Red Flag 10.4
NELLIS AIR FORCE BASE, Nev. — A four-ship of F-16 Fighting Falcons from the Pakistan Air Force head to the fight after refueling July 21 during Red Flag 10-4. Red Flag is a realistic combat training exercise involving the air forces of the United States and its allies. The exercise is conducted on the 15,000-square-mile NTTR, north of Las Vegas. (U.S. Air Force photo/IT1 Steven Wolff)

سقوط کابل کے بعد سے پاکستان اور امریکہ محتاط طریقے سے روابط کو آگے بڑھا رہے ہیں جن کو ترتیب دینے میں عدم اعتماد کا کردار بدستور جاری ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ دونوں فریق افغانستان پر مبنی دلچسپی کے مشترکہ مرکز سے ہٹ کے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، گو کہ امریکہ کی نسبت پاکستان اس کا زیادہ خواہش مند ہے۔

افغانستان سے انخلاء کے بعد تعلقات

امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور اسلام آباد اسے برقرار رکھنا اور اپنی رسائی میں اضافہ چاہے گا۔  بعض دیگر شعبے ہیں مثلاً انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر کی تیاری، تعلیم، صحت اور توانائی, جہاں پاکستان امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری چاہتا ہے۔ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں جیک سلیوین اور معید یوسف کے درمیان ملاقاتوں میں تعاون اور پابندیِ وقت کے تحت پیش رفت کے لیے شعبوں کی شناخت کی گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

 تاہم ابھی تک کچھ بھی عملی شکل نہیں دھار سکا ہے۔ افغانستان بدستور امریکہ پاکستان تعلقات پر سایہ بن کے چھایا ہوا ہے۔ کابل کے ہوائی اڈے سے آنے والی تصاویر نے بائیڈن کے لیے سیگان جیسی صورتحال پیدا کردی تھی، انہیں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں کی جانب سے اچانک اور افراتفری کے عالم میں انخلاء پر ایک جیسی تنقید کا سامنا ہوا حتیٰ کہ ان کی جانب سے بھی جنہوں نے انخلاء کی حمایت کی تھی۔ امریکہ میں بہت سے افراد نے گزشتہ دو دوہائیوں کے دوران امریکی پالیسیوں کی ناکامی نیز پاکستان کے طالبان سے تعلقات منقطع کرنے سے انکار پر واشنگٹن کو بارہا ہونے والی مایوسی کی جانب اشارہ کیا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ افغانستان کے ہمراہ دو طرفہ اور سہہ فریقی سطح پر مسلسل رابطے میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشتگردی کے مقابلے اور مستقبل کی صلاحیتوں کے بارے میں گفت و شنید کے باوجود امریکہ کسی بھی واضح پالیسی کے بغیر نکل گیا، ایسے میں تمام  کٹھن ذمہ داریاں پاکستان ہی اٹھا رہا ہے۔ پاکستان نے مسلسل یہ دلیل بھی دی ہے کہ طالبان کو بون امن عمل سے علیحدہ رکھنا اور افغانستان کے دیہی پشتون علاقوں کو دہشتگردی کیخلاف مہارت و حکمت سے عاری کارروائیوں میں نشانہ بنانا ان بہت سے عوامل میں شامل ہیں  جنہوں نے اس تنظیم کی ازسرنو ترتیب اور بعد ازاں اس کے غیرمتوقع نتائج میں کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کے نقطہ نگاہ سے امریکی قانون سازوں کی جانب سے پاکستان کو کلی طور پر قصوروار ٹھہرانا مستقبل میں تعاون کے لیے مسائل کا باعث ہوگا۔ گزشتہ ستمبر میں ۲۲ ریپبلکن سینیٹرز نے ایک بل پیش کیا تھا تاکہ سقوط کابل سے قبل اور بعد کے افغانستان میں پاکستان کے کردار اور پنج شیر میں طالبان کی کارروائیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ پاکستان نے اس بل پر سخت ردعمل دیا ہے اور امریکہ پر الزام عائد کیا ہے وہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا رہا ہے۔

ایم این این اے کا سوال

 پاکستان کو اس کے اہم غیرنیٹواتحادی (ایم این این اے) کے درجے سے محروم کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ حال ہی میں جنوری ۲۰۲۱ میں، ریاست ایریزونا کی پانچویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والے ریپپبلکن کانگریسی رکن اینڈی بگز نے  ایوان نمائندگان میں ایک بل متعارف کروایا تھا جو پاکستان کو اس کے اہم غیرنیٹو اتحادی کی حیثیت سے محروم کر دیتا۔ گوکہ بل اپنی جانب توجہ کھینچنے میں ناکام رہا تاہم امریکی مقتدر حلقوں میں پاک امریکہ تعلقات پر ہونے والی بحث میں یہ تجویز بارہا سر اٹھاتی ہے۔ جنوری میں بگز کی جانب سے اس پیشرفت سے قبل بھی ۲۰۱۷ اور ۲۰۱۹ میں بل کی اشکال سامنے آتی رہی ہیں۔ ۲۰۱۷ میں بل کو ۱۰ ارکان، جن میں سات ریپبلکنز اور تین ڈیموکریٹ ممبران شامل ہیں، کی حمایت حاصل ہوئی تھی تاہم ایوان میں خارجہ امور کی کمیٹی کا ووٹ حاصل نہیں ہوسکا تھا۔ ۲۰۱۹ میں اسی قسم کے بل کو ایک رپبلکن رکن کی حمایت حاصل ہوئی تھی تاہم وہ کمیٹی کی سطح سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔ 

لیکن مسئلہ پاکستان کو ایم این این اے کی حیثیت سے علیحدہ کروانے کیلئے آئینی راستے اختیار کرنے یا اس پر پابندیاں عائد کروانے کی کوششوں سے بڑھ کے ہے۔ یہ پاک امریکہ تعلقات کا عکاس اور اس عروج و زوال کو بیان کرتا ہے جو گزشتہ سات دہائیوں یعنی کہ پاکستان کے وجود کے کل دورانیے  کے دوران دیکھنے کو ملے ہیں۔

اگر امریکہ پاکستان سے اس کا ایم این این اے کا درجہ واپس چھین لیتا ہے تو کیا اس سے کوئی فرق پڑے گا؟ مختصر جواب: ”نہیں۔“ لیکن قبل اس کے کہ ہم اس کے طویل جواب کی جانب آئیں، ایم این این اے کے درجے کے حوالے سے بعض حقائق کو دوبارہ یاد کر لیتے ہیں۔ ۱۱/۹ کے حملوں اور امریکہ کے افغانستان پر حملے کے پس منظر میں صدر جارج بش کی انتظامیہ نے ۲۰۰۴ میں پاکستان کو اہم غیرنیٹو اتحادی کا درجہ دیا تھا۔ یہ بش انتظامیہ کی جانب سے افغانستان کی جنگ میں پاکستان کو دوبارہ شامل کرنے اور ترغیب دلانے کی ایک کوشش تھی۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ”ایم این این اے، امریکی قانون کے تحت ایک ایسا عہدہ ہے جو غیرملکی شراکت داروں کو دفاع، تجارت اور سلامتی کے شعبوں میں بعض فوائد دیتا ہے۔ اہم غیرنیٹو اتحادی کا عہدہ امریکہ کے ان ممالک سے گہرے تعلقات کی طاقتور علامت ہے اور ان ممالک جن کو یہ درجہ دیا گیا ہے، ان سے دوستی کیلئے ہمارے گہرے احترام کو ظاہر کرتا ہے۔ ایم این این اے کا درجہ جہاں عسکری و معاشی مراعات فراہم کرتا ہے، وہیں یہ نوازے گئے ممالک سے سلامتی کے ضمن میں کوئی وعدہ نہیں کرتا ہے۔“

کابل کے طالبان کے قبضے میں جانے تک، ۱۸ ریاستوں کو ایم این این اے کا درجہ حاصل تھا (بشمول تائیوان جسے باقاعدہ ایم این این اے کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا جاتا لیکن اس سے اسی طور پر سلوک روا رکھا جاتا ہے۔) ۱۹۸۷ میں جب یہ درجہ بندی اور اس کے فوائد امریکی صدر کی پیشکشوں کی فہرست کے ایک حصے کے طور پر متعارف کروائے گئے تھے، تب سے ایم این این اے قرار دیے گئے کسی بھی ملک کو اس سے محروم نہیں کیا گیا ہے۔

یہ درجہ بعض قوانین اور فوائد کے تابع ہوتا ہے۔ غیرملکی معاونت کا ایکٹ ۱۹۶۱ مع بعض دیگر قوانین کے ایم این این اے کو دیگر فوائد کے علاوہ دہشتگردی کے خلاف ”تحقیق و ترقیاتی منصوبوں“ کے ضمن میں سالانہ ۳ ملین ڈالر کا حقدار بناتا ہے۔ اسی طرح ہتھیاروں کی برآمدات پر قابو کا قانون ایم این این اے کو  فراہمی و ساز وسامان کے مد میں قرضے کی وصولی کا حقدار بناتا ہے۔ امریکی کوڈ ۱۰ برائے مسلح افواج اور پبلک لا ۱۰۶-۱۲ دو دیگر قوانین ہیں جو ایم این این اے کے ہمراہ معاملات کی نگرانی کرتے ہیں: ان میں سے پہلا دفاعی سازو سامان کی مرمت و بحالی  کے لیے مشترکہ تحقیق، ترقی و تعاون کے بارے میں ہے جبکہ دوسرا قانون دیگر فوائد کے علاوہ تجارتی سیٹلائٹس بنانے والی امریکی کمپنیوں سے فوری لائسنس کی وصولی جیسے فوائد کے بارے میں ہے۔

پاکستان ایم این این اے کے تحت کچھ ارسال کنندہ (پلیٹ فارمز) اور ہتھیار حاصل کر چکا ہے۔ ان میں سب سے اہم ۱۹ عدد، ایف ۱۶ سی /ڈی بلاک ۵۰/۵۲ لڑاکا طیارے اور مختلف نوعیت کے میزائل و بم  ہمراہ ارسال کنندہ کا حصول تھا۔ پاکستان ۲۳ عدد پیس گیٹ ایف ۱۶ اے اور بی بھی حاصل کر چکا ہے۔ سب سے بڑھ کر اس معاہدے میں پاکستان کے پرانے ایف ۱۶ اے/بی طیاروں کو جدید بنانے کیلیے مڈ لائف اپ ڈیٹ موڈیفیکیشن کٹس کی خریداری شامل تھی۔ امریکہ نے پاکستان کو بشمول آٹھ عدد پی-۳ سی اوریئن میری ٹائم طیارے اور اے ایچ-۱ ایف کوبرا حملہ آور ہیلی کاپٹرز کے،  ۶ سی ۱۳۰ عسکری ٹرانسپورٹ طیارے، نگرانی کے لیے ریڈارز، عسکری ریڈیو، ۲۰۰۰ سے زیادہ ٹی او ڈبلیو ٹینک شکن میزائل اور ۱۱۵ ایم ۱۰۹ اے ۱۵۵ ایم ایم کی خودساختہ توپیں بھی اضافی دفاعی نظام کے طور پر مہیا کی تھیں۔ پاکستان کو ایک عدد اولیور پیری ہیزارڈ کلاس لڑاکا کشتی بھی ملی ہے گو کہ بحری ذرائع کے مطابق اس نے  چھ عدد کی درخواست کی تھی۔ تاہم ۲۰۱۳ کے امریکی سینٹ کے ایک بل جس کا عنوان ”اضافی امریکی بحری سازوسامن کی منتقلی“ تھا، سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے اگرچہ تین لڑاکا کشتیوں کی منتقلی کا اشارہ دیا تھا تاہم اس نے چھ کی فراہمی کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ یہ بل ان کشتیوں کی منتقلی کے حوالے سے کئی کڑی شرائط کا حامل بھی تھا۔

معاہدے کے ابتدائی برسوں میں ہونے والے بعض فوائد کے باوجود گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان کا بطور ایم این این اے  درجہ دوطرفہ تعلقات میں آنے والے اتارچڑھاؤ کو متوازن بنانے یا عسکری سازوسامان کے حصول کیلئے لائحہ عمل کو بہتر بنانے میں معمولی کردار ہی ادا کر پایا ہے۔ ۲۰۱۶ میں پاکستان نے  امریکی فارن ملٹری سیلز کے  تحت نو عدد بیل اے ایچ-۱ زیڈ حملہ آور ہیلی کاپٹرز طلب کیے تھے۔ لیکن یہ فروخت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی سلامتی کے مد میں فنڈنگ بند ہونے کی وجہ سے معطل ہے۔  ترکی پاکستان کو  اپنے ٹی ۱۲۹ لڑاکا ہیلی کاپٹر برآمد کرنے سے قاصر ہے کیونکہ ہیلی کاپٹر کے انجن کا کچھ حصہ امریکی کمپنی تیار کرتی ہے اور پینٹاگون نے انقرہ کو، جو کہ روسی ساختہ ایس -۴۰۰/ اے ۲ اے ڈی ارسال کنندہ خریدنے کے سبب پابندیوں کا شکار ہے، برآمد کا لائسنس جاری نہیں کیا ہے۔ لہذا ترکی جو ایک نیٹو رکن ہے، پاکستان کو جو کہ کاغذی طور پر ایم این این اے ہے، اسے اپنے لڑاکا ہیلی کاپٹر برآمد نہیں کر سکتا ہے۔ صدر اوباما کے دور صدارت کے دوران  امریکی کانگریس نے (ایم این این اے کے درجے  کے باوجود) پاکستان کو فارن ملٹری فنانس کے تحت آٹھ ایف ۱۶ کی خریداری کیلئے فنڈز کے اجراء سے انکار کردیا تھا۔ حتیٰ کہ جب بعض دفاعی سازو سامان کی پاکستان کو فروخت کی راہ میں رکاوٹیں دور ہوگئیں تو بھی وہ پاکستان کو فراہم نہ کیے جاسکے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری ۲۰۱۸ میں پاکستان کو سلامتی کے ضمن میں معاونت کی تمام اشکال معطل کردی تھیں۔

 جہاں تک ان فوائد کا تعلق ہے جو ایم این این اے کا درجہ رکھنے والی ایک ریاست کو متعلقہ امریکہ قوانین دیتے ہیں، طویل عرصے سے پاکستان کو بہت معمولی مقدار میں فائدہ ہوا ہے۔ دوسرے رخ سے دیکھا جائے تو اگر پاکستان ایم این این اے کی حیثیت کھو دیتا تو بھی صدر اوباما کی آمد کے بعد سے، یا یہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ ”دی انہانسڈ پارٹنرشپ ود پاکستان ایکٹ آف ۲۰۰۹“  کے بعد سے، پاکستان کے لیے عملی سطح پر کچھ زیادہ تبدیل نہ ہوا ہوتا۔ پاکستان پر پابندیاں لگانے کیلئے مجوزہ بل ایک علیحدہ معاملہ ہے جو تعلقات کیلیے خطرہ ہے۔

لیکن وسیع تر معنوں میں اگر فقط یہ علامتیں تک قربان کی جاتی ہیں تو بھی یہ دونوں فریقوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، دونوں میں سے کوئی بھی ایسی پیش رفت نہیں چاہتا ہے اور خاص کر پاکستان تو بالکل بھی نہیں چاہتا۔ اس موقع پر مسئلے کا تعلق دو امور سے ہے: امریکی داخلی سیاست، جہاں ریپبلکنز بائیڈن کے لیے زندگی مشکل بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، اور پاکستان کا روایتی حریف بھارت جو اپنی موجودہ دائیں بازوں کی حکومت کے تحت جب جب اور جہاں جہاں بھی موقع ملے پاکستان کیلئے سفارتی میدان کو تنگ کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کے وزیر خارجہ کا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے بیان اسی کی ایک مثال ہے۔

 دو طرح کے طریقہِ عمل موجود ہیں: یا تو تعلقات بہتر ہو جاتے ہیں، یا پھر یہ اسی طرح گھسٹتے رہتے ہیں جہاں دونوں حسبِ ضرورت روابط رکھتے ہیں۔ پہلی صورتحال بلاشبہ پسندیدہ ہے؛ دوسری زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ لیکن پاکستان پر پابندیاں عائد کرنا یا ایم این این اے کا درجہ ختم کرنا کسی صورت بھی سود مند نہیں ہے۔


Ejaz Haider is a Pakistani journalist with interest in security and foreign policies. He tweets @ejazhaider
.

***

This article has been translated from an earlier piece in English, click here to read this article in English.

Image 1: Robert Sullivan via Flickr

Image 2: Robert Sullivan via Flickr

Share this:  

Related articles

بھارت میں ۲۰۲۱ کا جائزہ: اختلاف رائے کو دبانے کا ایک اور سال Hindi & Urdu

بھارت میں ۲۰۲۱ کا جائزہ: اختلاف رائے کو دبانے کا ایک اور سال

۲۰۲۱ کے سیاسی منظرنامے پر بھارت ایک بار پھر وہیں…

جنوبی ایشیا میں سائبر سیکیورٹی کے لیے دوطرفہ لائحہ عمل کی تشکیل Hindi & Urdu

جنوبی ایشیا میں سائبر سیکیورٹی کے لیے دوطرفہ لائحہ عمل کی تشکیل

۲۰۱۹ میں کونڈکلم میں واقع بھارت کے سب سے بڑے…

کیا بھارت جوہری میدان میں بڑھتے سائبر سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے؟ Hindi & Urdu

کیا بھارت جوہری میدان میں بڑھتے سائبر سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹ سکتا ہے؟

دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی ڈھانچہ زیادہ پیچیدہ ہوتا جا…