Nanga-Parbat-1095×616

فروری میں جب کے-ٹو پہاڑ کو موسم سرما میں سر کرنے والے تین کوہ پیماؤں کی جان بچانے کے لیے آپریشن کی خبریں آن لائن پھیلیں تو اس نے پاکستان کے حوالے سے ایک اہم رخ کو بھی نمایاں کیا: پاکستان میں دستیاب کوہ پیمائی کے مواقعوں کا کم استعمال اور سیاحت میں موجود وہ بھرپور صلاحیت جو پاکستان کے بارے میں دنیا کے خیالات کو تبدیل کرسکتی ہے۔

 گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان کے بارے میں بین الاقوامی خیالات میں اگرچہ اس کے دہشت گردی سے تعلقات پر ہی زور دیا گیا ہے تاہم ملک کی سلامتی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوچکی ہے۔ سیاحت کی صنعت اور ثقافتی ڈپلومیسی میں سرمایہ کاری اسکے مثبت سمت میں جاری سفر کو ظاہر کرتی ہیں۔ باوجودیکہ بعض واقعات جیسا کہ تحریک لبیک کے حالیہ احتجاج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انتہا پسندی کا وجود ابھی باقی ہے، سیاحت میں مزید سرمایہ کاری سے وسائل کا منافع بخش انداز میں استعمال اور پاکستان میں سلامتی کی بہتر ہوتی صورتحال کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی، دونوں کام ہوسکتے ہیں۔ متعدد اعتبار سے رنگارنگ ثقافت کا حامل ایک روادار ملک کی حیثیت سے پاکستان کا تشخص اجاگر کرنے کے ضمن میں یہ ایک اہم قدم ہے۔

غیرمتوقع طور پر سیاحت معاشی پیداوار کا باعث بھی ہوتی ہے۔ یہ محصول اکھٹا کرنے اور نوکریوں کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ سیاحت میں چھپے ممکنہ فوائد کا محض اسی وقت مکمل ادراک ہوسکتا ہے جب اس کے ڈھانچے میں موجود رکاوٹوں سے پوری طرح نمٹ لیا جائے۔ پاکستان میں حکام کو محفوظ اور پائیدار سیاحت کو یقینی بنانے کے لیے ویزہ پالیسیوں میں نرمی، سیاحتی مواقعوں میں اضافے کیلئے تربیت متعارف کرنے اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

نئے بیانیے: بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی حیثیت پر سیاحت کے اثرات

سیاحت، پاکستان کی ثقافتی رنگینی اور اس کی بہتر ہوتی سلامتی صورتحال کی جانب عالمی توجہ مبذول کروانے میں مدد دیتی ہے۔ کوہ پیمائی سے متعلقہ دو واقعات کو اگر مقابل رکھا جائے تو یہ رجحان واضح دکھائی دیتا ہے۔ ۲۰۱۳ میں، ایک عسکری گروہ نے نانگا پربت بیس کیمپ میں ۱۰ غیرملکی کوہ پیماؤں کو قتل کردیا تھا جس نے بین الاقوامی خبروں میں پاکستان میں دہشت گردی کو نمایاں طور پر پیش کیا۔ اس کے نتیجے میں مہمات کی تعداد یکدم زمین بوس ہوگئی کیونکہ حتیٰ کہ سال بعد بھی مقبول رائے عامہ پاکستان کے غیرمحفوظ ہونے پر مبنی تھی۔

اس کے برعکس، رواں برس فروری میں کوہ پیمائی میں پیش آنے والا واقعہ اگرچہ اندوہناک تھا تاہم اس نے پاکستان کے بین الاقوامی تشخص میں مثبت کردار کیا۔ ذرائع ابلاغ کی سرخیاں اس تبدیلی کی عکاس ہیں۔ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور دو غیرملکی کوہ پیماؤں کی کے-ٹو سر کرتے ہوئے گمشدگی کی خبر سے انٹرنیٹ بھر گیا۔ بین الاقوامی کوہ پیماؤں جیسا کہ منگما شرپا نے سدپارہ کو دنیا کا بہترین پاکستانی کوہ پیما قرار دیا اور پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر نے ٹوئٹ کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا۔ پاکستان نے سدپارہ کو ایک قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا، ایسے میں اس واقعے نے بطور پرکشش سیاحتی مقام پاکستان کے تشخص کو بڑھاوا دینے میں مدد دی۔

کوہ پیمائی کے علاوہ مذہبی سیاحت بھی  پاکستان کے لیے اپنی عالمی شہرت بہتر بنانے میں محرک کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال بھارت میں مقیم سکھ برادری کے لیے کرتارپور راہداری کا کھولے جانا ہے تاکہ وہ اپنے مقدس ترین مقامات میں سے ایک اور پاکستان میں واقع گرونانک کے گردوارہ دربارہ صاحب آسکیں۔ اسے کھولنے پرردعمل میں سابق  بھارتی کرکٹر و موجودہ سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے دلوں کو جیت لیا ہے۔“ بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کی ویڈیوز محبت، امن اور پاکستان کی میزبانی کا پیغام دوہراتی دکھائی دیں۔

مذہبی سیاحت، رائے عامہ میں تبدیلی کے علاوہ مشترکہ ثقافتی ورثے کے لیے وسعت قلبی کی عکاسی کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو بھی بہتر بناتی ہے۔ حالیہ پاکستان سری لنکا دوطرفہ دورے میں پاکستان نے ملک میں واقع قدیم بدھ ورثے کے حامل مقامات کے دورے کی سری لنکن عوام کو اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی، اس قدم کو سری لنکن وزیراعظم نے بھی سراہا۔ سیاحت کے ذریعے سفارتی تعلقات کو گہرا بنانے کا عمل متحد اور ترقی کرتے پاکستان کے تشخص کو بڑھاوا دینے میں سیاحت کے کردار کو دوچند کردیتا ہے۔

پاکستان کی معیشت پر سیاحت کا اثرورسوخ

بیانیے ترتیب دینے کے علاوہ کرتارپور اور کوہ پیمائی سے جڑی سیاحت ملکی فضا میں وہ ہلچل پیدا کرتی ہے جو معاشی پیداوار کو فروغ دیتی ہے۔ تیزی سے پھلتی پھولتی سیاحت غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری کے ذریعے نوکریوں اور محصولات میں اضافے کا روپ دھارتی ہے۔ ریونیو  کے ضمن میں کرتارپور راہداری کے ذریعے سالانہ ۳۶ ملین ڈالر براہ راست آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ کرتارپور راہداری کے ذریعے گردوارہ آنے والے ہربھارتی یاتری کے لیے ۲۰ ڈالر سروس چارجز طے کیے گئے ہیں۔

یہ پھلتی پھولتی معاشی سرگرمی خطے میں اجناس اور خدمات پر بھی اسی تناسب سے اثرانداز ہوئی ہے۔ خاص کر شمالی پاکستان کے سیاحتی مقامات  جہاں مقامی سطح پر ریونیو کا انحصار سیاحتی سرگرمیوں پر ہے،  اس کے حوالے سے یہ خاص کر اہمیت رکھتا ہے۔ ایک رپورٹ سے ظاہر ہوا ہے کہ  اگر ایک شخص ایک سفر میں اوسطاً ۱.۳۰ ڈالر خرچ کرتا ہے تو اس طرح سیاحتی صنعت میں بشمول بالواسطہ اخراجات جیسا کہ ہوٹل اور سفری سہولیات، سالانہ ۳۵۰ ملین ڈالر ریونیو اکھٹا ہوسکتا ہے۔

روزگار فراہم کرنے کا عمل بلاشبہ معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ کرتارپور راہداری کے افتتاح سے قبل مرمتی کام کے لیے سینکڑوں مزدور بھرتی کیے گئے۔ جس مقام پر سرگرمی جاری ہو وہاں مقامی آبادی کے لیے مستقل روزگار کے موقع پیدا ہوتے ہیں۔ کوہ پیمائی کی دنیا میں سامان اٹھانے والے مزدوروں کی نوکریاں مقامی آبادی کے لیے مدد دیتی ہیں، خاص کر ایسے میں کہ جب شمالی پاکستان میں روزگار کے مواقع محدود ہیں۔

ان سب کے علاوہ سیاحت کے ذریعے پاکستان میں محفوظ مواقعوں کی تشہیر غیرملکی سرمایہ داروں کے سامنے مثبت تشخص کو فروغ دیتی ہے۔  غیرملکی سرمایہ دار پاکستان میں سلامتی کی ابتر صورتحال اور سرکاری سطح پر دہشتگردی کی حمایت کی شہرت رکھنے کے سبب عرصے سے یہاں سرمایہ کاری میں ہچکچاتے رہے ہیں۔ غیرملکی سرمایہ  کاری کی توجہ حاصل کرنے میں اگرچہ آزمائشوں کا لامتناہی سلسلہ درپیش ہے جس میں کاروباری ماحول اور ٹیکسوں کی صورتحال شامل ہیں، تاہم  سلامتی کے اعتبار سے محفوظ ماحول سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے طویل سفر میں ایک قدم ہوسکتا ہے۔ مثلاً یہ اسلام آباد کے لیے برٹش ایئرویز کی پروازوں کی بحالی سے ظاہر ہوتا ہے، جو کہ میریٹ ہوٹل میں بم دھماکوں کے بعد معطل ہوگئی تھیں۔

دو دھاری تلوار

 سیاحت جہاں پاکستان کا تشخص نئے سرے سے بیان کرنے اور معاشی پیداوار میں اضافے کا ذریعہ ہوسکتی ہے، وہیں بعض ادارہ جاتی رکاوٹیں ایسی ہیں جن سے اگر نہ نمٹا گیا تو یہ پاکستان کی شہرت کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ایک جانے مانے کوہ پیما ہونے کے باوجود، اس فروری علی سدپارہ سپانسرشپ نہ ہونے کی وجہ سے محض بلندی پر سامان اٹھانے والے ایک مزدور کے طور پر کے-ٹو سرکررہے تھے۔ اس سے سیاحتی صنعت سے جڑی مقامی آبادی کو درپیش معاشی رکاوٹوں اور پیشہ وارانہ تربیت کی کمی ابھر کے سامنے آئی ہے۔ بہت سارے مزدور پہاڑ سر کرنے کے لیے موزوں لباس یا پہاڑوں پر چڑھنے کی پیشہ وارانہ تربیت کے بغیر ہی خطرناک چوٹیوں پر چڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے جہاں غیرملکی سیاحوں کے لیے ویزہ پالیسیوں میں نرمی کی ہے، وہیں کوہ پیمائی کے ماہرین یہ دلیل دیتے ہیں کہ غیرملکیوں کے لیے کوہ پیمائی کا اجازت نامہ حاصل کرنا اب بھی بے حد طویل وقت لینے والا مرحلہ ہے۔

اگر پاکستان مقامی آبادی کے لیے نوکریوں کے بہتر مواقع اور اپنے بین الاقوامی تشخص کو بہتر بنانے کیلئے کوہ پیمائی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے ویزے اور تربیت کے لیے پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی۔ مثال کے طور پر سیاحت کے بارے میں مقامی سطح پرماہرانہ تربیت سیاحتی شعبے میں وسعت کے لیے درکار پیشگی شرائط کو یقینی بنائے گی۔ ویزہ پالیسیوں میں نرمی مزید کوہ پیماؤں کو پاکستان آنے کا موقع دے گی اور جواباً یہ غیرملکیوں کی رائے کو تبدیل کرنے میں مدد دے گی۔ اگر مناسب تربیتی منصوبے موجود ہوں تو ایسے میں پاکستان مقامی  و غیرملکی کوہ پیماؤں کے لیے غیرسرشدہ چوٹیوں کے لیے مہمات کی میزبانی کے ذریعے کوہ پیمائی سے جڑی سیاحت کو وسعت دے سکتا ہے نیز کوہ پیمائی کے مرکز کی حیثیت سے ملک کو شہرت دلوا سکتا ہے۔

کووڈ ۱۹ کی وجہ سے سیاحت کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور نئی قسم کی انتظامی روایات انتہائی ناگزیر ہیں۔ مثال کے طور پر ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل طریقہ کار محفوظ روابط کو یقینی بنا سکتا ہے۔ حکومت سیاحتی مقامات میں خدمات کی فراہمی کے لیے پہلے سے دستیاب بذریعہ موبائل ادائیگیوں کے نظام جیسا کہ جاز کیش سے تعاون کرسکتی ہے۔ اس سب کے باوجود اگر انتہاپسند نظریات سے رابطے قائم رہتے ہیں تو ایسے میں تن تنہا سیاحت بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ سیاحت میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ حکومت کو خود پر لگی دہشتگردی کی حمایت کی چھاپ سے پیچھا چھڑانے کے لیے درپردہ موجود مسائل بشمول غربت اور محرومی جو انتہاپسندی کا باعث بنتے ہیں، ان سے نمٹنا ہوگا۔

عالمی برادری لامحالہ پاکستان کو دہشتگردی سے اس کے تعلق کی عینک سے دیکھتی ہے، ایسے میں سیاحت کے لیے وسائل کی تخصیص ملک میں سلامتی کی بہتر صورتحال کی ترویج میں مدد دے سکتی ہے۔ کرتارپور اور دیگر ثقافتی سفارت کاری پیش رفتیں پاکستان کے رنگارنگ مذہبی و ثقافتی ورثے کو نمایاں کرتی ہیں۔ اسی طرح علی سدپارہ کی زندگی کی کہانی بھی غیرملکی شہریوں کی ان متاثرکن کہانیوں سے ملتی جلتی ہے جو لاکھوں پاکستانیوں تک پہنچتی رہتی ہیں۔ رائے عامہ میں بہتری بھی معاشی پیداوار، نوکریوں کے بڑھتے ہوئے مواقع اور سیاحتی ریونیو میں اضافے میں تبدیل ہوتی ہے۔ معاشی و سفارتی فوائد سے فیضیاب ہونے کا سلسلہ جاری رکھنےکے لیے حکومت کو سیاحتی صنعت میں بھرپور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے نیز اسے نئی تعمیرات کرنی چاہییں جو مزید ترقی کو ممکن بنائے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Marc Ewert via Flickr

Image 2: Imran Khan via Twitter

Share this:  

Related articles

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث Hindi & Urdu

پاکستان اور جوہری احتراز پر بڑھتی ہوئی بحث

پاکستان اور بھارت نے ۱۹۹۸ میں جوہری تجربوں کے بعد…

ہاٹ ٹیک: فلسطین میں بحران کے بارے میں ہم ہندوستان اور پاکستان کی عوامی ردعمل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ Hindi & Urdu
پاک فوج میں ارتقاء اور تسلسل: دی کوئٹہ ایکسپیریئنس کا جائزہ Hindi & Urdu

پاک فوج میں ارتقاء اور تسلسل: دی کوئٹہ ایکسپیریئنس کا جائزہ

کرنل (ریٹائرڈ) ڈیوڈ او اسمتھ اپنی کتاب ”دی کوئٹہ ایکسپیریئنس:…