6588016609_a7981f6c17_o

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم، عمران خان کی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخلی کے تقریباً دو برس بعد پاکستان میں ۸ فروری کو عام انتخابات منعقد ہوئے۔ اس کے بعد سے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں اور اس کے حمایتیوں کو پولیس اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ عدالتوں نے عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک دیا تھا اور پی ٹی آئی کی علامت بلا بیلٹس پر سے ہٹا دی گئی تھی۔ تاہم پاکستانی ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے اور آزاد امیدواروں کی نمایاں تعداد کو ووٹ دیا گیا جن میں سے زیادہ تر قبل ازیں پی ٹی آئی کے ساتھ وابستہ تھے۔ حتمی نتائج متنازعہ ہونے کے باوجود بھی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں آزاد امیدواروں نے حاصل کیں۔ نیلوفر صدیقی، سارہ خان، حلیمہ سعدیہ اور مائیکل کوگلمین جیسے ماہرین حیران کن نتائج پر ردعمل دیتے ہیں اور ووٹر ٹرن آؤٹ، انتخابی عمل اور پاکستان میں مستقبل میں گورننس پر بصیرت فراہم کرتے ہیں۔


٭براہِ کرم دوبارہ جائزہ لیتے رہیں کیونکہ ہم تمام ہفتے کے دوران ماہرین کا ردعمل شامل کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

جمہوری امید اور پی ٹی آئی کی حدود

پاکستان تحریک انصاف کو نقصان پہنچانے کی غرض سے تیارشدہ ایک یکطرفہ مہم کے باوجود اس کی کارکردگی پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم لمحہ ہے۔ اور ان امور کی جانب اشارہ کرتی ہے: ۱) فوج کی جانب سے انتخابی انجینیئرنگ کی حدود ، ۲) بہت سی موجودہ سیاسی جماعتوں کی کمزوری، اور ۳) ایک پرعزم، سیاست میں دلچسپی رکھنے والی عوام کا عروج جو اپنی آواز کی شنوائی کے لیے بے تاب ہے۔ بعض اعتبار سے یہ جمہوریت کو ٹھوس بنانے کے لیے پاکستان کی جدوجہد میں آگے کی جانب ایک قدم ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) جیسی سیاسی جماعتیں اگر آنے والے برسوں میں انتخابی مقابلے کے لیے میدان میں رہنا چاہتی ہیں، تو ایسے میں ان کو قیادت کے ضمن میں اپنے فیصلوں سمیت دیگر تمام فیصلوں میں اس تجربے کی عکاسی کرنی چاہیئے۔

 
اسی کے ساتھ ساتھ، بہت سی ایسی وجوہات بھی ہیں کہ جن کے سبب محتاط ہو جانا چاہیئے۔ ابتدائی رپورٹس یہ تجویز کرتی ہیں کہ انتخابی عمل کے دن کی دھاندلی، جس کی نوعیت پر اختلاف ہے، انتخابات پر مزید ناخوشگوار اثرات چھوڑے گی، اور گزشتہ برس تخلیق ہونے والی پی ڈی ایم جیسی نازک اتحادی حکومت کی تخلیق قرین از قیاس ہے۔ پی ٹی آئی اسے  آسانی کے ساتھ قبول نہیں کرے گی اور ہمیں آنے والے ہفتوں اور مہینوں کے دوران بہت سے احتجاج اور ریلیوں کی توقع رکھنی چاہیئے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ ہمیں پی ٹی آئی سے، جس نے تاحال دیگر سیاسی جماعتوں کے ہمراہ سمجھوتے پر آمادگی ظاہر نہیں کی جو کہ دراصل وسط مدت سے طویل مدت میں اقتدار پر سویلین گرفت کے لیے واحد راستہ ہے، اس سے اپنی جمہوری امیدیں وابستہ کرنے میں محتاط رہنا چاہیئے۔ پی ٹی آئی کے تنظیمی ڈھانچے اور اس کے انتخابی امیدواروں کو دیکھتے ہوئے، جن میں سے زیادہ تر وہی پرانے نسل در نسل اور زمیندار گھرانوں سے تعلق رکھنے والے الیکٹیبلز ہیں کہ خود جن کے خلاف پی ٹی آئی کھڑی رہتی ہے، اس کے سبب اس سے وہ انقلابی کردار نبھانے کی امید کم ہی ہے کہ جو اس کے وفادار حمایتی ادا کرنے کی امید رکھتے ہیں۔


نیلوفر صدیقی، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ پولیٹیکل سائنس، یونیورسٹی آف البانی

ووٹر ٹرن آؤٹ اور خواتین کی شرکت کا تجزیہ

پاکستان میں حالیہ انتخابات کے نتائج تمام سطحوں پر موجود توقعات کے برخلاف ہیں۔اگرچہ حتمی” نتائج ابھی تک متنازعہ ہیں اور پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی دونوں ہی بیک وقت فتح کا دعویٰ کر رہی ہیں، تاہم زیادہ تر لوگ اس سے اتفاق کریں گے کہ یہ پاکستانی ووٹرز ہیں کہ جو اس کہانی میں مرکزی کردار بن کر ابھرے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کے قید میں ہونے، پارٹی حامیوں اور کارکنان کو جبر کا نشانہ بنائے جانے اور نتائج کے “پہلے سے تیار شدہ ” ہونے کے بیانیے کی موجودگی میں ہم ووٹرز کے خوفزدہ یا احساس سے عاری ہونے کے سبب بڑی تعداد میں نکلنے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ درحقیقت ۲۰۲۳ کے اختتام پر، پاکستان میں ہونے والے ایک سروے میں محض ۲۵ فیصد نے اپنے ملک میں ہونے والے انتخابات کی صداقت پر یقین رکھنے کے بارے میں مطلع کیا تھا۔ اس کے باوجود ۸ فروری کو مجموعی ٹرن آؤٹ ۴۸ فیصد تھا، جو گو کہ ۲۰۱۸ کے ۵۱ فیصد سے کم تھا لیکن بہرحال موجودہ حالات میں جس گراوٹ کی توقع کی جا سکتی تھی یہ ویسی گراوٹ نہیں تھی۔ ۲۰۱۸ کے بعد سے رجسٹر ہونے والی خواتین ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ۴۳ فیصد خواتین ووٹرز اور ۵۲ فیصد مرد ووٹرز کے ساتھ، ووٹرز ٹرن آؤٹ کی ضمن میں موجود صنفی فاصلہ مستحکم رہا۔ یہ حیران کن نہیں کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت نے خواتین ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کیں۔


آگے کیا ہونے والا ہے؟ اس انتخابی عمل میں داخلے کے وقت پاکستان ایک گہرے معاشی اور سیاسی بحران میں گھرا ہوا تھا۔ملکی بقا کو درپیش مسائل جن میں بلوچستان اور گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور کمر توڑ دینے والی مہنگائی سمیت دیگر مسائل شامل ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے اس وقت کم از کم بھی جس چیز کی اشد ضرورت ہے، وہ استحکام ہے۔ بدقسمتی سے یہ استحکام افق پر قریب کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ چونکہ بہت سے حلقوں میں انتخابی نتائج ابھی متنازعہ ہیں، ایسے میں ہم آنے والے مہینوں میں امیدواروں کی جانب سے مقبول عام مظاہرے اور امیدواروں کو درپیش قانونی مشکلات دیکھیں گے۔

سارہ خان، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ پالیٹکل سائنس، ییل یونیورسٹی

زمینی سطح سے انتخابات کے دن کے مشاہدات

پاکستانی، آخری مارشل لاء کے بعد سے جمہوری حکومتی ادوار کے طویل ترین سلسلے سے گزر رہے ہیں جو ۱۵.۵ سال پر محیط ہے۔ اس وقت کے دوران، ووٹرز کی ایک ایسی نسل جوان ہوئی ہے جسے آمریت میں درپیش جبر کا تجربہ نہیں، لہذا ۲۰۲۴ کے پاکستان کے انتخابات روایتی سیاست جس کی عکاسی زمینوں پر قابض عسکری اداروں، اشرافیہ- وڈیرہ شاہی نسلی تگڑی کے ذریعے ہوتی ہے، اور ترقی پسند نظریے جس کی عکاسی نوجوانوں کی جانب سے متحرک فعالیت، خواتین کے بااختیار ہونے، انسانی سلامتی پر مبنی اہداف اور درمیانے طبقے کی سیاسی شرکت کے ذریعے ہوتی ہے، ان کے درمیان فیصلہ کن لڑائی تھی۔


انتخابات کے دن، فضا میں بے چینی محسوس کی جا سکتی تھی۔ پولنگ اسٹیشنز ایسے ووٹرز کے ہجوم سے امڈ رہے تھے جنہوں نے پولنگ شروع ہونے کے لیے طے شدہ وقت سے کہیں پہلے قطاریں بنانا شروع کر دی تھیں۔ پولنگ اسٹیشنز کے قریب جہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے ان کے کیمپس پر دکھائی دے رہے تھے، وہیں پی ٹی آئی کے جھنڈے اور کیمپس متعدد مقامات پر واضح طور پر غیر حاضر تھے۔ میرے پولنگ اسٹیشن پر کسی نے بھی واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں، لیکن اس پولنگ اسٹیشن میں ہونے والی گفتگو نے سیاسی جھکاؤ کو ظاہر کیا۔ بعض ووٹرز نے ووٹر پرچی (ووٹر کی رجسٹریشن کی تفصیلات اور ووٹر کے بارے میں مردم شماری سے متعلقہ ڈیٹا) جماعت اسلامی کے کیمپ سے بنوائی، حالانکہ وہ ووٹ پی ٹی آئی کو ڈال رہے تھے۔ یہ لوگوں میں موجود خدشے کو ظاہر کرتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی حقیقی ترجیح ظاہر کی، تو انہیں ووٹ ڈالنے سے روک دیا جائے گا۔ اس کے باوجود انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی ووٹرز یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کو درپیش لاتعداد آزمائشوں کا حل صوبائی انتظامیہ سے تقویت پاتی سویلین وفاقی حکومت میں پنہاں ہے۔


باوجودیکہ مختلف سیاسی دھڑے پی ٹی آئی کے خلاف مشترکہ مقصد رکھتے ہیں، تاہم ان کی متنوع دلچسپیاں اور خواہشات غیروابستہ رہیں گی، جو ایک جامع نظام حکومت کی راہ میں بنیادی رکاوٹ رہے گا۔ ممکنہ طور پر وجود میں آنے والی پی ڈی ایم ۲.۰ کے پاس عوامی مینڈیٹ کے ذریعے حکومت کرنے کا جواز موجود نہیں ہو گا اور وہ طویل عرصے کے لیے حکومت کرنے کے قابل نہیں ہو گی۔ پاکستان میں آنے والے آئندہ کئی انتخابات تک نوجوان نسل عوامی مینڈیٹ کا فیصہ کرے گی۔ ان کی آوازوں کو نظرانداز کرنا، دھاندلی کے ذریعے ان کے سیاسی فیصلوں کو درخواعتنا نہ جاننا اور انہیں اپنے لیے سیاسی قیادت چننے کا حق دینے سے محروم رکھنا مایوسی پیدا کرے گا اور انتخابی عمل کے بارے میں ان کی شکایت میں اضافہ کرے گا۔ جب تک عوام کی آواز کا احترام نہیں کیا جاتا اور ان کے مینڈیٹ کو قبول نہیں کیا جاتا، پاکستان میں پائیدار سیاسی استحکام ابہام کے پردے میں رہے گا۔


حلیمہ سعدیہ، لیکچرار، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئیجز (نمل) اور ساؤتھ ایشیاء پروگرام کی سابق وزٹنگ فیلو، اسٹمسن سینٹر

پاکستان میں عنان حکومت کا مستقبل

گزشتہ ہفتے پاکستان کو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو کسی بھی واحد جماعت سے ملنے والے زیادہ ووٹوں کے ذریعے سے پہنچنے والے شاک نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم اسی منطقی انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں جس کی توقع ابتداء سے کی جا رہی تھی: ہم ممکنہ طور پر پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) جنہوں نے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں، ان کی قیادت میں ایک اتحادی حکومت دیکھیں گے۔ کل ملا کر سیٹوں کی بڑی تعداد اور فوج جو کہ ایسی جماعتوں کی معاونت کرنے کے لیے بے تاب ہے کہ جو پی ٹی آئی کا مقابلہ کر سکتی ہوں – اس کی جانب سے ملنے والی حمایت کی موجودگی میں انہیں اپنے اتحاد کو مکمل کرنے کے لیے چند چھوٹی جماعتیں حاصل کرنا مشکل نہ ہو گا۔ ۲۰۲۲ میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کی پارلیمنٹ سے بے دخلی کے بعد ان کی باقی ماندہ مدت پوری کرنے کے لیے اتحادی حکومت چلانے سمیت ماضی میں ان کے درمیان رہنے والی شراکت داریوں کے باوجود بھی دونوں ایک دوسرے کی شدید حریف ہیں، ایسے میں پی ایم ایل این اور پی پی پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج غالباً آپس میں موجود اختلافات کو کو حل کرنا ہو گا۔


سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود پی ٹی آئی کے اتحاد تشکیل دینے کے امکانات معمولی ہیں۔ عسکری دباؤ اور دیگر عوامل کے سبب، چونکہ اس کے امیدواروں کو آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترنا پڑا تھا، ایسے میں اس کے بعض فاتح امیدوار مختلف جماعتوں کے ساتھ الحاق کریں گے۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ اگرچہ پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر عوامی حمایت کا لطف اٹھاتی ہے، تاہم سیاسی اعتبار سے اس حد تک متنازع ہے کہ بہت کم ہی دیگر جماعتیں اس کے ہمراہ اتحاد میں شامل ہونا چاہیں گی کیونکہ انہیں فوج کی جانب سے دباؤ یا جوابی کارروائی کا خوف ہو گا (خود پی ٹی آئی جو طویل عرصے سے بازپرس پر مبنی سیاسی موقف اختیار کیے ہوئے ہے، شاید بذات خود وہ بھی دیگر جماعتوں کے ہمراہ شراکت داری نہ چاہے)۔ پی ٹی آئی امید کرے گی کہ عدالت میں اس کی جانب سے چیلنج کیا جانا ان فیصلوں کو واپس کرے گا، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہاں دھاندلی کی گئی۔ لیکن اتنا کافی نہیں۔ کسی بھی صورت میں اس امر کا بڑی حد تک امکان موجود ہے کہ قانونی عمل مکمل ہونے تک، پی ایم ایل این اور پی پی پی اپنا اتحاد قائم کر چکی ہوں گی۔ جبکہ پی ٹی آئی حزب اختلاف میں واپسی کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔


مائیکل کوگلمین، ڈائیریکٹر ساؤتھ ایشیا انسٹیٹیوٹ، ولسن سینٹر

***

Click here to read this article in English.

Image 1: PTI followers via Mustafa Mohsin, Flickr

Image 2: Pakistan 2018 Elections via Commonwealth Secretariat, Flickr

Share this:  

Related articles

جنوبی ایشیا میں موسمیاتی سفارت کاری اور آبی انتظام کا انضمام Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا میں موسمیاتی سفارت کاری اور آبی انتظام کا انضمام

جنوبی ایشیا میں پائی جانے والی اولین تہذیبوں سے لے…

جنوبی ایشیا میں آب و ہوا کی بنیاد پر ٹیکنالوجی تعاون کی ضرورت Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا میں آب و ہوا کی بنیاد پر ٹیکنالوجی تعاون کی ضرورت

سال ۲۰۲۳ کے اوائل میں  نیپال کے کوشی صوبے میں مون…

ٹیکنالوجی کی تکڑی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کے لیے اس کے مضمرات Hindi & Urdu

ٹیکنالوجی کی تکڑی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کے لیے اس کے مضمرات

بھارت اور پاکستان کی جانب سے جدید ٹیکنالوجیز کی تکڑی…