کارگل کے بیس برس بعد؛ پاکستان کی ابدی میراث

 

سال رواں میں پاکستان اور بھارت کے مابین ۱۹۹۹ میں ہونے والے کارگل تنازعے کو رونما ہوئے دو دہائیاں پوری ہوئیں۔ ایٹمی تجربوں کے بعد صورتحال کو یسکر بدل دینے والا کارگل کے اس واقعے نے سرد جنگ کے اس عام مفروضے کو رد کردیا کہ جوہری اسلحے سے لیس ریاستوں کے درمیان روایتی لڑائی نہیں ہوسکتی۔  مختصراً ، پاکستان کی ناردرن لائٹ انفنٹری دستے نے ریاست جموں اور کشمیر کے ایک چھوٹے قصبے کارگل کی اوپر کی بلندیوں پر قبضہ کرلیا ، جس کے نتیجے میں ایک مختصر جنگ ہوئی جس کے بعد آخر کار واپس پرانی حالت بحال ہوگئی۔ کارگل کے دوران پاکستانی کردار نے ملک کی اندرونی سیاسی حرکیات، پاک بھارت تعلقات کی سمت اور عالمی برادری میں پاکستانی تشخص کے حوالے سے ہمیشہ کیلئے میراث چھوڑی ہے۔

دورانِ بحران پاکستانی رویہ

 کارگل تنازعہ پاکستان کی سول حکومت اور فوجی قیادت کے مابین روابط میں کٹاؤ کی وجہ سے سامنے آیا۔ اس وقت کے پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی نے۱۹۹۸ میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی تجویز دی تھی۔ ٹھیک اسی وقت، پاکستان آرمی کے مٹھی بھر جرنیل ، منتخب سول قیادت کی جانب سے آگے بڑھائی جانے والی جارحیت میں کمی کی پالیسی کی وجہ سے پریشانی کا شکار تھے۔ آپریشن میگھدھوت جس کے نتیجے میں بھارت نے ۱۹۸۴ میں سیاچن گلیشیئر پر قبضہ کیا ، اس کے سبب برانگیختہ چار پاکستانی جرنیلوں نے ایک منصوبے پر کام شروع کیا۔ فوج نے ماضی کے رہنمائوں ( بالخصوص جنرل ضیاء الحق اور وزیراعظم بینظیر بھٹو) کو ۱۹۸۰ اور ۱۹۹۰ کی دہائی میں کارگل کے علاقے میں چپکے سے داخلے کیلئے  ملتے جلتے منصوبے پیش کئے تھے۔ تاہم تب منصوبوں کو کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھا گیا تھا، اور بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں حملے کے بلیو پرنٹ کا اکتوبر ۱۹۹۸ میں پرویزمشرف کی بطور چیف آف آرمی سٹاف تعیناتی کے وقت دوبارہ جائزہ لیا گیا۔  مشرف اور جرنیلوں نے اپنے آپریشن کو “کوہ پیما” کا نام دیا اور اس کے ذریعے سیاچن واقعے کا بدلہ لینے، کشمیر میں دم توڑتی مزاحمت کو بحال کرنے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا سوچا۔

سول حکومت کی خارجہ پالیسی، دیگر سینیئر آرمی کمانڈرز حتٰی کہ ممکنہ طور پر نواز شریف ۔۔۔ جن کے بارے میں پاکستانی صحافی اعجاز حیدر لکھتے ہیں کہ انہیں چار جرنیلوں نے دھوکے بازی پر مبنی بریفنگ دی ۔۔۔ کو بھی بے خبر رکھتے ہوئے پاکستانی سپاہی اکتوبر۱۹۹۸ میں جس وقت حکومت لاہور میں تاریخی پاک بھارت معاہدے کی منصوبہ بندی کررہی تھی،  لائن آف کنٹرول ( ایل او سی) کے ساتھ ساتھ کارگل کی چوٹیوں پر چڑھ رہے تھے۔  نسیم زہرہ کی ۲۰۱۸ کی کتاب “فرام کارگل ٹو دی کو” کے مطابق آپریشن سے جڑے خطرات اور اس کی وسعت کے بارے میں بظاہر حکومت پاکستان ۱۷ مئی ۱۹۹۹ تک لاعلم تھی، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی- لڑائی پہلے ہی شروع ہوچکی تھی اور سپاہ  کی خاموشی یا آسانی کے ساتھ واپسی ممکن نہ تھی۔

 آپریشن کے وقت بھارتی حکام نے اندازہ لگایا کہ درانداز مجاہدین ہیں۔ تاہم جلد ہی یہ واضح ہوگیا کہ دراندازی کرنے والی قوت سول مزاحمت کار نہیں بلکہ تمام این ایل آئی کے دستوں پر مبنی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے مجاہدین کی فرضی کہانی کا استعمال جاری رہا تاکہ بھارت کویہ یقین دلایا جاسکے کہ یہی سچائی ہے۔  پاکستان کی جانب سے تنازعے کو جنم دینا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی خفیہ نوعیت، کارگل کو پاکستانی فیصلہ سازی اوربحرانی کیفیت میں اس کے رویئے کے حوالے سے دور رس نتائج کی حامل ایک کیس سٹڈی بناتا ہے۔ 

منقسم ایوان

کارگل نے پاکستان کی سول ملٹری قیادت کے مابین بدترین عدم اتفاق کو ظاہر کردیا- فیصلہ سازی کے عمل میں فاصلے کبھی اس قدر نمایاں نہیں ہوئے جتنا اس تنازعے کے دوران ہوئے۔ کارگل کی اس میراث کی جانب توجہ دلانے کا مقصد یہ بحث کرنا نہیں کہ ۱۹۹۹ میں یہ کوئی نئی بات تھی بلکہ یہ کہ اس تنازعے نے سول ملٹری تقسیم کو بدتر کردیا تھا۔ سفارتی سطح پر ناکامیوں کے تسلسل ،بشمول صدر بل کلنٹن کی جانب سے یہ مطالبہ کہ شریف “مجاہدین” کی کارگل سے غیر مشروط واپسی کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں، نے یہ تاثر پیدا کیا کہ سول قیادت، خاصر کر شریف، قومی مفاد کو ترجیح نہیں دیتے ہیں۔ کارگل کے اختتام کو مزید داغدارکردینے  والے الزام تراشی کے کھیل اور عوامی غم و غصہ، جس کے دوران ہی شریف نے فوج کے خلاف حفظ ماتقدم کے طور پر قدم اٹھایا تو انکا سامنا فوجی بغاوت سے ہوا جس کے نتیجے میں جنرل مشرف اقتدار میں آگئے۔  زمینی حقائق سے بہت پرے، شریف قربانی کا وہ بکرہ بنے جن پر سازشی ٹولے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے فوج کی جیتی ہوئی بازی پر واشنگٹن میں ” فروخت” کے ذریعے سے سمجھوتہ کیا۔  برسوں بعد ، اپنی یادداشتوں “ان دی لائن آف فائر” میں، مشرف نے اقتدار پر قبضے کیلئے اپنی وضاحت دیتے ہوئے لکھا کہ ” کارگل کے معاملے سے نمٹنے کے دوران وزیراعظم نے اپنی اوسط صلاحیتیں ظاہر کیں اور فوج اور مجھ سے ٹکراؤ کے راستے پر چل پڑے”۔

لاہور امن عمل کے موازنے میں کارگل نے یہ ظاہر کیا کہ دو ادارے ایک دوسرے کے متصادم کھڑے ہیں۔ یہ تنازعہ آج تک یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آیا سول اور ملٹری قیادت پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے مشترکہ سوچ رکھتی ہے نیز یہ پاکستان میں لنگڑی لولی فیصلہ سازی سے وابستہ خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔ کارگل کے منصوبہ سازوں نے بھارتی ردعمل کے بارے میں اصل سے کم اورعالمی برادری کی پاکستان کیلئے توقع سے بڑھ کے ہمدردی کی صورت میں انتہائی غلط اندازے لگائے۔ جیسا کہ ڈاکٹر نگین پیگاہی بیان کرتی ہیں کہ فوج نے خیال کیا کہ بھارتی دستے کشمیر میں مزاحمت سے نمٹنے کیلئے کوششوں کے باعث نڈھال ہیں، بھارت کی جانب سے ایٹمی تجربوں میں پہل کے سبب امریکہ پاکستان کی حمایت کرتا ہے ، اور یہ کہ صدر کلنٹن کو ذاتی زندگی میں درپیش ناخوشگوار صورتحال توجہ بٹانے کا سبب اور موقع سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ ہوگی۔ یہ غلط اندازے سیاسی بصیرت کا معاملہ تھے جو سویلین رائے کی شمولیت سے دور ہو سکتے تھے۔

پاک بھارت تعلقات

شریف کی جانب سے تنازعے کو اچانک پیدا کرنے میں حکومتی کردارکے اعتراف، کسی تزویراتی فائدے کے حصول کے بنا پاکستانی دستوں کی واپسی اورعالمی دباؤ نے ایک چیز کو بے حد واضح کردیا کہ  اولاً کارگل منصوبہ بندی کے مطابق کامیاب رہا لیکن اس کا اختتام تزویراتی ناکامی کے طور پر ہوا۔ کارگل کی فاش غلطی نے آئندہ دو دہائیوں میں پاک بھارت بحران کی ہئیت، سمت اور دونوں کے تعلقات کو تبدیل کردیا۔

سینیئر تجزیہ کار ایشلی ٹیلیز دلیل دیتے ہیں کہ کارگل کے بعد پاکستان کیلئے کلیدی اسباق میں سے ایک یہ تھا کہ ” (کشمیر) میں جاری مزاحمت کی حرارت کو قابو میں رکھنے کیلئے کوشش جاری رکھنا”  ہی بعد از کارگل بھارت کیخلاف حقیقت پسندی پر مبنی واحد مسلح حل تھا۔ اسی قسم کے تجزیوں نے مستقبل کے بحرانوں کے خدوخال بھی ترتیب دیئے: ۰۲-۲۰۰۱ کا ٹوئن پیک بحران اور ۲۰۰۸ کے ممبئی حملوں سمیت دیگر حملے ان انتہاپسند گروہوں کی جانب سے کئے گئے جن کی حمایت کا پاکستان پر الزام لگتا رہا ہے۔ رواں برس پلوامہ واقعے میں بھی دیکھا گیا کہ جیش محمد، پاکستان سے تعلق رکھنے والی مسلح تنظیم جس کے بارے میں مغربی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ بھارت میں موجود عسکریت پسندوں کو رقوم، افرادی قوت اور مہارت فراہم کرتی ہے، نے بھارتی زیرانتظام کشمیر کے ڈسٹرکٹ پلوامہ میں ہولناک خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

کارگل کے بعد سے پاکستان کو امریکی اور بھارتی پالیسی سازوں کی جانب سے دہشت گردوں کیلئے محفوظ پناہگاہ” ہونے کی گھٹتی بڑھتی تنقید کا سامنا ہے۔  اس سے زیادہ برا یہ ہوا کہ ، اس سے بھارت کیلئے کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کے ہوتے ہی  پورے یقین کے ساتھ  اس کا الزام پاکستانی فوج پر دھرنا آسان ہوگیا ہے، خواہ پاکستان اس کی کتنی ہی تردید کیوں نہ کرے۔ مثال کے طور پر فروری میں پلوامہ بحران سے بپھرنے کے بعد بھارت نے اعتماد کے ساتھ بالاکوٹ پر فضائی حملہ کیا باوجود اس کہ بھارت کے پاس اس میں پاکستانی افواج کے ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا، عالمی برادری کی جانب سے قابل ذکر تنقید نہیں ہوئی۔ اگرچہ حکومت حملے کروانے میں ملوث نہ بھی ہو تو بھی یہ حقیقت کہ پاکستان پر بعض مسلح پراکسیز کی معاونت کرنے کا شبہہ ہے، جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کرتی ہے اور بھارت کو عالمی برداری کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے میں مدد دیتی ہے۔ کشمیر کیلئے آج تک پریشانی کا باعث بننے والی تشدد کی لہر اور عالمی برادری کی جانب سے پاکستان پر مسلح گروہوں کیخلاف کاروائی کیلئے دباؤ کی نوعیت اس کا ثبوت ہے کہ توجہ ہٹانے کی یہ حکمت عملی بھارت کیلئے ایک کامیاب چال ثابت ہوئی ہے۔

مزید براں، کارگل کے بعد سے اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی قسم کی پیشرفت ہوئی بھی ہے تو بھی اس کی پائیداری مشکوک ہے۔ کارگل نے لاہور امن عمل کا شیرازہ بکھیر دیا تھا اور آنے والے برسوں میں ۲۰۰۸ کے ممبئی حملوںجیسے بحران نے دونوں ممالک کے درمیان اب تک کے سب سے امید افزاء امن عمل کو مزید پٹری سے اتار دیا۔  امن کیلئے کسی بھی قسم کی پیش رفت کے پس پشت ایک سوال موجود ہوتا ہے: کیا ایک اور کارگل یا حملہ ہوگا اور ملنے والی سب کامیابیوں کو سبوتاژ کردے گا؟

دنیا کی نظر میں

کارگل کے بعد امریکہ کی جانب سے بھارتی موقف کی واضح حمایت کی صورت میں بھارت امریکہ تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی آئی۔ اگرچہ محض ایک برس قبل تک برصغیر کو ایٹمی اسلحے سے لیس کرنے کے سبب بھارت کوعلاقائی پرائے کی حیثیت حاصل تھی، کارگل نے یہ شناخت پاکستان کو منتقل کردی۔ آنے والے برسوں میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی اس بحالی نے بھارت امریکہ سولین جوہری معاہدے کی صورت میں نئی منازل کو چھو لیا، حتیٰ کہ امریکہ کی جانب سے یہ عہد بھی کیا گیا کہ وہ بھارت کو عالمی قوت بننے میں مدد دے گا۔ اسی دوران امریکہ پاکستان تعلقات کی قسمت ، پاکستان کی جانب سے دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ میں تعاون کے باوجود بھی ہوا میں معلق رہی۔

خیالات کی اس تبدیلی اور کارگل کے بعد عالمی برادری میں اپنے قد کاٹھ میں کمی کے بعد پاکستان نے بین الاقوامی برادری میں اپنی تزویراتی اہمیت کو بحال کرنے اور اسے بڑھانے کیلئے اپنے دوستوں اور شراکت داروں میں وسعت کیلئے کام کیا ہے۔ پاکستان نے افغان امن عمل میں بھی اچھی طرح یہ جانتے ہوئے کہ طویل عرصے سے جاری تنازعے کے خاتمے یا مسائل طے کرنے کیلئے طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز پر  لانے میں اس ملک کا کلیدی کردار ہے، اپنے مفاد کیلئے کردار ادا کیا۔ گزشتہ کئی  ماہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بڑھتے ہوئے روابط، اہداف اور مفادات ہیں جنہیں وہ پاکستان کے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ 

حاصل کلام

۱۹۹۹ کے کارگل تنازعے پردوبارہ ڈالی گئی ایک نظر پاکستان کیلئے میراثوں کا ایک مجموعہ تخلیق کرتی ہے۔ مستقبل کی جانب بڑھتے ہوئے، پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کو بھارت کے ساتھ تعقلقات کے ضمن میں باہمی فہم اورتصور ترتیب دینا چاہئے۔ آخر میں، اگرچہ بھارت اور پاکستان کے مابین ہمیشہ سے اعتماد کا شدید فقدان رہا ہے، کارگل مسئلہ کشمیر کی شدت اورکسی بھی مہم جوئی پرمبنی رویئے کے نتیجے میں اس سے جڑی اپنی ساکھ کی قیمت کے حوالے سے یاددہانی کرواتا ہے۔

 ایڈیٹر نوٹ: یہ مضمون کارگل تنازے کے بیس برس بعد اس کی میراث اور نہ ختم ہونے والی بحث کے بارے میں ایس اے وی کے  سلسلے کا حصہ ہے۔ اس سلسلے کو یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: bm1632 via Flickr (cropped)

Image 2: AFP via Getty Images

Posted in , 20 years Kargil series, Civil-Military Relations, Foreign Policy, Geopolitics, India-Pakistan Relations, Internal Security, Kashmir, Peace, Policy, Politics, Security

Reja Younis

Reja Younis

Reja Younis is a Project Manager and Research Associate at the Project on Nuclear Issues, Center for Strategic and International Studies (CSIS) in Washington, DC. Previously, she was a Junior Fellow with the South Asia Program at the Stimson Center. She has also worked as a Research Analyst for the Chicago Project on Political Violence and served as an Editorial Writer and Subeditor of the Opinion and Editorial section for The Tribune newspaper. Her research interests include nuclear deterrence in South Asia, as well as a continued exploration of the role of leaders in contemporary politics. She completed her MA in International Relations from The University of Chicago, where she majored in International Security, International Law, and Human Rights. Her Master’s thesis examines the effect of U.S. Presidential rhetoric on media-based narratives during refugee crises. She holds a BS in Social Sciences and Liberal Arts from the Institute of Business Administration Karachi and graduated with an overall distinction and gold medal in Political Science. She is fluent in Urdu and French.

Read more


Continue Reading


Stay informed Sign up to our newsletter below





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *