Lahore Elections

پاکستان کی انتحابی و سیاسی تاریخ میں پنجاب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پنجاب میں اکثریت حا صل کرنے والی سیاسی جماعت ہی مرکز میں حکومت بناتی ہے۔ لاہو ر پنجاب کا سیاسی و ثقافتی مرکز ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن تحاریک کا نقط آغاز لاہو ر تھا وہ پورے ملک میں پھیلی۔ نہ صرف پھیلی بلکہ کامیاب بھی ہوئی۔ لاہو ر ایک بار پھر نیشنل اسمبلی کی حلقہ۰ ۲ ۱ء کی نشست خالی ہونے سے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ حلقہ۰ ۲ ۱ء کی نشست عدالت عظمی کی طرف سے میاں محمد نواز شریف کی پانامہ کے مقد مہ میں نااہل کیے جانے کے بعد خالی ہوئی ہے۔ حلقہ۰ ۲ ۱ء روایتی طور پر میاں محمد نواز شریف کا سیاسی گڑھ ہے اور یہاں مسلم لیگ کو شکست دینا انتہائی مشکل ہے۔ مگرپانامہ کے مقد مہ کے دوران حریف جماعتوں کی طرف سے جس انداز میں تحریک چلائی گی اس کے بعد اور بلخصوص ۲۰۱۳ کے انتخابات میں تحریک انصاف کی نمائندہ یاسمین راشد اور میاں محمد نواز شریف کے سخت مقابلے کے تناظر میں اس بات کی امید کی جارہی ہے کہ کوئی غیر معمولی نتیجہ آ سکتا ہے۔

حلقہ۰ ۲ ۱ء کی آبادی تقریبا ۴۵۶۹۶۰ نفوس پہ مشتمل ہے ۔ اس حلقے میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت مڈ ل کلاس سے تعلق رکھتی ہے جن کی اکثریت ملازمت پیشہ یا اوسط درجے کے کاروبار سے وابسطہ ہیں۔ اس حلقے کے انتخابی نتیجے سے پاکستان کے سیاسی پس منظر میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہو گی مگر اس کے نتائج جو بھی ہوں ا س کے سیاسی اثرات بہت دور رس ہو گے ۔ حلقہ۰ ۲ ۱ء کے ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پہ ۴۴ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ جن میں سے ۱۱ امیدواروں کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے اور بقیہ امیدوار آزاد حثیت سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں قابل ذکر امیدوار مسلم لیگ ن کی بیگم کلثوم نواز، پاکستان تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے فیصل میر ہیں۔

یہ انتخابی معرکہ بظاہر بیگم کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے مابین ہے جبکہ درحقیقت یہ مقابلہ مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کے درمیان ہے۔

ممکنہ انتخابی نتائج اور مستقبل کا سیاسی منظر نامہ

میاں محمد نواز شریف نے نااہلی کے بعد اسلام آباد سے لاہور تک کے جی ٹی روڈ سفر میں اپنی نااہلی کے فیصلے پر بیانیہ اختیار کیا جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ عوام کی اکثریت کو یہ فیصلہ منظور نہیں۔ اور اگر مسلم لیگ ن یہ انتخاب واضح اکثریت سے جیت جاتی ہے تو وہ اس جیت کو اپنے بیانیہ کی توثیق کے طور پر پیش کریں گے۔ بلکہ جنرل انتخابات میں بھی اس کو استعمال کرے گی۔ اس جیت سے دوبارہ پارٹی میں جان پیدا ہو گی۔ چونکہ مریم نواز اس حلقے کی انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور اس حلقے کی جیت یا ہار مستقبل کے سیاسی پسمنظر میں ان کے کردار کا تعین کری گی۔

دوسری طرف اگر پاکستان تحریک انصاف یہ انتخاب جیت جاتی ہے تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ گزشتہ تین انتخابات کے نتائج کو مدنظر رکھیں تو اس حلقے سے ن لیگ کو ہرانا آسان نہیں ۔

 

[table id=1 /]

 

مگر پچھلے دو سالوں میں پاکستان تحریک انصاف نے کرپشن کے خلاف مہم چلائی اور بلخصوص نوازشریف فیملی کو ہدف تنقید بنائے رکھا، دیکھنا یہ ہے کہ اس مہم سے وہ عوام کی رائے پر کس حد تک اثزانداز ہونے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کامیابی کے اثرات آنے والے جنرل انتخابات پر بھی ہوں گے۔ اس انتخاب  یہ بات عیاں ہو گی کہ کتنے فیصد ووٹر کس پارٹی کو ووٹ ڈالتے ہیں۔ اور ن لیگ کے ووٹر کے تناسب میں کمی آئی ہے یا ان کا ووٹ بینک اپنی جگہ قائم ہے۔ جہاں تک الیکشن کی شفافیت کا تعلق ہے متحرک الیکٹرونک میڈیا کی موجودگی میں دھاندلی کے امکانات بہت معدوم ہیں۔ انتظار اس بات کا ہے کہ لاہور کے عوام کس کے حق میں فیصلہ کرتے ہیں۔

***

Image: Damon Wake via Flickr

Share this:  

Related articles

بھارت میں ۲۰۲۱ کا جائزہ: اختلاف رائے کو دبانے کا ایک اور سال Hindi & Urdu

بھارت میں ۲۰۲۱ کا جائزہ: اختلاف رائے کو دبانے کا ایک اور سال

۲۰۲۱ کے سیاسی منظرنامے پر بھارت ایک بار پھر وہیں…

جنوبی ایشیا میں سائبر سیکیورٹی کے لیے دوطرفہ لائحہ عمل کی تشکیل Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا میں سائبر سیکیورٹی کے لیے دوطرفہ لائحہ عمل کی تشکیل

۲۰۱۹ میں کونڈکلم میں واقع بھارت کے سب سے بڑے…

کیا بھارت جوہری میدان میں بڑھتے سائبر سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے؟ Hindi & Urdu

کیا بھارت جوہری میدان میں بڑھتے سائبر سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے؟

دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی ڈھانچہ زیادہ پیچیدہ ہوتا جا…