26552145580_9d66c11133_o-1095×616-1

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر (جے اینڈ کے) میں انتخابات منڈلا رہے ہیں۔  پنچایت (ویلج کونسل) اور میونسپلٹی کے انتخابات اگلے سال ہونے ہیں، جبکہ بھارت کے عام انتخابات اپریل-مئی ۲۰۲۴ میں ہونے ہیں۔ لیکن جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی، جِسے خطے میں انتظامی اختیارات کاسب سے اونچا مقام حاصل ہے، ۲۰۱۸ سے تحلیل شُدہ ہے۔ علاقائی جماعتوں کی جانب سے اسمبلی انتخابات کرانے کے مسلسل اور زوردار مطالبات کامرکزی حکومت کی جانب سے مبہم وعدوں کے ساتھ جواب دیا گیا ہے۔ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسمبلی انتخابات ’’صحیح وقت پر‘‘ منعقد کئے جایئں گے۔


بہتر ہو یا بدتر، اگست ۲۰۱۹ میں آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی نے  – جس نے جموں و کشمیر کی خصوصی خود مختار حیثیت کو ختم کر کے اسے مرکز کے زیر انتظام  یونین  علاقےمیں تبدیل کر دیا – جموں و کشمیر کے سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اور فی الحال ترقی کی بحث کو خود ارادیت اور خود مختاری کی متمنی اور مُصر سیاست پر فوقیت دی گئی ہے۔  انتخابی  مقابلہ آرائی (میدان ) میں نوجوان امیدواروں کی ایک نئی کھیپ کا داخلہ، جو قانون ساز اسمبلی (ایم ایل اے) کے رکن کی مطمع نشستوں کے لئے، کہنہ سال مستحکم قانون سازوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، وادی میں تبدیلی کی ہواؤں کا اشارہ ہے۔  یہ پیش رفت جمہوری عمل کو قانونی حیثیت فراہم کرتی ہے، جسے پہلے خطے کے نوجوانوں نے بڑی حد تک مسترد کر دیا تھا۔ یہ ابھرتے ہوئے رجحانات یقینی طور پر آنے والے قانون ساز انتخابات پر ، جب بھی وہ منعقد ہوں گے، ڈرامائی اثر ڈالیں گے۔

آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی سے پہلے اور بعد میں


ایک طویل عرصے سے علیحدگی پسند تحریک نے، جسے وادی کشمیر میں کافی عوامی حمایت حاصل تھی، انتخابات کو ایک مشقِ برباد کے طور پر پیش کیا جو محض ناقابل قبول حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے کی جا رہی تھی، جبکہ مقامی منتخب قانون سازوں کا کہنا تھا کہ وہ  شہری معاملاتِ روزمرّہ  سے نمٹنے کے لئے انتخابات لڑتے ہیں۔ وہ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ انتخابات میں ان کی شرکت وسیع تر مسئلہ کشمیر پر اثر انداز نہیں ہوتی، جس سے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کو نمٹنا چاہئے، حالانکہ نئی دہلی نے اکثر ووٹرز کی بڑی تعداد کو  علیحدگی پسندوں پر فتح حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ تاہم، گزشتہ پانچ سالوں میں، جموں و کشمیر نے انتخابی سیاست میں نوجوانوں کی شرکت میں اضافہ دیکھا ہے، ایک ایسا رجحان جس نے  بظاہر وسیع  پیمانے پر سماجی قبولیت حاصل کر لی ہے۔


مستقل اور مربوط فوجی اور پولیس مہمات کے ذریعے بھارتی انسدادِ شورش نے مسلح عسکریت پسندی کو مؤثر طریقے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کا ثبوت گزشتہ تین سالوں میں تنازعات سے متعلقہ واقعات کی کم ہوتی ہوئی تعداد ہے۔ مزید برآں مرکزی حکومت نے سیاسی حقوق اور شہری آزادیوں پر قدغن لگانے کے ساتھ ساتھ آزاد میڈیا اور سول سوسائٹی کو دبا کر خطے میں غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ اس آہنی ہاتھ پالیسی نے علیحدگی پسند تحریک کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا ہے۔ ستمبر ۲۰۲۱ میں اپنے سب سے بااثر رہنما اور انتخابات میں ایک بڑے حریف سید علی گیلانی کی موت کے ساتھ ہی یہ تحریک رُوپوش ہو گئی ہے۔ اس بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں علیحدگی پسند سیاست بشمول  مہم  برائے انتخابی بائیکاٹ اور کسی بھی قِسم کے بھارت مخالف بیانات کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت فوری سزا ملتی ہے، جبکہ بھارت نواز یا یونینسٹ کارکنوں کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔


 
ہاتھ آیا موقع


آرٹیکل ۳۷۰ ے بعد کے سیاسی منظر نامے نے کشمیر کے اندر سیاسی بحث کو خود مختاری سے ہٹا کرترقی کی طرف موڑ دیا۔ اگرچہ یہ تبدیلی محدود سیاسی ماحول کے تناظر میں مقامی رہنماؤں کے لئےمحض سیاسی مصلحت ہے ، لیکن اس نے بہت سے ابھرتے ہوئے نوجوان کشمیری رہنماؤں کے لئے مواقع فراہم کئے ہیں۔ یہ اُمید وار ، حکمت و تدبیر کے تحت، بی جے پی کے “نئے کشمیر” وژن کاساتھ دے رہے ہیں، آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کی حمایت کر رہے ہیں، اور پرانی سوچ رکھنے والی جماعتوں کو ان کی  موروثی خاندان پرستی اور موقع پرستی کے لئے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

  تنسیخ 
(آرٹیکل  ۳۷۰) کے بعد،  بھارتی حکومت نے متعدد علاقائی سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا اور اسمبلی کو تحلیل رکھا،  جس سے وادی میں سیاسی خلا  پیدا ہو گیا۔ مزید برآں، بی جے پی کے آرٹیکل ۳۷۰ کی تنسیخ کے بعد کے بیانیے میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور نیشنل کانفرنس (این سی) کو خطے کے مسائل کی ذمہ دار خاندان پرست جماعتوں کے طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے موجودہ سیاسی رہنماؤں (خاص طور پر پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے سابق ایم ایل اے) اور مرکزی بیوروکریسی کے درمیان خلیج پیدا ہوئی، جس سے نئے نوجوان رہنماؤں کو ابھرنے میں مدد ملی۔


ایسے ہی ایک امیدوار شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے ۳۲ سالہ میر جنید ہیں، جنہوں نے ۳۷۰ کے بعد کے سیاسی خلا میں جموں و کشمیر ورکرز پارٹی قائم کی۔ ایسا لگتا ہے کہ ایسے بہت سے نوجوان سیاست دانوں کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی میدان میں ان کی آمد سے بھارتی حکومت کا ایک تزویراتی مقصد پورا ہوتا ہے – بی جے پی کی پالیسیوں کے مطابق کشمیر کی مرکزی دھارے کی سیاست کو نئی شکل دینا اور نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے غلبے کو کم کرنا۔ یہاں تک کہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ “ایک نیا مطیع (چاپلوس)سیاسی طبقہ” قائم کرنے کی سازش کر رہی ہے تاکہ خطے کی جبر کی سیاہی کو قلعی کی جا سکے۔

 مفتی کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں۔ جموں و کشمیر میں انتخابی مداخلت اور سیاسی جوڑ توڑ کی ایک طویل تاریخ ہے۔ لیکن مرکزی حکومت کی بڑی منصوبہ بندی جو بھی ہو، نوجوانوں نے پچھلے پانچ سالوں میں قابل ذکر موجودگی ظاہر کی ہے اور ان کا اثر و رسوخ بڑھتا رہنے کا امکان ہے۔


انتخابی میدان میں نوجوان چہرے


  پنچایت انتخابات (۲۰۱۸) اور ۲۰۲۰ کے ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) کے افتتاحی انتخابات میں، کئی نوجوان امیدواروں نے آزاد امیدواروں کے طور پر کامیابی کے ساتھ حصہ لیا اور زیادہ مستحکم پارٹی امیدواروں پر فتح حاصل کی۔ ان کی کامیابیوں نے انتخابی عمل میں نئے چہروں کے بڑھتے ہوئے اثرات کو اجاگر کیا۔ این سی اور پی ڈی پی  جیسی عظیم الجثہ علاقائی جماعتیں جہاں نوجوانوں کے لئے اب بھی قابلِ ترجیح  ہیں، وہیں کچھ نے خود کو جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس (جے کے پی سی) کے ساتھ جوڑ لیا ہے، جو ایک ایسی پارٹی ہے جو علیحدگی پسند موقف سے ہٹ کر یونینسٹ سیاست کو اپنا رہی ہے۔

نئی قائم ہونے والی جموں و کشمیر اپنی پارٹی (جے کے اے پی) اور ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (ڈی پی اے پی) بھی ان میں سے کچھ نوجوان امیدواروں کے لئے پرکشش پلیٹ فارم ثابت ہوئے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بی جے پی نے کشمیری مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی اپنی جماعت میں شمولیت کی طرف راغب کیا ہے۔ جنید جیسے نوجوان امیدواروں نے مخصوص شرائط  کے ساتھ  بی جے پی کے ساتھ ممکنہ سیاسی شراکت داری پر غور کرنے کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ بی جے پی کی حمایت انہیں انتخابی مہم کے وسائل کے لحاظ سے مسابقتی برتری اور اپنے کچھ مخالفین کو متاثر کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گی۔


نوجوان امیدواروں کو ان کے نظریات اور پارٹی وابستگیوں کے علاوہ جو چیز خاص طور پر ممتاز کرتی ہے وہ کشمیر کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں ان کا ممکنہ کردار ہے۔ آکسفورڈ سے تعلیم پانے والی افرا جان، جو ۲۰۲۱ میں نیشنل کانفرنس میں شامل ہوئیں اور ایک سال کے اندر صوبائی ترجمان اور میڈیا انچارج کے عہدے تک پہنچ گئیں، نوجوان رہنماؤں کی ایسی کھیپ کی نمائندگی کرتی ہیں جن کی ٹیکنالوجی اور مباحثے کی مہارت سیاسی برانڈنگ اور مؤثر باہمی روابط کے لئے جماعتوں کے لئے مددگار ہے۔ دوسری طرف جنید جیسے امیدوار، جن کے پاس (عوام سے متعلقہ )بنیادی سطح پر زیادہ تجربہ ہے، ووٹروں کو متحرک کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر مستحکم قانون سازوں کابراہ راست انتخابی مقابلہ  کر سکتے ہیں۔


کشمیر کے سیاسی مستقبل پر نظر


تاریخی طور پر، قانون ساز اسمبلیاں وسائل اور اثر و رسوخ رکھنے والے تجربہ کار سیاست دانوں کا دائرہ کار رہی ہیں۔ تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے ایم ایل اے کو دھکیل باہر کرنے کے بعد مقامی نمائندہ تنظیمیں آخری پلیٹ فارم بن گئے ہیں جن کے ذریعے سیاسی جماعتیں بنیادی سطح کی برادریوں  سے براہ راست رابطہ قائم کر سکتی ہیں، رائے دہندگان کی حمایت حاصل کر سکتی ہیں اور علاقے میں اپنی موجودگی کا اظہار کر سکتی ہیں۔ بلاک ڈیولپمنٹ کونسل (بی ڈی سی) اور ڈی ڈی سی جیسے مقامی شہری تنظیموں نے نوجوان رہنما امیدواروں  کے لئے ایک الگ مقام مہیا کیاہے۔


 
علاقائی جماعتیں اب ابھرتے ہوئے نوجوان رہنماؤں کے اہم کردار کو تسلیم کرتی ہیں جو نئی مہارتوں اور مسئلہ کشمیر پر ایک نئے نقطہ نظر کا استعمال کرتے ہوئے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔  اس کی ایک بڑی مثال کارگل ہل ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات میں این سی-کانگریس اتحاد کی حالیہ جیت ہے، جہاں محمد سجاد اور عاشق علی جیسے نوجوان ممبروں نے اہم کردار ادا کیا۔ کچھ نوجوان امیدوار  بی جے پی (نئی دہلی) کی حمایت سے خوش ہیں، جس سے وہ عوامی کاموں میں تیزی لانے اور مرکزی حکومت کے وسائل اور رابطوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حلقوں کی خدمت کرنے کے قابل ہیں۔


ان حلقوں میں جہاں حکومت مخالف جذبات پائے جاتے ہیں، رائے دہندگان سابقہ ایم ایل اے کو ہٹانے کے خواہاں ہیں، جس سے اُن ابھرتے ہوئے نوجوان رہنماؤں کے لئے ایک موقع  پیدا ہوتا ہے جو پہلے ہی  بنیادی سطح پر ڈی ڈی سی یا بی ڈی سی ممبروں کے طور پر کام کرکے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ اس معاملے میں ایک  ممکنہ امیدوار ترال سے تعلق رکھنے والے نوجوان رہنما منظور احمد گنائی ہیں۔ ڈی ڈی سی ممبر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے اُن کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے، اور وہ اگلے اسمبلی انتخابات میں ایم ایل اے کے عہدے کے لئے مقابلہ کرتے وقت حکومت مخالف جذبات کو بروئے کار لانے کے بارے میں پرامید ہیں۔


ماحصل یہ کہ جموں و کشمیر میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی شرکت کے کئی مضمرات ہیں۔ تعلیم اور روزگار جیسے پالیسی شعبوں میں، وہ اپنے ادراک کی بنیاد پر نئے نقطہ نظر پیش کرسکتے ہیں، جس سے خطے کی ترقی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس سے خطے کےنوجوانوں کی بڑی آبادی میں انتخابی سیاست کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی اور ممکنہ طور پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے جس سے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی۔ اس سے رائے دہندگان کی تعداد پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات  بھارت کے بیرون ملک کشمیر سے متعلقہ  بیانیے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی سیاسی مواقع نوجوانوں کی امنگوں اور شکایات کو ادارہ جاتی سیاست کی طرف راغب کرنے اور  خطے  پرگزشتہ ایک دہائی سے حاوی رہنے والی اشتعالی سیاست سے دور رکھنے کے لئے ایک اہم ذریعہ کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ اگرچہ بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ مرکزی حکومت کتنا اختیار دینے کے لئے تیار ہے، لیکن نوجوان رہنماؤں کی یہ نئی کھیپ مرکز اور ریاست کے درمیان بات چیت کی نوعیت اور لہجے پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔


ایڈیٹر کا نوٹ: یہ مضمون بنیادی طور پر ۲۰۱۷ اور ۲۰۲۳ کے درمیان بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مصنف کے فیلڈ ورک اور انٹرویوز پر مبنی ہے۔

***

Click here to read this article in English.

Image 1: Election Boycott Graffiti in Srinagar via Flickr

Image 2: First-time Voter in Jammu via Flickr

Share this: