Nuclear_power_plant_Isar_at_night-1095×616

پاکستان اپریل میں آنے والی گرمی کی اس ریکارڈ توڑ لہر کے اثرات سے ابھی تک چکرا رہا ہے جو بجلی و پانی کی کمی، فصلوں کی تباہی اور جانی نقصان کا سبب بنی تھی۔ ریکارڈ درجہ حرارت، ماحولیاتی تبدیلیوں کے برصغیر پر ہونے والے بدترین اثرات کا ایک اور ثبوت ہیں اور آنے والے برسوں میں ماحولیاتی اسباب کی وجہ سے آنے والی آفات میں اضافے سے پیشگی خبردار کرتے ہیں۔ پاکستان ۲۰۰۰- ۲۰۱۹ کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر رہا ہے نیز امکان ہے کہ جنوبی ایشیا کے زیادہ تر حصے عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کی غیر متناسب مقدار میں قیمت ادا کریں گے۔ تاہم جوہری توانائی کی جانب منتقلی پاکستان کے ماحولیاتی مسائل کا جواب دینے میں مدد دے سکتی ہے۔

اگرچہ پاکستان سے فضا میں خارج ہونے والی کاربن گیسوں کی مقدار ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں کہیں کم ہے تاہم عالمی گرین ہاؤس گیس (جی ایچ جی) کے اخراج کے پاکستان پر ہونے والے اثرات تباہ کن ہیں۔ ملک اپنی توانائی کی پیداوار کو طویل مدت کے لیے زیادہ مفید بنانے کی خاطر تبدیلیاں اختیار کر سکتا ہے۔ فی الوقت پاکستان کی تقریباً ۶۰ فیصد بجلی ناپائیدار حرارتی (تھرمل) ذرائع سے آتی ہے جو جی ایچ جی کا سبب بنتی ہے۔ پاکستان کو ماحول دوست ذرائع توانائی کی جانب رخ موڑنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے اور جوہری توانائی اس ضمن میں ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ ملکی ضروریات کے لیے درکار کل توانائی میں (زہریلی گیسوں کے اخراج سے پاک) جوہری توانائی کا حصہ بڑھانے کے ذریعے پاکستان کو ایک ماحول دوست اور تمام طبقات کی پہنچ میں ہونے والی توانائی کی پیداوار حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ آنے والے وقتوں میں پاکستان کو اپنی توانائی کی پیداوار میں جوہری توانائی کے حصے کو بڑھانے کی راہیں تلاش کرنی چاہیئں تاکہ خود کو درپیش ماحولیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات میں کمی لائی جاسکے۔

جوہری توانائی کی جانب ایک قدم 

پاکستان کا شعبہ توانائی بڑی حد تک حیاتیاتی توانائی (فوسل فیولز) پر انحصار کرتا ہے اور اس سے ہونے والا اخراج تیل، گیس اور کوئلے کے استعمال نیز سنگین ہوتے ماحولیاتی بحران کی مناسبت سے بڑھ رہا ہے۔ 

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ توانائی فراہم کرنے والے نظام کی مہارت کو بھی محدود کرتا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ پانی اور ہوا کو ٹھنڈا کرنے والے آلہ جات کے استعمال میں اضافے کی وجہ سے توانائی کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں توانائی کی ضروریات ۴۰ ملین ٹن تیل کے برابر (ایم ٹی او ای) سے بڑھ کے ۸۴ ایم ٹی او ای ہو چکی ہیں۔ لہذا توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے نہ صرف ایک ماحول دوست ذریعے کی بلکہ ایک موثر ذریعہ توانائی کی بھی ضرورت ہو گی۔

جوہری توانائی پاکستان سے ہونے والے اخراج میں کمی کے لیے ایک راستہ دکھاتی ہے۔ یہ وہ موثر ذریعہ ہے جو ہوا اور شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی کے برعکس بلاتعطل بڑے پیمانے پر بجلی فراہم کرتا ہے۔ جوہری توانائی سال کے ۹۰ فیصد وقت میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کے مقابلے میں ہوا اور شمسی توانائی محض ۲۵ – ۴۰ فیصد وقت بجلی پیدا کرتے ہیں۔ مزید براں درکار سامان کے ضمن میں جوہری توانائی کے لیے درکار لوازمات فی الحال دیگر زرائع کی نسبت کہیں زیادہ کم ہوتے ہیں۔ اس کے لیے یورینیئم کی معمولی مقدار درکار ہوتی ہے کیونکہ جوہری انشقاق قدرتی ایندھن کے مقابلے میں ۸۰۰۰ گنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔

فی الوقت پاکستان میں دستیاب کل توانائی میں جوہری توانائی کا حصہ (کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ (این پی پی)، کینپ یونٹ ۳ کے اضافے کے بعد) ۹.۱ فیصد ہے، جبکہ فرانس جیسے ممالک میں ۷۰ فیصد بجلی کم اخراج کے حامل ذرائع سے پیدا کی جاتی ہے۔ جہاں جوہری توانائی کو اکثر اس کی تعمیری لاگت کے سبب تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہیں ۲۰۱۸ میں امریکہ میں توانائی کی پیداوار کے جائزہ پر ایم آئی ٹی میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ اگر این پی پیز سے توانائی کی دستیابی کے عنصر کو سامنے رکھا جائے تو یہ ہوا اور شمسی توانائی جو کہ ہر وقت بجلی نہیں بناتی ہیں ان کے مقابلے میں زیادہ سستی ثابت ہوتی ہے؛ بالخصوص اس وقت جب اسے دوبارہ قابل استعمال دیگر ذرائع کے ساتھ شامل کر لیا جائے۔ علاوہ ازیں، جوہری توانائی پر منتقلی کا مطلب دوبارہ ناقابل استعمال توانائی کو یکسر ترک کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ چھوٹے پیمانے کے این پی پیز کو اس کا متبادل بنانا وہ قابل عمل راستہ ہے جو مستقبل میں پاکستان کے توانائی کے نظام کو پہنچنے والی کسی دھچکے سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

جوہری توانائی سے جڑی مشکلات

تاہم ایسے بہت سے عوامل ہیں جو جوہری توانائی کی جانب منتقلی کی راہ میں آزمائش ہیں۔ وہ پالیسیاں جنہیں عالمی سطح پر متعصبانہ سمجھا جاتا ہے، ان کی وجہ سے پاکستان مایوسی کا شکار بھی ہوا ہے خاص کر اس وقت جب نیوکلیئر سپلائیر گروپ (این ایس جی) نے بھارت کو جوہری عدم پھیلاؤ (این پی ٹی) کے معاہدے کے دستخط کنندہ نہ ہونے کے باوجود بھی خصوصی رعایت دی اور پاکستان کو نہ دی۔ اس کے علاوہ بھارت جوہری سلامتی کے ضمن میں متعدد کوتاہیاں کر چکا ہے۔ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں یا انشقاقی مواد کی چوری کا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے اور ملک چوری یا حادثات کے خلاف تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے قابل ذکر اقدامات اٹھا چکا ہے۔ درحقیقت یہ نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹوز کے وضع کردہ سلامتی و کنٹرول کے اعشاریوں میں بھارت کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی اے کیو خان کے عمل کو جوہری پھیلاؤ سے منسلک کرنا بھی نا انصافی پر مبنی اور گمراہ کن ہے کیونکہ برائے نام “خان نیٹ ورک” بین الاقوامی نوعیت کا اور روایتی درجہ بندی سے ہٹ کے تھا جس کے کارندے مختلف براعظموں اور نجی صنعتوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ مزید براں عالمی جوہری سلامتی اور پاکستان کے اندر جوہری سلامتی سے متعلقہ امور پر اٹھائے گئے اقدامات میں بہتری آئی ہے جیسا کہ برآمدات پر قابو پانا۔

عالمی سطح پر درپیش چیلنجز کے علاوہ، ایک اور اہم چیلنج این پی پیز کی تعمیر پر اٹھنے والی لاگت کے بارے میں وسیع پیمانے پر پائی جانے والی غلط فہمیاں ہیں حالانکہ مطالعہ جات سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ تھرمل پلانٹس کے مقابلے میں قیمتاً کم ہے۔ دنیا بھر میں کیے گئے مطالعہ جات کا بڑا حصہ جو یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ جوہری طاقت تھرمل کے مقابلے میں مہنگی ہوتی ہے، ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو مدنظر نہیں رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ تھرمل پاور پلانٹس جیسا کہ کوئلے اور قدرتی گیس سے چلنے والے غیردانستہ طور پر سستے متبادل کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں جو پالیسی سازوں کی ایک فاش غلطی ہے۔ ایک اور چیلنج یہ ہے کہ پاکستان محدود سرمائے کا حامل ایک ترقی پذیر ملک ہے، لہذا اسے این پی پیز میں سرمایہ کاری کے لیے چین جیسی شراکت دار ریاستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جیسا کہ کینپ -۳ کے معاملے میں ہوا۔

 پاکستان میں بجلی کے شعبے میں جوہری توانائی کے کردار میں وسعت

یہ آزمائشیں اگرچہ پیچھے دھکیلنے کے لیے کافی ہیں تاہم پاکستان ان سے نمٹنے کے لیے ذرائع اور عزم رکھتا ہے۔ جوہری سلامتی انڈیکس (این ٹی آئی) پر جوہری مواد کی حفاظت کے اعتبار سے پاکستان کی حیثیت میں ۲۵ پوائنٹس کی بہتری آئی ہے جو گزشتہ برس کے دوران دیگر تمام ممالک سے زیادہ تھی نیز انڈیکس کے قیام کے وقت سے بھی یہ کسی بھی ملک کی کارکردگی میں سب سے زیادہ ہونے والی بہتری تھی۔ مزید براں، پاکستان اپنے تمام تحقیقی اور پاور ری ایکٹرز انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے حفاظتی اقدامات کے تحت لا چکا ہے جبکہ بھارت نے ایسا نہیں کیا ہے۔ ایسی خبریں بھی موجود ہیں کہ جن کی رو سے جوہری فیول کمپلیکس کی تعمیر کے لیے کوششیں جاری ہیں جو عسکری و سول فیول سائیکل کو علیحدہ کرنے میں مدد دے گا۔ بین الاقوامی تعاون کے ضمن میں یہ پاکستان پر بارہا اٹھنے والا اعتراض ہے۔ چونکہ پاکستان جوہری توانائی کے میدان میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھنے کے لیے سنجیدگی سے عزم کرچکا ہے، ایسے میں وہ اس عزم کی مزید تشہیر کر سکتا ہے اور یہ یقینی بنا سکتا ہے کہ اخراجات سے متعلقہ مسائل اس کی تعمیر میں رکاوٹ نہ بنیں نیز رکاوٹوں کو مزید دور کرنے کے لیے این پی پیز کی تعمیر اور ان کی مرمت کے لیے سستے طریقے تلاش کر سکتا ہے۔

سب سے پہلے تو پاکستان لائی گئی تبدیلیوں کو نمایاں کرنے کے لیے بین الاقوامی فورمز کا بھرپور استعمال کر سکتا ہے۔ اندرونی خطرات کی روک تھام کے لیے اقدامات میں مزید سختی متعارف کروانے نیز بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سلامتی کی صورتحال کے جائزے کی حمایت کے ذریعے بین الاقوامی درجہ بندیوں جیسا کہ این ٹی آئی اسکورز میں بہتری کو لازماً جاری رہنا چاہیئے۔ مزید براں پاکستان فوکوشیما دائیچی حادثے کے بعد جوہری تحفظ کے ضمن میں اٹھائی گئی اپنی پیش قدمیوں پر روشنی ڈال سکتا ہے۔ ان میں این پی پیز پر زلزلے کے خطرات کا دوبارہ تخمینہ، آگ لگنے کی صورت میں فائر برگیڈز کی کارکردگی میں بہتری، ہنگامی صورتحال میں ٹھنڈا کرنے کے لیے مشینری کی تنصیب، ہنگامی صورتحال کی تیاری، ردعمل کی مشقیں اور مزید کئی اقدامات شامل ہیں۔

اسی اثناء میں پاکستان کو سرمایہ کاری کی عدم دستیابی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دینی چاہیئے جو پاکستان میں جوہری توانائی کے پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔ ایک طریقہ کہ جس سے پاکستان اخراجات سے متعلقہ مسائل سے نمٹ سکتا ہے، وہ این پی پیز کی لاگت پر بیرون ملک کی گئی تحقیقات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی دیکھ بھال اور تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی لانا ہے۔ ایک آزاد اور مرکزی نوعیت کی وزارت توانائی کے ذریعے سے انرجی مکس پالسیوں اور فنڈز کی تقسیم جیسے امور پر توانائی کے شعبوں کے درمیان ہونے والے اختلافات سے نمٹنے کی ضرورت ہو گی۔

پاکستان میں کرک شہر میں یورینیئم کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک موجود ہے جو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اس طرح کے مقامی ذخائر، ری ایکٹر فیول کے لیے دوسری ریاستوں پر انحصار میں کمی لائیں گے جیسا کہ روایتی ایندھن کے استعمال کی صورت میں ہوتا ہے۔ لہذا وہ مقامات جہاں یورنیئم کے ذخائر وسیع مقدار میں موجود ہیں، وہاں یورنیئم کے کارخانے قائم کرتے ہوئے پاکستان کو جوہری توانائی سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

جوہری توانائی کا وقت اب ہی کیوں ہے

گلوبل وارمنگ پاکستان کو یہ احساس دلانے کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے جی ایچ جی سے نمٹنے کے لیے صرف ہونے والی توانائی میں جوہری توانائی کے حصے کو بڑھانے کے لیے کوششوں کو تیز کرے۔ ایک این پی پی کی تیاری کے لیے کم از کم سات برس کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور اسی لیے اگر پاکستان ۲۰۵۰ تک کاربن نیوٹریلٹی (کاربن کے اخراج و جذب کرنے کی یکساں مقدار) حاصل کرنا چاہتا ہے تو ان کی تعمیر کے لیے عنقریب پھرتی دکھانا اہم ہوگا۔ تمام تر آزمائشوں کے باوجود انرجی سیکیورٹی پلان کے مطابق پاکستان نے منصوبہ بنایا ہے کہ ۲۰۵۰ تک وہ جوہری توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار ۴۰ ہزار میگا واٹ تک بڑھائے گا جو کہ درست سمت میں اٹھایا جانے والا قدم ہے۔

جوہری توانائی اخراج میں کمی اور اس کے نتیجے میں ماحول میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز میں کمی کو یقینی بناتی ہے۔ جس کے نتیجے میں توانائی کی طلب میں بھی کمی آئے گی جو قیمتوں میں کمی لائے گی۔ صاف ستھری توانائی کا استعمال اور اس کی قیمتوں میں تسلسل عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنائے گا۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے کہ جب ایک مرکزی نوعیت کی وزارت توانائی بیک وقت ۲۰۵۰ تک کاربن نیوٹریلٹی کے ہدف کو پانے کے لیے کام کرے۔ البتہ یہاں یہ تذکرہ لازم ہے کہ اگر کاربن اخراج کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار ریاستوں کی جانب سے متحدہ ردعمل دیکھنے میں نہ آیا تو ایسے میں پاکستان کی جانب سے کاربن اخراج میں کمی بے معنی ہے۔ اس شعبے میں پاکستان کی کوششیں، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی پیش رفت کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتی ہیں اور دنیا کو آنے والی ماحولیاتی تباہی سے لڑنے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Bjoern Schwartz via Flickr

Image 2: AAMIR QURESHI/AFP via Getty Images

Share this:  

Related articles

افغانستان میں ہندوستان کی عملیت پسندی کیوں کام کر سکتی ہے؟ Hindi & Urdu

افغانستان میں ہندوستان کی عملیت پسندی کیوں کام کر سکتی ہے؟

 اگست ۲۰۲۲ میں، ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر…

طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد: علاقائی خطرات و اثرات Hindi & Urdu

طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد: علاقائی خطرات و اثرات

ایک برس پہلے، ۱۵ اگست ۲۰۲۱ کو طالبان نے کابل…

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین Hindi & Urdu

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں شناخت کا تعین

 پاکستان کی قومی شناخت آزادی کے وقت سے ہی اسرار…