مئی 2025 کے بھارت- پاکستان تنازعہ کے بعد، جسے بڑے پیمانے پر دونوں ایٹمی مسلح حریفوں کے مابین شدید ترین فوجی جھڑپوں میں سے ایک قرار دیا گیا، بھارت اورپاکستان دونوں اپنی اپنی فتح اور ضبط کے دعووں کے ساتھ اُبھرے۔ یہ بیانات کے ایک دلچسپ میل کا مظہر ہے جسےعموماً بھارتی اور پاکستانی داخلی بحران کی بلاغت میں نہیں دیکھا گیا۔
یہ مضمون استدلال پیش کرتا ہے کہ مئی 2025 کے بحران کو ایک بیانیاتی نقطہ نظر کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے اور اس امر کا جائزہ لیتا ہے کہ بھارت اور پاکستان نے بیانیہ اور تنازعہ کی تزویراتی طور پر منظم کردہ تفہیم اورنمائندگی کو کس طرح تنازعہ کی شدت بڑھانے اور کم کرنے میں استعمال کیا۔ سرکاری حکومتی اور فوجی پیغامات کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے یہ مضمون ان ضوابطِ کار کی تحقیق کرتا ہے جن کے ذریعے دونوں ریاستوں نے بیک وقت جبری اقدامات کو جائز قرار دیا، ضبط کا مظاہرہ کیا، معلوماتی ابہام کو ہتھیار بنایا اور متوازی فتح کے بیانیےتخلیق کیے، جن کے باعث کسی نقصان (چُھوٹ) کے بغیر مذاکراتی خروج ممکن ہو پایا۔
قبل از بحران: کارروائی کوجواز دینا
22 اپریل کوپہلگام حملے اور7 مئی کو تصادم کے آغاز کے درمیانی عرصہ میں بھارت اور پاکستان دونوں نے بحران کی توضیح کے لیے مختلف نظریات پیش کیے۔ بھارت نے اپنے اقدامات کو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے طور پر پیش کیا جو “ٹیررسٹ انفرا اسٹرکچر“(دہشت گردی کے بنیادی مراکز) اور “ٹیرر لانچ پیڈز“(دہشت گردی کا مقامِ آغاز) کو نشانہ بنا رہی تھیں، اور پہلگام حملے کو پاکستان سے تعلق رکھنے والی سرحد پار عسکریت سے جوڑا۔ اس تدبیرکا مقصد (بھارت) کے حملوں کا قانونی جواز پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں حق بجانب ثابت کرنے والا اسبابی بیانیہ بھی پیش کرنا تھا،(جس کے تحت) پاکستان اس حملے کو ممکن بنانے کا ذمہ دار تھا۔ اپنے اقدامات کو عالمی سطح پر گونجنے والے انسدادِ دہشت گردی کے بیانیےکے مطابق کرتے ہوئے بھارت نے خود کو 9/11 کے بعد کے معروف سیکیورٹی بیانیہ میں جگہ دی اور بعد میں اُٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام پر بین الاقوامی تنقید کے امکانات کو محدود کردیا۔
تدبیر کرنے کا یہ عمل بھارت کی سیکورٹی سوچ پر مبنی ہے جس نےماضی کے بحرانات کے باعث تشکیل پائی ہے۔ بھارتی سیکیورٹی کے بیانیے نے مبینہ پاکستانی عسکری سرگرمی کو سمجھنے اوراس کا جواب دینے کے لیے 1999 کے کارگل بحران سے لے کر اور 2001 کے پارلیمنٹ حملے اور 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد نئی شدت کے ساتھ سرحد پار دہشت گردی کے بیانیہ کو ایک فریم ورک (ضابطۂ عمل) کے طورپرمنظم انداز میں تیار کیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیانیہ آہستہ آہستہ زیادہ واضح طور پرسرحد پار فوجی ردعمل کی طرف منتقلی کی تائید بھی کرتا رہا، جس میں 2016 کی سرجیکل سٹرائیکس اور 2019 کی بلاکوٹ ایئر سٹرائیکس شامل ہیں۔ آپریشن سندور نے اس بیانیےکو متحرک کیا اور دہائیوں پر محیط بحران کی روایات سے استفادہ کرتے ہوئے جنہوں نے اس کے دعووں کو فہم بخشا، اسےوسعت دی۔
پاکستان کی جوابی تخلیق مختلف مگر اتنے ہی مربوط انداز میں آگے بڑھی۔ پاکستانی حکام نے بھارتی دعووں کو سیاسی تحریک اور ‘من گھڑت بہانوں‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے پہلگام سے متعلقہ شواہدی بنیاد کو مسترد کیا۔ پاکستان نے پہلگام حملے کی مشترکہ یا بین الاقوامی تحقیقات کرانے کی پیشکش کر کے اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی بھی کوشش کی۔ گوکہ بھارت کی جانب سے اس (پیشکش) کا قبول کیا جانا بعید ازقیاس تھا، تاہم اس اقدام سے پاکستان نے (اپنی) شفافیت اور معقولیت ظاہر کی ۔کچھ مخصوص حقیقی دعووں کی بھی تردید کی گئی جہاں پاکستان نےحملے کو واضح طورپرسرحد پار دہشت گردی قرار دے کر پاکستانی عناصر سے جوڑے جانے کے بھارتی دعویٰ پر اعتراض کیا۔ پاکستانی بیانیے نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ شواہد غیر حقیقی تھے، بیک وقت بھارت کے اسبابی بیانیہ کو غیر معتبر بنانے کی کوشش کی اور ساتھ ہی پاکستان کو ایک معینہ جارحیت کا شکار ظاہر کیا۔
ساتھ ہی پاکستانی بیانیے نے بھارت کے اس کے خلاف کیے گئے اقدامات کو سمجھنے کے لیے خودمختاری کو بنیادی فریم ورک (ضابطۂ عمل) کے طورپرپیش کیا۔ جہاں بھارت کے بیانیےنے دہشت گرد خطرے کی بین القومی، غیرعلاقائی فطرت پر زور دیا، وہاں پاکستان کے بیانیےنے اس خلاف ورزی کی علاقائی، خودمختار فطرت پر زور دیا۔ ان مسابقتی بیانات نے ایک ہی واقعہ کی مختلف اطوارسے توضیح کی اور تصادم کی نوعیت کو متضاد انداز سے بیان کیا۔
کشیدگی میں اضافہ، ضبط اور تزویراتی عمل کی مشترکہ تشکیل
بحران کی ایک مرکزی خصوصیت بیک وقت کشیدگی میں اضافے اور احتیاط کاجوڑ تھی۔ بھارتی سرکاری ابلاغ میں مسلسل اس امر پرزوردیا گیا کہ فوجی کارروائیاں ‘مکمل روایتی دائرہ کار ‘ کے تحت اور ‘مرکوز، معیّن، اورغیر اشتعال انگیز’ تھیں، جبکہ ساتھ ہی پاکستانی علاقے میں خاطرخواہ تباہ کن پیمانے پر حملوں کو بھی بیان کیا گیا۔ اسی طرح پاکستانی ابلاغ نے اپنی افواج کے معنی خیز پیمانے پرجوابی کارروائیوں کے باوجود اپنے ردعمل کو بیان کرتے ہوئے ‘غیر معمولی ضبط اور پختگی’ اور ‘معیّن، متناسب اور ذمہ دارانہ‘ کی اصطلاحات استعمال کیں۔
کشیدگی میں اضافےاور ضبط کے بیک وقت دعوے تضاد پیدا کرنے کی بجائے واضح تزویراتی مقاصد کے حصول کے لیے تھے۔ فوجی صلاحیت کا مظاہرہ کر کے دونوں فریقین نے عزم اور قوّتِ مزاحمت کا عندیہ دیا۔ اسی دوران ضبط اور تناسب پر زور دے کر انہوں نے بین الاقوامی ناظرین کو تسلی دی اور ضرورت پڑنے پر کشیدگی میں مزید اضافے کے لیے گنجائش رکھی۔ یہ بیانیے رہنماؤں کو کسی کشمکش میں ڈالے بغیرداخلی سیاسی توقعات کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوئے۔ کشیدگی میں اضافے کا بیانیہ اسے منضبط اور متناسب قرار دینے کے باعث ممکن ہوا: ضبط کو ایک اہم مگر منضبط فوجی کارروائی کے مادی شواہد کے ذریعے معتبر بنایا گیا۔
بھارت اور پاکستان نے اپنے اقدامات کو ضرورت اور معیاری عمل کی پیروی کے حوالے سے بھی جائز قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ان کارروائیوں کی متصورہ شدت تخفیف یا سیاقِ عبارت کے ذریعے گھٹائی۔ حملوں کا جواز پہلے اشتعالک دینے کو ٹھہرایا گیا؛ ان کی شدت میں کمی درستگی، ضبط اور شہریوں کے تحفظ پر زور دینے سے ہوئی۔ یہ بیانیہ حد بندی بیک وقت کشیدگی میں اضافے کے راستے کو کھولتی اور بند کرتی رہی اور دونوں فریقین کے لیے خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اختیارات کُھلے رکھتی رہی۔
دونوں فریقین نے واضح جوہری دھمکیوں سے گریزکیا، تاہم جوہری اشارات پسِ پردہ موجود رہے۔ بھارتی سرکاری ابلاغ نے بار بار تصادم کی ‘روایتی‘ اور غیر جوہری نوعیت پر زور دیا۔ پاکستانی ابلاغ نے اسی طرح پاکستانی ایٹمی نگرانی کی ‘ذمہ دارانہ‘ خصوصیت پر زور دیا، ایک ایسا بیانیہ جس نے بیک وقت بین الاقوامی ناظرین کو تسلی دی اور (ساتھ ہی) ترچھے اندازمیں بھارتی فیصلہ سازوں کو مخصوص حدوں کو توڑنے کی صورت میں نتائج کا عندیہ بھی دیا۔اس ابہام میں پاکستان کی نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے اجلاس کی اطلاعات نے مختصر طور پر خلل ڈالا، جس نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی اور سرِعام ایٹمی دھمکیوں کے بغیر(بھی) کشیدگی میں ممکنہ اضافے کے خدشات کی نشاندہی کی۔
تنازعہ کی ترتیب — ابتدائی پاکستانی کامیابیوں کے بعد بھارتی کارروائیوں نے — دونوں جانبین کے لیے یہ ممکن بنایا کہ وہ فتح کے معتبر مگر منتخب بیانیے تخلیق کر سکیں۔ یہ امر مظہر ہے کہ ایسے ‘باہمی کامیابی’ والے نتائج ممکنہ طور پر کسی بحران کے مخصوص راستے پر منحصر ہو سکتے ہیں اور ہر آئندہ تنازعے میں ممکن ہے کہ انہیں دہرایا نہ جا سکے۔
باہمی کامیابی کی منطق
عموماً فتح کو زیرو-سَم تصور کیا جاتا ہے: اگر ایک فریق جیت گیا ہے تو دوسرے کو یقینی طور پر شکست ہوئی ہو گی۔ تاہم مئی 2025 کے بحران نے ایک منطقی طور پر ناممکن صورتحال پیدا کی، جس میں دو ریاستیں، جن کی لڑائی ایک غیر فیصلہ کُن انجام تک پہنچ چُکی تھی، ہر ایک نے اپنے داخلی سامعین کو یقین دلایا کہ وہ فتح یاب ہوئی ہے۔
بھارت-پاکستان کے بحرانات میں متوازی فتح کا بیانیہ کوئی نئی بات نہیں۔ 2016 میں بھارت نے سرجیکل اسٹرائیکس کے ذریعے کامیابی کا اعلانیہ دعویٰ کیا، جبکہ پاکستان نے ان کے وقوع پذیر ہونے سے قطعی انکار کیا، جس سے بیانیہ کے دعوؤں میں بے تناسبی پیدا ہوئی۔2019 میں دونوں جانبین نے مخصوص مرکزی نقطوں کے ذریعے دوبارہ فتح کا دعویٰ کیا: بھارت نے بالاکوٹ حملوں کے ذریعے اور پاکستان نے بھارتی پائلٹ کی گرفتاری اور واپسی کے ذریعے۔ اس کے برعکس مئی 2025 کا بحران ایک ہم وقتی اور مشترکہ کامیابی کی ایک زیادہ منظم اور مضبوط صورت کے ساتھ، ایسے بیانیے کی تشکیل اور قیام کے ارتقا کی نمائندگی کرتا ہے جہاں دونوں طرفین تصادم کے مختلف مراحل کی طرف اندرونی طور پر فتح کےہم آہنگ بیانیے تشکیل دینے کے لیےاشارہ دےسکیں۔اس امر سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ مشترکہ کامیابی میدانِ جنگ کے نتائج کی وقتی ترتیب اور ظہورپر منحصر ہے۔
مئی 2025 کے معاملےمیں بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ ‘بھارتی ہتھیاروں کی طاقت‘ نے پاکستان کو لڑائی روکنے پر مجبور کیا، اور نتیجے کو عسکری برتری اور نظریاتی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ تاہم پاکستان نے اعلان کیا کہ اس نے ایک نئی ‘تزویراتی روایتی قوّتِ مزاحمت کی حدِ آغاز’ (ریڈ لائن) قائم کی ہے، اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ مؤثر طریقے سے بھارت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں ریاستوں نے اس مبہم صورتحال کی چیدہ خصوصیات کو چُن کر اُجاگر کرتے ہوئے مخصوص سامعین کے لیے نتیجہ کو فتح کے طور پرپیش کیا۔ دونوں ریاستوں کے لیے فتح کا بیانیہ وہ سیاسی کام انجام دیتا رہا جس کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنا ممکن ہوا۔ پاکستان نے ابتدائی کامیابیوں کو اجاگر کیا، خصوصاً رافیل جیٹ سمیت بھارتی طیارے مار گرائے جانے کے دعووں کے، جنہیں قوّتِ مزاحمت کی بحالی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔اس کے برعکس بھارت نے پاکستانی فضائی اڈوں اور انفرااسٹرکچر پر بعد میں کیے جانےوالے حملوں پر زور دیا اور انہیں کشیدگی میں برتری کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ تنازعہ کی ترتیب — ابتدائی پاکستانی کامیابیوں کے بعد بھارتی کارروائیوں نے — دونوں جانبین کے لیے یہ ممکن بنایا کہ وہ فتح کے معتبر مگر منتخب بیانیے تخلیق کر سکیں۔ یہ امر مظہر ہے کہ ایسے ‘باہمی کامیابی’ والے نتائج ممکنہ طور پر کسی بحران کے مخصوص راستے پر منحصر ہو سکتے ہیں اور ہر آئندہ تنازعے میں ممکن ہے کہ انہیں دہرایا نہ جا سکے۔

پالیسی کے اثرات
اگر بیانیہ کا انتظام کشیدگی پرقابو رکھنےکے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، تو بحران کااستحکام نہ صرف فوجی صلاحیتوں پر، بلکہ منطقی حکمت عملیوں پر بھی انحصار کرتا ہے۔
بحران کی رابطہ کاری کی ادارہ جاتی سطح کو موجودہ فوجی سے فوجی ضابطۂ کارسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ بحران کی حرکیات کے معلوماتی اور بیانیہ پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔ موجودہ ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) ہاٹ لائن اور متعلقہ ضابطۂ کارایک ایسے بحران کے ماحول کے لیے تیارکیے گئے تھے جس میں فوجی اشارت رابطے کا بنیادی ذریعہ تھی اور معلوماتی ماحول نسبتاً کم تھا۔ مئی 2025 کا بحران اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ فوجی اشارت اب ایک گہرے، تیز رفتار معلوماتی ماحول کے اندر کام کرتی ہے اور جزوی طور پر اسی ماحول سے بنتی ہے، جس میں متضاد بیانیے سرکاری ابلاغ کے تیار ہونے سے پہلے ہی تیزی سے پھیل جاتے ہیں۔جنگ بندی (سیز فائر) کی شرائط کی اعلانیہ رابطہ کاری کے لیے رئیل ٹائم میں حقائق کی جانچ کے ضابطۂ کار اور متفقہ قواعد ( پروٹوکول) کی پالیسی سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں۔
گو کہ کشیدگی کے خدشات کے انتظام میں تعاون کے لیے مراعات ہیں، تاہم دونوں جانبین معلوماتی شعبے میں مسابقت سے بھی فائدہ اُٹھاتی ہیں۔ بیانیہ کی برتری بین الاقوامی رائے اور متصورہ قوتِ مزاحمت کے اعتبار کو تشکیل دے سکتی ہے۔ یہ ہر متعلقہ حکومت میں صاحبِ اقتداراشرافیہ کے لیے داخلی جواز حاصل کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ چنانچہ بیانیے پر قابو رکھنےکے معاملے پر مکمل تعاون غیر ممکن نظر آتا ہے۔ اس کے بجائے زیادہ محدود قسم کے تعاون کے طریقے، جیسے جنگ بندی سے متعلقہ رابطہ کاری کے معاہدے یا بحرانات کے دوران غلط معلومات کو روکنے کے لئے ضابطۂ عمل زیادہ قابل عمل ہو سکتے ہیں۔
مئی 2025 کا بحران، بحران کی رابطہ کاری میں داخلی سامعین کے پہلو کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ جنوبی ایشیائی بحرانات میں کشیدگی کی حدیں نہ صرف رہنماؤں کی تزویراتی منصوبہ بندی سے تشکیل پاتی ہیں، بلکہ ان سیاسی پابندیوں سے بھی متاثر ہوتی ہیں جو مقامی عوام کے ذریعے عائد کی جاتی ہیں جن کی توقعات مخالف فریق اور قومی شناخت کے سابقہ بیانیے کی بنیاد پر تشکیل پا چُکی ہوتی ہیں۔ پالیسی سازوں کو بیانیے (کے ذریعے) خروج کی ان حکمت عملیوں کے لیے بحران سے قبل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جو ملکی سیاسی قابلیت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کشیدگی میں کمی کو ممکن بنائیں۔ اس کے لیے بحران سے متعلقہ رابطہ کاری کی منصوبہ بندی میں فوجی اور سیاسی قیادت کے مابین قریبی انضمام کی ضرورت ہے۔
اگر بیانیہ کا انتظام کشیدگی پر قابو رکھنےکے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، تو بحران کا استحکام نہ صرف فوجی صلاحیتوں پر، بلکہ منطقی حکمت عملیوں پر بھی انحصار کرتا ہے۔
آخرکار، مئی 2025 کے بحران کی ضمنی جوہری اشارت اور اس کا ظاہری طور پر استحکام بخش کردار یہ تجویز کرتا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے بحرانات میں جوہری رابطہ کاری پر قابو رکھنے والے موجودہ غیر رسمی معیارات کسی حد تک مؤثر ہیں اور وہ مزید تقویت کے حقدار ہیں۔ تاہم، ایک متوازی دلیل بھی موجود ہے: ظاہری جوہری بیانیےکی غیر موجودگی میں بھی، این سی اے کے اجلاس کے انعقاد کے بارے میں تشویش اور( دوہرے استعمال والے) ڈوئل یوز سسٹمز کے حوالے سے بے چینی نے بھی ضبط کے لیے بیرونی دباؤ میں حصہ ڈالا۔ اس امر سے ظاہر ہے کہ دونوں طرفین کی جانب سے واضح جوہری دھمکیوں سے گریز کرنے سے سیاسی دباؤ کم ہوا جو بصورت دیگر کشیدگی میں اضافہ کر سکتا تھا، تاہم جوہری اشارت بحران کی حرکیات پر اثرانداز ہوتی رہیں گی ۔ محتاط جوہری رابطہ کاری کے عملی بیانیے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ٹریک 1.5 اور ٹریک 2 کے مکالماتی عمل، علمی تبادلوں اور دونوں جانبین کی اسٹریٹیجک کمیونٹیز میں مشترکہ تفہیم کی پرورش کے ذریعے اس کا حصول ممکن ہے۔
ماحصل
جواز، ضبط اور فتح کے بیانیے کے ذریعے بھارت اور پاکستان دونوں جوہری سائے میں کشیدگی کے متناقضے پر قابو پانے میں کامیاب رہے۔ ان بیانیوں نے ان کی متعلقہ تزویراتی حقیقتیں تشکیل دیں، دونوں ریاستیں لڑنے کے لیے بیانیے کا سہارا لےرہی تھیں اور اس طور سے لڑنا ان بیانیوں کو پائیدار بنا رہا تھا۔ ہر فریق نے اپنے بیانیےکو اس طور ڈھالا کہ وہ اپنے عملی دائرۂ کار کو بڑھا سکیں جبکہ کشیدگی کم کرنے کی شرائط کو برقرار رکھ سکیں۔ اس طرح کشیدگی کے بیانیے کی حدوں کے بارے میں مشترکہ فہم، خوا وہ ان کہا ہی ہو، بحران کےاستحکام پر اثرانداز ہوا۔ اس امر سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ ایک بدلتی ہوئی صورتحال میں، قوتِ مزاحمت بھی بیانیے پر قابو رکھنے کا اثر رکھتی ہے۔ اس تبدیلی کو سمجھنا جنوبی ایشیا اور اس کی حد سے بڑھ کرمستقبل کے بحرانات کے انتظام کے لیے ضروری ہوگا، کیونکہ جیسے جیسے معلوماتی ماحول تیز تراور زیادہ مسابق بنتے جائیں گے، بیانیہ اور فوجی اشارت کے مابین عدم مطابقت کے خطرات صرف بڑھیں گے۔
This article is a translation. Click here to read the article in English.
***
Image 1: Prime Minister’s Office (Pakistan) via X
Image 2: ADG PI – Indian Army via X