پاکستان کا کشمیری معمہ

بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں بھارتی حکومت کا جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرنے کا حالیہ فیصلہ اور نتیجتاً متنازعہ علاقے کی دو علیحدہ خطوں میں تقسیم ایک زلزلے کے مماثل ہے جس نے بھارت اور پاکستان کے مابین تنازعے کی بنیادوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ شدید جارحانہ حکمت عملی نے بھارت اور پاکستان کے مابین تعلقات کی حرکیات کو مختصر سے کچھ زیادہ مدت کیلئے نئی شکل دے ڈالی ہے۔ نئی دہلی نے اسلام آباد کو مخمصے میں مبتلا کردیا ہے : ایک ایسی چال جس سے کشمیر کی حیثیت ہمیشہ کیلئے بدلنے کا امکان ہے، اس پر کیسے ردعمل دیا جائے؟ شق ۳۷۰ میں تبدیلی کے ذریعے نئی دہلی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ کشمیر کو داخلی تنازعہ بنا رہا ہے جسے مقامی قانونی دائرہ کارہ کے تحت حل کیا جائے گا۔ لیکن اس چال کے نتائج کی گونج نئی دہلی سے باہر تک پہنچ رہی ہے۔ پاکستان کیلئے چیلنج یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے دہائیوں پرانے مفادات کو برقرار رکھا جائے، باوجود اس کے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے مابین دوطرفہ تعلقات میں تیزرفتار گراوٹ آرہی ہے اور اسلام آباد کی عملی اقدامات لینے کی صلاحیت اس کی معیشت اور عالمی دباؤ کی وجہ سے محدود ہے۔

شق ۳۷۰ کی اہمیت

بھارتی آئین کی شق ۳۷۰ نے جموں و کشمیر کو نیم خود مختار حیثیت اور ( بذریعہ شق ۳۵ اے) بعض قسم کے آبادیاتی تحفظ جیسا کہ ریاست میں غیر کشمیریوں کے ریاست میں آباد ہونے پر پابندی جیسے اقدامات کے ذریعے سے مرکزی حکومت اور بھارتی زیرانتظام ریاست جموں و کشمیر کے مابین خصوصی تعلق قائم کیا تھا۔ جموں و کشمیر کی مسلم آبادی کیلئے شق ۳۷۰ بتدریج ان کی منفرد کشمیری شناخت کا حصہ بن گیا کیونکہ بھارت میں محض جموں و کشمیر ہی واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ تاہم کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور غیر کشمیریوں کو زمین جائیداد خریدنے اور جموں و کشمیر میں آباد ہونے کی اجازت دینے سے خطے کے آبادیاتی توازن کو نقصان ہوسکتا ہے، بالخصوص مسلم اکثریت تحلیل ہوسکتی ہے۔ یہ معاملہ اسلام آباد کیلئے پریشانی کا سبب ہے کیونکہ جب بھی کشمیر کی عوام کو بھارت اور پاکستان میں سے انتخاب کا حق دیا گیا تو نئی دہلی کے زیرانتظام خطے کے آبادیاتی خدوخال اس تنازعے کے انجام میں فیصلہ کن حیثیت کے حامل ہوں گے۔

بھارتی آئین کی شق ۳۷۰ کو  پاکستانی آئین کی شق ۲۵۷ کے تناظر میں بھی  دیکھا جاسکتا ہے جس میں درج ہے کہ “ریاست جموں اور کشمیر کی عوام جب پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کریں تو پاکستان اور ریاست کےمابین تعلق کی نوعیت ریاست کی عوام کی خواہشات کے مطابق ہوگی”۔ یوں، پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں موجودہ سیاسی انتظام عارضی نوعیت کا ہے۔ یہ دو شقیں بھارت اور پاکستان کے زیرانتظام ریاست جموں و کشمیر میں خطے کے امور کو چلانے کیلئے داخلی آئینی سطح پر توازن فراہم کرتی ہیں۔ دونوں ممالک اپنے اپنے آئین میں ان شقوں کے ذریعے سے ان علاقوں پر گرفت کو مزید بہتر بنا چکے ہیں: بھارت نے شق ۱ کے تحت دعویٰ قائم کیا اور جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا،  متنازعہ علاقوں کو شق ۳۷۰ کے تحت خصوصی حیثیت دی، جبکہ پاکستان نے شق ۱(۲) کی ذیلی شق (c)  جو یہ بیان کرتی ہے کہ پاکستان کے علاقوں میں وہ بھی شامل ہیں جو ”الحاق یا مختلف طریقے سے“ شامل ہوئے، کے ذریعے سے بالواسطہ ایسا ہی کیا۔ یہ توازن اب بگڑ چکا ہے کیونکہ بھارت جموں و کشمیر کے اپنے زیر انتظام علاقوں کو ہڑپ کرنے کیلئے ان پر مکمل حاکمیت کا دعویٰ کرتے ہوئے داخلی قوانین میں تبدیلی لاچکا ہے۔

اسلام آباد کیلئے چیلنج

 کشمیر، ۱۹۴۷ سے ہی پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کا مرکز رہا ہے؛ یہ گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان کے قومی تشخص اور سیاسی بیانیئے کا لازمی جزو رہا ہے۔ مشرقی پاکستان ( آج کے بنگلہ دیش) کو کھونے کے بعد پاکستان نے سرکاری و عوامی دونوں سطح پر کشمیر کو نہ جانے دینے کا عزم کیا تھا۔ حتیٰ کہ ۱۹۷۲ میں بھارت اور پاکستان کے مابین طے پانے والا شملہ معاہدہ بھی دونوں فریقوں کو یکطرفہ طور پر کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے سے روکتا ہے۔ ۱۹۹۹ کی محدود جنگ اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کشمیر سے متعلقہ بارہا پیدا ہونے والے بحران کے باوجود کشمیر کی حیثیت برقرار رہی۔ پاکستانی نقطہ نگاہ سے، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے بھارت نے کشمیر اور لداخ کے علاقوں پر قبضہ اور ان کی حیثیت کو تبدیل کردیا ہے۔ اسلام آباد ان نئی تبدیلیوں کو قبول نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا عملی مطلب کشمیر میں لائن آف کنٹرول ( ایل اوسی) کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ لہذا، اس فیصلے کے ذریعے سے نئی دہلی نے پاکستان کو اشارہ دیا ہے کہ وہ بھارتی زیرانتظام کشمیر کے علاقے پر پاکستانی دعوے کو تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس مفروضے کے ساتھ ردعمل دے کہ مودی کا مقصد کشمیر کے معاملے سے پاکستان کو نکالنا ہے۔

اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر یہ بحث جاری ہے کہ بھارت کی اس چال کا جواب کیسے دیا جائے، لیکن طالبان سے افغانستان میں امن معاہدے پر پہنچنے پر توجہ دینے اور مسلح گروہوں کیخلاف قانونی و تادیبی کاروائیوں کیلئے مسلسل امریکی دباؤ کی وجہ سے اسکے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو برس سے پاکستان، دہشت گروں کی مالی معاونت روکنے اور مالی بدعنوانی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے معاملے پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف)  کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے طے کردہ اہداف تک پہنچنے میں ناکامی کا نتیجہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف) کی سہ ماہی قسط کے روکے جانے کی صورت میں برآمد ہوگا، جس کیلئے مذاکرات ملک کے معاشی بحران کے باعث جون ۲۰۱۹ کے امدادی پیکج کے تحت کئے گئے تھے۔ اس طرح، پاکستان کے پاس کشمیر کے حوالے سے بہت محدود راستے ہیں۔ معاشی دباؤ اور آئی ایم ایف اور کثیرالفریقی قرض دہنگان سے درکار مسلسل معاشی معاونت کی ضرورت کے سبب فی الوقت  طاقت کا استعمال موزوں نہیں۔ لیکن پاکستان اپنی نیت اورمسئلہ حل کرنے کیلئے طاقت کے استعمال کا اشارہ دینے کیلئے آئندہ چند ہفتوں میں غور کرسکتا ہے، مثلاً مشرقی سرحدوں پر بیک وقت بری اور فضائی افواج پر مبنی فوجی مشقوں کا آغاز اور بیلسٹک و کروز میزائلوں کے تجربے۔ 

فی الحال پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی روابط کو کم کردیا ہے اور اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے روابط کو تیز کیا ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیر میں پیش رفت کو اندرونی معاملہ قرار دیئے جانے کے بعد پاکستان کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ زیادہ ترعالمی برادری ان بھارتی اقدامات کو من و عن قبول کرلیں گے۔ اسی لئے توجہ کا اصل مرکز غیر ملکی حکومتوں سے روابط قائم کرنے  اور یہ پیغام دینے پر رہا ہے کہ کشمیر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ داخلی سیاست بھی پی ٹی آئی کی حکومت کو مجبور کررہی ہے کہ وہ بھارت مخالف بیانیئے کو ہوا دے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو نمایاں کرے۔

پاکستانی سفارتی سرگرمیوں کا فوری مقصد بھارت پر عالمی دباؤ پیدا کرنا ہے تاکہ وہ کشمیر میں کئے گئے اپنے اقدامات کو واپس لے یعنی کہ کشمیر کی گزشتہ حیثیت کو واپس لایا جائے اور کشمیری عوام کیلئے ابلاغ، نقل و حرکت، اور سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندیاں ہٹائی جائیں۔ آنے والے مہینوں میں، پاکستان دیکھے گا کہ کشمیری کیسا ردعمل دیتے ہیں کیونکہ بھارتی چال وادی میں عدم اطمینان اور غصہ پیدا کررہی ہے۔ کشمیر میں ایک سیاسی طوفان آسکتا ہے  اوروہ پاکستان کی آئندہ چال کا تعین کرے گا جو کہ مقامی کشمیریوں کی سیاسی و دیگر تمام اقسام کی حمایت ہوسکتی ہے۔ 

بھارت- پاکستان تعلقات کا مستقبل

مودی کے فیصلے کے اثرات کے سبب بھارت اور پاکستان کے مابین پہلے ہی سے بوجھل تعلقات میں مزید عدم توازن پیدا ہوا ہے۔ پلوامہ بحران اور بھارت میں انتخابات سے قبل تک وزیراعظم عمران خان پرامید تھے کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ کسی بھی اہم نوعیت کے معاملے پر مودی کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت کے ساتھ بات چیت کرسکتا ہے۔ اب لیکن بھارت پاکستان کے مابین تعلقات میں کسی بھی قسم مثبت پیش رفت کا وسط مدت میں امکان ختم ہوسکتا ہے۔ جیسے جیسے  تناؤ میں اضافہ ہورہا ہے اور ایل او سی کے ساتھ ساتھ دونوں افواج جھڑپوں میں مصروف ہیں، دونوں ممالک میں قوم پرستی پر مبنی بیانیہ وسعت پا رہا ہے۔ خان اور مودی دونوں ہی ”پاپیولسٹ“ رہنما اپنے اپنے علاقوں میں اپنے حمایتیوں کی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔  خان نے مودی کی ایسی تصویر نقش کی ہے جس کے مطابق وہ دور جدید کے ہٹلر ہیں جبکہ بھارتی وزیردفاع نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد سے صرف اور صرف پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر بات چیت کی جائے گی۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں کمی لانے کے فیصلے پر نظرثانی کو  نئی دہلی کی جانب سے کشمیر میں لئے گئے حالیہ اقدامات کی واپسی سے  بھی جوڑا ہے۔

اسلام آباد کیلئے، نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کا فوری مستقبل بھارت کے ہاتھوں کشمیر سے سلوک پر منحصر ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات بشمول سیکیورٹی کے نام پر نقل و حرکت پر پابندی اور مواصلاتی رابطوں کے خاتمے کے بعد تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان ان پابندیوں میں نرمی نہیں پیدا کرسکتا- درحقیقت، یہ ذمہ بھارت پر ہے کہ وہ کشمیر میں اپنی دفاعی حکمت پر نظرثانی کرے، عمل کرے اور تناؤ کم کرنے کیلئے کام کرے۔ تب تک، بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے مابین موجود بحران برقرار رہے گا۔

***

.Click here to read this article in English

Image 1: Aytug Can Sencar/Anadolu Agency via Getty Images

Image 2: Rakesh Bakshi/AFP via Getty Images

Posted in , India, India-Pakistan Relations, Kashmir, Pakistan, Security, Territorial Dispute, UN

Muhammad Faisal

Muhammad Faisal

Muhammad Faisal was an SAV Visiting Fellow, January 2018. Formerly, he was a Research Fellow at the Center for International Strategic Studies, Islamabad and a Visiting Fellow at the Center for Non-Proliferation Studies in Monterey, California in the spring of 2015. He holds a post-graduate degree in Defense and Strategic Studies from Quaid-i-Azam University, Islamabad. His research interests include India-Pakistan relations and South Asia's security environment.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *