پی پی پی ۱۸ویں ترمیم کے خاتمے سے خوفزدہ کیوں؟


حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) اس وقت شہہ سرخیوں کا حصہ بنی جب اس نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ آئین پاکستان میں ۱۸ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے منصوبہ بندی کررہی ہے۔ ۲۰۱۰ میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں منظور ہونے والی اس ترمیم کا بنیادی مقصد آئین کو اسکی اصل شکل میں بحال کرنا تھا جس شکل میں ۱۹۷۳ میں اسی جماعت نے اسے تیار کیا تھا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اگرچہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ وہ ترمیم کے خاتمے کے خواہشمند نہیں تاہم پی پی پی کا دعویٰ ہے کہ ۱۸ویں ترمیم کے خاتمے کے ذریعے سے صدارتی نظام کو لانے کا منصوبہ زیر غور ہونے کے اشارے ملے ہیں۔

 چونکہ ۱۸ویں ترمیم کے بارے میں یہ بحث قومی ادارہ برائے احتساب ( نیب) کی جانب سے پی پی پی کی قیادت کے خلاف جعلی اکائونٹس کیس کے موقع پر چھڑی ہے، اس لئے کچھ نقاد یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ پی پی پی کی ۱۸ویں ترمیم کے حق میں مہم عوام کی توجہ ہٹانے کی چال ہے۔ کرپشن کے حالیہ چارجز ممکنہ طور پر پی پی پی قیادت کی فی الوقت نیندیں اڑانے کا سبب ہوسکتے ہیں تاہم ۱۸ویں ترمیم کے زوروشور سے دفاع کی وجہ ایک اور ہے: یہ پی پی پی کو سندھ میں اس کی حکومت کے ذریعے سے معاشی اور قانونی طور پر بڑی خودمختاری دیتی ہے۔

ترمیم سے جڑا تنازعہ

یہ ترمیم پاکستان کے آئین میں کی گئی طویل ترین ترمیم ہے: اس کے نتیجے میں آئین میں ۱۰۲ تبدیلیاں آئی ہیں۔ اس قدر وسیع پیمانے پر تبدیلی کی لئے تمام سیاسی شراکت داروں کی  کوششیں درکار تھیں۔ اسی لئے پارلیمانی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات، جس نے ترمیم کا مسودہ تیار کیا، اس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی۔ کمیٹی کوسول سوسائٹی کے ۹۸۶ منصوبوں پر بحث کرنے اورتمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے رائے اور منظوری حاصل کرنے میں نو ماہ کا وقت لگا۔ یہ ترمیم اس وقت کی قومی اسمبلی کی تمام ۱۷ پارلیمانی جماعتوں کے باہم اتفاق سے پاس ہوئی۔ اس کے باوجود ۲۰۱۰ میں قومی اسمبلی کی جانب سے اسے قبول کئے جانے کے  بعد  جلد ہی ۱۸ویں ترمیم پر تنازعات شروع ہوگئے۔

اس ترمیم پر بحث کا مرکزی نکتہ ایک ہے:  مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل اور قانون سازی کے اختیارات کی تقسیم۔ ۱۸ویں ترمیم پر تنقید کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس نے” صوبوں کو طاقتور بنائے بغیر ہی مرکز کو کمزور کردیا ہے”۔ نقاد یہ دلیل دیتے ہیں کہ صوبوں کے پاس نئی ذمہ داریاں اٹھانے کیلئے درکار وسائل اور صلاحیت نہیں ہے۔ بعض یہ دلیل دیتے ہیں کہ انتقال اختیارات اتنا اچانک تھا کہ اس کے نتیجے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہوگئی جس سے ابہام اور مساوی حکومت تیار ہوگئی۔

پی پی پی کی قیادت اس تمام تنقید کو مسترد کرتی ہے۔ ان کے خیال میں یہ تنازعہ ملک کی جمہوری قوتوں کو قابو میں کرنے کی ایک سازش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے پاس ۱۸ویں ترمیم کے نتیجے میں ملنے والی ذمہ داریوں کو نبھانے کی خواہش اور  صلاحیت دونوں ہیں لیکن وہ مرکز کی جانب سے نئے اختیارات اور وسائل صوبوں کو منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس پر بھی مصر ہے کہ پی پی پی قیادت کے خلاف جعلی اکائونٹس کیس میں عائد الزامات بھی اس “بڑےمنصوبے” کا حصہ ہیں جس کا مقصد پارٹی کو ۱۸ویں ترمیم کی حمایت سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہے۔

پی پی پی کا ۱۸ویں ترمیم سے تعلق

چونکہ ۱۸ویں ترمیم کی مرکزی معمار پی پی پی تھی،اس دستاویز کی جڑیں پارٹی کی تاریخ میں اتری ہوئی ہیں۔ ۱۹۶۷ میں اپنے قیام سے تاحال تک پارٹی میں دو بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور دونوں کا ۱۸ویں ترمیم سے تعلق ہے۔

سب سے پہلے تو یہ کہ پی پی پی کے اندر اسٹیبلشمنٹ مخالف جذبات میں شدت وقت کے ساتھ ساتھ آئی ہے۔  پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے اپنا کیریئر اسٹیبلشمنٹ کے حامی کے طور پر شروع کیا، فوجی آمر  جنرل ایوب خان نے ان کی سیاسی تربیت کی۔ ۱۹۶۶ میں ایوب کیمپ سے اختلافات ہونے پر بھٹو نے ۱۹۶۷ میں اپنے ہم خیال بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں کے ہمراہ پی پی پی قائم کی۔

اپنے قیام کے وقت پی پی پی نمایاں طور پر ایک اسٹیبلشمنٹ مخالف پلیٹ فارم تھا اور بحالی جمہوریت کی تحریک کے دوران بھٹو نے فوجی آمروں پر لاتعداد بہتان باندھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جب ۱۹۷۱ کے انتخابات کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ مشرقی پاکستان میں سیٹوں کے حصول میں ناکامی کے باعث وہ نئی حکومت کی قیادت نہیں کریں گے تو بھٹو نے ایک بار پھر موقف بدل لیا اور اسٹیبلشمنٹ کے حامی دھڑے میں واپس آگئے۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد بھٹو نے اپنے فیصلوں کی روشنی میں موقف بدلنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی ضرورت کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یا مخالفت کرتے رہے۔ اگرچہ بہت سے یہ یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے فوج اور عدلیہ کی طاقت کو قابو میں کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم وہ سیاسی قوتوں کیلئے بھی یکساں سخت تھے۔

پی پی پی میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف فیصلہ کن تبدیلی ایک اور فوجی آمریت کے دور میں بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد آئی جس سے قدرتی طور پر جماعت کا  فوج مخالف سیاست کی جانب جھکاؤ ہوگیا۔ فوج کیلئے نفرت میں ۲۰۰۷ میں بھٹو کی صاحبزادی اور پی پی پی کیلئے انکی جانشین بینظیر بھٹو کے مارے جانے کے بعد مزید شدت آگئی، جیسا کہ پارٹی  نے اس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف پر قتل کا الزام لگایا۔ ۲۰۰۸ میں ووٹوں کے ذریعے اقتدار میں واپسی اور قومی اسمبلی تک رسائی کے بعد پارٹی قیادت کی جانب سے مرکز میں فوج کی حمایت یافتہ قوتوں کو کمزور کرنے کیلئے کوشش قدرتی امر تھا۔  درحقیقت، ۱۸ویں ترمیم کو فوجی حکومت کے خلاف ان کی اعلانیہ پالیسی “جمہوریت بہترین انتقام ہے”  کی علامت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

پی پی پی کی ماند پڑتی شہرت

جماعت میں دوسری تبدیلی زیادہ اہم ہے۔۷۰ کے عشرے میں چاروں صوبوں میں نمایاں ووٹ بنک رکھنے والی دائیں بازو کی مرکزی جماعت کی شہرت اب سکڑ کے صوبہ سندھ تک محدود ہوچکی ہے۔ ۲۰۰۸کے انتخابات اس تبدیلی کا نشان تھے۔  پی پی پی نے اگرچہ اپنے روایتی گڑھ سندھ سے ۵۰ فیصد تک جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، یہ پنجاب میں ۱۴۸ میں سے فقط ۴۵، اب خیبر پختونخواہ (کے پی کے) کہلانے والے صوبے میں ۳۵ میں سے ۱۰ ، بلوچستان میں ۱۴ میں سے ۴ نشستیں حاصل جبکہ فاٹا اوروفاقی دارالحکومت میں ایک نشست بھی حاصل نہیں کر سکی تھی۔

۱۸ویں ترمیم کے بعد ہونے والے دو انتخابات میں سندھ میں پی پی پی کے مضبوط گڑھ اور ملک کے دیگر حصوں میں اس کی مقبولیت میں کمی واضح ہوچکی ہے۔ ۲۰۱۸کے انتخابات میں جماعت پنجاب میں صرف ۶ اور کے پی کے میں ایک نشست حاصل کرسکی تھی۔ سندھ میں البتہ اس نے واضح اکثریت حاصل کی تھی جس کے نتیجے میں یہ کسی دوسری جماعت کی حمایت کے بغیر حکومت بنانے کے قابل ہوئی۔ دوسرے صوبوں میں چونکہ جماعت کے دوبارہ مضبوط ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ہے، ایسے میں وسائل تک رسائی کیلئے جماعت کو سندھ پر ہی تکیہ کرنا ہو گا۔

۱۸ویں ترمیم پی پی پی کی وسائل تک رسائی اور بطور مقننہ کردار کو تحفظ دیتی ہے- حتیٰ کہ اگرجماعت مقبول قومی پلیٹ فارم کے طور پر اپنے تشخص کو دوبارہ حاصل نہیں کرپاتی تب بھی۔ مزید براں کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد پی پی پی اور دیگر صوبائی جماعتوں کو متعدد ایسے قانونی معاملات میں A-۳اختیارات حاصل ہوچکے ہیں جو ماضی میں وفاقی حکومت کے قابو میں تھے۔ آرٹیکل۱۶۰ میں شق  کے متعارف کروائے جانے سے، پی پی پی نے اس  امر کومزید یقینی بنا لیا ہے  کہ اس کا ریونیو موجودہ فیصد سے نیچے ہرگز نہ جائے  اور ووٹ دہندگان سے براہ راست جڑے معاملات تعلیم اور صحت پر صوبائی سطح پر اختیار سے جماعت کو اپنے حامیوں سے جڑے رہنے اور ووٹوں کا حصول کا زیادہ بہتر موقع میئسر آچکا ہے۔ اسے کھونا جماعت کیلئے مہلک ہوسکتا ہے جو کہ حال ہی میں ہونے والے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ صوبائی جماعت بن چکی ہے۔

بقا کا سوال

جمہوری انتقام کا راگ اگرچہ اچھی سہہ سرخیاں بناتا ہے، پی پی پی کی ۱۸ویں ترمیم کے حوالے سے حساسیت کو محض اسی پر نہیں جوڑا جاسکتا ہے۔ ۱۸ویں ترمیم کے ذریعے حاصل شدہ صوبائی خودمختاری پی پی پی کی بقا کیلئے لازم ہے۔ جماعت ۱۸ویں ترمیم کے ذریعے حاصل کی گئی قانونی طاقت اور وسائل تک رسائی کو کھونے کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔

پی پی پی کی بقا کیلئے صوبائی خودمختاری کے معاملے کی اہمیت کو اگر ماضی میں انکے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات کے ساتھ ملا کے دیکھا جائے تو پی پی پی کے خدشات بے بنیاد نہیں۔ جماعت کا اسٹیبلشمنٹ پر اس الزام کہ وہ ۱۸ویں ترمیم کو ختم کرنے کیلئے منصوبہ بندی کررہی ہے، کے تانے بانے ماضی میں جماعت کے فوجی آمریت کے ساتھ تلخ تجربات سے جڑے ہیں۔ اس کا واحد حل قانون کی حکمرانی اور ہر کسی- صوبائی اور وفاقی حکومت، اور اسی طرح سیاسی، عدالتی اور فوجی اداروں کیلئے احتساب کی روایت میں ہے۔ تاہم  شائد پی پی پی قیادت کے سر پر لٹکتے کرپشن کے آئے روز بڑھتے ہوئے الزامات کے باعث ۱۸ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے حکومتی چالوں کی شکایت پراس کی شنوائی نہ ہوسکے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Shahzeb Younas via Flickr

Image 2: Keystone via Getty Images

Posted in , Civil-Military Relations, Corruption, democracy, Elections, Military, Pakistan, Politics

Fizza Batool

Fizza Batool

Fizza Batool is a Senior Research Fellow in Centre for Peace, Security and Developmental Studies (CPSD) - a non-profit policy think tank in Karachi. She is also a doctoral candidate in the Department of International Relations, University of Karachi. Her doctoral research involves the identification of factors contributing to political participation in illiberal democracies. She has over seven years of experience in the field of research and publications. Her main research interests include Political Participation, Voting Behavior, and Comparative Politics.

Read more


Continue Reading




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *