پاکستان اورامریکہ کے تعلقات میں سرد مہری؟ افغانستان سےامریکی انخلاء کے اثرات

امریکہ اور افغان طالبان امریکی طویل ترین جنگ کو ختم کرنے کے لئے ایک معاہدے  کو شکل دینے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکہ اور افغان  طالبان نے کئی ہفتوں پر پھیلے مذاکراتی عمل  کے بعد اس معاملے میں پیشرفت کا اعلان کیا ہے، جو افغانستان میں امن اور استحکام بحال کرنے کے لئے دونوں فریقین کی طرف سے سنجیدہ کوششوں کی علامت ہے۔ اگرچہ اب بھی بہت سے مسائل پر کام کرنا باقی ہے، بشمول امریکی افواج کے انخلاء کا طریقہ کار، طالبان کا افغان حکومت سے مذاکرات سے انکار، تاہم افغانستان سے واشنگٹن کا انخلاء اب یقینی ہو گیا ہے۔

ان حالات میں خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ واشنگٹن کے موجودہ تعلقات اور روابط، جس میں پاکستان بھی شامل ہے، اہم اور نمایاں تبدیلیاں آنے کا امکان ہے۔ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلاء، جو ۲۰۲۰ کے امریکی صدارتی انتحابات سے پہلے انجام پا سکتا ہے، پاکستان اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات میں الجھاؤ پیدا کر سکتا ہے، جس کے اثرات طویل عرصہ تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

“پاکستان اور  امریکہ کے باہمی تعاون کا انداز: ”آج ہے، کل نہیں

کئی دانشوروں کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات ”آج ہے، کل نہیں“ کے مختلف ادوار سے گزرتے رہے ہیں، تاریخی اعتبار سے اسلام آباد امریکہ سے فوجی اور سفارتی امداد حاصل کرنے کا خواہشمند رہا ہے اور امریکہ سے ایسے تعلقات قائم رکھے ہیں کہ اس کی واشنگٹن کے ایک اتحادی کی حیثیت مضبوطی سے برقرار  رہے۔ مجموعی طور پر اسلام آباد نے یہ پالیسی بھارت کی طرف سے لاحق سیکورٹی خطرات کے پیش نظر  اپنائی ہے۔ تاہم پاکستان نے کئی اہم موقعوں پر امریکہ کیساتھ سیکورٹی شراکت داری میں حصہ لیا ہے لیکن اس نے کبھی بھی اپنے بنیادی سیکورٹی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جیسا کہ اس کا جوہری پروگرام یا پھر اس کی متنازعہ سیکورٹی پالیسی جس کی وجہ سے کئی مرتبہ علاقائی ماحول عدم استحکام کا شکار ہوا۔

محقق کنشک ستھاسیوم کے مطابق “امریکہ کے ساتھ تعاون کے پاکستان کے مختلف ادوار کی بنیادی وجہ ایک ایسے اہم بین الاقوامی واقعہ کا ظہور پذیر ہونا ھے جو امریکی خارجہ پالیسی کو ہلا کر رکھ دے اور امریکہ کو پاکستان کو اپنا اتحادی بنانے پر مجبور کر دے”۔ تاہم جب اس قسم کا بحران تھم جاتا ہے تو پھر امریکہ  پاکستان کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کی دہائیوں میں افغانستان میں سویت یونین کے سیاسی اور عسکری یلغار نے اسلام آباد اور واشنگٹن کو باھمی تعاون کا ایک موقع فراہم کیا تاکہ باہمی خطرات کے پیش نظر سویت پھیلاؤ کا راستہ روکا جاسکے۔ تاہم ۱۹۸۰ کی دھائی کے اواخر میں جب افغانستان میں سویت یونین سے لاحق خطرات ختم ہوئے تو امریکہ کیلئے ایک اتحادی کی حیثیت سے پاکستان کی افادیت بھی ختم ہوگئی۔ اور اس طرح واشنگٹن نے پاکستان سے دوری اختیار کر لی جس کی وجہ سے پاکستان میں امریکی دھوکہ دہی کے ایک احساس نے جنم لیا۔

آج ہم ایک ملتاجلتا منظر نامہ دیکھ رہے ہیں۔ ۱۱ستمبرکےحملوں کے بعد پاکستان کو ایک مرتبہ پھر واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہونا پڑا۔ نتیجتاً پاکستان افغانستان میں امریکہ کا اہم ترین سٹرٹیجک شراکت داربنا اور یہ تعلق تقریباً ۱۷ سال سے جاری ہے۔ تاہم پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف “مزید کاروائی” کرنے کے حوالے سے پورا عمل نہیں کیا، کیونکہ پاکستان ان گروپوں کو نہ صرف افغانستان میں اپنی پالیسی کے لئے نہایت اہم سمھتا ہے بلکہ ان کے خلاف کاروائی کی جائے تو ان گروہوں کی طرف سے جوابی کاروائیکا امکان بھی موجود ہے۔ نتیجتاً اگرچہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی تک اسلام آباد اور واشنگٹن آپس میں روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں تاہم جوں جوں طالبان کے ساتھ  امریکہ کےمذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہورہے ہیں، اسی طرح واشنگٹن بھی اسلام آباد کے ساتھ روابط کے خاتمے کے ایک  نئے  مرحلے کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

 امریکی انخلاء کے بعد: پاکستان اور امریکہ تعلقات کا انجام

 افغانستان سے متوقع امریکی انخلاء  کے بعد پاکستان اور امریکہ کی منطق و وجوہ کا معمہ حل ہونا شروع ہو جائے گا۔ امریکہ کو خطے میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی مدد کی مزید ضرورت نہیں رہے گی اور ممکن ہے کہ پاکستان کا امریکی پالیسی ساز حلقوں میں اثر رسوخ اور اہمیت کم ہو جائے۔ تاہم ماضی کے برعکس پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں سردمہری  آنے سے اس بار پاکستان کو عسکری اور معاشی لحاظ  سے زیادہ نقصان نہیں  ہوگا۔ پہلی بات، پاک۔چین راہداری (سیپیک) کی وجہ سے چین پاکستان میں سب سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کرنے میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ چکا ہے ۔ دوسری بات، جیساکہ امریکہ پہلے ہی پاکستان کےلئےعسکری امداد کم کر چکا ہے، اب اسلام آباد اپنی عسکری ضروریات پوری کرنے کے لئے واشنگٹن کے علاوہ دوسرے ذرائع پر انحصار کررہا ہے ۔مثال کے طور پر پاکستان فوج پہلے کی نسبت امریکی اسلحے پر کم انحصار کرتی ہے۔ اور اپنی سیکورٹی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوسرے ممالک، جیسا کہ چین اور روس، کے ساتھ ملٹری ھارڈوئر بنانے پر کام کررہی ہے۔ فنانشل ٹائمز کے ایک رپورٹ کے مطابق “یہ تبدیلی اوبامہ حکومت کے  آخری چند مہینوں میں شروع ہوئی جب کانگریس نے پاکستان کو آٹھ ایف-۱۶ لڑاکا طیاروں کی فروخت روک دی تھی”۔حال ہی میں جب امریکہ نے پاکستانی ملٹری آفیسرز کے لئے ٹریننگ پروگرامز بند کرنے کا فیصلہ کیا تو جواباً پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے فوجی افسروں کی ٹریننگ کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کر لئے۔ پس پاکستان نے امریکہ کی نمایاں امداد کے بغیر آنے والے وقت کیلئے تیاری شروع کردی ہے۔ 

کا فیصلہ کیا تو جواباً پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے فوجی افسروں کی ٹریننگ کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کر لئے۔ پس پاکستان نے امریکہ کی نمایاں امداد کے بغیر آنے والے وقت کیلئے تیاری شروع کردی ہے۔ 

آنے والے وقت کیلئے حکمت عملی: پاک-امریکہ خوشگوار تعلقات بحال رکھنے کا معاملہ

پاکستان کیلئے واشنگٹن کی عسکری اور معاشی افادیت آہستہ آہستہ کم ہونے کا امکان ہے۔ تاہم پاکستان امریکہ کے ساتھ فعال تعلقات برقرار رکھنا چاہےگا تاکہ امریکہ کے زیرِاثر عالمی اداروں میں پاکستان کو سفارتی لحاظ سے کٹ کر نہ رہ جائے۔ اسی طرح واشنگٹن کی اسلام آباد سے مکمل دوری امریکہ کے جوہری عدم پھیلاؤ کے مفادات کیلئے بھی موزوں نہیں ہوگی۔ اس لئے بہتر راستہ یہی ہو گا کہ وہ قومی سیکورٹی اداروں کے ساتھ جو پاکستان کا نیوکلئیر پروگرام محفوظ رکھنے کے ذمہ دار ہیں روابط برقرار رکھے۔ اسلئے دونوں ممالک کو آپس میں باہمی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، چاہے یہ کم سے کم ہی کیوں نہ ہوں، تاکہ ین کے درمیان ایک فعال باہمی تعلق قائم رہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: U.S. Department of State via Flickr

Image 2: Prime Ministry of Pakistan/Handout/Anadolu Agency via Getty Images

Posted in , Afghanistan, Cooperation, Foreign Policy, Pakistan, Security, Terrorism, United States, US

Umair Jamal

Umair Jamal

Umair Jamal teaches History and South Asian security at the Forman Christian College University. He is a correspondent for The Diplomat magazine, based in Lahore, Pakistan. His research focuses primarily on the analysis of South Asian security and politics. His work has been featured in a number of renowned media outlets including Foreign Policy, Al-Jazeera, The National Interest, The Huffington Post, The Diplomat, Asia Times, The News on Sunday, Pakistan Today and others. He was an SAV Visiting Fellow, July 2018. He can be reached at [email protected]

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *