue Reading

کیا مقصد حاصل ہوگیا؟ افغانستان میں امریکی مفادات اور مستقبل میں درپیش آزمائشوں میں توازن کی کوشش

افغانستان میں اگر حالات انتہائی سازگار ہوں تو بھی اگلے پانچ برس اس کیلئے مشکل ہوں گے۔ اگرغنی حکومت اورطالبان کے مابین پر امن طور […]

September 5, 2020 - Views 0

Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *